02/14/2025
ویلنٹائن ڈے نہیں یوم حیاء ( کالم الصالحات)
تحریر۔ 🖋️مسسز ڈاکٹر شہبازاحمد چشتی
پرنسپل۔ النباء انسٹیٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز فار گرلز پاکستان۔
پیاری بہنو۔
نیکی کی تم تصویر ہو ، عفت کی تم تدبیر ہو
ہو دین کی تم پاسباں ، ایماں سلامت تم سے ہے
فطرت تمہاری ہے حیا، طینت میں ہے مہر و وفا
گھٹی میں ہے صبر و رضا ، انساں عبارت تم سے ہے
(الطاف حسین حالی)
ویلنٹائن ڈے اصل میں رومیوں کا تہوار ہے جس کی ابتداء 1700سال پہلے ہوئی تھی. اہلِ روم میں 14فروری کو’یونودیوی ‘کی وجہ سے مُقدس ماناجاتا ہے. جسے شادی بیاہ کی دیوی سمجھا جاتا تھا اُسکو حاضر و ناظر جان کر شادی کی جاتی جس طرح ہم مسلمان اللّٰہ تعالیٰ کے نام سے اِیک نا محرم کو دوسرے کے لئے حلال کرتے ہیں
رومیوں کی تاریخ سے یہ بات پتہ چلتی ہے کے ویلن ٹائن نامی اِک پادری نے خفیہ طریقے سے لوگوں کی شادیاں کروانا شروع کر دیں
جب شہنشاہ کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے ویلن ٹائن کو قید کر دیا. آج اُسی نسبت سے ویلن ٹائن ڈے منایا جاتا ہے
مغرب میں مدتوں سے 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے لیکِن گُزشتہ کُچھ سالوں کے دوران پاکستان میں بھی اسکا رواج عام ہو گیا ہے بالخصوص سوشل میڈیا کے باعث اِس مغربی تہوار سے مشرق کا ہر نوجوان واقف ہو گیا ہے
پاکستان میں جب ویلنٹائن ڈے کی روایت عروج پے پُہنچی تو مذہبی رجحان رکھنے والوں نے اُسے یومِ حیاء کے طور پر منانا شروع کر دیا کیونکہ
عورت نام ہے شرم و حیاءکا ،پاکیزگی کا ،حُسن کا عورت ماں ہے بہن،بیٹی اور بیوی ہے. عورت کے یہ کتنے خوصورت نام ہیں ہم اسلام کی شہزادیاں ہیں خاتونِ جنت کی کنیزیں ہیں اسلئے ہمیں چاہیے کہ بحیثیتِ"بناتِ زاہد "دوسرے مذاہب کی ایسی نازیبا روایات کو پروموٹ نہ کریں بلکہ سیرتِ فاطمہ کو فالو کریں
"وہی ہے راہ تیرے عزم و شوق کی منزل
جہاں ہیں عائشہ و فاطمہ کے نقش قدم"
سورۃ النور کی آیت نمبر 31میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے
ترجمہ:
"اور مومن عورتوں کو کہہ دو کے وہ اپنی نگاہیں نیچا رکھا کریں. اور اپنی شرگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ دکھائیں مگر جو چھپ نہ سکے اور اپنے سینوں پہ اوڑھنی رکھا کریں "
آجکل کے اِس آزادانہ ماحول سے ہمارے معاشرے پر بہت سے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جہاں دیکھیں تو برائی و بےحیائی عام دیکھائی دیتی ہے اگر ہم میں شرم و حیاء ہو گی تو ہمارے معاشرے سے نہ جانے کتنی برائیاں ختم ہو جائیں گی. کیوں کہ شرم و حیاء کا وصف انسان میں فطری طور پر موجود ہوتا ہے اگر اسکی مناسب نگہداشت کی جائے تو یہ قائم رہتا ہے اور اچھی صُحبت میسر آنے سے مزید بڑھتا ہے اور بہت سی اخلاقی خوبیوں کی پرورش کرتا ہے حیاء ایمان کا ایک امتیازی وصف ہے میرے اور آپکے آقا حضور سرورِ کونین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ حیاء دین کا ممتاز وصف ہے فرمایا کہ ایمان کی ستر شاخیں ہیں اور حیاء بھی ایمان کی ایک شاخ ہے.
اسی حیاء کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اقبال کہتے ہیں:
"بتولِ باش و پنہاں شو ازیں عصر
کے در آغوشِ شبیرے بگيرے "
بتول بن جا اور اِس زمانے کی نظر سے چھپ جا تاکہ تیری گود میں ایک حسین پرورش پاسکے.
یومِ حیاء ایک تحریک ہے میری پیاری بہنو! چادرِ بتول اور سیرتِ فاطمہ و عائشہ پہ عمل پیرا ہوکر ہی ہم اپنے حال اور مستقبل کا تحفظ کر سکتے ہیں اور پاکیزہ نسلِ انسانی کو پروان چڑھا سکتے ہیں.
پیاری بہنو آو آج کے دن اپنے رب سے تجدید عہد بندگی کریں اور اعلان کریں کہ ھماری آئیڈل فنکاریں، سنگرز اور ڈانسرز نہیں بلکہ سیدہ کائنات فاطمتہ الزھراء رضی اللہ عنھا کی کنیزیں اور صالحات امت ہیں۔ ھماری آنکھوں میں سُرمہ دیارِ مغرب کا نہیں خاک مدینہ و نجف کا ہوگا۔ ھماری زبانوں پر تلاوت قرانی اور نعت نبوی کی مٹھاس ہوگی۔ ھماری پیشانیوں پر مادیت کے جھومر نہیں عبادت کے نشاں ہوں گے۔ ھماری آنکھوں میں حیا اور دلوں میں خوف خدا ہوگا۔
حیا سے حسن کی قیمت دو چند ہوتی ہے
نہ ہوں جو آب تو موتی کی آبرو کیا ہے
02/13/2025
05/05/2024
02/22/2024
12/02/2023
05/11/2022