Astronomy Math & Universe

Astronomy Math & Universe

Share

This Page is specifically for Science Math and universe facts .

20/08/2023

طبیعیات کے ناممکنات [ 1 ]

یہ چند پوسٹس ناممکنات پر ہیں ، لکھنے کا دل تو بہت سی چیزوں کا کرتا ہے پر ڈپریشن کی وجہ سے مزاج بہت کروٹیں لیتا ہے اس لیے فرمائشی پوسٹس نہیں کرسکتا جیسا کہ سٹرنگ تھیوری اور حرحرکیات وغیرہ پر دیکھیں گے انھیں پھر کبھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرض کیجیے کہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں بتائیے اگر کوئی انسان بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن سے گزر گیا تو کیا وہ بچ سکتا ہے ؟ کیا بلیک ہول سے فرار ممکن ہے ؟ یا کیا روشنی کی رفتار سے تیز سفر کرنا ممکن ہے ؟ کیا ماضی میں سفر کرنا ممکن ہے ؟

یقینا آپ نے ایسے سوالات اکثر و بیشتر ضرور سنے ہوں گے ، مگر سوال یہ ہے کہ ہمیں کیسے پتا چلتا ہے کہ آیا ایک شے جسے ہم ناممکن کہہ رہے ہیں وہ ناممکن ہے اورکوئی شے ممکن ہے تو وہ کیوں ممکن ہے ؟

سوچنے والے دماغوں کا ایسی صورت حالوں سے ضرور واسطہ پڑتا رہتا ہے ، اور یہ لطف دینے والا کھیل بھی ہوتا ہے اگر معاملہ کائناتی اور طبعی ہے تب ہم طبیعیات [ فزکس ] کی روشنی میں یہ دیکھتے ہیں کہ کیا ممکن ہے یا نہیں ۔ اور ہم اس کھیل کی مدد سے طبیعیات کے قوانین کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں ، یہ کھیل دل چسپ تو ہے مگر ہمیں کچھ باتیں پہلے سے بھی پتا ہونی چاہیے ۔

⭕ ناممکنات کی اقسام ⭕

عام طور پر جب یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی شے ناممکن ہے تب ہم یہ تاثر لیتے ہیں کہ ’ یہ شے سو فیصد قطعیت کیساتھ ہی ناممکن ہے ‘ پر حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ ناممکنات کی لگ بھگ تین قسمیں ہیں ۔

ناممکنات کی سب سے ٹھوس قسم مطلق ناممکنات ہے آئیے دیکھتے ہیں یہ کیا ہے ۔

1️⃣ مطلق ناممکنات (Absolute impossibilities)

یہ وہ ناممکنات ہوتے ہیں جو اپنے آپ میں ہی ناممکن ہوتے ہیں ۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ منطقی تضادوں کی وجہ سے اسے ناممکن شمار کیا جاتا ہو اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ریاضیاتی لحاظ سے جو تضاد واضح ہو رہا ہے اس کی بنا پر اسے ناممکن شمار کیا جاتا ہو ۔ یعنی جو شے منطقی و ریاضیاتی تضاد اور اپنے آپ میں ناممکن ہوگی وہ ” مطلق ناممکنات “ میں شمار کی جائے گی ۔

2️⃣ ماخوذ ناممکنات ( Derived impossibilities)

فرض کیجیے میں آپ سے کوئی مشورہ طلب کرتا ہوں ، آپ جو مشورہ بھی مجھے دیں گے وہ کسی نہ کسی شے ، علم یا تجربے کی بنیاد پر ہوگا ، دوسرے لفظوں میں وہ مشورہ ماخوذ ہوگا ۔ ایسے ہی جب ہم عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ فلاں چیز ناممکن ہے تب ہم یہ سب اپنے علم کی بنیاد پر کہہ رہے ہوتے ہیں ، ہم اکثر و بیشتر جو ناممکنات بتلاتے ہیں وہ طبیعیات کے علم کے سہارے بناتے ہیں ۔ یعنی ایسی کوئی بات جو ہمارے قبول شدہ طبیعیاتی علم کے خلاف نظر آتی ہے اسے ہم ناممکن کہتے ہیں اور اس درجہ بندی میں جو ناممکنات طے کیے جاتے ہیں یہ ماخوذی ہوتے ہیں ۔

3️⃣ شماریاتی ناممکنات ( statistical impossibilities )

شماریاتی ناممکنات بنیادی طور پر وہ ناممکنات ہیں جو شماریاتی لحاظ سے ناممکن کہے گئے ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ممکن تو ہیں پر شماریاتی وجوہات کی بنا پر ناممکنات میں شمار کیے جاتے ہیں جیسا کہ ایک سکہ ہے اب اگر آپ اسے سو بار اچھالتے ہیں تو ممکن ہے آپ نے سکہ کا جو پہلو چنا تھا وہی سو بار آئے ، پر شماریاتی لحاظ سے یہ ناممکن ہوجاتا ہے کیوں کہ دوسرے رخ کا امکان بھی ہوتا ہے اس لیے سو بار آپ ہی کا چنا ہوا پہلو آئے یہ طے حتمی نہیں۔

📝 دل چسپ اور قابل توجہ نکتہ

جیسا کہ ہم نے قسم دوم میں جانا تھا اب نکتہ یہ ہے کہ جو شے ہم اپنے محدود علم کی بنیاد پر ناممکن کہہ رہے ہوں وہ ممکن ہوسکتی ہے ۔ اس کی سیدھی وجہ یہ ہے کہ ہمارا علم محدود ہے ۔ اس لیے یہ ممکن ہے جسے ہم ناممکن کہہ رہے ہوں وہ ممکن ہو پر آپ سوال کیجیے کہ ایسا ” کیسے “ اور ” کہاں “ اور کب ہوسکتا ہے ؟

۱) ایسی شے جو ہم اپنے طبیعیاتی علم کے سہارے ناممکن کہہ رہے ہیں وہ کسی اور جہان میں ممکن ہو ۔

۲) ایسا ہوسکتا ہے جسے ہم ناممکن کہہ رہے ہوں جب ہمارا علم مزید ترقی کا زینہ طے کرے تب وہ ہمیں پتا چلے کہ یہ ممکن ہے ۔

۳ ) ایسا بھی ہوسکتا ہے جسے ناممکن کہا گیا ہے وہ ممکن ہو پر ایسا تب ہوگا جب ہمارے پاس بہتر قانون طبیعیات دریافت ہوجائیں گے ” یا “ جانچنے کے لیے اور طرح کے قوانین طبیعیات فرض کیے جائیں ۔

🌑 ناممکن و ممکن 🌕

سائنس کا علم اور بالخصوص طبیعیات یہ قابل اعتبار علوم ہیں ۔ جیسا کہ آپ کو علم ہے یہ انسانی محنت سے حاصل ہوتے ہیں اور انسان اچھی خاصی تگ و دو کے بعد ان نتائج تک رسائل حاصل کرتا ہے ایسا ہوسکتا ہے کہ انسان کو ایک شے ناممکن لگتی ہو مگر وہ ممکن ہو جیسا کہ اگر آپ سو یا ڑیڑھ سو سال پہلے کے زمانے کا تجزیہ کریں تب یہ بات لوگ مانتے تھے کہ طبیعیات کے علم سے آپ نہ تو کائنات کی ابتدا جان سکتے ہیں اور نہ ہی انجام ، ایسے ہی ستارے کس سے بنے ہیں اس دنیا کا اختتام کیسے ہوگا ، یہ باتیں تب ناممکن گردانی جاتیں تھیں پر ظاہر سی بات ہے کہ جیسے ہمارے علم کا افق وسیع ہوا ناممکن ممکن ہوگیا اور اب ان باتوں پر ہمیں بہت سی تفصیل بھی دستیاب ہے ۔

ایسے ہی یہ بھی ہوسکتا ہےکہ ایک شے کو ہم اپنے موجودہ علم کے بل پر یا کسی اور وجہ سے ممکن خیال کرتے ہوں پر اصل میں وہ ناممکن ہو اور ہمارا محدود علم جیسے بڑھے گا ہمیں پتا چلے گا کہ یہ چیز ناممکن ہے ۔طبیعیات میں اس کی مثال پریپچویل موشن کی ہے ۔ ابتدا میں یہ خیال کرلیا گیا کہ پریپچویل موشن ممکن ہے مگر اب ہم جانتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے ۔

آپ سوال کرسکتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہے ؟

اس کی دو وجوہات ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ ہمارا کائنات قوانین کے متعلق ” قریب ترین درست “ ہے یہ مطلق اور کامل نہیں بلکہ ہمارے پاس جو کچھ ہے یہ ” قریب ترین “ اور عمدہ کوششوں کا حاصل ہے ۔ اسی لیے مستقبل ہمارا زاویہ نگاہ بدل سکتا ہے ۔

دوسری بات سائنس تبدیلیاں اور کروٹ لیتی ہے اور اس لحاظ سے ہمارا تاثر بھی بدل جاتا ہے مگر سائنس کے بدلنے سے یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ کیوں کہ سائنس بدلتی ہے اس لیے قابل اعتبار نہیں، سائنس قابل اعتبار ہے اور اسے ہم آزما کر ہی قابل اعتبار بناتے ہیں ایسی ڈھیر ساری باتیں ہیں جو پختہ تجربات کی بنیاد پر ہیں بس یہ فہم اور تعصب کا فرق ہے ۔

ضیار علی ۔
جاری ہے ۔

13/08/2023

فری فال اور سپیس اسٹیشن
ـــــــــــــ
فری فال سے مراد ایسی حالت یا حرکت ہوتی ہے جب جسم پر صرف اکلوتی قوت کشش ثقل لگ رہی ہو (باقی تمام قوتوں یا مزاحمتوں کو خارج یا نظر انداز کر دیا جاتا ہے ) ۔ آپ رسی کودتے ہیں کبھی آپ اوپر جاتے ہیں پھر ایک مقام پر رکتے ہیں کیونکہ اس مقام پر ولاسٹہ صفر ہوئی اور پھر واپس زمین پر اسراع کرتے آتے ہیں ۔

جب آپ کودے تب فری فال میں تھے ۔ فری فال میں جب کوئی انسان ہوتا ہے تب وہ بے وزن (weightless ) ہوجاتا ہے ۔ مگر پھر بھی رسی کودتے وقت بھی مسلسل آپ پر زمین کی کشش ثقل لگ رہی تھی ۔ بہت سے لوگ بے وزنی والی بات سے یہ چیز نکالتے ہیں چوں کہ سپیس اسٹیشن میں خلاءباز بے وزن ہوتے ہیں ۔ لہذا وہاں پر گریوٹی ہی نہیں ہے ۔ اس مغالطے کی اصل وجہ دراصل یہ ہوتی ہے کہ زمین کی کشش ثقل کے لیے اختصار کے لیے وزن کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔

جب آپ کسی سے پوچھیں کہ وزن کیا ہے وہ کہے گا زمین کی کشش ثقل یا کھنچاؤ ہے جس سے زمین آپ کو اپنے مرکز کی طرف کھینچتی ہے ۔ اسی چیز سے یہ بات اخذ کی گئی ہے کہ چوں کہ خلاءباز بے وزن ہیں لہذا وہاں سپیس اسٹیشن پر تو کشش ثقل ہے ہی نہیں ۔ پر اصل میں سپیس اسٹیشن پر کشش ثقل لگ رہی ہے ۔ جس وجہ سے خلاء باز بے وزن ہوتے ہیں وہ وجہ یہ نہیں کہ سپیس اسٹیشن پر کشش ثقل نہیں ہے ۔ اصل میں خلاء باز سپیس اسٹیشن میں اڑنے یا فری فال کی کیفیت میں ہوتے ہیں ۔

دوسرے لفظوں میں کہوں ،جب کوئی فری فال میں ہوتا ہے تب اس کے پاؤں کسی بھی سکیل پر نہیں ہوتے جو اسکا وزن ماپ سکیں ۔ یا پھر انکے پاؤں کسی سطح سے نہیں ملے ہوتے جس سے نارمل فورس بھی لگتی ہے ۔ جیسے آپ کو تصویر میں دکھایا گیا ،یہ ایک لفٹ کی ہے جس میں پہلے بندہ سکیل پر کھڑا تھا پھر اچانک لفٹ کی تار ٹوٹی اور بندہ فری فال حالت میں چلا گیا اور اڑنے کی کیفیت میں ہوگا ۔ اب آپ دیکھیں تو وہ بندہ اڑ رہا ہے ۔اسی وجہ سے سکیل پر اسکا وزن صفر آیا ۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ لفٹ اور وہ بندہ دونوں فری فال میں تھے ۔جس کی وجہ سے بندےنے بے وزنی محسوس کی ہے۔ اگر ہم چاہیں تو زمین کی کشش ثقل ،زمین کی سطح پر اور انٹر نیشنل سپیس اسٹیشن دونوں پر کشش ثقل کی نسبت نکال سکتے ہیں ۔ اس نسبت سے ہم اندازہ کر سکیں گے کشش ثقل سپیس اسٹیشن پر کتنی کم ہوتی ہے ۔

کچھ یوں کر کے۔

F/F = (GMm/r²)/ (GMm/r²)
= {(r earth to station)²/(r earth to earth surface)²}
= [(6.37×10^6m)²/(6.77×10^6m)²]
= 0.89

اس سے ہمیں یہ پتا چلا ہے کہ صرف گیارہ فیصد ہی کم قوت انٹرنیشنل سپیس اسٹیشن پر لگتی ہے ۔ اگر کوئی پھر بھی نہ مانے تب ایک سوال کیا جاسکتا ہے ۔آخر چاند زمین کے گرد کیوں حرکت کر رہا ہے ؟ اسکا جواب ہے کشش ثقل ۔ اور انٹرنیشنل سپیس اسٹیشن بھی اسی وجہ سے ہی حرکت کر رہا ہے۔ اور سپیس اسٹیشن اور خلاء باز مستقل فری فال کی حالت میں ہوتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ بے وزن (weightless) ہوتے ہیں ۔
ـــــــــــــ
ضیار قیرمان

کاپی کر سکتے ہیں ۔

12/08/2023

فری فال اور آئنسٹائن

آئنسٹائن نے گیلیلیو کے فری فال کے اصول یعنی ہر جسم ایک اسراع سے گرتا ہے اور اسکے بعد نیوٹونئین گریوٹیشن میں انرشل ماس اور گریوٹیشنل ماس کو برابر ماننے سے اپنے نظریےکی تعمیر کے لیے قدم بڑھائے ۔انرشل ماس اور گریوٹیشن ماس قریب قریب ہر بار ہی برابر ہوتے ہیں ، اس کو پرکھنے کے لیے اوٹوش نے تجربات کیے ۔جس سے ہمیں بہت بڑی ایکورسی کا پتا چلا۔یہاں ان پر تفصیل بتانا ضروری نہیں۔ ہم واپس آئنسٹائن پر آتے ہیں ۔انہوں نے اپنی شروعات ایک ایسے بندے کے خیال سے کی جو کہ عمارت سے گر رہا ہے ۔

مثال فرض کیجیے کہ ایک بندہ کسی عمارت سے گر رہا ہے۔ آئنسٹائن کی سوچ یہ تھی کہ وہ اخذ کرسکیں کہ وہ بندہ کیا محسوس کرے گا؟یا وہ بندہ دنیا کو کیسا دیکھے گا؟ تو بندہ کیا محسوس کرے گا؟یہ جاننے سے پہلے ہمیں جمود کا اصول پتا ہونا چاہیے،یہ اسکا لب لباب یہ ہے کہ کوئی جسم اپنے انرشا کی وجہ سے اپنی حالت کو برقرار رکھتا ہے ،دوسرے لفظوں میں اگر کوئی جسم ساکن ہے تو انرشا اسے ایسا ہی رکھنے کی کوشش کرے گا،اور اگر کوئی جسم ایک مستقل رفتار یا یونیفارم ولاسٹی سے حرکت کر رہا ہے تب انرشا اسے ایسا ہی رکھے گا ۔ ٹھیک ہے اب ہم چھت سے چھلانگ لگاتے ہیں ،تو فرض کیجیے کہ آپ اور آپ کے ساتھ ایک گیند ایک چھت سے گر رہی ہے۔

آپ کیا دیکھتے ہیں؟پہلی چیز جو آپ دیکھیں گے وہ یہ ہوگی کہ آپ کی جو حالت ہے یہ بدل نہیں رہی ۔ ایسا آپ گیند کو دیکھ کر بہت ہی آسانی سے اخذ کرسکتے ہیں ۔ جب آپ اور گیند ایک ہی ساتھ گرے تھے ۔ تب بھی وہ گیند آپ سے آگے بڑھا ہی نہیں ، وہ آپ کے ساتھ ہی رہا ،دوسرے لفظوں میں وہ اسراع نہیں کر رہا ۔جس وقت سے وہ آپ کے ساتھ نیچے کو گر رہا تھا ، تب سے اس کی حالت ویسی کی ویسی ہی رہی۔اب یہ چیز یہ بتاتی ہے کہ یہاں پر جمود کا اصول کھرا اترا ہے۔ کیوں کہ جسم نے اپنی حالت برقرار رکھی ہے۔اور کوئی اسراع نہیں کیا۔اب سوال یہ ہے اس سے اخذ کیا ہوتا ہے ؟یا آئنسٹائن نے کیا اخذ کیا؟اگر آپ کسی کی زہانت کا اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو جو چیز آئنسٹائن نے آخذ کی وہ نہایت ہی حیران کن تھی۔آئنسٹائن نے کہا کہ کیوں کہ جو بندہ فری فال میں ہوتا ہے ،کیوں کہ اس کی نسبت سے ،اس کی حالت بدلی نہیں ،اس نے اسراع نہیں کیا لہذا ،اسکا فریم آف ریفرینس انرشل ہے۔ اور دوسرے لفظوں میں ،اس نے خود پر کوئی بھی قوت لگتی محسوس نہیں کی ۔ ظاہر سی بات ہے اگر فری فال بندے کی نسبت سے اس پر کوئی قوت لگتی تو اسے اسراع کرنی چاہیےتھی۔مگر ایسا اس نے نہیں دیکھا۔

یہی چیز ہم اضافیت کے اصول سے جوڑ کر بھی سمجھ سکتے ہیں۔ تو کیا ہے اضافیت کا اصول،بنیادی طور پر یہ اصول یہ کہتا ہے کہ اگر آپ مستقل رفتار سے کسی بس میں ہیں ،کسی اور چیز میں ،تب آپ کوئی بھی تجربہ کر کے یہ ثابت ہی نہیں کرسکتے کہ آپ حرکت کر رہے ہیں یا پھر ساکن ہیں۔ یہاں دو چیزیں دیکھنے والی ہیں،ایک یہ کہ جسم کی حالت بدلی نہیں ،ظاہر اگر جسم کی حالت بدلتی تو بندہ جان جاتا کہ وہ ساکن نہیں ہےبلکہ اسراع کر رہا ہے۔اسی طرح سے فری فال والا بندہ کیا دیکھتا ہے؟اسکے پاس دو ہی چیزیں ہیں ،یا تو وہ خود کو ساکن دیکھے گا۔ اور یہ چیز وہ اسکے ساتھ گرنے والی گیند سے بھی اخذ کر رہا ہے۔اسے سمجھنے کے لیے ہم بس کی مثال لے لیتے ہیں۔ ایک بس جو مستقل رفتار سے سفر کر رہی ہے اور آپکی سیٹ کے ساتھ ہی آپکا کوئی دوست بیٹھا ہے ۔

آپکی نسبت سے کیا وہ ساکن ہے یا حرکت کر رہا ہے ؟ ساکن ہے نا۔۔بھئی ساکن ہی تو ہے اگر حرکت کر رہاہوتا تو وہ آپ سے آگے بڑھتا ۔مگر جو بس کے باہر سے بندہ دیکھے گا اسکی نسبت سے آپ اور آپکا دوست دونوں ہی حرکت میں ہیں۔ اس اصول سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ جو حرکت ہے یہ مطلق ہے ہی نہیں ۔ ہم صرف نسبتی حرکت کو یا نسبتی ساکن (ریسٹ)ہی فرض کرسکتے ہیں ۔ تو فری فال بندے والے کی نسبت سے وہ بندہ یاتو یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ ساکن ہے ۔اور یا تو یہ کہہ سکتا ہے اسکی یونیفارم ولاسٹی ہے۔ہم یہاں ایک ہی چیز کو لیں گے اور وہ ہے کہ وہ بندہ ساکن ہے۔اور اسکی نسبت سے گیند بھی ساکن ہے کیوں کہ گیند کی حالت بدلی نہیں ،جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس پر کوئی قوت ہی نہیں لگی۔دوسرے لفظوں میں وہ کہے گا مجھ پر گریوٹی لگ ہی نہیں رہی ۔ وہ صفر گریوٹی محسوس کرے گا۔اب آئنسٹائن یہیں پر رکے نہیں۔یہی وہ واحد چیز ہے جو انہیں سبھی سائنسدانوں سے منفرد بناتی ہے۔اور شاید اسی وجہ سے جینئس کا لفظ آتے ہی دماغ میں اکثر لوگ آئنسٹائن کی تصویر دیکھتے ہیں۔

خیر تو جو بندہ زمین پر کھڑا ہو کردیکھ رہا ہے وہ کیا دیکھے گا؟ زمین پر جو بندہ کھڑا ہے ،وہ کہے گا کہ یہ جو بندہ فری فال میں ہے یہ نہ تو ساکن ہے اور نہ ہی اسکی ولاسٹی یونیفارم ہے۔ بلکہ یہ تو اسراع کر رہا ہے اور اسکی حالت بدل رہی ہے ۔ لہذا اس پر کوئی قوت عمل کر رہی ہے جس کا نام گریوٹی ہے ۔اب آئنسٹائن کے بقول جو بندہ زمین پر کھڑا ہوکر فریفال ہوتے ہوئے چیزؤں کا نظارہ کرتا ہے ،زمینی بندے کا ریفرینس فریم نان انرشل ہے ۔ کیوں کہ اسکے لحاظ سے اسراع ہو رہا ہے ۔ یعنی زمین پر کھڑے بندے کی نسبت سے فری فال کے دوران اسراع ہورہا ہے۔ تو یہاں تین چیزیں یاد رکھنے والی ہیں۔

۱۔گریوٹی بالکل ،پراسرار،انرشیل قوت کے جیسی ہے۔جو کہ زمین پر کھڑے بندے کی نسبت سے فری فالنگ کے دوران اسراع کروا رہی ہے۔پر یہ ذہن میں رہے کہ یہ زمین والے بندے کی
نسبت سے ہے جس کا فریم آف ریفرینس نان انرشل ہے کیوں کہ اسکے لحاظ سے یہاں پر جمود کا اصول پورا نہیں اترا۔مگر جو بندہ فری فال میں ہے اسکی نسبت سے اس پر کوئی فورس ہی نہیں لگ
رہی۔وہ صفر گریوٹی محسوس کرے گا اور اسی لیے وہ بے وزنی کی کیفیت محسوس کرتا ہے۔
۲۔گریوٹی انرشاءکا اثر ہے۔

۳۔گریوٹی ،ہمارے فریم آف ریفرینس کے انتخاب کی وجہ سے ہے۔یعنی اگر ہم فری فال والے فریم سے دیکھیں ہم پر کوئی گریوٹی نہیں لگ رہی ،پر اگر ہم زمین والے فریم آف ریفرینس سے دیکھ تو جو بندہ فری فال میں ہے اس پر کشش ثقل لگ رہی ہے۔اب ہم چاہیں دونوں فریم آف ریفرینس کو لے سکتے ہیں۔یعنی ہم چاہیں تو فری فالنگ والا فریم لے سکتے ہیں یا پھر ہم زمین پر کھڑے ہونے والا فریم لے سکتے ہیں۔پر یہ یاد رہے کہ یہ دونوں فریم آف ریفرینس ایک جیسے نہیں ہیں۔ان دونوں میں فرق ،ثقلی اسراع ہے۔اگر آپ اس پوری پوسٹ میں ابہام کا شکار نہیں ہوئے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ اس بات پر اتفاق کریں گے کہ آئنسٹائن سچ میں بلا کے ذہین تھے۔ جو چیز دوسرے کو کوئی خاص نہیں لگتی آئنسٹائن کی نظر سے وہ ایک الگ ہی روپ دھار لیتی ہے۔آگے ہم اس سے بھی حیرت انگیز چیزؤں پر بات کریں گے ۔فی الحال یہی بہت ہے۔یعنی ہم بات کریں گے چار قسم کی لیبارٹریوں کی ۔

۱۔پہلی لیبارٹری سطح زمین کے ساتھ جڑی ہے۔
۲۔دوسری لیبارٹری دس میٹر فی سیکنڈ سکوئیر سے اسراع کر رہی ہے۔
۳۔تیسری لیبارٹری سپیس میں ہے۔ جو کہ صفر گریوٹیشنل فیلڈ میں ہے ۔
۴۔زمین کے قریب فری فال کی حالت میں ہے ۔
اور شاید بہت کچھ ۔۔۔۔۔۔!
ــــــــــــــــــــــ
ضیار قیرمان

07/08/2023

کونٹم مغالطے

یہ بات سچ ہے کہ کونٹم میکینکس کو کوئی بھی سمجھ نہیں پایا ، اور شاید اس وجہ سے ہی کونٹم میکینکس کے بارے میں بہت سے لوگ مغالطے رکھتے ہیں ۔ مغالطے تقریبا ہر سائنسی میدان میں پائے جاتے ہیں کیوں کہ لوگ انھیں سمجھنا اور بیان کرنا چاہتے ہیں پر اکثر یہ چیز میری طرح کے ننھے منھے سے ذہن رکھنے والوں کے لیے مشکل پیدا کرتی ہے ۔ اب کونٹم میکینکس کے حوالے سے درج ذیل مغالطہ ملاحظہ ہوں جو کہ کہیں نہ کہیں عام بھی ہیں ۔

مغالطہ 1 ] کونٹم میکینکس، ایٹم کی سطح سے اوپر یا باہر کام نہیں کرتی ۔

یہ مغالطہ شاید سب سے بڑا اور عام ہے ۔ بڑا کیوں ہے ؟ آپ جان جاتے ہیں ۔ صبر !

عام طور پر آپ یہ ضرور سنتے رہے ہوں گے کہ ہمارے پاس دو نظریات ہیں ایک آئن اسٹائن کا نظریہ عمومی اضافیت ، جو کہ کائنات کو بڑے بڑے پیمانوں پر بیان کرتا ہے اور دوسرا کونٹم میکینکس جو کہ کونٹم دنیا یعنی چھوٹے چھوٹے اسکیل پر کام کرتا ہے چھوٹے اسکیل جیسا کہ ایٹموں کے اسکیل پر ۔ آسانی کے لیے یہ بات اکثر سائنس دان بھی کر دیتے ہیں کیوں کہ زیادہ تر کونٹم میکینکس کا اطلاق چھوٹے پیمانے پر ہی کیا جاتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ کونٹم میکینکس ، بڑے پیمانے پر کام نہیں کرتا ۔ سچ کہوں تو کونٹم میکینکس بڑے پیمانے پر بھی کام کرتا ہے اور درستی سے نتائج دیتا ہے مگر کونٹم میکینکس بڑے پیمانے پر وہی نتائج فراہم کرتا ہے جو نتائج ہمیں کلاسیکل فزکس سے ملتے ہیں اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنس دان خصوصیت سے کونٹم میکینکس کو ننھی منھی سی چھوٹی یعنی کونٹم دنیا پر لاگو کرتے ہیں کیوں کہ کونٹم دنیا پر ہی ہمیں عقل کو دنگ کرنے والے مظاہر سے سابقہ پڑنا ، ظاہر سی بات ہوجاتی ہے ۔ ایسے مظاہر جیسا کہ ؛۔

چیزوں کی لہری اور ذری فطرت — دوسرے لفظوں میں ان کی ڈسکریٹنس یا مجردیت ۔ یعنی آپ گلاس کو دیکھیے یہ بہت ملائم اور مسلسل سا لگے گا ۔ ایسا نہیں لگتا کہ یہ ننھے سے ذراتوں کا مجموعہ ہے اور وہ ذرات بذات خود ہمیں کبھی لہروں کی طرح لگتے ہیں اور کبھی ذروں کی طرح ۔ اور کونٹم الجھاؤ (انٹینگلمنٹ) وغیرہ ۔ آپ کہہ سکتے ہیں ایسے ہی خلاف عقل مظاہر کا نام والے جہان کا نام کونٹم جہان ہے ۔

مغالطہ 2 ] ہر شے کونٹائز ہے ۔

اس مغالطے کو سمجھنے کے لیے پہلے ہمیں لفظ کونٹائز کو سمجھنا ہوگا ۔ عام طور پر یہ تاثر ہے کہ ہر شے کونٹائز ہے ۔ کونٹائز کو عام فہم مثال سے سمجھنے کے لیے بتائیے کہ ایک درجن میں کتنے کیلے ہوتے ہیں ؟

آپ کہیں گے بارہ ۔
اس طرح دو درجن میں چوبیس ۔ اور وغیرہ وغیرہ ۔

کونٹم میکینکس میں بھی کچھ چیزیں ایسی ہیں جو مخصوص مقدار میں ہوتیں ہیں نہ تو وہ اس سے زیادہ ہوتیں ہیں نہ ہی کم ، ان کی مقدار ، طے شدہ ہوگی یعنی کونٹائز ہوگی ۔ جیسے ایک درجن میں ، کیلے بارہ ہوں گے ، بارہ سے ایک بھی کیلا کم ہوا تو وہ درجن نہ کہلایا جائے گا ۔ دوسرے لفظوں میں کونٹائز نہ کہلایا جائے گا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہماری کائنات بہت بڑی ہے اس میں ہمیں بہت سی چیزیں تو کونٹائز (زیادہ عام فہم میں طے شدہ) ہی لگتی ہیں ۔ پر کچھ چیزیں ایسی ہیں جو تاحال کونٹائز نہیں لگتی ۔ جیسا کہ وقت اور سپیس ۔ مگر ایک تاثر عام یہ ہے کہ آج کی اس جدید دنیا میں بھی ” وقت “ ایک طے شدہ (کونٹائز) مقدار ہے ۔ اور یہ”میری دانست“ میں ایک مغالطہ ہے ۔ وقت کونٹائز نہیں ہے ۔

اس سمجھنے کے لیے ہم اپنی بات آگے یوں بڑھا سکتے ہیں ۔

اگر میں آپ سے پوچھوں بتائیے ایک منٹ میں کتنے سیکنڈ ہوتے ہیں ۔ تب آپ کیا کہیں گے ۔

ساٹھ ؟ وقت کو ہم جس طرح سے ناپتے ہیں یا پیمائش کرتے ہیں یہ کہیں نہ کہیں یہ تاثر دیتا ہے کہ وقت بھی ایک ” طے شدہ مقدار (quantum quantity )“ ہے ۔

دنیا کے ہر خطے میں ایک منٹ کے ساٹھ ہی تو سیکنڈ ہیں ؟ ہے نا ؟ پر بات اتنی بھی سیدھی نہیں ۔
جیسا کہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ ؛۔

ایک منٹ ساٹھ سیکنڈ ۔
ساٹھ منٹ ایک گھنٹہ ۔
ایک دن چوبیس گھنٹہ ۔

وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔

پر وقت مسلسل سا ہے طے شدہ یا ڈسکریٹ نہیں ۔ اس کی رفتار ، بہاؤ یا مقدار ہر ایک کے لیے ایک سی نہیں ۔ ہاں اگر آپ اور میں ایک ساتھ چائے پی رہے ہوں جیسا کہ اب طلب ہو رہی ہے مجھے ، تو ہم دونوں کا جو وقت ہوگا وہ تقریبا ایک سا ہوگا ۔ یعنی ہم دونوں کے ساٹھ سیکنڈ ، دونوں کے لیے ساٹھ ہی سیکنڈ ہوں گے ۔ ایک گھنٹہ ، ایک گھنٹہ ہوگا ۔

پر کیا ہو آپ تیز حرکت کرنے لگ جائیں کیا تب بھی آپ کے ساٹھ سیکنڈ اور میرے ساٹھ سیکنڈ ایک سے ہوں گے ؟ کیا میرا ایک گھنٹہ اور آپ کا ایک گھنٹہ ایک سا ہی رہے گا یا ہمارا وقت مختلف ہوگا ؟

وقت ایک اضافی مقدار اور شے ہے ۔ اگر کوئی حرکت میں ہے تب وقت آہستہ گزرے گا ، ایک ایسے بندے کی نسبت سے جو ساکن کھڑا اسے دیکھ رہا ہے ۔ اس لحاظ سے ساکن کھڑے ہوئے بندے کے ساٹھ سیکنڈ تھوڑے سے جلدی ہوجائیں گے اور جو حرکت میں ہے اس کے لیے تھوڑی سی دیر میں ۔ اس لیے وقت کوئی طے شدہ مقدار نہیں رہتی جو سب کے لیے ایک سی ہو ۔ وقت ایک مسلسل شے ہے ۔ ایسے ہی سپیس بھی مسلسل (continuous ) شے ہے ۔ شاید کبھی ہمارے پاس اچھا نظریہ کونٹم گریوٹی کا ماڈل ہو تو اس میں شاید وقت اور سپیس کے ” طے شدہ یا کونٹائز “ ہونے کے تصور کو زیادہ وضاحت سے سمجھا جا سکے ۔

مغالطہ 3] کونٹم میکینکس غیر یقینی ہے ۔

آپ نے ہائزن برگ کا ایک اصول ضرور پڑھا یا سنا ہوگا ۔ اسے غیر یقینی کا اصول کہتے ہیں ۔ بہت سے لوگ صرف اس کے نام کی وجہ سے یہ بات ذہن میں بٹھا لیتے ہیں کہ ہر شے غیر یقینی ہے ، کونٹم میکینکس ، غیر یقینی ہے ۔ پر یہ بات درست نہیں ۔ اسے سمجھنے کے لیے دو مثالیں لے لیتے ہیں ۔

پہلی مثال سیدھی سی ہے ۔ عام زندگی میں ہم اس بات کو بہت یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ شے ہے کس جگہ پر ۔ جیسا کہ کوئی سیارہ ہے ۔ ہم بہت درستی سے اس کے مقام کا اندازہ لگا سکتے ہیں ، پر ساتھ ہی ساتھ ہم اس سیارہ کا معیار حرکت یا مومنٹم بھی ، بہت وثوق سے جان سکتے ہیں ۔ یعنی کل ملا کر ہم ایک ہی وقت میں ، بڑے پیمانے پر جو چیزیں ہیں جیسا کہ سیارہ وغیرہ ان کا مقام اور معیار حرکت بتا سکتے ہیں ۔ دونوں ایک ہی وقت میں ۔

پر کائنات عجائب اور اسرار کا جہان ہے ۔ جب آپ چھوٹے پیمانے پر دیکھتے ہیں اور ذرات جیسا کہ الیکٹران وغیرہ سے آپ کا سابقہ پڑتا ہے تب آپ یقین کے ساتھ صرف ایک چیز کے بارے میں بتا یا جان سکیں گے ۔

یعنی کونٹم دنیا میں ، مجھے اگر ایک وقت میں ، یہ جاننا ہے کہ کونسا ذرہ ، کس جگہ پر ہے تب میں یہ چیز یقین کے ساتھ جان سکتا ہوں ۔ اس چیز میں کوئی غیر یقینی نہ ہوگی ۔

ایسے ہی اگر میں چاہوں تو میں ایک وقت میں صرف ذرہ کا معیار حرکت جان سکتا ہوں ۔ یعنی کہ اگر مجھے یقین کے ساتھ کسی کونٹم ذرہ کا معیار حرکت جاننا ہے تو مجھے صرف اس کو ہی جاننا ہوگا ۔

اب یہاں فرق کیا جانا ہم نے ؟

ہم نے یہ فرق جانا ہے کہ بڑے پیمانے پر جو چیزیں ہوتیں ہیں جیسا کہ سیارہ یا کوئی اور شے اس کا مقام اور معیار حرکت ہم دونوں چیزیں ہی ایک ہی وقت میں جان سکتے ہیں پر جب ننھے ننھے سے ذرات ، جیسا کہ الیکٹران وغیرہ ہوتے ہیں ان کا ہم یقین کے ساتھ ایک وقت میں ایک ہی چیز جان سکتے ہیں چاہے وہ معیار حرکت ہو یا مقام ہو ۔

لیکن اگر مجھے ایک ہی وقت میں ، کسی کونٹم شے کا معیار حرکت اور مقام دونوں ہی جاننے ہوں گے تو میں یہ دونوں چیزیں یقین کے ساتھ نہیں جان سکوں گا ۔ پر سوال ہے کیوں ؟

اس کا جواب ہے کہ کونٹم دنیا جس عجائب گھر کا نام ہے وہاں ہماری عام روزمرہ منطق کام نہیں کرتی ۔ مسئلہ پیمائش کا نہیں ہے ۔ کونٹم دنیا کی فطرت ہی ایسی ہے کہ آپ ایک وقت میں یا تو مقام (position) کو یقین کے ساتھ جان سکتے ہیں یا پھر معیار حرکت کو ۔ یہ کونٹم دنیا کا کرشمہ ہے ۔ جو ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے منطقی ڈھانچے کو تھوڑا سا بدلنے کی ضرورت ہے۔

دوسری مثال تھوڑی سی ٹیڑھی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ کونٹم میکینکس ، امکاناتی ہے ۔ پر کونٹم میکینکس میں جو امکانات ہیں ، وہ امکانات ہم یقین سے ہی جانتے ہیں جیسا کہ جب آپ ایک سکہ اچھالتے ہیں تب آپ کے پاس دو امکان ہوتے ہیں اب آپ کو ان دو امکان پر یقین ہی ہوگا کہ ان میں سے ایک نہ ایک تو آئے گا ہی ۔ یا تو مسجد آ سکتی یا پھر بابا قائد اعظم۔

ضیار ۔

04/08/2023

اینگولرمومنٹم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک سوال اکثر پوچھا جاتا ہے ،یہ سوال بہت ہی سادہ سا ہے ۔ اگر سورج کی کشش ثقل ہماری زمین پر لگ رہی ہے تو ہماری زمین سورج سے ٹکراتی کیوں نہیں ؟ یہ سوال ہے تو بہت سادہ سا ،اس کا جواب بھی بہت خوبصورت اور سادہ سا ہے ۔ جس میں آپ کو فزکس کی خوبصورتی نظر آتی ہے ۔ پر ایک تصور جو سینٹری فیوگل فورس کا ہے اس کا غلط استعمال کر کے ،ایک تو فزکس کی ایسی تیسی کر دی جاتی ہے اوپر سے ایک سادہ اور خوبصورت تصور بھی طالب علم سمجھ نہیں پاتے ۔ سینٹری فیوگل فورس ایک جعلی فورس ہے ۔ اکثر لوگ کرتے یہ ہیں ، وہ کہتے ہیں ،سورج کی طرف سے زمین پر رزلٹنٹ فورس ،جو کہ سینٹری پیٹل فورس ہے وہ لگ رہی ہے ،اب جو زمین ہے ،اسکا انرشا ہے انرشا زمین پر سینٹری فیوگل فورس لگائے گا اور زمین کو اس امر سے محفوظ کر دے گا کہ زمین ،سورج سے ٹکرائے نہ ۔ اس وضاحت کے بقول جتنی فورس سینٹری پیٹل فورس کی ہے اتنی ہی فورس سیٹنری فیوگل کی ہوگی یعنی دونوں قوتیں برابر ہیں۔ اور چوں کہ قوتیں بیلینس ہیں اس لیے زمین بی بی سورج سے نہیں ٹکراتی ۔ جس طالب علم نے نیوٹن کے قوانین حرکت پڑھے ہیں ،اگر وہ اس وضاحت پر تھوڑا غور کرے تو اس وضاحت میں اسے سمجھ آجائے گی کہ یہ وضاحت درست نہیں ۔ ویسے بھی انرشیا کا قانون (جو گیلیلیو نے دیا جسکی بعد میں نیوٹن نے توسیع کی) وہ یہ کہتا ہی نہیں کہ انرشیا کی وجہ سے جسم اپنے آپ پر فورس لگا کر کسی شے سے ٹکرانے سے بچاتا ہے ۔ انرشیا کا قانون تو بہت ہی سادہ سا ہے ۔ اگر کوئی شے حرکت کر رہی ہے وہ حرکت کرتی رہی ہے گی اس کی حالت بدلے گی نہیں لیکن اس کی ایک شرط ہے اس مستقل حرکت کو بدلوانے کے لیے آپ کو اس جسم پر ایک فورس لگانی ہوگی ،وہ فورس اسراع کا سبب بنے گی جس سے جسم کی حالت بدلتی ہے چاہے وہ جسم ساکن ہے ہو یا مستقل حرکت میں ہو ۔( لیکن چوں کہ میں کم علم ہوں اور اپنی اس کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے یہ وضاحت مان بھی لوں تب تو کسی جسم میں اسراع ہو ہی نہ کیوں کہ انرشا جسم پر قوت لگائے گا اور قوت بیلینس ہوگی ۔ جب قوت ہی بیلینس ہوگی تو اسراع خاک پیدا کرے گی؟)

فرض کریں ایک ڈبہ ہے ،اس ڈبے پر آپ فورس لگاتے ہیں، اگر آپ درکار اسراع کے جتنی فورس لگاتے ہیں تب ہی اس جسم کی حالت بدلے گی اور وہ اس سمت میں حرکت کرے گا جس سمت میں اسے فورس لگ رہی ہے ۔ جیسا کہ خاکہ نمبر دو میں دکھایا گیا ہے ۔ اس ڈبے پر دائیں طرف سے قوت لگ رہی ہے اور دائیں طرف ہی حرکت کر رہا ہے۔ ایسے ہی فرض کریں آپ کے سامنے ایک ڈبہ ہے ، آپ اس پر اپنے سامنے کی طرف ایک قوت لگاتے ہیں اتنی قوت جس سے اس ڈبے کی حالت بدلے ،اب آپ بتائیے وہ ڈبہ کس سمت میں حرکت کرے گا ؟ ظاہر ہے وہ سامنے کی طرف حرکت کرے گا۔ اب ہم فرض کریں ایک اور ڈبہ ہے ،ایک طرف آپ ہیں ،ایک طرف آپ کا دوست ہے ،آپ اس ڈبے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور آپ کا دوست اتنی ہی قوت سے اس ڈبے کو اپنی طرف کھینچتا ہے جتنی قوت سے آپ کھینچتے ہیں ، کیا وہ ڈبہ حرکت کرے گا ؟ ذرا ذہن پر زور ڈالیے ۔ جیسا خاکہ نمبر ایک میں ہے دو تیر ظاہر کرائے گئے ہیں یہ تیر دو سمتوں سے لگنے والی قوتوں کو ظاہر کر رہے ہیں ۔ ایک قوت دائیں طرف سے لگ رہی ہے اور دوسری قوت بائیں طرف سے لگ رہی ہے ۔ یہ دونوں قوتیں برابر ہیں۔ اور یہ قوتیں بیلینس ہے ۔ وہ ڈبہ تو وہیں کا وہیں رہا ،ہلا تک نہیں۔ اب اس مثال کو آپ ذرا سینٹری فیوگل اور سینٹری پیٹل فورس پر لاگو کریں ،اگر سینٹری پیٹل فورس اور سینٹری فیوگل فورس بیلینس ہونے کی ہی وجہ سے زمین سورج سے نہیں ٹکراتی تو زمین کو تو ساکن رہنا چاہیے یا اگر دوسرے رخ کی طرح سوچنا ہے تو زمین کو تو اپنی سمت ہی نہیں بدلنی چاہیے تھی۔ پر زمین تو حرکت بھی کر رہی اور سمت بھی بدل رہی ہے اور سورج کے گرد حرکت کر ہی ہے۔ سادہ لفظوں میں وہ وضاحت غلط ہے ۔ آپ بلا خوف و خطرے کے کسی بھی ایسے فریم آف ریفرینس میں سینٹری فیوگل فورس لگا سکتے ہیں جو اسراع کر رہا ہو ۔ فزکس اس کی اجازت دیتی ہے ۔ پر یہاں معاملہ اور ہے ۔ آپ نے یہ سنا ہوگا ،عمل کا برابر ردعمل ہوتا ہے ۔ یہ بات ویسے تو بہت ہی زیادہ سادگی کے لباس میں پرو دی گئی ہے۔ جو کہ ہمارے نیوٹن کے تیسرے قانون کو بیان کرنے کے لیے اکثر وبیشتر بیان کر دی جاتی ہے۔ہے تو یہ قانون بہت سادہ ۔ سورج زمین پر قوت لگا رہا ہے ،بدلے میں زمین بھی سورج پر قوت لگائے گی۔ یہ قوت برابر مقدار کی ہوگی ،پر ان کی سمت دونوں کے مخالف ہیں۔ ہوتا کیا ہے کہ جس سمت میں قوت لگتی ہے اسی سمت میں جسم مومنٹم رکھتا ہے ،اب چوں کہ قانون یہ کہتا ہے کہ اسے برابر ہونا چاہیے اسی لیے اس کی مخالف سمت میں بھی مومنٹم رکھتا ہو۔ اور اسی وجہ سے زمین اور سورج ایک مشترک سنٹر آف ماس کے گرد حرکت کرتے ہیں ۔ (اور یہ چیز میرے خیال سے آپ سینٹری فیوگل فورس کو برابر کرنے سے بیان نہیں کرسکتے۔) خیر تو اب ہم واپس سوال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ زمین سورج سے اسی وجہ نہیں جاتی کیوں کہ زمین کا اینگولر مومنٹم کنزرو ہوتا ہے۔

اینگولر مومنٹم ہے کیا ؟ اسے سمجھنے کے لیے ہم پہلے مومنٹم کو سمجھ لیتے ہیں۔ مومنٹم کیا ہے ۔ بنیادی طور پر p=mv ،مومنٹم ہے۔ فرض کریں آپ کار میں سفر کر رہے ہیں۔کار کی کچھ نہ کچھ رفتار ہوگی۔ فرض کریں اس کی رفتار بیس کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ یہ رفتار ہوگئی۔ پر اوپر کلیے میں جو وی ہے یہ صرف رفتار کو ظاہر نہیں کرتا ۔ یہ وی ولاسٹی کا ہے ،ولاسٹی سے مراد یہ ہے کہ آپ کس سمت میں کار چلا رہے ہیں اور کتنی رفتار سے کار چلا رہے ہیں،دوسرے لفظوں میں آپ کی کار بیس کلو میٹر فی سیکنڈ شمال کی جانب جا رہی ہے تو یہ ولاسٹی کہلائی جائے گی۔ یعنی جہاں ہم نے رفتار اور سمت ظاہر کر دی وہاں ہم جو لفظ استعمال کریں گے وہ ولاسٹی یا سمتار ہوگی۔اب سوال ہے کہ آپ کی کار کے ساتھ ساتھ ایک ٹرک ہے اور آپکی کار کی سمت بھی ایک ہے اور ٹرک کی بھی سمت ایک ہی ہے اور ولاسٹی بھی برابر ہے،تب کیا مومنٹم برابر ہوگا ؟ آپ کی کامن سینس یہ کہہ سکتی ہے ہاں جی کار اور ٹرک کا مومنٹم برابر ہوگا،پر یہ بات درست نہیں،مومنٹم کتنا ہوگا اسکا انحصار دو چیزؤں پر ہے ،کمیت اور ولاسٹی پر ،کمیت کو ولاسٹی سے ضرب دی جائے تب مومنٹم حاصل ہوا،چوں کہ ٹرک کی کمیت زیادہ ہوتی ہے اس لیے برابر بھلے ہی ولاسٹی ہو جو مومنٹم ہے وہ ٹرک کا زیادہ ہوا، یہ تو ہوگیا خطی مومنٹم ،یا لینیر مومنٹم۔

اینگولر مومنٹم کیا ہے ؟ فرض کریں آپ کی کار اب کسی سیدھی سڑک پر نہیں پھر ہی ،بلکہ ایسے روڑ پر فراٹے مار رہی ہے جو کہ دائروی ہے،اب آپ کیا کہیں گے آپ کی کار کی سمت کس طرف ہے ؟ اس دائروی حرکت کیوجہ سے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کار کی سمت کون سی ہے چوں کہ وہ دائروی راستے پر ہے اور اس کی سمت مسلسل بدل رہی ہے، اس چیز کو سلجھانے کے لیے ہی ہم اینگولرمومنٹم کا استعمال کرتے ہیں۔ اب چوں کہ کار دائروی راستے پر فراٹے مار رہی ہے ،یا تو یہ کار کاؤنٹر کلاک وائز جا سکتی ہے یا پھر کلاک وائز ،اور کار کا ، کاؤنٹر کلاک وائز جانا ،یا کلاک وائز جانا ، کسی ایکسز کی نسبت سے ہے ۔ اب فرض کریں کار جس سمت جا رہی ہے وہ کاونٹر کلاک وائز ہے ،ہم یہ کہیں گے کہ اینگولرمومنٹم کی سمت اوپر کی طرف ہے ۔ اوپر کی طرف ہی کیوں ؟ایسا دائیں ہاتھ کا اصول کی وجہ سے ہے۔ جس سمت میں کار حرکت کرتی ہے آپ اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو اسی طرف موڑیں گے ،اور انگوٹھا کھلا چھوڑ کر دیکھیں گے کہ انگوٹھا کس سمت جاتا ہے آیا اوپر یا نیچے ۔ چوں کہ کاؤنٹر کلاک وائز حرکت پر ہمارا انگوٹھا اوپر کی سمت ہوتا ہے اس لیے ہم کہیں گے اینگولر مومنٹم کی سمت اوپر کو ہے ۔ان ساری باتوں میں ایک چیز میں نے پہلی نہیں کی۔وہ یہ ہے کہ اگر آپ اینگولرمومنٹم کی مساوات دیکھیں وہ کچھ یوں ہوگی۔ l = mvr یہاں پر "mv"ہمارے پاس کمیت اور ولاسٹی کا ہے اور "r" سے مراد وہ فاصلہ ہے جس فاصلے پر جسم محور(ایکسز) کے گرد حرکت کر ہا ہے۔ آپ ذرا سوچیں اگر یہاں پر ہم اینگولر مومنٹم کو تین چیزؤں کو دیکھ کر طے کر رہے ہیں تب اینگولرمومنٹم کنزرو کیسے ہے ؟ ظاہر ہے رفتار بڑھ سکتی ہے نا؟ فاصلہ بھی بڑھ سکتا ہے ؟ فاصلہ کم بھی ہوسکتا ہے اور فاصلہ زیادہ بھی ہوسکتا ہے تو پھر اینگولرمومنٹم کنزرو کیسے ہے ؟ یہ بہت ہی زبردست فیچر ہے ۔ جب فاصلہ کم ہوگا تب اس جسم کی رفتار تھوڑی بڑھے گی اور وہ رفتار بڑھ کر اینگولرمومنٹم کو کنزرو کر دے گی۔ ایسے ہی اگر فاصلہ زیادہ ہوتا ہے تب رفتار کم ہوگی۔ اوراسطرح رفتار کے کم اور فاصلے کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ہمارے پاس اینگولرمومنٹم کنزرو آیا ۔ اور زمین اسی وجہ سے سورج سے نہیں ٹکراتی کیوں کہ اسکا اینگولرمومنٹم کنزرو ہے۔ یہی نہیں آپ شاید ٹارک جیسی ٹرم سے واقف ہوں۔ آپ کے ٹیچر آپکو بتاتے ہوں کہ جب ٹارک لگ رہا ہو تب اینگولرمومنٹم کنررو نہیں رہتا ،بہت سے بچے سمجھ لیتے ہیں کہ کشش ثقل بھی ٹارک لگاتی ہے۔ پر اصل میں کشش ثقل ٹارک نہیں لگاتی ،کشش ثقل ایک سنٹرل فورس ہے ،جس کیو جہ سے یہ ٹارک پیدا کر نہیں پاتی ۔ اگر آپ ایسٹرفزکس پڑھیں تو آپکو یہ بھی پڑھنے کو ملے کیپلر کا دوسرا قانون تو اینگولر مومنٹم کا ہی نتیجہ ہے دونوں جڑے ہیں ۔
شاید آئندہ کیپلر پر لکھوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضیار قیرمان

03/08/2023

بڑے دماغ کا چھوٹا بچہ [ گاٹفریڈ ولھم لائب نز (۱) ]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ جس نے وگ لگائی ہوئی ہے یہ نیوٹن کے زمانے کا ایک بڑا دماغ مانا جاتا ہے ۔ اُس دور میں عام رواج تھا کہ لوگ وگ لگاتے تھے ۔ نیوٹن کی پیدائش کے تقریبا چار سال بعد یعنی 1646 میں لائب نز (Gottfried wilhelm leibniz ) پیدا ہوئے ، اور نیوٹن کی وفات سے قبل ہی لائب نز نے اپنی آنکھیں موند لیں یعنی ان کی وفات ہوئی ۔

لائب نز ایک اچھے خاصے علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ، ان کا گھر علم سے خاصی محبت بھی رکھتا تھا اور ان کے والد کے قبضہ میں کتابوں کا وسیع جہان بھی تھا ۔ لائب نز کو ، کوئی روک ٹوک نہ تھی کہ وہ لائبریری میں جائیں یا نہ جائیں ، یہی وجہ ہے کہ انھیں مکمل آزادی تھی کہ وہ کتابوں کے جہانوں کی سیر کریں ، ان سے علم سیکھیں اور اپنے دماغ کو روشن کریں ۔

لائب نز کیا بھی یہی ۔ ان کے ہم عمر بچے باہر کھیل کود میں اپنا وقت صرف کرتے اور ننھے لائب نز کتابوں کے دامن میں پناہ لیتے ۔ لائبریری کیوں کہ مختلف الانوع کتابوں کا گھر تھا اس وجہ سے کم عمری میں ہی لائب نز نے الگ الگ موضوعات کے ذائقے چکھ لیے ۔

علم کے حصول کے لیے سعی اور لگن نے انھیں ایسی تربیت دی اور اس قابل بنا دیا کہ لگ بھگ لائب نز جب بارہ برس کے ہوئے ، اس عمر میں انھوں نے خود ہی لاطینی سیکھ لی تھی ، نہ صرف سیکھی تھی بلکہ لاطینی میں یہ شاعری بھی کرتے تھے ۔ لاطینی تو لاطینی ، لائب نز نے معقول مہارت یونانی زبان پر بھی حاصل کرلی تھی ۔

جاری ہے ۔

01/08/2023

کیا کائنات کی عمر 26.7 ارب سال ہے ؟

حال ہی میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ جیمس ویب کے ڈیٹا سے نئی تحقیق کی رو کائنات کی عمر 13.8 ارب سال نہیں بلکہ 26.7 ارب سال ہے ۔ یہ دعوی جنھوں نے پیش کیا ہے انکا نام آر گپتا ہے ۔ مگر سائنس دان اس بات پر یقین کرتے آئے ہیں کہ کائنات کی عمر 13.8 ارب سال کے لگ بھگ ہے اب اس سے دو گنا عمر کیسے بن گئی اور کیا نیا دعوی درست بھی ہے ۔ اور اگر یہ درست ہے تو کیا بگ بینگ غلط ثابت ہوجاتا ہے ؟ کیا کائنات کے متعلق ہم مکمل غلط ہیں آئیے انھی سوالوں کے جواب جانتے ہیں۔

ہمیں اپنی کہانی کا آغاز لگ بھگ سو برس(کچھ سال کم) پہلے سے شروع کرنا ہوگا ۔یہ وہ دور ہے جب ایڈون ہبل نے یہ دریافت کیا کہ کائنات پھیل رہی ہے ۔ انھوں نے مشاہدہ کیا کہ جو کہکشائیں دور ہیں ، ان کی روشنی ہم تک پہنچتے پہنچتے ریڈ شفٹ ہو رہی ہے ، اور جو ان سے بھی دور ہیں ان کی روشنی مزید ریڈ شفٹ ہے ۔ ریڈ شفٹ آسان زبان میں یہ ہوا کہ روشنی کی ویو لینتھ سٹریچ ہوگئی اور روشنی کی لہروں کی توانائی کم ہوگئی ۔

اب کیوں کہ ایڈون ہبل نے اپنے مشاہدات سے یہ بات اخذ کی تھی کہ جو کہکشاں ہم سے جتنی دور ہے اس کی رفتار بھی اس حساب سے ہوگی ، یعنی جو کہکشاں جتنا دور ہو گی وہ اتنا ہی تیزی سے ہم سے دور ہوتی جارہی ہے ۔ یہ دریافت کائنات کا پھیلاو کہلائی جانے لگی ۔

اور یہ مشاہدہ آج ہم جسے بگ بینگ ماڈل کہتے ہیں ، کو سپورٹ کرتا ہے ۔ یعنی بگ بینگ کے شواہد میں سے ایک — کائنات کا پھیلاو ہے ۔

یہ چیز اس وقت سائنسدانوں کو پسند نہ آئی تھی کیوں کہ سائنس دان یہ سمجھتے تھے کہ کائنات سٹیٹک یعنی جامد ہے ، یہ لچکدار نہیں ۔ ایڈون ہبل کے مشاہدات کے مقابلہ میں ماہر فلکیات فرٹز زووکی نے اپنی تجویز پیش کی ۔

زووکی کے مطابق ، کائنات پھیل نہیں رہی ۔ بلکہ ہو یہ رہا ہے کہ جو روشنی ہم تک ریڈ شفٹ ہو کر آ رہی ہے ، یہ اس لیے ہے کیوں کہ اس نے خلا میں موجود باقی مواد (نیبولا یا گرد کے بادل وغیرہ) سے انٹریکٹ (تعامل) کیا ہے ، اس انٹریکشن کے نتیجے میں ، روشنی کی کچھ توانائی اس مواد میں منتقل ہوگئی اور باقی توانائی روشنی کی لہروں کے پاس ہی رہی ، یوں جب روشنی ہم تک پہنچی تو یہ ریڈ شفٹ ہو کر پہنچی ۔

زووکی بنیادی طور پر یہ کہنا چاہتے تھے کہ اس حساب سے کیوں کہ کائنات پھیل نہیں رہی بلکہ یہ سرخ منتقلی (ریڈ شفٹ) دیگر مواد سے ٹکراو اور انجذاب کی وجہ سے ہے ۔ اس لیے کائنات سٹیٹک ہے ۔

اب سوال یہ ہے کیا ایسا کائنات میں ہوسکتا ہے ؟ کیا روشنی دیگر مواد میں اپنی توانائی دے سکتی ہے ؟

جی ہاں دے تو سکتی ہے ۔ اور اس سے جڑا ایک دل چسپ واقعہ سن انیس سو اکتالیس میں ہوا ۔ انیس سو اکتالیس میں ، اینڈریو میکالر نے ، زیٹا اوفیوکی ستارے کے اردگرد بادل کا مشاہدہ کیا ، یہ بادل گرد اور کچھ مالیکولز پر مشتمل ہے ۔ اس بادل میں ایک مالیکول سی این بھی پایا جاتا ہے ۔

آپ یہ بات جانتے ہوں گے کہ ایٹموں میں جو الیکٹران ہوتے ہیں یہ عموما گراونڈ اسٹیٹ میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں ،مگر جب ایٹموں یا مالیکولز کو حرارت دی جاتی ہے تب اس کے الیکٹران اکسائیٹڈ اسٹیٹ میں چلے جاتے ہیں۔ سی این مالیکولز کے ساتھ بھی یہی ہوا ، اینڈریو میکالر نے یہ مشاہدہ کیا کہ یہ جو مالیکولز ہیں انھیں کوئی نہ کوئی شے حرارت دی رہی ہے ۔ اور الیکٹران اکسائیٹڈ انرجی اسٹیٹ میں ہیں ، میکالر کو لگا کہ سپیس کا درجہ حرارت ہے ، اینڈریو میکالر نے جو اندازہ کیا وہ درجہ حرارت لگ بھگ (دو ڈگری کیلون)2K تھا ۔

مزے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اینڈریو میکالر کو یہ نہیں پتا تھا کہ اس کا مفہوم کیا بنتا ہے ۔ مگر کیوں کہ یہ چیز خاصی دل چسپ تھی اس لیے انھوں نے اسے آپٹیکل اسٹرونومی جرنل میں شائع کیا ۔ آپ کو لگ رہا ہو گا کہ یہ چیز کیا خاصیت رکھتی ہے ؟ سچ میں سب سے بڑی خاص بات یہ تھی کہ اس میں بگ بینگ ماڈل کا ایک اور ثبوت تھا ۔

سی این مالیکول ، مائیکرو ویو بیگراونڈ کو سے حرارت حاصل کر رہا تھا ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی میں جتنے مشاہدات اور شواہد سائنس دانوں نے اکھٹا کیے ان کی روشنی میں ہمیں پتا چلا کہ فرٹز زووکی نے غلط تجویز پیش کی تھی اور کائنات سچ مچ پھیل رہی ہے ۔ فکر مت کیجیے ہم کائنات کی عمر کی طرف ہی واپس آ رہے ہیں ۔

آر گپتا نے جو ماڈل پیش کیا ہے اس میں بھی روشنی دوسرے مواد سے انٹریکٹ کرتی ہے جس کے نتیجے میں روشنی اپنی توانائی کھو بھی دیتی ہے ۔ اب اگر یہ سچ ہے تو اس کو جانچنے کے لیے الگ طریقہ کار بھی ڈویلپ ہونا چاہیے تاکہ ہمیں پتا چل سکے کہ آر گپتا نے جو ماڈل پیش کیا ہے وہ درست ہے یا نہیں ۔ جیسا کہ پہلے سی این مالیکول کی مثال میں بتایا گیا ہے ۔ ایسے اس مثال کو مدنظر رکھ کر بھی جانچ پڑتال کرنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔

جو آر گپتا نے پیپر شائع کیا ہے اس میں بہت سی چیزیں نظر انداز کی گئی ہیں ۔ ان میں سب سے اہم تو بگ بینگ نیوکلوسنستتھز اور مائیکرو ویوبیگراونڈ ریڈی ایشن کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے اور مائیکرو ویو بیگراونڈ ریڈ ایشن لگ بھگ 13.7 ارب سال پہلے کی ہے ۔ گپتا کے مطابق اگر ہم کائنات کی عمر کو 26.7 ارب سال مانیں تب بہت سی چیزیں سلجھ جاتی ہیں ۔

جیسا کہ جیمس ویب نے جو ابتدائی کائنات کی کہکشائیں دریافت کی ہیں وہ اتنا تیزی سے کیسے تشکیل ہوئی ، جب کہ وقت کم تھا اب اگر وقت زیادہ ہو تو یقینا وہ کہکشائیں تشکیل ہوسکتی تھی جیسا کہ گپتا نے دعوی کیا ۔

ایسے ہی ایک اور راز جو سائنس دانوں کو پریشان کرتا ہے وہ بلیک ہولز کا ہے ، اگر کاینات کی عمر 13.8 ارب سال سے زیادہ ہے تب کاینات کی ابتدا میں جو بلیک ہولز تھے وہ بھی زیادہ وقت ہونے کیوجہ سے تشکیل ہوئے ۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس حساب سے تو آر گپتا کی تحقیق اور دعوی درست ثابت ہو رہا ہے ۔ پر حقیقت میں دوستوں اس پیپر پر بھی بہت سے سوال اٹھتے ہیں۔

جیسا پہلے کہا گیا ہے کہ اس پیپر میں بہت سی چیزیں نظر انداز کی گئی ہیں۔

سب سے اہم بات جو نئی تحقیق دعوی کرتی ہے اس میں یہ بات بھی ہے کہ کائنات میں جو کانسٹنٹس ہیں ان میں سے کچھ کانسٹنٹس ہوں ہی نہ ۔ جیسے سپیڈ آف لائٹ کا ، کانسٹنٹ سی ، گریوٹی کا جی وغیرہ ۔ ماہرین نے روشنی کی رفتار پر بہت تحقیقات کی ہیں ۔ یہ تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ دور دراز جہاں سے بھی ہم تک روشنی پہنچ رہی ہے ، اس کی رفتار لگ بھگ مستقل ہی رہتی ہے یہ بدلتی نہیں ۔ یہ کانسٹنٹ ہے اور یہ تحقیقات بہت بڑے پیمانے پر ہوئی ہیں ان پر کسی اور وقت بات کریں گے ۔

دوسرا سب سے اہم مشاہدہ یہ ہے کہ قابل مشاہدہ کائنات میں جتنے بھی کانسٹنٹس ہیں یہ سب ہمیں کانسٹنٹس ہی ملتے ہیں ۔ چاہے وہ سپیڈ آف لائٹ کا سی ہو یا گریوٹیشن کا بڑا جی ۔ یہ سب مستقل ہیں ۔ ان کی قیمتیں بدلتیں نہیں ۔

ایک اور چیز جس بنیاد پر نئی تحقیق نے دعوی کیا ہے کہ کائنات کی عمر 26.7 ارب سال ہے وہ ریڈ شفٹ ہے ۔ اور ریڈ شفٹ کو ماپنے کے دوران غلطی کا امکان بھی ہوتا ہے ۔ یعنی ہوسکتا ہے کہ کیلکولیشنز کے دوران کوئی نہ کوئی کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو ۔ ماہرین نے ابھی تک یہ عمر یعنی 26.7 ارب سال کو قبول نہیں کیا بلکہ یہ عمر بہت سے سوال اٹھا رہی ہے اور گذشتہ تحقیقات کو جہاں پر نظر انداز کیا گیا ہے اگر نئی تحقیق سچ ہے تو گذشتہ تحقیق پر بھی بہت سے سوال اٹھتے ہیں ۔

تاحال کوئی آفیشل سٹیٹمنٹ نہیں آئی کہ کائنات کی عمر 26.7 ارب سال ہے۔ لہذا اب تک جتنی گذشتہ تحقیقات ہوئی ہیں ان کی روشنی میں کائنات کی عمر 13.8 ارب سال ہے ۔ دیکھتے ہیں کہ ماہرین مستقبل میں کائنات پر مزید کیا کیا سوال اٹھاتے ہیں اور ایسی وہ باتیں ہماری سامنے آتی ہیں جو ہماری پوری محنت پر ہی سوال اٹھائیں ۔

ضیار علی۔

Want your school to be the top-listed School/college in Brisbane?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Brisbane , Queensland
Brisbane, QLD
4000