Ummati •ღ• امتی

Ummati •ღ• امتی ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِتْ أَقْدَامَنَا وانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَِ SADQA-E-JARIA!

This page has been made for the promulgation purpose to strive for the permanent HEREAFTER!

12/31/2023
12/31/2023
11/28/2023

*دِین و تعلیم*
*ڈاکٹر علامہ محمد اقبال*

مجھ کو معلوم ہیں پِیرانِ حرم کے انداز
ہو نہ اخلاص تو دعوٰئے نظر لاف و گزاف

اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مُروّت کے خلاف

اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف

فِطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملّت کے گُناہوں کو معاف

11/21/2023

*اِبلیس کی مجلسِ شُوریٰ*
۱۹۳۶ء
(علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ)

*اِبلیس*
یہ عناصِر کا پُرانا کھیل، یہ دُنیائے دُوں
ساکنانِ عرشِ اعظم کی تمنّاؤں کا خوں!

اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز
جس نے اس کا نام رکھّا تھا جہانِ کاف و نوں

میں نے دِکھلایا فرنگی کو مُلوکیّت کا خواب
مَیں نے توڑا مسجد و دَیر و کلیِسا کا فسوں

مَیں نے ناداروں کو سِکھلایا سبق تقدیر کا
مَیں نے مُنعِم کو دیا سرمایہ داری کا جُنوں

کون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو اِبلیس کا سوزِ دروں

جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اُس نخلِ کُہن کو سرنِگُوں!

*پہلا مُشیر*
اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ اِبلیسی نظام
پُختہ تر اس سے ہوئے خُوئے غلامی میں عوام

ہے اَزل سے ان غریبوں کے مقدّر میں سجود
ان کی فطرت کا تقاضا ہے نمازِ بے قیام

آرزو اوّل تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں
ہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام

یہ ہماری سعیِ پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و مُلّا مُلوکیّت کے بندے ہیں تمام

طبعِ مشرق کے لیے موزُوں یہی افیون تھی
ورنہ ’قوّالی‘ سے کچھ کم تر نہیں ’علمِ کلام‘!

ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کُند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام

کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمانِ جدید؟
’ہے جہاد اس دَور میں مردِ مسلماں پر حرام!

*دُوسرا مُشیر*
خیر ہے سُلطانیِ جمہور کا غوغا کہ شر
تُو جہاں کے تازہ فِتنوں سے نہیں ہے با خبر!

*پہلا مُشیر*
ہُوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے
جو ملوکیّت کا اک پردہ ہو، کیا اُس سے خطر!

ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہُوری لباس
جب ذرا آدم ہُوا ہے خود شناس و خود نگر

کاروبارِ شہریاری کی حقیقت اور ہے
یہ وجودِ مِیر و سُلطاں پر نہیں ہے منحصَر

مجلسِ ملّت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سُلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر

تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہُوری نظام
چہرہ روشن، اندرُوں چنگیز سے تاریک تر!

*تیسرا مُشیر*
روحِ سُلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب
ہے مگر کیا اُس یہُودی کی شرارت کا جواب؟

وہ کلیمِ بے تجلّی، وہ مسیحِ بے صلیب
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب

کیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہِ پردہ سوز
مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روزِ حساب!

اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب!

*چوتھا مُشیر*
توڑ اس کا رومۃُ الکُبریٰ کے ایوانوں میں دیکھ
آلِ سیزر کو دِکھایا ہم نے پھر سیزر کا خواب

کون بحرِ روم کی موجوں سے ہے لِپٹا ہُوا
’گاہ بالد چوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب‘

*تیسرا مُشیر*
مَیں تو اُس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں
جس نے افرنگی سیاست کو کِیا یوں بے حجاب

*پانچواں مُشیر*
(اِبلیس کو مخاطَب کرکے)
اے ترے سوزِ نفس سے کارِ عالم اُستوار!
تُو نے جب چاہا، کِیا ہر پردگی کو آشکار

آبِ و گِل تیری حرارت سے جہانِ سوز و ساز
ابلہِ جنّت تری تعلیم سے دانائے کار

تجھ سے بڑھ کر فطرتِ آدم کا وہ محرم نہیں
سادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار

کام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف
تیری غیرت سے ابَد تک سرنِگون و شرمسار

گرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحِر تمام
اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار

وہ یہودی فِتنہ گر، وہ روحِ مزدک کا بُروز
ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جُنوں سے تار تار

زاغِ دشتی ہو رہا ہے ہمسرِ شاہین و چرغ
کتنی سُرعت سے بدلتا ہے مزاجِ روزگار

چھا گئی آشُفتہ ہو کر وسعتِ افلاک پر
جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مُشتِ غبار

فِتنۂ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج
کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جُوئبار

میرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے
جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار

*اِبلیس*
(اپنے مُشیروں سے)
ہے مرے دستِ تصرّف میں جہانِ رنگ و بو
کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسمانِ تُو بتُو

دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق
مَیں نے جب گرما دیا اقوامِ یورپ کا لہُو

کیا امامانِ سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہُو

کارگاہِ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے
توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو!

دستِ فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک
مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو

کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کُوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشُفتہ مُو

ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اُس اُمّت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو

خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشکِ سحر گاہی سے جو ظالم وضُو

جانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایّام ہے
مزدکِیّت فتنہ فردا نہیں، اسلام ہے!

جانتا ہُوں میں یہ اُمّت حاملِ قُرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دِیں

جانتا ہُوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے یدِ بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں

عصرِ حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں

الحذَر! آئینِ پیغمبر سے سَو بار الحذَر
حافظِ نامُوسِ زن، مرد آزما، مرد آفریں

موت کا پیغام ہر نوعِ غلامی کے لیے
نے کوئی فُغفور و خاقاں، نے فقیرِ رہ نشیں

کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صاف
مُنعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں

اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب
پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں!

چشمِ عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئِیں تو خوب
یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیں

ہے یہی بہتر الٰہیات میں اُلجھا رہے
یہ کتابُ اللہ کی تاویلات میں اُلجھا رہے

توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسمِ شش جہات
ہو نہ روشن اُس خدا اندیش کی تاریک رات

ابن مریم مر گیا یا زندۂ جاوید ہے
ہیں صفاتِ ذاتِ حق، حق سے جُدا یا عینِ ذات؟

آنے والے سے مسیحِ ناصری مقصود ہے
یا مجدّد، جس میں ہوں فرزندِ مریم کے صفات؟

ہیں کلامُ اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم
اُمّتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟

کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دَور میں
یہ الٰہیات کے ترشے ہُوئے لات و منات؟

تم اسے بیگانہ رکھّو عالمِ کردار سے
تا بساطِ زندگی میں اس کے سب مُہرے ہوں مات

خیر اسی میں ہے، قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اَوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات

ہے وہی شعر و تصوّف اس کے حق میں خوب تر
جو چھُپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات

ہر نفَس ڈرتا ہُوں اس اُمّت کی بیداری سے مَیں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات

*مست رکھّو ذکر و فکرِ صُبحگاہی میں اسے*
*پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے*

💔

01/02/2023

السلام علیکم!
کور کمیٹی اور دھرنے میں موجود شرکاء اساتذہ کرام کی جرات کو سلام۔
👈 مسلمان ہونے کے ناطے کچھ تجاویز؛ کیونکہ کسی نئے نبی نے اب آنا نہیں اور شیطان نے جانا نہیں!
بحوالہ:
✅ *قرآن مجید*
*تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالٰی پر ایمان رکھتے ہو۔*
سورۃ آل عمران:110
☑️ *صحیح حدیث*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
*نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو ، قبل اس کے کہ تم دعائیں مانگو اور تمہاری دعائیں قبول نہ کی جائیں۔*
ابن ماجہ 4004
۔
👈 انسان دو چیزوں کا مجموعہ ہے، جسم اور روح۔ انسان کی اصل روح ہے کیونکہ جب روح پرواز کرتی ہے تو انسان مردہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سے دو طرح سے معاملات تہہ ہو رہے ہیں، مادی وسائل اور روحانی وسائل۔ ان کی اصل بھی روحانی وسائل ہی ہیں کیونکہ اگر کوئی افسر ہماری بات مان لیتا ہے تو بھی اس کے پیچھے اللّٰہ تعالٰی کی مرضی شامل ہوتی ہے۔ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: *انسان رزق کی تلاش میں رازق کو بھول جاتا ہے۔*
ہمیں اللّٰہ تعالٰی سے اپنا تعلق مضبوط کرنا ہوگا کیونکہ رزق تو آسمان میں ہے۔
بحوالہ
✅ *قرآن مجید*
*وہی اللّٰہ ہے جو تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، اور تمھارے لیے آسمان سے روزی بھی اُتارتا ہے، مگر (ان نشانیوں اور دلیلوں سے )سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ سے لولگا کر اُس کی طرف رُجوع کرنے والا ہو۔*
سورۃ مومن: 13
☑️ *صحیح حدیث*
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: *اللہ تعالیٰ نے کہا: اے آدم کے بیٹے! تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرے سینے کو غِنٰی (سکون) سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ختم کر دوں گا، اور اگر تو نے ایسے نہ کیا تو تیرے سینے کو مصروفیت سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو پورا نہیں کروں گا۔*
مسند احمد: 8946
👈 صدقہ دیں۔
بحوالہ:
✅ *قرآن مجید*
*میرا رب اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے روزی کشادہ کرتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ کر دیتا ہے تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا ( پورا پورا ) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔*
سورۃ سبا: 39
۔
☑️ *صحیح احادیث*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : *اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم ! تو خرچ کر تو میں تجھ کو دیئے جاؤں گا۔*
صحیح البخاری:5352
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: *جب بھی کوئی انسان (اللّٰہ کی رضا کے لیے) صدقہ کرتاہے تو وہ ستر شیطانوں کے جبڑے توڑتا ہے۔*
زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب #3574، (مسند احمد: ۲۳۳۵۰)
۔
👈 اپنے والدین، بہن بھائی، شریک حیات، بچے، رشتہ داروں اور ہمسایوں سے تعلقات اچھے کریں۔
بحوالہ:
☑️ *صحیح حدیث*
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: *جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی عمر بڑھا دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے تو وہ اپنے والدین سے نیکی کرے اور صلہ رحمی کرے۔*
نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل #8989، (مسند احمد: ۱۳۴۳۴)
۔
👈 تمام بھائی اور بہنیں اللّٰہ تعالٰی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں، *پیریڈز نا پڑھانا، نقل کروانا، چیکنگ کے دوران بدنیتی، بے جا کسی کو فیور دینا، وقت پر نا پہنچنا، دوسروں کی ٹوہ میں رہنا، افسروں کی بے جا چاپلوسی، غیبت، چغلی، جھوٹ وغیرہ* یہ تمام کام حرام کمائی میں آتے ہیں جس کی مرنے سے پہلے معافی مانگنی اور اپنے آپ کو درست کرنا بہت ضروری ہے کہ ان شاءاللہ! آئندہ یہ کام نہیں کریں گے۔
بحوالہ:
✅ *قرآن*
(1) *"اپنے پالنے والے مالک سے معافی مانگ لو۔ حقیقتا وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب خوب بارشیں برسائے گا اور مال اور اولاد سے تمھاری مدد بھی کرے گا، اور تمھارے لیے باغ پیدا کرے گا، اور تمھارے لیے نہریں بہا دے گا۔*
سورۃ نوح، (10-12)
☑️ *صحیح حدیث*
(2) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: *بے شک انسان گناہ کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے، اور کوئی چیز تقدیر کو ردّ نہیں کر سکتی، ما سوائے دعا کے اور صرف نیکی ہی ہے، جو عمر میں اضافہ کرتی ہے۔*
دعا اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب #5583، (مسند أحمد: ۲۲۸۰۲)
◀️ نوٹ: *دعاؤں کا اہتمام کریں جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث مبارکہ میں منقول ہے۔*
۔
👈 حج اور عمرہ کی نیت کر لیں۔
بحوالہ
☑️ *صحیح حدیث*
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: *حج اور عمرہ کی عبادات ایک دوسرے کے بعد ادا کرتے رہو، کیونکہ یہ دونوں فقر و فاقہ اور گناہوں کو یوں ختم کرتے ہیں، جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کی میل کچیل کوختم کر دیتی ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت سے کم تو ہے ہی نہیں۔*
مسند احمد 4057
۔
👈تمام اساتذہ کرام پنجگانہ نماز کا اہتمام کریں کیونکہ عبادات میں سے پہلا سوال نماز کا ہوگا۔ آخر ہم نے مرنا ہے اور 50,000 سال کے برابر دن میں حساب دینا ہے۔
بحوالہ:
✅ *قرآن مجید*
*اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔*
سورۃ طہ: 124
*اپنے گھرانے کے لوگوں پر نماز کی تاکید رکھو اور خود بھی اس پر جمے رہ، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں آخر میں بول بالا پرہیزگاری ہی کا ہے۔*
سورۃ طہ 132

☑️ *صحیح احادیث*
*جس کی عصر کی نماز چھوٹ جائے گویا اس کا گھر بار، مال، شریک حیات، اولاد سب برباد ہو گئے۔*
صحیح البخاری 552، 3602
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ *منافقوں پر فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ اور کوئی نماز بھاری نہیں اور اگر انہیں معلوم ہوتا کہ ان کا ثواب کتنا زیادہ ہے ( اور چل نہ سکتے ) تو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آتے اور میرا تو ارادہ ہو گیا تھا کہ مؤذن سے کہوں کہ وہ تکبیر کہے، پھر میں کسی کو نماز پڑھانے کے لیے کہوں اور خود آگ کی چنگاریاں لے کر ان سب کے گھروں کو جلا دوں جو ابھی تک نماز کے لیے نہیں نکلے۔*
صحیح البخاری: 657
۔
👈 نماز تہجد کا اہتمام کریں۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ تہجد کے وقت کی جانے والی دعا اس تیر کی طرح ہےجو کبھی خطا نہیں جاتا۔
اگر تم کوئی چیز چاہتے ہو اور تہجد نہیں پڑھتے تو تمہاری طلب میں کمی ہے۔
بحوالہ:
☑️ *صحیح حدیث*
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔*
صحیح البخاری 1145
👈 جب بھی میٹینگ یا اسکولز میں جائیں تو بدنظری سے اپنے آپ کو بچائیں کیونکہ جو مسلمان یہ چاہتا ہو کہ وہ ایمان کا مزہ چکھے تو اسے اپنے آپ کو غیر محرم کی بدنظری سے بچانا پڑے گا۔ یہ اللّٰہ کا قانون ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔
بحوالہ:
✅ *قرآن مجید*
*مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے ، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالٰی سب سے خبردار ہے۔ مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے ، اے مسلمانوں! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔*
سورۃ النور 30-31
☑️ *صحیح حدیث*
*پس آنکھ کا زنا (غیر محرم کو شہوت سے) دیکھنا ہے، زبان کا زنا غیر محرم سے (شہوت بھری) گفتگو کرنا ہے، دل کا زنا خواہش اور شہوت ہے۔*
کتاب تقدیر کے بیان میں #6612
۔
👈 اپنی زبان کو گالیوں اور فحش کلام سے پاک رکھیں
بحوالہ:
✅ *قرآن مجید*
*یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کر لی۔ جو اپنی نماز میں دل سے جھکنے والے ہیں۔ اور جو گندی، بے ہودہ، بے کار باتوں سے منہ پھیر لینے والے ہیں۔
سورۃ المؤمنون: 01-03
☑️ *صحیح حدیث*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ *چار عادتیں جس کسی میں ہوں تو وہ خالص منافق ہے اور جس کسی میں ان چاروں میں سے ایک عادت ہو تو وہ ( بھی ) نفاق ہی ہے، جب تک اسے نہ چھوڑ دے۔ ( وہ یہ ہیں ) جب اسے امین بنایا جائے تو ( امانت میں ) خیانت کرے اور بات کرتے وقت جھوٹ بولے اور جب ( کسی سے ) عہد کرے تو اسے پورا نہ کرے اور جب ( کسی سے ) لڑے تو گالیوں پر اتر آئے۔*
صحیح البخاری:34
👈اپنے شب و روز پر غور کریں۔
☑️ *صحیح حدیث*
نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
*امت کے کچھ لوگ کھانے پینے اور لہو و لعب میں رات گزاریں گے اور صبح کے وقت ان کی شکلیں خنزیروں کی شکلوں میں بدل چکی ہوں گی، ان میں پورے پورے قبیلے زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے، اور وہاں کی بستیاں تباہ کر دی جائیں گی، صبح کے وقت لوگ آپس میں یوں باتیں کر رہے ہوں گے کہ گزشتہ رات دار بنی فلاں کا فلاں قبیلہ زمین میں دھنسا دیا گیا، اور ان پر پتھروں والی سخت آندھی بھیجی گئی، جیسا کہ قوم لوط پر بھیجی گئی تھی ، اور ان پر سخت تیز آندھی بھیجی گئی ہے ، اس نے ان کو تباہ کر دیا ہے ، جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو شراب نوشی اور سود خوری ، ریشم پہننے اور گانے والی لونڈیاں اختیار کرنے اور قطع رحمی کی وجہ سے تباہ کر دیا گیا تھا۔*
صحیح مسلم،
الذھبی فتنوں اور آزمائشوں کا بیان #8572

وما علینا الاالبلاغ المبین
ان شاءاللہ ہم مستقل ہو جائیں گے، مگر مستقل ہونے کے بعد بھی ہم مر سکتے ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مرنا ہے۔ اس عارضی دنیا کی ہر شے عارضی ہے۔ اس آخرت کی محنت کرو جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔
اللّٰہ تعالٰی ہم سب مسلمانوں کو قرآن مجید اور سنت کے مطابق ساری زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم تمام کنٹریکٹ ملازمین کو جلد از جلد ڈیٹ آف جوائننگ سے ریگولر فرمائے ۔
آمین!


Pic Description:ہر کمانے والے کے لیے لمحہ فکریہ! چاہے وہ کاروباری ہوں، سودی معاملات کرنے والے یا ملازم جو اپنی زمہ داری ...
06/03/2022

Pic Description:
ہر کمانے والے کے لیے لمحہ فکریہ!
چاہے وہ کاروباری ہوں، سودی معاملات کرنے والے یا ملازم جو اپنی زمہ داری پوری نہ کریں (سیاست دان، بیوروکریٹ، سربراہ ادارہ، ٹیچر، ڈاکٹر، انجینئر، پولیس، جج، وکیل، واپڈا، گیس ملازمین، کلرک، نائب قاصد وغیرہ وغیرہ)

"گِدھ (Vulture) ایک مردار گوشت کھانے والا پرندہ ہے۔ کھاتے ہوئے پیٹ تو بھر جاتا ہے لیکن بھوک ختم نہیں ہوتی تو وہ بھاگنا شروع کر دیتا ہے اور بھاگتے بھاگتے کھایا ہوا الٹ دیتا ہے۔ اُلٹی کے بعد پھر کھانے لگ جاتا ہے، پھر بھی پیٹ تو بھر جاتا ہے لیکن بھوک ختم نہیں ہوتی۔ اسی طرح وہ بار بار یہی عمل دہراتا ہے لیکن بھوک نہیں ختم ہوتی کیونکہ *وہ حرام اور مُردار کھاتا ہے۔"*

یہ قدرت کے وضع کردہ آفاقی اصول ہیں جو حرام کھانے والے انسانوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ وہ کچھ لوگوں کو اختیار دے کر بھرپور موقع دیتا ہے کہ جتنا کھا سکتے ہو کھا لو, مگر سیری (پیٹ بھرنے) کی لذت سے ہمیشہ محروم رہو گے. مالِ حرام کھانا تمہارے لیے ایک مشقت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ حرام کھانے سے پیٹ تو بھر جائے گا لیکن تمہاری بھوک کبھی ختم نہیں ہوگی۔"

ہم خود یا ہمارے اردگرد بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنی زمہ داریوں کو پورا نہیں کرتے، جو حرام کماتے بھی ہیں اور حرام کھاتے بھی ہیں۔
یاد رکھو!
تمہارے حرام مال پر (تمہاری زندگی میں اور تمہارے مرنے کے بعد) دوسرے لوگ عیاشی کریں گے مگر حساب صرف تمہیں خود دینا پڑے گا۔۔۔ تم خود جسمانی اور روحانی بیماریوں میں مبتلا ہو جاؤ گے، تمہاری بیوی یقیناً تمہاری ناشکری کرنے والی ہو گی اور تمہاری اولاد یا تو اچھا پڑھ لکھ نہ سکے گی اور اگر بالفرض وہ پڑھ لکھ کر افسر بن بھی جائے پھر بھی تمہاری نافرمان ہی رہے گی! سمجھو تمہاری جہنم دنیا میں ہی شروع ہو چکی ہے!

اپنے گناہوں کی اللّٰہ سے معافی مانگیں، افسر یا کیمرہ دیکھے یا نہ دیکھے، اللّٰہ کو دکھانے کے لیے اور اپنی عارضی دنیا اور ہمیشہ کی آخرت کو سنوارنے کے لیے اپنی زمہ داریوں کو پورا کریں، جن لوگوں کا حق کھایا ہے ان کو واپس کریں، کسی پر ظلم و زیادتی نہ کریں اور دوبارا حرام کمانے اور کھانے سے شدید نفرت اور پرہیز کریں!

اللہ پاک ہمیں ایمان کی سلامتی عطا فرمائے، ہم سب کو رزق حلال کمانے کی توفیق عطا فرمائے اور حلال اشیاء استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے!

12/24/2021


Address

Heaven Heights, MA

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ummati •ღ• امتی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share