District Council Public High School Dir Alumni Association

District Council Public High School Dir Alumni Association Official Page Of DCPH School Alumni Association, Connecting Alumni, Honouring Teachers.
(5)

District council public school alumni association.Aftab Alam session 2001Currently working Quaid Azam International.Cour...
09/01/2026

District council public school alumni association.
Aftab Alam session 2001
Currently working Quaid Azam International.
Courtesy Tariq Babar

09/01/2026

*خوش رہنے کے لیے بڑی بڑی خوشیوں کی ضرورت نہیں ہوتی،*

*بلکہ اللہ کی کوئ بھی نعمت،*
*کبھی کسی کی ایک مسکراہٹ،*
*اپنوں کا ساتھ,*
*خوبصورت یادیں,*
*اور کھبی کوئ مخلص دوست سکون دل کا سبب بنتا ہے۔*
*رب کی ہر نعمت کا شکر ادا کیجیۓ*
*یقینا شکر گذاری ہی اصل خوشی ہے۔*
Courtesy Tariq Babar

District council public school alumni association.Quote of the day Courtesy Tariq Babar
09/01/2026

District council public school alumni association.
Quote of the day
Courtesy Tariq Babar

خالد عزیز  ولدِ محمد عالم خان صاحب  پراؤڈ ایلومنس — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر(تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی)بعض لوگ ر...
08/31/2026

خالد عزیز
ولدِ محمد عالم خان صاحب
پراؤڈ ایلومنس — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر

(تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی)

بعض لوگ راستہ دیکھتے ہیں، بعض راستہ ناپتے ہیں، اور بعض راستے کو یاد رکھتے ہیں۔ خالد عزیز ان ناموں میں سے ہیں جن کی کہانی دیر کی مٹی سے نکلی، سکول کے صحن کی دھول سے چمکتی رہی، اور آج نمائندگی کے افق پر ایک الگ دستخط بن کر کھڑی ہے۔ ان کا سفر صرف منازل کا سفر نہیں، پیمائش کا سفر بھی ہے—وہ پیمائش جو زمین کی لکیر سے شروع ہوتی ہے اور انسان کے کردار تک پہنچتی ہے۔ اور اس سفر کے بیچ وہ وفا ہے جو سکول کی گھنٹی، استاد کی نظر، ساتھیوں کی ہنسی، کرکٹ کی گیند اور تقریر کی میز کو کبھی فراموش نہیں کرتی۔

جب انیس سو ننانوے میں یہ بیٹا محمد عالم خان صاحب کے گھر سے نکل کر ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر کا میٹرک پاس کر چکا، تو شاید میدان کی مٹی کو بھی نہیں معلوم تھا کہ یہ لڑکا ایک دن زمین کی زبان بھی پڑھے گا اور رنگوں کی زبان بھی۔ وہاں صرف سبق نہیں ہوا تھا—وہاں صف بندی ہوئی تھی، حوصلہ بنا تھا، اور وہ سادہ سی دوستی پلی تھی جو صرف سکول کے دنوں میں ممکن ہوتی ہے۔ صبح کی اسمبلی کی خاموش وقار، کلاس کی محنت، بریک کے بکھرے لمحات، کرکٹ کی دوڑ، ٹیبل ٹینس کی تیز گیند، اور مباحثے کی میز پر کھڑے الفاظ—یہ سب ان کی یادوں کا وہ خزانہ ہے جسے فاصلوں نے بھی دھندلا نہیں کیا۔

سکول کے بعد دو ہزار تین میں سول کی ڈپلوما تعلیم مکمل ہوئی۔ زمین اب صرف چلنے کی جگہ نہ رہی، ناپنے کی کتاب بن گئی۔ پھر دو ہزار چار سے دو ہزار سات تک پشاور یونیورسٹی میں گرافک ڈیزائننگ کے آنرز کا سفر طے ہوا۔ اب لکیر کے ساتھ رنگ آ گئے، پیمائش کے ساتھ تخیل آ گیا۔ علم کی یہ سیڑھیاں انہیں صرف اسناد نہیں دے رہی تھیں؛ نظر کی گہرائی، ترتیب کا شعور اور خدمت کی سمجھ دے رہی تھیں۔ سول نے انہیں زمین کی سچائی سکھائی، ڈیزائن نے خیال کو شکل دی، اور ابتدائی تربیت نے دل کو جڑوں سے جوڑے رکھا۔

پیشہ ورانہ زندگی کا ایک نمایاں باب دو ہزار سات سے دو ہزار گیارہ تک نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ایل ٹی پی دیر میں سینئر سرویئر کی حیثیت سے لکھا گیا۔ وہ برس میدان کے برس تھے—جہاں فائلوں سے زیادہ پہاڑ بولتے ہیں، اور رپورٹ سے پہلے زمین سچ کہتی ہے۔ ناپ، جوول، راستے کی بنیاد، اور وہ خاموش محنت جو سڑک بن جاتی ہے مگر نام کم لیتی ہے۔ پھر یہی سفر آگے بڑھ کر اسلام آباد میں ایچ میک پرائیویٹ لمیٹڈ کے سفیر کی صورت اختیار کر گیا۔ اب کام صرف پیمائش نہ رہا، اعتبار کی نمائندگی بن گیا۔ تعمیر اور ادارے کی آواز ان کے لیے عہدے کا تکبر نہیں، ذمہ داری کا وزن ہے۔

تاہم خالد عزیز کی کہانی صرف دفاتر کی کہانی نہیں۔ وہ کرکٹ کے بہترین کھلاڑی رہے—اس کھیل نے انہیں ٹیم کی روح، صبر کی قیمت اور ہار جیت کو وقار سے قبول کرنے کا درس دیا۔ ٹیبل ٹینس کے میدان میں دو بار فاتح ٹھہرے۔ چھوٹی میز پر بڑی یکسوئی، تیز لمحے میں بڑا فیصلہ۔ ساتھ ہی مباحثے کا میدان بھی ان کا رہا۔ الفاظ کو ترتیب دینا، دلیل کو نرمی سے کھڑا کرنا، اور سننے والے تک پہنچنا—یہ صلاحیت سکول کی نشستوں سے اٹھی اور عمر بھر ان کے ساتھ چلی۔ آج بھی وہ سماجی کارکن ہیں؛ کمیونٹی کے درمیان موجود رہتے ہیں، اور اجتماع کو تنہائی پر ترجیح دیتے ہیں۔

سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ عروج نے ان کی یادوں کو مغرور نہیں کیا۔ وہ اب بھی اس سکول کو سلام کرتے ہیں جس نے انہیں حرف سکھائے، استادوں کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے صرف سبق نہیں، کردار بھی پڑھایا، اور ان ساتھیوں کو نہیں بھولتے جن کے ساتھ دیر کی مٹی پر دوستی کے نقش ثبت ہوئے تھے۔ ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر نے جو بنیاد رکھی تھی، اسی بنیاد پر انہوں نے علم، پیمائش، ڈیزائن، کھیل، تقریر اور خدمت کی عمارت کھڑی کی۔ ان کا سفر بتاتا ہے کہ اگر ہمت سچی ہو اور جڑیں صاف ہوں تو ایک عام گھر کا بیٹا بھی زمین کی لکیر، رنگ کی زبان، کھیل کے اعزاز اور دارالحکومت کی نمائندگی تک ایک ساتھ پہنچ سکتا ہے۔

ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپنے اس قابلِ فخر سابق طالب علم پر ناز کرتا ہے۔ خالد عزیز نے ثابت کر دیا کہ سکول کی بنچ صرف امتحان کے لیے نہیں ہوتی، وہ زندگی کی پہلی اینٹ ہوتی ہے۔ آج جب وہ کھیل کے میدان کے اعزازات اپنے نام رکھتے ہیں، سماجی خدمت میں حصہ لیتے ہیں، اور ادارہ جاتی نمائندگی نبھاتے ہیں، تو ان کی کہانی آنے والی نسلوں کے لیے صرف تعارف نہیں، ایک روشن مشعل ہے۔

اللہ تعالیٰ خالد عزیز کو صحت، عزت، مزید ترقی اور قبولِ عام سے نوازے، ان کے کام میں برکت دے، ان کی دوستیوں کو قائم رکھے، اور ان کے علم و عمل کو دیر، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے نام کو مزید روشن کرتا رہے۔
آمین

تحریر: شاہ خالد خان
سابق طالب علم — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر

District Council Public High School Alumni Association Students Session 2000.Abdul Haq, Altaf Saalim, Aftaba Alam etc.To...
08/31/2026

District Council Public High School Alumni Association Students Session 2000.
Abdul Haq, Altaf Saalim, Aftaba Alam etc.
Tour To Jaz Bandha 2004...
Courtesy Tariq Babar

District council public school alumni association.Quote of the dayCourtesy Tariq Babar
08/31/2026

District council public school alumni association.
Quote of the day
Courtesy Tariq Babar

ڈاکٹر ہدایت الرحمن (عرف ترہ )پراؤڈ ایلومنس – ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر(*تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی*)  دیر اپر ...
08/30/2026

ڈاکٹر ہدایت الرحمن (عرف ترہ )
پراؤڈ ایلومنس – ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر

(*تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی*)

دیر اپر کی بلند و بالا پہاڑیوں میں جہاں بادلوں کے سائے پہاڑوں کی چوٹیوں کو چھوتے ہیں، جہاں سبز وادیوں کی خاموشی فطرت کا راز کھولتی ہے اور ندیوں کی موسیقی روح کو تازگی بخشتی ہے، وہاں ریحان کوٹ پائیں سے ایک ایسا نام ابھرا جو آج صحت کے مقدس پیشے میں خدمت کا چراغ جلا رہا ہے۔ ہدایت الرحمن—وہ بیٹا جو ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر کی دیواریں دیکھ کر بڑا ہوا، استادوں کی دعاؤں اور محبت بھری نگاہوں سے سیراب ہوا، اور آج خود دیر کی مٹی کے بیٹوں اور بیٹیوں کی صحت کا نگہبان بن چکا ہے۔ ان کا سفر اس حقیقت کی زندہ اور منفرد دلیل ہے کہ اگر نیت صاف ہو، محنت سچی ہو اور جڑیں اپنی مٹی سے گہری ہوں تو گاؤں کی خاک بھی شفا کے منادر تک پہنچا دیتی ہے، اور ایک عام بیٹا قوم کی خدمت کا امین بن جاتا ہے۔

جب انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر سے میٹرک پاس کیا تو شاید کسی نے نہیں سوچا تھا کہ وہی سکول کی پرانی بنچیں، وہی استادوں کی نصیحتیں اور وہی ساتھیوں کی دوستی ایک دن انہیں طب کے میدان میں آگے بڑھنے کا روشن راستہ دکھا دیں گی۔ دو ہزار پانچ میں سی ایم ٹی پی آئی ایم ایس اسلام آباد سے ایف ایس سی مکمل کرنے کے بعد انہوں نے علم کی پیاس کو مزید بجھانے کے لیے خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کے انسٹی ٹیوٹ آف پیرا میڈیکل سائنسز (آئی پی ایم ایس) سے ڈینٹل ٹیکنالوجی میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شیرنگال دیر اپر سے فارمیسی بی کی تعلیم مکمل کر کے فارمیسی کونسل پشاور سے رجسٹریشن حاصل کی۔ علم کی ان منزلوں نے ان کے اندر درد کی تسکین، صحت کی حفاظت، انسانیت کی خدمت اور کمیونٹی کی بہبود کا جذبہ بیدار کر دیا۔ جنگلات اور پہاڑوں کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان نے صحت کے شعبے کو اپنا مشن بنا لیا۔

پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز حکومت کے تحت بی ایچ یو دوبندو درہ دیر اپر کے انچارج کے طور پر ہوا۔ وہاں دور دراز اور دشوار گزار علاقوں کے لوگوں کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرتے ہوئے انہوں نے ثابت کیا کہ خدمت صرف بڑے ہسپتالوں تک محدود نہیں بلکہ گاؤں گاؤں اور درہ درہ تک پہنچنی چاہیے۔ آج وہ ڈی ایچ کیو ہسپتال دیر اپر میں ڈینٹل یونٹ کے انچارج کے طور پر ڈینٹل ٹیکنالوجسٹ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ درد کو دور کرنا، مسکراہٹیں لوٹانا، دانتوں کی صحت کا خیال رکھنا اور مریضوں کو سکون دینا—یہ ان کی روزمرہ کی عبادت بن چکا ہے۔ گاؤں کی مٹی سے اٹھ کر ضلعی ہسپتال کے ایوانوں تک پہنچنے والا یہ سفر واقعی منفرد، قابلِ رشک اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

کامیابی کی ان بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود ہدایت الرحمن آج بھی اپنی جڑوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ سکول کے دنوں، استادوں کی تربیت، ساتھیوں کی دوستی، گاؤں کی سادگی، ریحان کوٹ پائیں کی ہوا اور دیر کی مٹی کو فخر سے یاد کرتے ہیں۔ خدمتِ خلق، دیانت داری، نظم و ضبط، مسلسل ترقی کا جذبہ اور اپنی مٹی سے وابستگی ان کی شخصیت کے سب سے نمایاں پہلو ہیں۔ ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر نے جو بنیاد رکھی تھی، اسی پر انہوں نے صحت کی عمارت کھڑی کی۔ ان کا سفر یہ بتاتا ہے کہ اگر تربیت خالص ہو، ارادہ سچا ہو اور علم کو خدمت کا ذریعہ بنایا جائے تو گاؤں کا ایک عام بیٹا بھی قوم کی صحت کا امین بن سکتا ہے اور دیر جیسے پہاڑی علاقے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔

ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپر اپنے اس قابلِ فخر سابق طالب علم پر ناز کرتا ہے۔ ہدایت الرحمن نے ثابت کر دیا کہ ایک سادہ گھرانے سے نکلا ہوا بیٹا بھی علم کی روشنی سے لے کر صحت کی خدمت تک قوم کے لیے روشن مثال بن سکتا ہے۔ ان کا سفر سکول کی بنچوں سے لے کر ڈینٹل ٹیکنالوجی اور فارمیسی کی تعلیم، بنیادی صحت کے مراکز اور پھر ضلعی ہسپتال کے ایوانوں تک آنے والی نسلوں کے لیے ایک منفرد مشعل ہے۔ جو لوگ ابھی تک ان کی خوبیوں، ان کے جذبے اور ان کی خدمت سے واقف نہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دیر کی وادیوں سے اٹھا یہ بیٹا آج ہزاروں مسکراہٹوں کا محافظ بن چکا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہدایت الرحمن صاحب کو مزید ترقی، صحت، عزت، کامیابیوں اور خدمت کے مواقع سے نوازے، اور ان کے علم و خدمت کو دیر، خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے نام کو مزید روشن کرتا رہے۔
آمین

تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی
سابق طالب علم — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر

‏* الہیٰ مجھے ایسا بنادے کہ تجھے پسند آجاؤں۔۔۔۔۔۔مجھے ایسا بنا دے  کہ ۔۔۔میری صحبت کسی کے لیے تکلیف نہ ہو ۔۔۔۔میرا وجود ...
08/30/2026

‏* الہیٰ
مجھے ایسا بنادے کہ تجھے پسند آجاؤں۔۔۔۔۔۔
مجھے ایسا بنا دے کہ ۔۔۔
میری صحبت کسی کے لیے تکلیف نہ ہو ۔۔۔۔
میرا وجود کسی پر بوجھ نہ ہو ۔۔۔۔
میری باتوں میں کسی کے لیے اذیت نہ ہو ۔۔۔۔
اور مجھے ایسا بنا دیجیے کہ میں ایمان ، آسانی اور سہولت کے ساتھ دنیا سے گذر جاؤں ۔۔۔۔۔
اور اپنے پیچھے نیکیوں اور بھلائیوں کا بہترین سرمایہ چھوڑ جاؤں آمین !!!
" اللهم انى اسٔلك عيشة نقية و ميتة سوية"
اے اللہ میں تجھ سے پاکیزہ زندگی اور خوبصورت موت کا سوال کرتا ہوں۔۔

*اللهم إني أسألك حسن الخاتمه*
آمین یا رب العالمین

مشتاق احمد خانولدِ شاہ ولی خان صاحب  پراؤڈ ایلومنس — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر(تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی)بعض نام ...
08/30/2026

مشتاق احمد خان
ولدِ شاہ ولی خان صاحب
پراؤڈ ایلومنس — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر

(تحریر: شاہ خالد خان ہمدانی)

بعض نام زمین سے اٹھتے ہیں اور عمارت بن جاتے ہیں۔ بعض چہرے سکول کی دھول میں چمکتے ہیں اور کل قوم کی پہچان بن جاتے ہیں۔ مشتاق احمد خان انہی ناموں میں سے ہیں جن کی کہانی دیر کی مٹی سے شروع ہوئی، بنچوں کی کھڑکھڑاہٹ سے پروان چڑھی، اور آج تعمیر کے افق پر ایک روشن دستخط بن کر کھڑی ہے۔ ان کا سفر صرف کامیابی کا سفر نہیں، جڑوں سے وفا کا سفر بھی ہے—وہ وفا جو سکول کی گھنٹی، استاد کی نظر، ساتھیوں کی ہنسی اور میدانِ کھیل کی دھول کو کبھی بھولنے نہیں دیتی۔

سن انیس سو چوراسی میں جب یہ بیٹا شاہ ولی خان صاحب کے گھر آیا تو شاید کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ بچہ ایک دن نہ صرف قانون اور نظم کی زبان سیکھے گا بلکہ اینٹ اینٹ جوڑ کر خیبر پختونخوا کی تعمیر میں اپنا نام کندہ کر دے گا۔ انیس سو ننانوے میں جب انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر سے میٹرک پاس کیا، تو وہاں صرف کتابیں نہیں پڑھیں تھیں—وہاں دوستی پڑھی تھی، حوصلہ پڑھا تھا، اور وہ سادہ سی خوشی پڑھی تھی جو صرف سکول کے دنوں میں ملتی ہے۔ صبح کی اسمبلی، کلاس کی خاموش محنت، بریک کے لمحات، کرکٹ کی دوڑ اور بیڈمنٹن کی چمکتی شٹل—یہ سب ان کی یادوں کا وہ خزانہ ہے جسے دولت نے بھی دھندلا نہیں کیا۔

سکول کے بعد دو ہزار دو میں ڈگری کالج سے ایف ایس سی مکمل کی۔ دو ہزار چار میں اسلامک سینٹر سے بی ایس آنرز کا سفر طے کیا۔ پھر پشاور یونیورسٹی سے دو ہزار چھ میں ایم پی اے کیا اور دو ہزار آٹھ میں اسلامی لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ علم کی یہ سیڑھیاں انہیں صرف ڈگریاں نہیں دے رہی تھیں، سوچ کی وسعت، معاشرے کی سمجھ اور خدمت کا شعور دے رہی تھیں۔ قانون نے انہیں انصاف کی زبان سکھائی، انتظامیہ نے نظم کی اہمیت بتائی، اور ابتدائی تربیت نے دل کو انسانوں سے جوڑے رکھا۔

پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز این سی ایچ ڈی میں سوشل آرگنائزر کے طور پر ہوا۔ دو برس وہ میدان میں رہے جہاں فائلیں نہیں، چہرے ہوتے ہیں؛ جہاں رپورٹ نہیں، زندگی کے مسائل ہوتے ہیں۔ پھر یو این ڈی پی میں پروگرام مینیجر کے طور پر دو سال خدمات انجام دیں۔ یہ وہ دور تھا جب انہوں نے ترقی کو دفتر کی دیواروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ کمیونٹی تک پہنچایا۔ آج وہی جذبہ تعمیر کے روپ میں نظر آتا ہے۔ نیو خان بلڈرز کے نام سے قائم ہونے والا ادارہ خیبر پختونخوا کی صفِ اول کی کمپنیوں میں شمار ہوتا ہے، صوبے کی بہترین کمپنیوں میں جگہ رکھتا ہے، اور احمد خان بلڈرز کے نام سے ایک اور ادارہ بھی انہی کا حصہ ہے۔ تعمیر ان کے لیے صرف سیمنٹ اور لوہے کا کام نہیں، اعتبار کا کام ہے—اور اسی اعتبار پر انہیں تعمیراتی میدان میں متعدد اعزازات ملے۔

تاہم مشتاق احمد خان کی کہانی صرف کمپنیوں کی کہانی نہیں۔ وہ کرکٹ کے بہترین کھلاڑی رہے، بیڈمنٹن کے میدان میں ضلعی سطح پر دو بار فاتح ٹھہرے۔—محنت، برداشت، ٹیم کی روح اور ہار جیت کو وقار سے قبول کرنے کی عادت۔ آج بھی سفر کرنا اور دوستوں کی محفل ان کے محبوب مشاغل ہیں۔ شاید اسی لیے کامیابی نے انہیں اکیلے پن کی دیوار میں نہیں ڈھکیلا؛ وہ آج بھی اجتماع کو قیمت سمجھتے ہیں، اور کمیونٹی میں سماجی کارکن کی حیثیت سے لوگوں کے درمیان موجود رہتے ہیں۔

سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ عروج نے ان کی یادوں کو مغرور نہیں کیا۔ وہ اب بھی اس سکول کو سلام کرتے ہیں جس نے انہیں حرف سکھائے، استادوں کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے صرف سبق نہیں، کردار بھی پڑھایا، اور ان ساتھیوں کو نہیں بھولتے جن کے ساتھ دیر کی مٹی پر دوستی کے نقش ثبت ہوئے تھے۔ ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر نے جو بنیاد رکھی تھی، اسی بنیاد پر انہوں نے علم، خدمت، کھیل اور تعمیر کی عمارت کھڑی کی۔ ان کا سفر بتاتا ہے کہ اگر ہمت سچی ہو اور جڑیں صاف ہوں تو ایک عام گھر کا بیٹا بھی قانون کی سند، ترقی کے منصوبوں، کھیل کے میدان اور تعمیر کی بلندیوں تک ایک ساتھ پہنچ سکتا ہے۔

ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر اپنے اس قابلِ فخر سابق طالب علم پر ناز کرتا ہے۔ مشتاق احمد خان نے ثابت کر دیا کہ سکول کی بنچ صرف امتحان کے لیے نہیں ہوتی، وہ زندگی کی پہلی اینٹ ہوتی ہے۔ آج جب وہ صوبے کی معروف تعمیراتی کمپنیوں کے مالک ہیں، کھیلوں کے اعزازات اپنے نام رکھتے ہیں، اور معاشرتی خدمت میں بھی حصہ لیتے ہیں، تو ان کی کہانی آنے والی نسلوں کے لیے صرف تعارف نہیں، ایک روشن مشعل ہے۔

اللہ تعالیٰ مشتاق احمد خان کو صحت، عزت، مزید ترقی اور قبولِ عام سے نوازے، ان کے کاروبار میں برکت دے، ان کی دوستیوں کو قائم رکھے، اور ان کے علم و عمل کو دیر، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے نام کو مزید روشن کرتا رہے۔
آمین

تحریر: شاہ خالد خان
سابق طالب علم — ڈسٹرکٹ کونسل پبلک ہائی سکول دیر
Mushtaqا

08/29/2026

غصے کی حالت میں انساں کو کیا کرنا چاہیے؟
غصہ کیسے کنٹرول کیا جائے؟شاید آپکی تجویر سے کسی کی بھلائی ہوجائے

Address

6716 De Moss Drive
Houston, TX
77074

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when District Council Public High School Dir Alumni Association posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Featured

Share