08/26/2026
🌟 میری شاعری کے سفر کا سب سے خوبصورت معجزہ 🌟
یہ بات 2010 کی ہے، جب میں نے شاعری کا آغاز کیا۔ وطن کی محبت، والدین کی عظمت، معاشرے کی ناانصافیاں، اور عشقِ مجازی۔۔۔ میں نے بہت سے موضوعات پر خوب لکھا۔ لیکن میرے دل میں ایک حسرت باقی تھی، ایک شدید خواہش کہ میں اپنے آقا، جانِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں نعت لکھ سکوں۔
دو سال گزر گئے، میں نے بہت کوشش کی، پر الفاظ نہ ملے۔ یہ خواہش جوں جوں پرانی ہوتی گئی، میرے ضمیر پر ایک بوجھ سا بنتی گئی۔ میں سوچتا تھا کہ میں کیا کیسا 'شاعر' ہوں کہ اپنے سب سے بڑے محسن (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے دو حرف نہ لکھ سکا۔
پھر ایک معجزاتی رات آئی۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ، سحری سے فارغ ہو کر میں سویا تو کیا دیکھتا ہوں کہ خواب میں مجھ پر اشعار کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور میں نعت لکھ رہا ہوں۔ جیسے ہی میری آنکھ کھلی، وہ اشعار میرے حافظے میں نقش تھے۔ میں نے فوراً ڈائری اٹھائی اور وہ اشعار لکھ لیے۔ جو اشعار یاد تھے وہ لکھے، اور پھر قدرت نے مزید الفاظ عطا کیے اور آخر کار یہ نعت مکمل ہوئی۔
کچھ لوگ اسے سراسر روحانیت سے جوڑیں گے، اور کچھ 'مائنڈ سائنس' کے نقطہ نظر سے دیکھیں گے۔
⚠️ ایک ضروری وضاحت:
اکثر کمزور عقیدے کے لوگ اس طرح کے واقعات اور تحریروں سے متاثر ہو کر کسی بھی عام انسان کو "پیر، فقیر یا کوئی خاص روحانی پیشوا" سمجھنے لگتے ہیں۔ میں واضح کر دوں کہ ایسا ہرگز نہیں۔میں خود مائنڈ سائنس کا طالبِ علم ہوں، اور جانتا ہوں کہ جب کوئی بات آپ کے شعور پر اس قدر غالب آ جائے تو آپ کا لاشعور (Subconscious) اسے حاصل کرنے کے لیے متحرک ہو جاتا ہے۔
یہ لاشعوری طاقت اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر رکھی ہے۔
یہ نعت انگریزی میں کیوں ہے؟ اس وقت میں روزانہ 4-5 گھنٹے انگریزی زبان کی کلاسز لیا کرتا تھا، شاید اسی لیے میرے لاشعور پر اس زبان کا غلبہ تھا اور الفاظ اسی روپ میں آئے، جو میرے لیے بھی حیرت کا باعث تھا۔
آج میں بس اس بات پر اللہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اس قابل سمجھا اور مجھے یہ توفیق عطا کی کہ میں اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کچھ لکھ سکوں۔
💡 سب کے لیے ایک سبق:
جب آپ کسی نیک کام کا پکا ارادہ کر لیتے ہیں اور اسے اپنے وجود پر طاری کر لیتے ہیں، تو کائنات کی ہر طاقت آپ کی مدد کے لیے آ جاتی ہے۔ کبھی ہار نہ مانیں، اپنے خوابوں اور نیک نیتوں پر ثابت قدم رہیں، معجزے سچ مچ ہوتے ہیں!
✨ آپ کی دعاؤں کا طلبگار،
آصف علی خان
Naat-e-Rasool (S.A.W.W.
[PAGE 1]
Noor-e-Muhammad is the light
Beyond my thought.
I wish i could see him
Oh! My Lord
Encapsulated with miracles of the prophets all
Muhammad is unique
By all sort
I wish i could see him
Oh! My Lord
I am the Ummati Of Muhammad (P.B.U.H.)
By the grace of God
The honour on me, bestowed
I wish i could see him
Oh! My Lord
He is the man of peace
For the worlds created all
Rehmatullil Aalameen he is called
I wish i could see him
Oh! My Lord
[PAGE 2]
Preached Islam with love and peace
Neither he forced, nor used sword
I wish i could see him
Oh! My Lord
For our guidance
In every walk of life
Quran and sunnah he always showed
I wish i could see him
Oh! My Lord
In the heaven,
His name Allah wrote
That's the dignity, which Muhammad Got
I wish i could see him
Oh! My Lord
To articulate the dignity of Muhammad
The spectrum of my thought
Is very short
May it's accepted in his court
I wish i could see him
Oh! My Lord
نوٹ:
انگریزی سے اردو ترجمہ کرتے ہوئے عموماً اصل شاعرانہ اسلوب، روانی اور شعری کیفیت پوری طرح برقرار نہیں رہتی۔ تاہم، یہ ترجمہ اُن احباب کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جو انگریزی سے واقف نہیں، تاکہ وہ ان اشعار میں بیان کیے گئے عقیدت، محبت اور مفہوم کو سمجھ سکیں
ﷺ
صفحہ ۱
محمد ﷺ کا نور وہ روشنی ہے
جو میرے خیال و فہم سے بھی ماورا ہے
کاش! میں ان کا دیدار کر سکتا
اے میرے مولا!
تمام انبیاء کے معجزات کا حسن
ان کی ذاتِ اقدس میں سمٹا ہوا ہے
محمد ﷺ ہر اعتبار سے بے مثال ہیں
کاش! میں ان کا دیدار کر سکتا
اے میرے مولا!
میں محمد ﷺ کا اُمتی ہوں
یہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر فضل و کرم ہے
کہ مجھے یہ عظیم شرف عطا ہوا
کاش! میں ان کا دیدار کر سکتا
اے میرے مولا!
وہ تمام جہانوں کے لیے امن و سلامتی کا پیغام ہیں
انہیں رحمتُ للعالمین کہا جاتا ہے
وہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر آئے
کاش! میں ان کا دیدار کر سکتا
اے میرے مولا!
صفحہ ۲
انہوں نے محبت اور امن کے ساتھ اسلام کا پیغام دیا
نہ کسی پر جبر کیا، نہ تلوار اٹھائی
کاش! میں ان کا دیدار کر سکتا
اے میرے مولا!
ہماری رہنمائی کے لیے
زندگی کے ہر مرحلے میں
انہوں نے قرآن و سنت کا راستہ دکھایا
کاش! میں ان کا دیدار کر سکتا
اے میرے مولا!
آسمانوں میں
اللہ تعالیٰ نے ان کا نام بلند فرمایا
یہی وہ عظمت ہے
جو محمد ﷺ کو عطا ہوئی
کاش! میں ان کا دیدار کر سکتا
اے میرے مولا!
محمد ﷺ کی عظمت و شان کو بیان کرنے کے لیے
میرے فکر و خیال کا دائرہ بہت محدود ہے
میری یہ عاجزانہ کاوش
کاش! ان کے دربار میں قبول ہو جائے
کاش! میں ان کا دیدار کر سکتا
اے میرے مولا!