19/04/2024
پاکستان کیسے ترقی کرے گا ؟؟
جہاں کے اکثر لوگ سمجھتے ہوں کہ چینی کھانے سے شوگر بڑھتی ہے لیکن گاؤں کی خالص شکر اور گڑ کھانے سے شوگر نہیں بڑھتی ۔۔۔۔۔جہاں لوگ سمجھتے ہوں دودھ پینے اور چاول کھانے سے بلغم ہوتی ہے اور زخم میں ریشہ پڑ جاتا ہے ۔۔۔۔
جہاں ڈاکٹر کہے کہ سانس کی تکلیف کے لیے inhaler اور استعمال کرو اور مریض یہ کہہ کر انکار کر دے کہ ہمسای خالہ نے منع کیا ہے ،وہ ڈاکٹر سے زیادہ جانتی ہے کیونکہ اس کو 40 سال سے خود سانس کی تکلیف ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جہاں شہر کے سب سے بڑے ڈاکٹر سے نسخہ لکھوا کر مریض میڈیکل اسٹور کے سیل مین سے پوچھے دیکھو ڈاکٹر نے صحیح دوا لکھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جہاں شوگر کے مریض ایک دوسرے کو اپنی دوا یہ کہہ کر کھلائیں مجھے اس سے بہت آرام ہے آپ بھی کھائیں ۔۔۔۔۔۔جہاں مریض 500 ملی گرام کے ٹیکے سے ڈرے اور 2 گرام کا ٹیکہ خوشی سے لگوائے کہ یہ تو صرف دو ہی ہے ۔۔۔۔۔جہاں 104 بخار کے نمونیا کے بچے کو ٹیکہ نہ لگوائے کہ بخار میں ٹیکہ نہیں لگواتے ۔۔۔۔۔۔جہاں اکثر مریض ٹیکہ لگوانے سے پہلے کہے کہ میں نے کھانا نہیں کھایا ۔۔۔۔۔ جہاں لوگ کان پیڑے کے لیے منہ پر مٹی ملتے ہوں اور یرقان والے گلے میں ہار پہنتے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ جہاں خسرہ کے مریض بچے کو دوا نہ دیں کہ دوا سے دانے جسم کے اندر نہ رہ جائیں اور صرف منکہ کھلا کر بچے کو مار دیں ۔
جہاں بجلی کا کرنٹ لگنے پر انسان کو مٹی میں دبا دیا جائے----
جہاں سانپ کاٹنے پر بجائے ہسپتال جا کر ویکسین کرانے کہ اس جگہ پر کٹ لگا بابے منکے والے کے پاس چکر لگائے جائیں۔
جہاں زخم پر پٹرول یا ڈیزل لگایا جاتا ہو۔
جہاں جلی ہوئی جگہ پر دانتوں کی ٹیوب لگائی جائے۔
جہاں ہسٹریا کو جن چمٹنا سمجھا جائے۔
جہاں انڈے کو گرم سمجھ کر بچو کو نہ دیا جائے۔
جہاں مکھن اور گھی کو ہی اصل خوراک سمجھا جائے۔
جہاں diarrhea/dehydration والے بچے کو یہ کہہ کر نظر انداز کردیا جائے کہ بچہ ابھی دانت نکال رہا ہے اسکو دوائی کی ضرورت نہیں۔
جہاں کے سرکاری ہسپتال کے کچھ ڈاکٹرذ مریضوں سے سیدھے منہ بات نہ کریں اور وھی ڈاکٹرذ اپنے پرایئوٹ کلینکس میں مریضوں کے آگۓ پیچھے پھول نچھاور کریں۔
جہاں محلے کاڈسپنر جو ہزار روپے میں چیک اپ ,پانی والی ڈرپ,وٹامن کا رنگ برنگا ٹیکا ,دردکا انجیکشن ,سٹیراٸیڈ کا انجیکشن اور کھلی دواٸ بھی دے دیتا ایک قوالیفاٸیڈ ڈاکٹر سے بہتر ,سستا سمجھا جاتا جو اتنے پیسوں میں مخصوص ادویات کے ساتھ معیاری علاج کر سکتا ہے۔۔۔۔۔
جہاں لوگ ڈاکٹر سے چیک اپ کی بجاۓ فون پر دواٸ اور علاج پوچھنا پسند کرتے ہیں,تاکہ ٹاٸم اور پیسہ نہ لگیں جومریض کے لیے الٹا نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔۔
جہاں محلے کے میڈیکل سٹوروں اور جعلی پیروں سے علاج کروانے کے بعد جب بیماری پیچیدہ ہو جاتی تو ہسپتال لاکر ڈاکٹر کی غفلت بنا دیا جاتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہم تو ٹھیک ٹھاک مریض لے ائے تھے
صحت سے آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اسی کام کا کرنا اس پلیٹ فارم کا مقصد ہے اور انشااللہ ہم کرتے رہیں گے ۔آپ لوگوں سے درخواست ہے کے ہماری پوسٹس کو اپنے دوستوں اور فیملی کے ساتھ ضرور شیر کریں۔ دوسروں کو پیج پر ٹیگ اور انواٸٹ کریں تاکہ سب کا فاٸدہ ہو ۔
جزاك الله