09/21/2026
دنیا میں جہاں کہیں امن و سکون ہے اس کا راز یہی ہے کہ وہاں کے باشندے قانون کے پابند ہیں جہاں کہیں بگاڑ و انتشار ہے بدامنی اور پریشانی ہے وہاں قانون شکنی کی حکمرانی ہے اس بات کو سمجھنے کے لیے بدن انسانی ہمارے سامنے ہے کہ جب جسم کے نظام میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے تو بیماری لاحق ہو جاتی ہے اور بدن انسانی کا چین و سکون غارت ہو جاتا ہے ایک مثبت پہلو ہے اور ایک منفی پہلو ہے کہ قانون توڑنے اور اصول و ضوابط کا احترام نہ کرنے سے افرا تفری پھیل جاتی ہے جن کی بنا پر نہ صرف افراد کا سکون تہہ و بالا ہو جاتا ہے بلکہ پورے معاشرے اور قوم کی زندگی متاثر ہو جاتی ہے اس لیے مذہب اسلام نے مسلمانوں کو قانون کا احترام اور پابندی کرنے کی تاکید کی ہے فتح مکہ کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خاتم النبیین نبی محتشم حضور ﷺ کی ہدایت کے تحت ان گھروں اور باغوں پر بھی قبضہ نہ کیا جن کو وہ ہجرت کے وقت چھوڑ گئے تھے جو کہ قانون کی پابندی کی زندہ مثال ہے نبی کریم ﷺ کے دور میں اسلامی معاشرے میں قانون کا کس قدر احترام کیا جاتا تھا اس کی نہایت عمدہ مثال شراب کی حرمت کے سلسلے میں دیکھنے میں آئی ہے جو نہی شراب کی حرمت کا اعلان کرایا گیا اس وقت لوگوں نے شراب کے تمام برتن توڑ دیئے اور شراب مدینے کی گلیوں میں بہہ نکلی اور اسلامی معاشرہ شراب کی لعنت سے پاک ہو گیا اسی طرح رمضان المبارک میں روزہ رکھنا احترام قانون کا حسین نقشہ ہے حکم خداوندی کے تحت صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک مفطرات ثلاثہ اکل شرب اور ج**ع سے مطلق پر ہیز یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلمان اپنے خالق حقیقی کا مطیع اور فرماں بردار ہے حج بھی اسی قوانین کی پابندی کا ایک دلنشین نظارہ ہے اور یہی اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کی اصل روح اور اسلام کا حقیقی مفہوم ہے
Al Rizvi Online Academy