08/18/2026
کیا کششِ ثقل صرف ایک قوت ہے جو چیزوں کو ایک دوسرے کی طرف کھینچتی ہے؟ آئن اسٹائن کی جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی کے مطابق کششِ ثقل دراصل Space-Time کی خمیدگی کا نتیجہ ہے۔ جب کائنات کے انتہائی بھاری اجسام بہت تیزی سے حرکت کرتے ہیں، تو Space-Time میں پیدا ہونے والی یہ تبدیلیاں لہروں کی صورت میں باہر کی طرف پھیل سکتی ہیں۔ انہیں Gravitational Waves کہا جاتا ہے۔
یہ لہریں اس وقت پیدا ہو سکتی ہیں جب دو انتہائی بھاری اجسام، مثلاً Black Holes یا Neutron Stars، ایک دوسرے کے گرد تیزی سے گردش کرتے ہوئے آخرکار ضم ہو جائیں۔ اس عمل میں بے حد زیادہ توانائی Space-Time میں لہروں کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔
1916 میں Albert Einstein نے جنرل ریلیٹیویٹی کی بنیاد پر ان لہروں کی پیش گوئی کی تھی، لیکن تقریباً ایک صدی تک انہیں براہِ راست detect کرنا ممکن نہیں تھا۔
پھر 14 ستمبر 2015 کو LIGO نے تاریخ میں پہلی بار Gravitational Wave کو براہِ راست ریکارڈ کیا۔ یہ سگنل دو بلیک ہولز کے تقریباً 1.3 ارب نوری سال دور ضم ہونے سے پیدا ہوا تھا۔ اس تاریخی دریافت کا اعلان 2016 میں کیا گیا۔
ایل آئی جی او LIGO جیسے detectors میں دو لمبی عمودی بازوؤں کے ذریعے Laser Interferometry استعمال کی جاتی ہے۔ جب Gravitational Wave زمین سے گزرتی ہے تو Space-Time کی لمبائی میں انتہائی معمولی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی proton کے قطر سے بھی بہت چھوٹی ہو سکتی ہے، مگر حساس آلات اسے ناپ سکتے ہیں۔
2017 میں دو Neutron Stars کے merger سے آنے والی Gravitational Waves کے ساتھ روشنی بھی ریکارڈ کی گئی۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ کائناتی واقعات کو اب صرف روشنی سے نہیں بلکہ Gravity کی لہروں سے بھی "سنا" جا سکتا ہے۔
اس دریافت نے Astronomy میں ایک نئے دور کا آغاز کیا، جسے Gravitational-Wave Astronomy کہا جاتا ہے۔ اب سائنسدان ایسے کائناتی واقعات کا مطالعہ کر سکتے ہیں جنہیں روایتی دوربینیں براہِ راست نہیں دیکھ سکتیں۔
✨ کائنات خاموش نہیں ہے؛ بلیک ہولز اور نیوٹران ستاروں کے عظیم تصادم Space-Time میں ایسی لہریں پیدا کرتے ہیں جو اربوں سال بعد زمین تک پہنچتی ہیں۔
سائنس کی دنیا اور دنیاوی تحریریں