08/25/2026
عنوان: نوکری کا اشتہار یا غریب کے خوابوں کی نیلامی؟
جب ایک نوجوان سالہا سال کی محنت، والدین کی گاڑھی کمائی اور اپنی شب و روز کی ریاضت کے بعد ڈگری ہاتھ میں لے کر نکلتا ہے، تو اسے لگتا ہے کہ اب اس کے دکھوں کا مداوا ہوگا۔ لیکن روزگار کے بازار میں قدم رکھتے ہی اس کا سامنا ایک تلخ حقیقت سے ہوتا ہے—یہاں نوکری ملنا تو دور، نوکری کی "آزمائش" میں بیٹھنے کا حق بھی خریدا جاتا ہے۔
NTS، ETEA، OTS
اور دیگر ٹیسٹنگ ایجنسیاں روزگار دینے کا ذریعہ نہیں، بلکہ بے روزگاری کی منڈی بن چکی ہیں۔ ایک اسامی کے لیے 1500 سے 3000 روپے تک کی فیس وصول کی جاتی ہے۔ کوئی بھی امیدوار اپنی قسمت کو صرف ایک پوسٹ پر داؤ پر نہیں لگا سکتا؛ وہ مجبوراً 3 سے 4 جگہ اپلائی کرتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، صرف درخواست فارم جمع کروانے پر 10 سے 15 ہزار روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ جس گھر میں مہینے کا راشن مشکل سے آتا ہو، وہاں کا بیٹا یا بیٹی یہ رقم کہاں سے لائے؟ کیا وہ اپنی ڈگری گروی رکھے یا اپنے باپ کی عزتِ نفس؟
ستم بالائے ستم یہ کہ ان بھاری فیسوں کے بدلے امیدواروں کو ذلت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ ٹیسٹ سنٹر سیکڑوں کلومیٹر دور دوسرے شہروں میں بنا دیے جاتے ہیں۔ ایک غریب امیدوار کے لیے کرایہ، سفر کی صعوبت، اور ایک دن کی خوراک کا خرچ الگ سے عذاب بن جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ریاست اپنے ہی بچوں سے ان کی بے بسی کا ٹیکس وصول کر رہی ہو۔
اگر حالات یہی رہے تو قابلیت، میرٹ، اور ڈگری بے معنی ہو کر رہ جائیں گی، اور فیصلہ صرف "جیپ" اور "جیب" کی بنیاد پر ہوگا۔ جو پیسہ دے سکے گا، وہ امتحان میں بیٹھے گا؛ جو غریب ہوگا، وہ امتحان سے پہلے ہی ہار جائے گا۔ یہ صرف ایک معاشی بوجھ نہیں، نوجوانوں کے شعور اور ان کے مستقبل کا قتلِ عام ہے۔
حکومتِ وقت سے سیدھے سوالات اور مطالبات:
* فیس کی حد مقرر کی جائے: تمام ٹیسٹنگ ایجنسیوں کے لیے اپلائی فیس کی بالائی حد 500 روپے طے کی جائے۔
* یکسوئی پالیسی: ایک ہی محکمے کی مختلف اسامیوں کے لیے علیحدہ علیحدہ فیس وصول کرنے کے بجائے ایک ہی فیس رکھی جائے۔
* مقامی ٹیسٹ سنٹرز: ٹیسٹ کا انعقاد ضلعی سطح پر یقینی بنایا جائے تاکہ سفر کے اخراجات کا بوجھ ختم ہو۔
* سرکاری سرپرستی: ٹیسٹنگ کے نظام کو مکمل طور پر شفاف بنا کر ریاست خود اس کا بوجھ اٹھائے، نا کہ اسے نجی ایجنسیوں کے لیے منافع بخش کاروبار بننے دیا جائے۔
ہمارے نوجوان اس ملک کا اثاثہ ہیں، ان کے لیے روزگار کے راستے آسان بنائیے، انہیں مایوسی اور اندھیروں کی طرف مت دھکیلے۔
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔
#بےروزگاری