When the snow starts slipping and the tiniest explorer lifts its hands like “Okay… I surrender!” ❄️🙌
This sugar glider’s winter moment is pure cuteness overload 🐿️💙
New Generation Academy - NGAP. Pakpattan Campus
N.GAP. PK
An old man and his granddaughter unite to save a helpless goose trapped in ice — a beautiful reminder that kindness has no age. 🦢❄️
08/07/2021
*سلطان رکن الدین بیبرس کون تھا ۔*
انگریز مصنف ہیر لڈیم اسکے ذاتی اوصاف کے بارے میں لکھتا ہے۔۔
وہ ایک عظیم فاتح اور دلیر جنگجو تھا ۔ وہ بھیس بدلنے کا شوقین تھا۔ کئی بار وہ اسٹیج سے غائب اور نظروں سے اوجھل ہو جاتا۔تماشائیوں کو حیران کرنے میں اسے بڑا لطف آتا۔کبھی وہ گداگر کا روپ دھارتا اور کبھی مہمان بن کر دسترخوان پر اکیلا مزے اڑاتا دکھائی دیتا وہ بلا کہ حاضر دماغ تھا ۔۔ مختصر یہ کہ وہ مشرق کا سچا اداکار تھا ۔
طرابلس کا راہب ولیم شاہد ہے کہ سپاہی کی حیثیت سے وہ جولیس سیزر سے کم نہ تھا ۔
وہ منگولوں کے سنہری غول کا تاتاری سپاہی تھا۔ فطری طور پر جنگجو۔ اسکی عسکری صلاحیتیں دشت و صحرا میں پروان چڑھیں۔ اسے دمشق میں تقریباً پانچ سو کے روپے میں فروخت کیا گیا وہ بحری مملوکوں کے جتھوں میں بطور تیر انداز شامل ہوا اور بالآخر انکا سردار بن گیا ۔
وہ اکیلا خاقان اعظم کی یلغار کے سامنے حائل ہوا اور منگولوں کے رخ پھیر دیے اسکے جوابی حملے نے سینٹ لوئس کا دل اور فرانسیسی بہادروں کی کمر توڑ دی تھی ۔ وہ صرف فاتح سلطان ہی نہیں تھا بلکہ امیر المومنین بھی ۔الف لیلہ کا نیک سیرت خلیفہ۔ وہ بڑا موجی بندہ تھا ۔بلا کا خوش طبع انسان تھا.
بیبارس کو روپ بدلنے کا بڑا شوق تھا وہ بھیس بدل کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ حماموں پر دھاوا بولتا اور عورتیں منتخب کرکے غائب ہوجاتا وہ گھوڑے پر سوار ہو کر اکیلا نکل جاتا تو دوسرے دن فلسطین میں نمودار ہوتا اور چوتھے دن صحرائے عرب میں وہ تاتاریوں کی طرح بڑا حوصلہ مند تھا ایک ایک دن میں میلوں کی مسافت طے کرلیتا لوگ سمجھتے کہ وہ نیل پر داد عیش دے رہا ہوگا لیکن وہ حلب کے قلعے کے تہرے دروازوں میں داخل ہوتا تھا ۔
اسکے مشیروں اور وزیروں کو بھی اسکے عزائم کا علم نہ ہوتا ہر شخص کو یہی خیال رہتا ممکن ہے سلطان اسکے قریب بیٹھا اسکی باتیں سن رہا ہو ،جامع مسجد کے قاضی کے دوش بدوش بیٹھا جھوم جھوم کر تلاوت کرنے والا در حقیقت سلطان ہو لوگ اسکے کارنامے سن کر خوش ہوتے لیکن اسکے تقرب سے گھبراتے اسکی آمد سے دلوں پر ہیبت طاری ہوجاتی ۔
وہ جہاں دیدہ اور جہاں گرد سلطان تھا اگر کہا جائے اس زمانے کا سب سے بڑا سیاست دان تھا تو مبالغہ نہ ہوگا لوگ سلطان کی غیر موجودگی سے پریشان ہورہے ہوتے تو وہ اچانک واپس آتا گھوڑے سے اترتا اور سیدھا دیوان وزارت میں گھس جاتا ۔( سلطان صلاح الدین ایوبی مصنف ہیر لڈیم)
یہ داستان مشہور ہے وہ بھیس بدل کر ایشیائے کوچک کے دور افتادہ علاقے میں پہنچ گیا بظاہر یہ واقعہ الف لیلہ کی کہانیوں جیسا لگتا ہے لیکن مورخین نے جس تواتر سے نقل کیا ہے اسکی صحت میں کوئی شبہ نہیں رہتا ۔
بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دن بیبارس نے ایک تاتاری سپاہی کا بھیس بدلا اور تن تنہا شمال کی طرف غائب ہوگیا کئی دن سفر کرنے کے بعد وہ تاتاریوں کے علاقے میں داخل ہوا اور قریہ قریہ پھر کر وہاں کے حالات کا جائزہ لینے لگا مختلف زبانوں میں مہارت رکھنے کی وجہ سے وہ ہر قسم کے لوگوں میں گھل مل جاتا تھا اسلئے اس پر کسی کو شبہ نہ ہوا ایک دن اسنے تاتاری علاقے کے کسی نانبائی کی دکان پر کھانا کھایا اور ایک برتن میں اپنی شاہی انگھوٹی اتار کر رکھ دی پھر اپنے علاقے میں واپس آگیا اور وہاں سے تاتاری فرمانروا کو خط لکھا ۔۔
میں تمہاری مملکت کے حالات کا معائنہ کرنے کے لیے فلاں فلاں جگہ گیا تھا فلاں شہر میں فلاں نانبائی کی دکان پر انگھوٹی بھول آیا ہوں مہربانی فرما کر وہ انگھوٹی تلاش کرکے مجھے بھیجوادو کیونکہ وہ مجھے بہت پسند ہے ۔
معلوم نہیں اس ستم ظریفی کا ہلاکوخان پر کیا اثر ہوا لیکن قاہرہ کے بازاروں میں لوگ یہ قصہ سن کر قہقہے لگاتے تھے۔
ایک دفعہ سلطان عیسائی زائر کا بھیس بدل کر صلیبیوں کے مقبوضہ علاقوں میں داخل ہوا اور کئی ہفتوں تک انکے فوجی استحکامات کا بھرپور جائزہ لینے میں مصروف رہا کہا جاتا ہے کہ وہ تقریباً بیس ایسے قلعوں کو دیکھنے میں کامیاب ہوا جو عیسائیوں کی قوت کا مرکز تھے ایک دن اسنے عجیب ستم ظریفی کی اسنے ایک قاصد کا بھیس بدلا اور ایک ہرن کا شکار لے کر سیدھا انطاکیہ کے حاکم بوہمنڈ کے دربار میں جا داخل ہوا سلطان نے بوہمنڈ کے سامنے ایلچیوں کے انداز میں عرض کیا۔۔۔
عالی جاہ ہمارے آقا ملک الظاہر کو بہت افسوس ہے آپ محصور ہونے کی وجہ سے اپنا شکار کا شوق پورا نہیں کرسکتے انہوں نے یہ تازہ شکار آپکی خدمت میں بطور ہدیہ بھیجھا ہے آپ اسے قبول فرمائیں ہمارے آقا آپکے شکر گزار ہونگے ۔
جب بیبرس قلعہ سے باہر چلاگیا تو کسی نے آکر بوہمنڈ کا بتایا یہ ایلچی خود سلطان تھا یہ سن کر بوہمنڈ پر لرزاں طاری ہوگیا.
غرض اسکی بیدار مغزی نے جہاں اسے اپنی عوام کی آنکھوں کا تارا بنایا تھا وہاں دشمنوں کے دل پر ایسی ہیبت طاری کردی تھی کہ وہ اسکا نام سن کر تھراتے تھے.
دوسرا حصہ
* " 📿*
۔ ۔ ۔
بارہویں صدی عیسوی میں چنگیز خان کی قیادت میں صحرائے گوبی کے شمال سے خوں خوار منگول بگولا اٹھا۔ جس نے صرف چند دہائیوں میں ہی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا. منگول لشکروں کے سامنے چین، خوارم، وسط ایشیا، مشرقی یورپ اور بغداد کی حکومتیں ریت کی دیواریں ثابت ہوئیں۔ منگول حملے کا مطلب بے دریغ قتل عام اور شہر کے شہر کی مکمل تباہی تھی..... دنیا تسلیم کر چکی تھی کہ ان وحشیوں سے مقابلہ ناممکن ہے اور منگول ناقابل شکست ہیں۔
منگولوں نے اول خوارزم کی اینٹ سے اینٹ بجائی اور پھر پانچ سو سال سے زائد قائم خلافت عباسیہ کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا۔ منگولوں نے خوارزم میں اِنسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے تو بغداد میں اتنا خون بہایا کہ گلیوں میں کیچڑ اور تعفن کی وجہ سے عرصے تک چلنا ممکن نہ رہا۔ اس پرآشوب دور میں مسلمانوں کی حیثیت کٹی پتنگ کی سی تھی۔ مسلمان نفسیاتی طور پر کسی مقابلے کے قابل نظر نہ آتے تھے۔ ایسے میں مصر میں قائم "مملوک سلطنت" ایک مدھم سی امید کی لو تھی۔
وہی سلطنت جسکی بھاگ دوڑ غلام اور غلام زادوں کے ہاتھ میں تھی۔ "منگول, یوروپئن اتحاد " کا اگلا ہدف بھی یہی مسلم ریاست تھی۔ وہ آخری ریاست جسکی شکست مسلمانوں کے سیاسی وجود میں آخری کیل ثابت ہوتی۔ مملوک بھی اس خوفناک خطرے کا پورا ادراک رکھتے تھے, اور جانتے تھے کہ آج نہیں تو کل یہ معرکہ ہو کر رہے گا۔
اور یہ معرکہ ہوا... تاریخ تھی ستمبر 1260 اور جنگ کا میدان تھا "عین جالوت"۔ منگول مسلم سیاسی وجود کو ختم کرنے سر پر آن پہنچ چکے تھے. منگول طوفان جو بڑی بڑی سلطنتوں کوخس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گئے تھے۔ آج ان کے مد مقابل مملوک تھے جسکی قیادت رکن الدین بیبرس کر رہا تھا. وہی بیبرس جو کبھی خود بھی فقط چند دینار کے عوض فروخت ہوا تھا. کم وسائل اور عددی کمتری کے باوجود بیبرس کو یہ معرکہ ہر حال میں جیتنا تھا۔ مسلمانوں کے سیاسی وجود کو قائم رکھنے کے لیے آخری سپاہی، آخری تیر اور آخری سانس تک لڑائی لڑنی تھی۔ طبل جنگ بجا, بدمست طاقت اور جنون کے درمیان گھمسان کا رن پڑا۔ طاقتور منگول جب اپنی تلوار چلاتے تھے تو ان کا وار روکنا مشکل ترین کام ہوتا تھا لیکن آج جب مملوک وار روکتے تو تلواریں ٹکرانے سے چنگاریاں نکلتیں۔ اور پھر جب جوابی وار کرتے تو منگولوں کے لیے روکنا مشکل ہو جاتا۔ منگولوں نے مملوکوں کو دہشت زدہ کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن یہ وہ لشکر نہیں تھا جو مرعوب ہو جاتا۔ منگولوں نے کبھی ایسے جنونی لشکر کا سامنا نہیں کیا تھا. وہ پہلے پسپا ہوئے اور پھر انہونی ہوئی, منگول میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے, مملوکوں نے انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا. معاملہ یہاں تک پہنچا کہ بھاگتے منگولوں کو عام شہری آبادی نے بھی قتل کرنا شروع کر دیا۔
منگول ناقابل شکست ہیں یہ وہم "عین جالوت" کے میدان میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا۔
"غلاموں" نے رکن الدین بیبرس کی قیادت میں مسلم سیاسی وجود کی جنگ جیت لی اور رہتی دنیا تک یہ اعزاز اپنے نام کر لیا۔ اس معرکے کے بعد منگول پیشقدمی نہ صرف رک گئی بلکہ آنے والے سالوں میں بیبرس نے منگول مفتوح علاقے بھی ان سے واپس چھین لیے۔ رکن الدین بیبرس نے اپنی خداداد صلاحیت سے "منگول یوروپئن نیکسس" کو بھی ٹوڑ ڈالا اور صلیبی جنگوں میں بھی فاتح رہا۔ مسلم دنیا اپنے اس عظیم ہیرو کے متعلق بہت کم جانتی ہے۔ ایک ایسا ہیرو جس نے ان کے سیاسی وجود کی جنگ بڑی بےجگری سے لڑی۔ جسکی پشت پر کوئی قبیلہ بھی نہ تھا اور جو کبھی فقط چند دینار کے عوض بکا تھا۔ لیکن جو مصائب کا مقابلہ کرنا جانتا تھا جو ہمت نہیں ہارتا تھا اور جو امید کا دامن کبھی بھی نہیں چھوڑتا تھا۔
سلام" سلطان رکن الدین بیبرس!!❤️
شکریہ" سلطان رکن الدین بیبرس!!❤️
اللہ تعالیٰ آپکے درجات بلند فرمائے... (آمین)
۔ ۔ ۔
*༺࿐࿔࿑🎗࿑࿐࿔༻*
*༺࿐࿔࿑🎗࿑࿐࿔
New Sessions For 9th,10th and 1st Year
9th: 8th April
10th: 5th April
1st Year: 2nd April
Contact.
03338122228
03/31/2017
Malik Meraj Khalid best teacher award
New Generation Academy of Professionals - NGAP
Working Giant's:
Principal: Zaid Sarwar
Vice Principal: Arslan Asif
Acting Head: Khwaja Mouatasim
08/20/2016
...
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Telephone
Website
Address
Los Angeles, CA
Opening Hours
| Monday | 4pm - 7pm |
| Tuesday | 4pm - 7pm |
| Wednesday | 4pm - 7pm |
| Thursday | 4pm - 7pm |
| Friday | 4pm - 7pm |
| Saturday | 4pm - 7pm |