السلام علیکم گروپ میں شمولیت پر شکریہ اور خوش آمدید۔
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان ٣٠)
اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گےکہ اے میرے پروردگار! بےشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔
ضَلَالٍ مُّبِينٍ (القصص ٨٥ )
بے شک جس نے تم پر قرآن فرض کیا ہے وہ تمہیں معاد تک پہنچائے گا۔ فرما دیجئے میرے ربّ کو خوب علم ہے جو ہدایت لایا اور وہ جو کھلی گمراہی میں ہے۔
ہمارے جملہ مسائل قرآن کریم سے دوری کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔اور ان کے حل کیلئے قرآن کریم سے رجوع ہم پر فرض ہے ۔
لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ (ال عمران ١٦٤)
اللہ نے احسان کیا ایمان والوں پر جو بھیجا ان میں رسول انہی میں کا پڑھتا ہے ان پر آیتیں اس کی اور پاک کرتا ہے ان کو اور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور کام کی بات اور وہ تو پہلے سے صریح گمراہی میں تھے۔
ہم سب یہاں بحثیت طالب علم اللہ تعالیٰ کی عطا اور رحمت سے صاحب قرآن خاتم النبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے قرآن کریم کے ظاہری اور باطنی فہم کی مودبانہ درخواست پیش کریں گے ۔ اِس لیے کہ اللہ تعالی کی رحمت سے قرآن کریم کا فہم صاحب قرآن صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہی عطا فرمائیں گے۔ ان شاءاللہ ہم قرآن کریم سے مکمل ہدایت کے لیے اپنی مودبانہ درخواست اورجدوجہد بلا تفریق مذہب ملت رنگ نسل قوم فرقے علاقہ اور صنف کے کریں گے ۔قرآن کریم ہدی الناس ہے ہدی المتقین ہے ۔
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (العنكبوت ٦٩)
اور جن لوگوں نے ہمارے لئے جدوجہد کی ہم انہیں اپنی راہیں سجھا دیں گے اور بے شک اللہ محسنین کے ساتھ ہے۔
اللہ تعالیٰ کے احسانات سے ہماری مودبانہ جدوجہد تصریف آیات یعنی قرآن کریم کو قرآن کریم کے ظاہری اور باطنی فہم اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ سے ہی سمجھنے کی ہوگی ان شاء اللہ۔
اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وه ہدایت یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے ۔
ہم بحث و مباحثے سے اجتناب کریں گے اور جملہ آداب اور بصدعزت و احترام ایک دوسرےسےاستفادے کے زریعے قرآن کریم کے ظاہری اور باطنی فہم کا حصول یقینی بنا کر ہدایت یافتہ اور انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہونے کی کوشش کریں گے ۔ یہی ہمارا یہاں جمع ہونے کا مقصد ہے ۔
وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الشعرا ١٦٤)
اور میں تم سے اس پر کسی اجر کا سوال نہیں کرتا، میرا اجر تو ربّ العالمین پر ہی ہے۔
ہماری خدمات حتی المقدور بلا تفریق تمام احباب کے لئے کسی صلہ ستائش کے بغیر فی سبیل اللہ دستیاب ہوں گی ۔
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (محمد ٢٤)
کیا یہ قران میں غور وفکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اللہ تعالیٰ تدبر قرآن اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت ہمارے دلوں کے بند قفل کھول دیں آمین ۔
رَّبِّ زِدۡنِى عِلۡمًا (طه ١١٤)
اے رب میرے علم میں اضافہ فرما