12/25/2025
جاپان میں مقیم مسلم کمیونٹی اس وقت ایک ایسی مشکل سے گزر رہی ہے جس کا تعلق زندگی سے نہیں بلکہ موت کے بعد کی حرمت سے ہے۔ جاپان میں 99% سے زائد مردوں کو جلایا جاتا ہے، جبکہ اسلام میں تدفین لازمی ہے۔
⚖️ بڑے قانونی اور سماجی مسائل کیا ہیں؟
بلدیاتی قوانین (Local Ordinances): اگرچہ جاپانی قانون تدفین سے نہیں روکتا، لیکن مقامی حکومتیں "ماحولیاتی تحفظ" اور "زیرِ زمین پانی کی آلودگی" کے نام پر نئے قبرستانوں کی اجازت نہیں دیتیں۔
عوامی مخالفت: مقامی جاپانی آبادی اکثر مذہبی اور ثقافتی فرق کی بنا پر اپنے علاقے میں مسلم قبرستان بننے کی مخالفت کرتی ہے۔
زمین کی قلت: بڑے شہروں خصوصاً ٹوکیو اور اوساکا میں زمین کی قیمتیں اور قلت اتنی زیادہ ہے کہ وہاں تدفین کے لیے جگہ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
محدود سہولیات: پورے جاپان میں صرف گنتی کے چند قبرستان ہیں جہاں اسلامی طریقے سے تدفین کی گنجائش موجود ہے، جو کہ بڑھتی ہوئی مسلم آبادی کے لیے ناکافی ہیں۔
💔 خاندانوں پر اثرات
میت کو جاپان سے باہر (آبائی ملک) بھیجنا نہ صرف جذباتی طور پر تکلیف دہ ہے بلکہ اس پر 15 سے 20 لاکھ ین تک کے اخراجات آتے ہیں، جو ہر خاندان کے لیے ممکن نہیں۔
🤝 ہم کیا کر سکتے ہیں؟
یہ وقت ہے کہ جاپان میں مقیم تمام مسلمان متحد ہو کر قانونی راستوں اور مقامی جاپانیوں کے ساتھ مکالمے (Dialogue) کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالیں۔ ہمیں جاپانی معاشرے کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ تدفین ایک انسانی حق اور مذہبی فریضہ ہے۔