06/12/2019
https://twitter.com/UrduLoverPakArt
https://www.facebook.com/PakArtUrduLover
https://www.facebook.com/Guide-to-seek-wisdom
https://www.pinterest.com/pin/25614291618307205/
https://itdarasgah.com/threads/3803/page-2 -29678
https://groups.google.com/forum/?hl=en-GB #!forum/paakart
مختصر صحيح مسلم
ایمان کے متعلق
علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والا مومن اور بغض رکھنے والا منافق ہے۔
حدیث نمبر: 36
مکررات
سیدنا زر بن حبیش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قسم ہے اس کی جس نے دانہ چیرا (پھر اس سے گھاس اگائی) اور جان بنائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ مجھ سے سوائے مومن کے کوئی محبت نہیں رکھے گا اور مجھ سے منافق کے علاوہ اور کوئی شخص دشمنی نہیں رکھے گا۔
46020 - 36
انصار سے محبت ایمان کی نشانی، اور ان سے بغض نفاق کی نشانی ہے۔
حدیث نمبر: 37
مکررات
سیدنا براء رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بارے میں فرمایا کہ ان کا دوست مومن ہے اور ان کا دشمن منافق ہے اور جس نے ان سے محبت کی اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے گا اور جس نے ان سے دشمنی کی اللہ تعالیٰ اس سے دشمنی کرے گا۔
46021 - 37
ایمان مدینہ کی طرف سمٹ جائے گا۔
حدیث نمبر: 38
مکررات
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان اس طرح سمٹ کر مدینہ میں آ جائے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں سما جاتا ہے۔
46022 - 38
ایمان بھی یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن کی اچھی ہے۔
حدیث نمبر: 39
مکررات
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یمن کے لوگ (خود مسلمان ہونے کو) آئے اور وہ لوگ نرم دل ہیں اور نرم خو ہیں۔ ایمان یمن کا ہی اچھا ہے اور حکمت بھی یمن ہی کی (بہتر) ہے اور غریبی اور اطمینان بکریوں والوں میں ہے اور بڑائی و شیخی مارنا اور فخر و گھمنڈ کرنا گھوڑے والوں اور اونٹ والوں میں ہے جو چلاتے ہیں اور وبر والے ہیں، سورج کے طلوع ہونے کی طرف سے۔
46023 - 39
حدیث نمبر: 40
مکررات
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دلوں کی سختی اور کھرکھرا پن مشرق (پورب) والوں میں ہے اور ایمان حجاز والوں میں۔
46024 - 40
یہ حدیث مبارکہ اپنے دوست کو ای میل کیجئے۔