Murshideen-E-Ummat

Murshideen-E-Ummat This Is The Official Page Of Murshideen-E-Ummat

11/09/2022

The best quality of a person in my opinion is to become friendly with everyone around you. Different people have different mentality, different opinion, different point of view. We usually need to handle different situation in a different way. So, the person who can cope up with others in those situations easily can handle any difficulties in life. Nobody except Allah knows what situation you have to face next. Life is an uncertainty. That's why we should change our approach to different things, keep everything easy and simple. Even an ordinary man can become extraordinary depending on his management skill of a dangerous situation.

We shouldn't judge people or treat them badly based on their salary, outlooks or job level. Respect everyone, help everyone, adjust yourself with other people both lower and higher level than you. Try to know them from inside. Exchange life experience with them. This skill will certainly help you in your progress of life.❤️

-Danish Ahmad Malik

11/01/2022

Welcome Murshid

  ( امیر احمد خان صاحب دامت فیوضھم ) "مولانا الیاس کی دینی دعوت اور کشمیر " پہلا رسالہ ہے جو کہ ادارہ راہ نجات نے شائع ک...
09/24/2022

( امیر احمد خان صاحب دامت فیوضھم )

"مولانا الیاس کی دینی دعوت اور کشمیر " پہلا رسالہ ہے جو کہ ادارہ راہ نجات نے شائع کیا۔ جس کے اندر کشمیر میں دعوت و تبلیغ کا ورود اور پھیلاو کے حوالے سے تاریخی چیزیں مرتب ہوئی ہیں جو کہ ابھی تک غیر مرتب شدہ تھا ۔ مذکورہ شمارہ میں حضرت امیر صاحب کے بارے میں بھی یہ ایک آرٹیکل آیا ہے۔

محترم المقام امیر احمد خان صاب المعروف پرویز احمد خان صاحب

آپکے اجداداصل میں افغانستان کے رہنے والے تھے کچھ عرصہ راولپنڈی پاکستان میں مقیم رہنے کے بعدتقدیر نے کشمیر پہنچا دیا۔اور قصبہ بارہمولہ جو ان دنوں کشمیر کا بہت بڑا تجارتی مرکز تھا پہنچ کر مقیم ہوگئے۔آپکے والد صاحب محکمہ مال کے بڑے سرکاری عہدے پر فائز تھے ۔نہایت ہی شریف الطبع اور دیندار تھے آپکے گھرانے کے سب افراد تعلیم کے نور سے آراستہ تھے ۔آپ تین بھائی تھے جن میں ایک انجئنر کے عہدے پر فائز تھے اور دوسرے بھائی ہمسایہ ملک میں جاکر وہاں اپنے رشتہ داروں کے پاس سکونت پزیر ہوگئے ۔آپ طبعاً ملازمت سے دلچسپی نہیں رکھتے تھے بلکہ ایک’’ عَبد حُر‘‘ کی طرح پر سکون زندگی گزارنے کا جذبہ رکھتے تھے گھر میں علمی ماحول ہونے کی وجہ سے علم و ادب کے ساتھ خاص شغف تھا۔دینی کتب کا بڑا ذخیرہ گھر میں موجود ہونے کی وجہ سے آپ کا مطالعہ بہت ہی وسیع تھا ۔میری معلومات میں اضافہ کرنے کے لئے مجھے چند اہم دینی کتب مطالعہ کرنے کے لئے دیں۔آ پ نے اُس زمانے میں گریجویشن کی تھی جس میں آپ اپنے والد صاحب کے اثر ورسوخ کی وجہ سے کسی بڑے منصب پر فائز ہوئے ہوتے ۔لیکن آپ کی عدمِ دلچسپی کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا ۔بچپن سے ابتدائی شباب تک آپ ایک اچھے کھلاڑی بھی تھے ۔دینی تحریکوں کے ساتھ دلچسپی رکھتے تھے۔اپنا قومی اور خاندانی لباس (جو عین شرعی تقاضوں کو پورا کرتا ہے) کے ساتھ آپ کو بچپن سے ہی دلچسپی تھی ۔اسی طرح نماز کے آپ بچپن سے ہی پابند تھے ۔جب منشی اﷲ دتاؒ صاحب کشمیر تشریف لائے تو اُن کی نظر انتخاب و شفقت نے آپ کو کندن بنایا اور اپنے حسن اخلاق اور بزگوں کی نظر انتخاب کی وجہ سے دعوت و تبلیغ کے پہلے امیر کی حیثیت سے نمودار ہوگئے قصبہ با رہمولہ کے تمام مکاتبِ فکر کے لوگ آپ کی ذات سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور قلبی لگاؤ رکھتے ہیں۔آپ نے اپنی ساری زندگی کو دعوت وتبلیغ کے لئے وقف کیا ہے ۔ہم عصر دینی تحریکوں کے ساتھ جِدال و مخاصمت کے بجائے باہمی اکرام و مصالحت کے آپ بچپن سے ہی قائل تھے۔بارہمولہ کے عوام آپ کے حُسنِ اخلاق کے معتقد ہی نہیں بلکہ فدوی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جدید عید گاہ بننے کے بعد مولانا عبدالولی شاہ ؒ صاحب اور بارہمولہ کے عوام نے آپکو متفقہ طور پراس کا امام بنایا ۔آپ نے علاقہ نارواؤ میں اور بارہمولہ کے دیگر مضافاتی علاقوں میں ابتدائی شباب سے ہی دعوتی محنت کی۔ اس کے بعد جوں جوں تبلیغ کا حلقہ اثر بڑھتا گیا آپ پر اتنی ہی زیادہ دعوتی ذمہ داریاں عائد ہوتی چلی گئیں جنہیں آپ نے بحسن وخوبی انجام دیا۔آپ کے عنفوانِ شباب میں بارہمولہ کے کئی اشراف گھرانے آپکو عقد نکاح میں باندھنے کے متمنی تھے لیکن محض دینی مصلحتوں اور مجبوریوں کی خاطر آپ نے کافی عرصہ تک تجرُّد کی زندگی اختیار کی۔آخر چند ناگزیر مجبوریوں کی بناء پر آپ کا نکاح یوپی کے شہر مراد آباد کے ایک مضافاتی قصبہ سنبھل میں ایک بڑے عالم دین کے گھرمیں ۱۹۸۱ ء میں ہوا۔ اور اس طرح ﷲنے آپ کو اولاد نرینہ سے نوازا جو انشاء اﷲ شرافت و نجابت میں آپ کے صحیح وارث اور جانشین ثابت ہونگے ۔آپ کا آبائی مکان چونکہ بارہمولہ کی فوجی چھاونی کے دائرے میں آگیا تھا لہٰذا کچھ وقت کرایہ کے مکان میں گذارنے کے بعد کانلی باغ بارہمولہ میں ایک رہائشی مکان بنایا جس میں آپ اس وقت سکونت پزیر ہیں اور آپ کی ذات مرجع خاص و عام بنی ہوئی ہے ۔آپ کو اپنے مرشد کی طرف سے خلق خدا کو روحانی نفع رسانی کے لئے بیعت کرنے کی اجازت بھی حاصل ہے ۔اور کافی نوجوان اور عقیدت مند آپ کے ہاتھ پر بیعت ہورہے ہیں۔آپ اکثر لمبے لمبے سفروں پر رہتے ہیں اور اپنی پیرانہ سالی کے باوجود دین کے ہر تقاضے پر عمل پیرا ہیں۔آپ مجسمِ ہمت و صبر ہیں ۔ایک دفعہ وادی کشمیر کے ذمہ د اروں کے مشورہ میں یہ بات کہنے میں آئی کہ حضرت امیر صاحب کو اب لمبے لمبے اسفار سے مستثنیٰ رکھا جائے ۔آپ نے فرمایا یہ مجھے منظور نہیں۔آپکے حسن اخلاق کی وجہ سے پوری ریاست آپ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اور اس میں واقعی کوئی مبالغہ نہیں ۔5 مارچ ۲۰۱۱ ء ؁ کو آپ دہلی میں تھے اور پہلی مرتبہ آپ نے مولانا ارشد صاحب کو پیغام بھیجا کہ وہ وادی کے مشورہ کی ذمہ د اری سنبھالیں۔ دوسرے دن بعد بیانِ فجر جب مولانا موصوف دعا کے لئے تشریف لائے تو امیر صاحب کی عدم موجودگی پر خود بھی روئے اور مجمع کو بھی رلایا۔ جب آپ نے یہ الفاظ فرمائے کہ آج ہم اپنے آپ کو بغیر سایہ کے محسوس کررہے ہیں اور مجمع کو اس بات کا احساس دلایا کہ واقعی ہم ایسا عالی ظر ف امیر حاصل ہونے کا شکر کرنے سے قاصر ہیں اور اس نعمت پر غور نہیں کرتے ہیں کہ اﷲ نے امیر صاحب کی شکل میں ہم پرکتنا بڑا احسان کیا ہے اور صحبت صالح کیا چیز ہے ۔کشمیر میں جتنے چھوٹے بڑے دینی مدارس ہیں تقریباًسب آپکو اپنا سرپر ست مانتے ہیں اور سب وقتاًفوقتاً آپ سے مفید مشورے حاصل کرتے ہیں ۔کشمیر کے سیاسی شور شرابے سے آپ نے ہمیشہ اپنے دامن کو بچایااور حکام وقت،امراء و رؤساء سے استغنا برتتے ہوئے یکسوئی کی ساتھ دینی خدمات میں لگے رہے اور اپنی ساری صلاحیتیں دعوت وتبلیغ کے لئے وقف کیں ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ آج دعوت کی اس محنت کے شدید مخالفیں اور ان کے بچّے جوق در جوق علماء اھل حق اور دعوت و تبلیغ سے جڑتے چلے جا رہے ہیں فالحمدﷲ علیٰ ذالک۔

ماخوذ از کتاب مولانا الیاس کی دینی دعوت اور کشمیر

آسیؔ غلام نبی فتح گڈھی
سرپرست ماہنامہ راہِ نجات

Shaykh Hamidullah holds the honorific title of “Shaikh ul Mashaaikh. Hazrat Moulana Hamidullah Lone sahib (DB) is one of...
07/27/2022

Shaykh Hamidullah holds the honorific title of “Shaikh ul Mashaaikh.

Hazrat Moulana Hamidullah Lone sahib (DB) is one of the Most Respected /Legendary Elder who is the Rector/ Founder of Darul Uloom sawa us Sabeel Khandipora Kulgam .
Hazrat is the Khalifa of Hazrat Nooruddin Trali(RA) and the Khalifa of Hazrat Abrar ul Haq sahib(RA).He is the Editor of Bimonthly "The radiant Reality","Fikr Imroz" and Dawatul Haq .He is One of Elders Who has a very good hold on Modern Science and English Language.Besides this ,Hazrat is Shiekh of most of the Elders from Kashmir.
Hazrat” is known for his legendary sermons that highlight the importance of Islamic principles in day-to-day life. He usually stresses upon implementing the Sharia and Sunnah in one’s life. The sermons usually revolve around the following subjects: Qur’an, Sunnah, Islam, and modern science.
Besides knowledge of Islam, Hazrat has a very good hold on modern science and English language. He is always seen quoting English and Science terms during his sermons. The main areas of modern science, like evolution, living creatures, and the human body.
Hazrat is a critic of Lamarkism and Darwinism and stresses upon the concept of creation instead of evolution.
May Allah Protect Him
Murshideen-E-Ummat

Reminder for us all!!
06/22/2022

Reminder for us all!!

  برائے 17 جون 2022ء🎯 حضور اکرم ﷺ کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کم سنی میں نکاح کا پس منظر اور اس کی حکمتیں نحمدہ ونصلی...
06/15/2022

برائے 17 جون 2022ء

🎯 حضور اکرم ﷺ کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کم سنی میں نکاح کا پس منظر اور اس کی حکمتیں

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، أما بعد! فأعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم: اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰـتُهُمْ،صدق اللہ العظیم
محترم حضرات! حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں نمایاں اور ممتاز زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں، آپ ﷺ نے ان سے ان کی کم سنی میں نکاح فرمایا، پھر ان کی والدہ حضرت ام رومان رضی الله عنہا نے تین سال کے بعدحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کردی، اس وقت حضرت عائشہ کی عمر نو سال تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کم سنی کو لے کر بیمار ذہنیت رکھنے والے اعتراض کرتے ہیں اور اعتراضات کا یہ سلسلہ نیا نہیں ، پرانا ہے، پہلے بھی متعصب لوگوں نے اس معاملے کو لے کر اعتراضات کیے ہیں، اور اب بھی ہمارے ملک میں کچھ لوگ اپنی زہریلی سونچ کی بنیاد پر اعتراض کررہے ہیں، اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے کی وضاحت کی جائے، اور حضور اکرم ﷺ کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پس منظر، اس کی حکمتیں اور اس کے ذریعے امت کو ملنے والے فائدے وضاحت کے ساتھ بیان کیے جائیں، چنانچہ آج کے خطبے میں اسی موضوع پر اظہار خیال کیا جائے گا ، ان شاء اللہ!
نبی کی حیثیت عام انسانوں کی نہیں ہوتی، وہ خالق کائنات کا نمائندہ اور اس کی مرضیات کا ترجمان ہوتا ہے، اس کا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا، دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ اس کا رویہ، سفر وحضر، غرض کہ زندگی کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک حرکت وعمل انسانیت کے لئے اسوہ اور نمونہ ہوتا ہے، اس کے بولنے میں بھی انسانیت کے لئے سبق ہے اور اس کی خاموشی میں بھی، نبوت کا سلسلہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہوگیا، آپ کے بعد نہ کوئی نبی آیا ہے اور نہ آسکتا ہے؛ اس لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات سو دو سو اور ہزار دو ہزار سال کے لئے نہیں؛ بلکہ قیامت تک کے لئے نمونہ ہے، اور آپ کی سیرت وسنت کی اتباع میں آخرت کی بھی فلاح ہے اور دنیا کی بھی کامیابی ہے۔زندگی کا ایک اہم شعبہ ازدواجی اور خاندانی زندگی ہے، جس سے ہر انسان گزرتا ہے، ہر شخص حاکم اور قاضی نہیں بنتا، ہر شخص تجارت اور کاروبار نہیں کرتا؛ اس میں کوئی شک نہیں کہ کارگاہِ عالم کا سارا نظام قانونِ زوجی پر مبنی ہے اور کائنات میں جتنی چیزیں نظر آرہی ہیں سب اسی قانون کا کرشمہ اور مظہر ہیں۔ (الذاریات:۴۹) یہ اور بات ہے کہ مخلوقات کا ہر طبقہ اپنی نوعیت، کیفیت اور فطری مقاصد کے لحاظ سے مختلف ہے لیکن اصل زوجیت ان سب میں وہی ایک ہے۔ البتہ انواعِ حیوانات میں انسان کو خاص کرکے یہ ظاہر کیاگیا ہے کہ اس کے زوجین کا تعلق محض شہوانی نہ ہو بلکہ محبت اور انس کا تعلق ہو دل کے لگاؤ اور روحوں کے اتصال کا تعلق ہو۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے راز دار اور شریک رنج و راحت ہوں، ان کے درمیان ایسی معیت اور دائمی وابستگی ہو جیسی لباس اور جسم میں ہوتی ہے۔ دونوں صنفوں کا یہی تعلق دراصل انسانی تمدن کی عمارت کا سنگِ بنیاد ہے اس ربط و تعلق کے بغیر نہ انسانی تمدن کی تعمیر ممکن ہے اور نہ ہی کسی انسانی خاندان کی تنظیم۔ جب یہ قانونِ زوجی خالقِ کائنات کی طرف سے ہے تو یہ کبھی صنفی میلان کو کچلنے اور فنا کرنے والا نہیں ہوسکتا۔ اس سے نفرت اور کلی اجتناب کی تعلیم دینے والا بھی نہیں ہوسکتا؛ بلکہ اس میں لازماً ایسی گنجائش رکھی گئی ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اس اقتضاء کو پورا کرسکے حیوانی سرشت کے اقتضاء اور کار خانہٴ قدرت کے مقرر کردہ اصول و طریقہ کو جاری رکھنے کے لیے قدرت نے صنفی انتشار کے تمام دروازے مسدود کردئیے،اور ”نکاح“ کی صورت میں صرف ایک دروازہ کھولا۔ کسی بھی آسمانی مذہب و شریعت نے اس کے بغیر مرد و عورت کے باہمی اجتماع کو جائز قرار نہیں دیا۔ پھر اسلامی شریعت میں یہاں تک حکم دیاگیا ہے کہ اس فطری ضرورت کو تم پورا کرو، مگر منتشر اور بے ضابطہ تعلقات میں نہیں، چوری چھپے بھی نہیں، کھلے بندوں بے حیائی کے طریقے پر بھی نہیں؛ بلکہ باقاعدہ اعلان و اظہار کے ساتھ، تاکہ تمہاری سوسائٹی میں یہ بات معلوم اور مسلم ہوجائے کہ فلاں مرد اور عورت ایک دوسرے کے ہوچکے ہیں۔تقریبا ہر شخص خاندان کا حصہ ہوتا ہے، شادی بیاہ کے مرحلہ سے گزرتا ہے اور اس کے ذریعہ ایک نیا خاندان وجود میں آتا ہے، خاندان کا حصہ مرد بھی ہوتے ہیں اور عورتیں بھی ہوتی ہیں، اس کوقدم قدم پر رہنمائی کی ضرورت پیش آتی ہے، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عام لوگوں کے مقابل زیادہ نکاح کی اجازت دی گئی، آپ نے مختلف قبائل میں نکاح کئے، جس سے اسلام کی اشاعت میں مدد ملی، خواتین نیز خاندانی زندگی سے متعلق احکام کی تفصیلات مہیا ہوئیں۔
آپ نے بحیثیت مجموعی جن خواتین سے نکاح کیا، ان کی تعداد گیارہ ہے، ان میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ سب کی سب بیوہ یا مطلقہ تھیں، آپ نے پہلا نکاح حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کیا جو عمر میں آپ سے پندرہ سال بڑی تھیں، اور ایک بیوہ خاتون تھیں، بچپن ۵۵؍ سال کی عمر ہونے تک آپ کے نکاح میں ایک ہی بیوی رہیں: حضرت خدیجہؓ اور ان کے بعد حضرت سودہؓ، زندگی کے آخری آٹھ سالوں میں بقیہ ازواج آپ کے نکاح میں آئیں۔غرض کہ پہلا نکاح آپ نے پچیس سال کی عمر میں چالیس سال کی خاتون سے کیا ، دوسرے: ایک کے سو ا آپ کی تمام بیویاں بیوہ یا مطلقہ تھیں، تیسرے: جو انسانی زندگی میں اصل زمانۂ شباب ہوتا ہے، اس میں آپ نے ایک ہی بیوی پر اکتفا فرمایا اور عمر کے آخری مرحلہ میں متعدد نکاح کئے، اگر ان نکات کو ملحوظ رکھا جائے تو وہ بہت سے غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی، جو اعداء اسلام کی طرف سے پھیلائی جاتی ہیں،جن میں سے ایک حضرت عائشہؓ سے نکاح بھی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا رشتہ پہلے جبیر ابن مطعم کے لڑکے سے طئے ہو چکا تھا، یہ خاندان ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا، جبیر کی بیوی نے کہا کہ اگر ابو بکر کی لڑکی ہمارے گھر آگئی تو ہمارا گھر بھی بددین ہو جائے گا؛ اس لئے ہم کو یہ رشتہ منظور نہیں (مسند احمد: ۶؍۲۱۱) اس لئے یہ رشتہ ختم ہو گیا، پھر جب حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوگیا تو حضرت خولہؓ نے آپ سے حضرت سودہؓ اور حضرت عائشہؓ کا رشتہ پیش کیا، حضرت سودہؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم عمر تھیں، آپ نے ان سے نکاح فرمایا اور بعض غیبی اشاروں کی بنا، پر حضرت عائشہؓ کے رشتہ کو بھی قبول فرمالیا، اور حضرت خولہؓ سے خواہش کی کہ وہ اس بات کو آگے بڑھائیں، حضرت خولہؓ نے حضرت ابو بکرؓ کے سامنے یہ بات رکھی، حضرت ابو بکر کو یوں تو یہ رشتہ دل وجان سے محبوب تھا؛ لیکن چوں کہ زمانہ جاہلیت میں منھ بولے بھائی کی بیٹی سے نکاح کو حرام سمجھا جاتا تھا؛ اس لئے اس پر تأمل ہوا، جب حضرت خولہؓ نے حضور سے یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا کہ ابو بکرؓ دینی بھائی ہیں نہ کہ سگے بھائی، اس لئے ان کی بچی سے میرا نکاح ہو سکتا ہے، تو پھر وہ کھٹک بھی دور ہوگئی، اس طرح حضرت عائشہؓ سے آپ کا نکاح ہوا، نکاح کے وقت راجح قول کے مطابق حضرت عائشہؓ کی عمر چھ سال تھی اور رخصتی کے وقت نو سال ، دوسرے قول کے مطابق نکاح کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر اٹھارہ سال تھی؛ لیکن نو سال والی روایت کو امام بخاریؒ نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے، اور اہل علم کے نزدیک یہی روایت زیادہ صحیح ہے۔
حضرت عائشہؓ سے نکاح کے کئی بڑے فوائد حاصل ہوئے:
ایک تو جاہلیت کی یہ رسم ختم ہو گئی کہ منھ بولا بھائی سگے بھائی کی طرح ہے اور سگے بھائی کی بیٹی کی طرح اس کی بیٹی سے بھی نکاح کی ممانعت ہے، اگر آپ نے اپنے عمل کے ذریعہ اس جاہلانہ رسم کے خاتمہ کا اعلان نہ کیا ہوتا، اور صرف زبانی ہدایت پر اکتفا کیا ہوتا تو شاید بھائی اور بھتیجی کے مصنوعی رشتہ کا تصور آسانی سے ختم نہیں ہوتا، اور صدیوں سے آئے ہوئے اس رواج کی مخالفت لوگوں کو گوارا نہیں ہوتی؛ لیکن جب آپ نے خود منھ بولے بھائی کی صاحبزادی سے نکاح کر لیا تو ہمیشہ کے لئے یہ تصور ختم ہوگیا۔
دوسرے: اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو غیر معمولی ذکاوت وذہانت سے نوازا تھا، ۳۵۰؍صحابہ وتابعین نے ان سے حدیث حاصل کی اور ان سے جو حدیثیں منقول ہیں، ان کی تعداد ۲۲۱۰؍ ہے، (سیر اعلام النبلاء، ۲؍۱۳۹)سات صحابہ وہ ہیں، جن کو روایت حدیث میں مکثرین کہا جاتا ہے، یہ وہ صحابہ ہیں، جنھوں نے ایک ہزار سے زیادہ حدیثیں آپ سے نقل کی ہیں، ان میں جہاں چھ مردوں کے نام ہیں، وہیں ایک نام حضرت عائشہ صدیقہؓ کا بھی ہے، فتاویٰ میں بھی حضرت عائشہؓ کا پایہ بہت بلند تھا اور ان کا شمار عہد صحابہ کے ان اصحاب فتویٰ میں ہوتاتھا، جنھوں نے کثرت سے فتاویٰ دئیے ہیں، ماضی قریب کے معروف عالم وفقیہ ڈاکٹر رواس قلعہ جی نے حضرت عائشہؓ کے فتاویٰ کو ’’ موسوعہ فقہ عائشہ‘‘ کے نام سے جمع کیا ہے، جو ۷۶۷؍ صفحات پر مشتمل ہے، اس سے فقہ وفتاویٰ کے میدان میں ان کی خدمات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، عربی زبان میں ایک اصطلاح ’’استدراک‘‘ کی ہے، کسی شخص کی بات یا تصنیف میں کوئی غلطی یا غلط فہمی ہو گئی ہو تو اس کی اصلاح کو استدراک کہتے ہیں، حضرت عائشہؓ نے اکابر صحابہ پر استدراک کیا ہے، جس کو علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے ’’ عین الاصابۃ فی استدراک عائشۃ علی الصحابۃ‘‘ کے نام سے جمع کیا ہے، اور اہل علم کی رائے ہے کہ عموما ان استدراکات میں حضرت عائشہؓ کا نقطہ نظر زیادہ درست ہے، پھر یہ کہ حضرت عائشہؓ جیسی ذہین خاتون کے آپ کے نکاح میں ہونے کی وجہ سے خواتین اور خاندانی زندگی سے متعلق بہت سارے مسائل کا حل ان ہی کی روایات سے ہوا ہے؛ اس لئے امت کو آپ کے ذریعہ جو علمی اور فکری فائدہ پہنچا، وہ بظاہر کسی اور سے نہیں ہو سکتا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۴۷؍ سال زندہ رہیں، اور ان کی ہدایت واصلاح اور تعلیم وتربیت کا چشمہ جاری رہا، کہا جاتا ہے کہ بیس سال میں ایک نسل بدل جاتی ہے، اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی دو نسلیں ان سے فیضیاب ہوئیں، یہ اسی لئے ممکن ہو سکا کہ وہ کم عمری میں آپ کے نکاح میں آگئی تھیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ اس نکاح کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سب سے بڑے معاون ومددگار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے خاندان کو عزت سے سرفراز فرمایا، چار رفقاء نے سب سے بڑھ کر آپ کی مدد کی، ان میں سے دو حضرت ابو بکر وحضرت عمرؓ کی صاحبزادیوں کو آپ نے اپنے نکاح میں لے کر عزت بخشی، اور دو رفقاء حضرت عثمانؓ وحضرت علیؓ کے نکاح میں اپنی صاحبزادیوں کو دے کر عزت افزائی کی، اور اس طرح آپ نے ان چاروں دوستوں کی قربانی کے مقابلہ دلداری فرمائی، آپ حضرت ابو بکر کو کتنی ہی نعمتیں دے دیتے؛ لیکن حضرت عائشہؓ سے نکاح کی وجہ سے اس خاندان کو جو عزت ملی، اور جو سعادت حاصل ہوئی، وہ کسی اور طرح نہیں ہو سکتی تھی؛ اس لئے نہ کبھی حضرت ابو بکر کو پچھتاوا ہوا کہ عمر کے کافی تفاوت کے ساتھ آپ نے اپنی صاحبزادی کا نکاح کر دیا اور نہ خود حضرت عائشہؓ کو؛ بلکہ وہ اس نسبت کو اپنے لئے باعث عزت وافتخار سمجھتے تھے، اور جب ایک موقع پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ چوں کہ آپ کے ساتھ رہتے ہوئے بہت صبرو شکیب کی زندگی گزارنی پڑتی تھی، اس لئے ازواج مطہرات اگر چاہیں تو اپنے حقوق لے کر علیحدگی اختیار کر لیں تو سب سے پہلے حضرت عائشہؓ نے اس کو رد کر دیا، اور کہا کہ وہ ہر حال میں آپ کے ساتھ ہی رہیں گی، رشتہ نکاح کا تعلق اصل میں بیوی کے ساتھ ہوتا ہے، تو جب بیوی خود اس رشتہ کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتی ہو اور خوش دلی کے ساتھ باعث افتخار جانتے ہوئے اس پر راضی رہے تو کیسے کسی کو اس پر اعتراض کا حق ہو سکتا ہے؟جہاں تک نکاح کے وقت کم سنی کی بات ہے تو اس کا تعلق اصل میں سماجی تعامل ورواج، موسمی حالات اور غذا سے ہے؛ اسی لئے مختلف علاقوں میں بلوغ کی عمریں الگ الگ ہوتی ہیں، عرب میں کم عمری میں لڑکیوں کے نکاح کا رواج تھا، عہد نبوت میں بھی اور آپ کے بعد بھی اس کی کئ مثالیں ملتی ہیں، جن میں دس سال سے کم عمر میں لڑکیوں کا نکاح کر دیا گیا، اور جلد ہی وہ ماں بھی بن گئیں، خود حضرت عائشہؓ کے نکاح میں حضرت خولہ ؓ نے رشتہ پیش کیا، اور حضرت ابو بکرؓ نے رضاعی بھائی ہونے کا بھی عذر کیا؛ لیکن عمر کے تفاوت پر کسی تامل کا اظہار نہیں کیا، پھر یہ کہ حجاز کا موسم گرم ہوتا ہے اور اس زمانے میں وہاں کی غذا کھجور اور اونٹنی کا دودھ ہوا کرتا تھا، جس میں بہت زیادہ غذائیت پائی جاتی تھی؛ اس لئے وہاں کے حالات کو ہندوستان پر قیاس نہیں کرنا چاہئے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ دنیا کے دوسرے مذاہب میں بھی کم عمر لڑکیوں کی شادی کا رواج رہا ہے، مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کسی کی بیوی نہیں بنیں، اور معجزاتی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی؛ لیکن عیسائیوں کے بعض فرقوں کا خیال ہے کہ جوسف نامی شخص سے حضرت مریمؑ کا نکاح ہوا تھا، اس وقت جوسف کی عمر ۹۹؍ برس اور حضرت مریم کی بارہ برس تھی، ۱۹۸۳ء تک کیتھولک کینان نے اپنے پادریوں کو بارہ سال کی لڑکی سے شادی کرنے کی اجازت دے رکھی تھی، ۱۹۲۹ء سے پہلے برطانیہ میں چرچ آف انگلینڈ نے بھی بارہ سال کی لڑکی سے شادی کی اجازت دی تھی، امریکہ کے اسٹیٹ آف ڈیلویرا میں ۱۸۸۰ء تک لڑکی کی شادی کی کم سے کم عمر ۸؍ سال اور کیلی فورنیا میں ۱۰؍ سال مقرر تھی، یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی بعض ریاستوں میں لڑکیوں کی شادی کی عمر کافی کم رکھی گئی ہے، امریکہ کی ایک ریاست ’’ میسیچوسس‘‘ ہے، جہاں لڑکیوں کی شادی کی عمر ۱۲؍ سال مقرر ہے، اور ایک دوسری ریاست نیوہیمسفر‘‘ میں ۱۳؍ سال مقرر ہے۔اگر ہندو مذہب کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں کم عمری کی شادی کی بہت حوصلہ افزائی کی گئی ہے، منوسمرتی میں ہے کہ لڑکی کے بالغ ہونے سے پہلے اس کی شادی کر دینی چاہئے، (گوتما: ۱۵۔۔۲۱) اور یہ کہ باپ کو چاہئے کہ اپنی لڑکی کی شادی اسی وقت کر دے جب وہ بے لباس گھوم رہی ہو؛ کیوں کہ اگر وہ بلوغت کے بعد بھی گھر میں رہے تو اس کا گناہ باپ کے سر ہوگا۔ (بہ حوالہ: many ix, 88,htpp:/www.payer.de.dharam shastra/dharmash083 htm)منوسمرتی میں میاں بیوی کی شادی کی عمر یوں مقرر کی گئی ہے: لڑکا ۳۰؍ سال اور لڑکی ۱۲؍ سال، یا لڑکا ۲۴؍سال اور لڑکی ۸؍ سال کی ۔مہا بھارت میں شادی سے متعلق جو ہدایت دی گئی ہے، اس میں لڑکی کی عمر ۱۰؍ سال اور۷؍ سال ہے، جب کہ شلوکاس میں شادی کی کم از کم عمر ۴؍ سے ۶؍ سال اور زیادہ سے زیادہ ۸؍ سال مقرر ہے۔آج کل برادران وطن رام جی کو سب سے آئیڈیل شخصیت مانتے ہیں تو رامائن سے پتہ چلتا ہے کہ رام اور سیتا کی شادی کے وقت سیتا کی عمر صرف چھ سال تھی (رامائن، ارینہ کانڈ، سرگ: ۴۷، اشلوک: ۱۱،۴،۱۰)غرضیکہ کم عمری میں لڑکی کا نکاح اور بیوی وشوہر کے درمیان عمر کا فرق طرفین کی باہمی رضامندی ، معاشی رواج، موسم، صحت اور بلوغ سے متعلق ہے، مشرق ومغرب کے اکثر سماج میں کم عمر لڑکیوں کا نکاح ہوتا رہا ہے، مختلف مذہبی کتابوں میں نہ صرف اس کی اجازت دی گئی ہے؛ بلکہ اس کی ترغیب دی گئی ہے، اور خاص کر ہندو سماج میں اس کا رواج زیادہ رہا ہے، اور مذہب کی مقدس شخصیتوں نے اس عمر میں نکاح کیا ہے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

🎁 سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
ہر ہفتہ خطاب جمعہ حاصل کرنے کے لیے اپنا نام، پتہ اور وہاٹس ایپ نمبر ارسال کریں:
9834397200

 Inshallah Tomorrow
06/08/2022


Inshallah Tomorrow

   صلی اللہ علیہ وسلم 💚
06/08/2022


صلی اللہ علیہ وسلم 💚

  !__________آج مجھے بلکہ اکثر امت کو تعلیم سے زیادہ  اچھی تربیت کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ تربیت کے بغیر انسانوں کی وجہ سے...
04/20/2022

!
__________
آج مجھے بلکہ اکثر امت کو تعلیم سے زیادہ اچھی تربیت کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ تربیت کے بغیر انسانوں کی وجہ سے ہی اس وقت معاشرہ برباد ہورہا ہے۔
اس تربیت کو حاصل کرنے کے لیے پوری امت کو اہل اللہ،اہلِ علم،مشائخ،صلحاء،اکابر سے امت کو جوڑنا ہے۔اس کے بغیر واللہ کوئی چارہ نہیں۔

العبد احقر دانش احمد ملک

17 رمضان المبارک : یوم بدر
04/19/2022

17 رمضان المبارک : یوم بدر

𝐓𝐨𝐝𝐚𝐲𝐬 𝐊𝐡𝐚𝐭𝐢𝐦 𝐒𝐞𝐡𝐫𝐢 𝐍𝐝 𝐈𝐟𝐭𝐚𝐫𝐢 𝐓𝐢𝐦𝐢𝐧𝐠𝐊𝐄𝐄𝐏 𝐒𝐇𝐀𝐑𝐈𝐍𝐆𝐒𝐇𝐀𝐑𝐈𝐍𝐆 𝐈𝐒 𝐂𝐀𝐑𝐈𝐍𝐆
04/03/2022

𝐓𝐨𝐝𝐚𝐲𝐬 𝐊𝐡𝐚𝐭𝐢𝐦 𝐒𝐞𝐡𝐫𝐢 𝐍𝐝 𝐈𝐟𝐭𝐚𝐫𝐢 𝐓𝐢𝐦𝐢𝐧𝐠

𝐊𝐄𝐄𝐏 𝐒𝐇𝐀𝐑𝐈𝐍𝐆
𝐒𝐇𝐀𝐑𝐈𝐍𝐆 𝐈𝐒 𝐂𝐀𝐑𝐈𝐍𝐆

Address

Kashmir, UT

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Murshideen-E-Ummat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Murshideen-E-Ummat:

Shortcuts

Share

Category