07/25/2025
یہ Feel-Like ٹمپریچر کیا ہوتا ہے؟
یاد رکھیں کہ گرمی/درجہ حرارت دو طرح کا ہے۔
1۔ ایک وہ جو اصل میں ہے۔
2۔ دوسرا وہ جو آپ کو محسوس ہوتا ہے۔
آپ شاید حیران ہو رہے ہوں کہ اس میں فرق بھی ہوتا ہے؟ تو جناب نہ صرف فرق ہوتا ہے بلکہ اسی فرق کو ہی تو feel like ٹمپریچر کہتے ہیں۔ مختصر سی وضاحت سے سمجھاتا ہوں۔
مئی جون تک ماحول کا ٹمپریچر 45 سے 48 سینٹی گریڈ کے درمیان تھا لیکن تب ہمیں گرمی بھی اسی ٹمپریچر جتنی ہی لگتی تھی۔ دھوپ کی تپش تکے بنا رہی تھی اور چلنے والی لو جھلسا رہی تھی۔ مگر کمروں میں اور چھاؤں میں ٹھنڈ محسوس ہوتی تھی۔
اب کیا ہوا ہے؟ اب درجہ حرارت 48 سے 15 ڈگری کم یعنی 32 سینٹی گریڈ ہو گیا ہے مگر پھر بھی لگتا ہے کہ جان نکلنے والی ہے۔ کمرے میں حبس کھانے کو دوڑتا ہے لیکن باہر بھی سکون نہیں۔ کیوں؟
یہاں فلم میں اصل ولن کی اینٹری ہوتی ہے اور وہ ہے ہوا میں نمی۔ جتنی ہوا میں نمی زیادہ ہو گی اتنا ہی feel like ٹمپریچر بڑھتا چلا جائے گا۔ کتنا بڑھے گا؟ اس کا جواب ملے گا ہیٹ انڈیکس سے۔ پریشان نہ ہوں کہ یہ کیا بلا ہے۔ یہ سادہ سی بات ہے۔
ہوا میں نمی، درجہ حرارت, ہوا کی اسپیڈ وغیرہ کو سامنے رکھ کر ایک فارمولا بنتا ہے جسے ہیٹ انڈیکس کہتے ہیں۔ فارمولا ذرا پیچیدہ ہے اس کی تفصیل میں نہیں جاتے جاتے بس ایک مثال لیتے ہیں۔ اگر درجہ حرارت 33 سینٹی گریڈ ہو اور ہوا میں نمی 90 فیصد ہو تو آپ کو یہ درجہ حرارت 33 کی بجائے 54 سینٹی گریڈ محسوس ہو گا یعنی اصل درجہ حرارت سے 19 ڈگری زیادہ محسوس ہو گا۔ یہ پاکستان میں آج تک کے سب سے زیادہ درجہ حرارت سے بھی ڈیڑھ ڈگری زیادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ نمی سے درجہ حرارت بڑھتا کیسے ہے؟ چند لائنوں میں سمیٹتا ہوں۔
جب مئی جون میں آپ نہاتے ہیں یا آپ کو پسینہ آتا ہے تو پنکھے کے آگے آپ کو فل ٹھنڈ محسوس ہوتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ خشک ہوا جِلد سے پسینے کو اڑا لے جاتی ہے۔ اور گرمی بھی اس پسینے کے ساتھ اڑ جاتی ہے اور آپ ٹھنڈے ٹھار ہو جاتے ہیں مگر جولائی اگست میں ایسا نہیں۔ کیوں نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے
پہلے ہوا خشک تھی اور نمی کو اڑا لے جاتی تھی مگر اب ہوا میں بھی پانی کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ جدھر نظر دوڑائیں ہوا میں پانی ہی پانی ہے۔ آب آپ نہاتے ہیں یا پنکھا چلاتے ہیں تو آپ کو ویسی ٹھنڈک محسوس نہیں ہوتی۔ وجہ یہ کہ ہوا خود نمی (پانی) سے بھری پڑی ہے تو آپ کا پسینہ کہاں سے اٹھائے گی۔ اگر ہوا میں پہلے ہی نمی 95 فیصد ہے تو اس میں آپ کا پسینہ اٹھانے کی گنجائش صرف پانچ فیصد ہو گی۔ یہی گنجائش مئی جون میں سو فیصد کے قریب تھی۔
اب سمجھ آ رہی ہو گی کہ آپ کیوں کہتے ہیں کہ پسینہ خشک نہیں ہو رہا، نہانے سے گرمی دور نہیں ہو رہی۔ جسم چپ چپا کیوں ہو رہا ہے۔ سانس کی تنگی کیوں ہو رہی ہے، گھر میں پڑی تمام چیزیں گیلی گیلی کیوں لگ رہی ہیں۔ تو یاد رکھیئے بارشوں کے موسم میں اصل ولن یہی نمی ہے جو ہمارے جسم پر موجود چند پسینے کے قطرے نہیں اٹھا سکتی مگر محض 33 سینٹی گریڈ کو اٹھا کر 54 سینٹی گریڈ تک اٹھا دیتی ہے۔ یاد رکھئے کہ 54 ڈگری اصل ٹمپریچر نہیں ہے بلکہ وہ ٹمپریچر ہے جو آپ کو نمی، یا حبس کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے یعنی feel like درجہ حرارت۔ اب آپ حبس سے بے جان ہو رہے ہیں تو پھر لو کی دعا کیجیے کہ حبس کا متبادل یہی ہے۔