20/08/2023
طبیعیات کے ناممکنات [ 1 ]
یہ چند پوسٹس ناممکنات پر ہیں ، لکھنے کا دل تو بہت سی چیزوں کا کرتا ہے پر ڈپریشن کی وجہ سے مزاج بہت کروٹیں لیتا ہے اس لیے فرمائشی پوسٹس نہیں کرسکتا جیسا کہ سٹرنگ تھیوری اور حرحرکیات وغیرہ پر دیکھیں گے انھیں پھر کبھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرض کیجیے کہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں بتائیے اگر کوئی انسان بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن سے گزر گیا تو کیا وہ بچ سکتا ہے ؟ کیا بلیک ہول سے فرار ممکن ہے ؟ یا کیا روشنی کی رفتار سے تیز سفر کرنا ممکن ہے ؟ کیا ماضی میں سفر کرنا ممکن ہے ؟
یقینا آپ نے ایسے سوالات اکثر و بیشتر ضرور سنے ہوں گے ، مگر سوال یہ ہے کہ ہمیں کیسے پتا چلتا ہے کہ آیا ایک شے جسے ہم ناممکن کہہ رہے ہیں وہ ناممکن ہے اورکوئی شے ممکن ہے تو وہ کیوں ممکن ہے ؟
سوچنے والے دماغوں کا ایسی صورت حالوں سے ضرور واسطہ پڑتا رہتا ہے ، اور یہ لطف دینے والا کھیل بھی ہوتا ہے اگر معاملہ کائناتی اور طبعی ہے تب ہم طبیعیات [ فزکس ] کی روشنی میں یہ دیکھتے ہیں کہ کیا ممکن ہے یا نہیں ۔ اور ہم اس کھیل کی مدد سے طبیعیات کے قوانین کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں ، یہ کھیل دل چسپ تو ہے مگر ہمیں کچھ باتیں پہلے سے بھی پتا ہونی چاہیے ۔
⭕ ناممکنات کی اقسام ⭕
عام طور پر جب یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی شے ناممکن ہے تب ہم یہ تاثر لیتے ہیں کہ ’ یہ شے سو فیصد قطعیت کیساتھ ہی ناممکن ہے ‘ پر حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ ناممکنات کی لگ بھگ تین قسمیں ہیں ۔
ناممکنات کی سب سے ٹھوس قسم مطلق ناممکنات ہے آئیے دیکھتے ہیں یہ کیا ہے ۔
1️⃣ مطلق ناممکنات (Absolute impossibilities)
یہ وہ ناممکنات ہوتے ہیں جو اپنے آپ میں ہی ناممکن ہوتے ہیں ۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ منطقی تضادوں کی وجہ سے اسے ناممکن شمار کیا جاتا ہو اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ریاضیاتی لحاظ سے جو تضاد واضح ہو رہا ہے اس کی بنا پر اسے ناممکن شمار کیا جاتا ہو ۔ یعنی جو شے منطقی و ریاضیاتی تضاد اور اپنے آپ میں ناممکن ہوگی وہ ” مطلق ناممکنات “ میں شمار کی جائے گی ۔
2️⃣ ماخوذ ناممکنات ( Derived impossibilities)
فرض کیجیے میں آپ سے کوئی مشورہ طلب کرتا ہوں ، آپ جو مشورہ بھی مجھے دیں گے وہ کسی نہ کسی شے ، علم یا تجربے کی بنیاد پر ہوگا ، دوسرے لفظوں میں وہ مشورہ ماخوذ ہوگا ۔ ایسے ہی جب ہم عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ فلاں چیز ناممکن ہے تب ہم یہ سب اپنے علم کی بنیاد پر کہہ رہے ہوتے ہیں ، ہم اکثر و بیشتر جو ناممکنات بتلاتے ہیں وہ طبیعیات کے علم کے سہارے بناتے ہیں ۔ یعنی ایسی کوئی بات جو ہمارے قبول شدہ طبیعیاتی علم کے خلاف نظر آتی ہے اسے ہم ناممکن کہتے ہیں اور اس درجہ بندی میں جو ناممکنات طے کیے جاتے ہیں یہ ماخوذی ہوتے ہیں ۔
3️⃣ شماریاتی ناممکنات ( statistical impossibilities )
شماریاتی ناممکنات بنیادی طور پر وہ ناممکنات ہیں جو شماریاتی لحاظ سے ناممکن کہے گئے ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ممکن تو ہیں پر شماریاتی وجوہات کی بنا پر ناممکنات میں شمار کیے جاتے ہیں جیسا کہ ایک سکہ ہے اب اگر آپ اسے سو بار اچھالتے ہیں تو ممکن ہے آپ نے سکہ کا جو پہلو چنا تھا وہی سو بار آئے ، پر شماریاتی لحاظ سے یہ ناممکن ہوجاتا ہے کیوں کہ دوسرے رخ کا امکان بھی ہوتا ہے اس لیے سو بار آپ ہی کا چنا ہوا پہلو آئے یہ طے حتمی نہیں۔
📝 دل چسپ اور قابل توجہ نکتہ
جیسا کہ ہم نے قسم دوم میں جانا تھا اب نکتہ یہ ہے کہ جو شے ہم اپنے محدود علم کی بنیاد پر ناممکن کہہ رہے ہوں وہ ممکن ہوسکتی ہے ۔ اس کی سیدھی وجہ یہ ہے کہ ہمارا علم محدود ہے ۔ اس لیے یہ ممکن ہے جسے ہم ناممکن کہہ رہے ہوں وہ ممکن ہو پر آپ سوال کیجیے کہ ایسا ” کیسے “ اور ” کہاں “ اور کب ہوسکتا ہے ؟
۱) ایسی شے جو ہم اپنے طبیعیاتی علم کے سہارے ناممکن کہہ رہے ہیں وہ کسی اور جہان میں ممکن ہو ۔
۲) ایسا ہوسکتا ہے جسے ہم ناممکن کہہ رہے ہوں جب ہمارا علم مزید ترقی کا زینہ طے کرے تب وہ ہمیں پتا چلے کہ یہ ممکن ہے ۔
۳ ) ایسا بھی ہوسکتا ہے جسے ناممکن کہا گیا ہے وہ ممکن ہو پر ایسا تب ہوگا جب ہمارے پاس بہتر قانون طبیعیات دریافت ہوجائیں گے ” یا “ جانچنے کے لیے اور طرح کے قوانین طبیعیات فرض کیے جائیں ۔
🌑 ناممکن و ممکن 🌕
سائنس کا علم اور بالخصوص طبیعیات یہ قابل اعتبار علوم ہیں ۔ جیسا کہ آپ کو علم ہے یہ انسانی محنت سے حاصل ہوتے ہیں اور انسان اچھی خاصی تگ و دو کے بعد ان نتائج تک رسائل حاصل کرتا ہے ایسا ہوسکتا ہے کہ انسان کو ایک شے ناممکن لگتی ہو مگر وہ ممکن ہو جیسا کہ اگر آپ سو یا ڑیڑھ سو سال پہلے کے زمانے کا تجزیہ کریں تب یہ بات لوگ مانتے تھے کہ طبیعیات کے علم سے آپ نہ تو کائنات کی ابتدا جان سکتے ہیں اور نہ ہی انجام ، ایسے ہی ستارے کس سے بنے ہیں اس دنیا کا اختتام کیسے ہوگا ، یہ باتیں تب ناممکن گردانی جاتیں تھیں پر ظاہر سی بات ہے کہ جیسے ہمارے علم کا افق وسیع ہوا ناممکن ممکن ہوگیا اور اب ان باتوں پر ہمیں بہت سی تفصیل بھی دستیاب ہے ۔
ایسے ہی یہ بھی ہوسکتا ہےکہ ایک شے کو ہم اپنے موجودہ علم کے بل پر یا کسی اور وجہ سے ممکن خیال کرتے ہوں پر اصل میں وہ ناممکن ہو اور ہمارا محدود علم جیسے بڑھے گا ہمیں پتا چلے گا کہ یہ چیز ناممکن ہے ۔طبیعیات میں اس کی مثال پریپچویل موشن کی ہے ۔ ابتدا میں یہ خیال کرلیا گیا کہ پریپچویل موشن ممکن ہے مگر اب ہم جانتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے ۔
آپ سوال کرسکتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہے ؟
اس کی دو وجوہات ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ ہمارا کائنات قوانین کے متعلق ” قریب ترین درست “ ہے یہ مطلق اور کامل نہیں بلکہ ہمارے پاس جو کچھ ہے یہ ” قریب ترین “ اور عمدہ کوششوں کا حاصل ہے ۔ اسی لیے مستقبل ہمارا زاویہ نگاہ بدل سکتا ہے ۔
دوسری بات سائنس تبدیلیاں اور کروٹ لیتی ہے اور اس لحاظ سے ہمارا تاثر بھی بدل جاتا ہے مگر سائنس کے بدلنے سے یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ کیوں کہ سائنس بدلتی ہے اس لیے قابل اعتبار نہیں، سائنس قابل اعتبار ہے اور اسے ہم آزما کر ہی قابل اعتبار بناتے ہیں ایسی ڈھیر ساری باتیں ہیں جو پختہ تجربات کی بنیاد پر ہیں بس یہ فہم اور تعصب کا فرق ہے ۔
ضیار علی ۔
جاری ہے ۔