03/31/2026
آخری تلاش
(حتمی جُستجو)
کلامِ خُدا ہماری پناہ گاہ ہے
جوں جوں ہم اُوپر ی سطحوں پر چڑھتے گئے ہماری تلواریں بڑھتی گئیں۔ مَیں تقریباً اپنی تلوار کو پیچھے چھوڑ چُکا تھا کیونکہ مَیں نے سوچا شاید مُجھے اُوپر کی سطح پر اِس کی ضرورت نہیں ہے۔ بالآخر مَیں نے فیصلہ کیا کہ مُجھے یہ ہتھیار کِسی مقصد کے تحت دیا گیا ہے، لہذاٰ بہتر ہے کہ میں اِسے اپنے پاس رکھوں۔ مَیں اِسے زمین میں گاڑھا اور اِسے خود کے ساتھ باندھ لیا جبکہ مَیں دشمن پر حملہ کر رہا تھا۔ تب مَیں خُدا کی آواز کو یہ کہتے سُنا: ''تُم نے حِکمت سے کام لیا جو تُمہیں مذید اوپر چڑھنے کے قابِل بنائے گی۔ بہت سے لوگ اِس لِئے گِر گئے کیونکہ اُنہوں نےخود کو گاڑنے کے لِئے صحیح طور سے اپنی تلوار کو استعمال نہ کیا تھا''۔ میرے علاوہ کِسی نے یہ آواز نہ سُنی، لیکن بہت سے لوگ جو مُجھے یہ سب کرتا دیکھ رہے تھے اُنہوں نے بھی ایسے ہی کیا۔ مَیں حیران تھا کہ خُدا نے یہ فیصلہ لینے سے قبل مُجھ سے کلام کیوں نہ کیا تھا۔ بعد ازاںمَیں نے محسوس کیا کہ وہ مُجھ سے پہلے ہی کِسی نہ کِسی طریقے سے کلام کر چُکا تھا ۔ پھر مَیں نے جانا کہ میری ساری زندگی کی تربیت اِس وقت کے لِئے کی گئی تھی۔ مُجھے اِس طور سے تیار کیا گیا کہ مَیں نے اپنی پوری زندگی خُدا کی آواز سُنی اور اُس کی تابعداری کی۔مَیں یہ بھی جانتا تھا کہ جو حکمت اور فہم مُجھ میں تھا اِس جنگ کہ دوران نہ تو وہ بڑھ سکتی تھی اور نہ ہی اِسے کم کیا جاسکتا تھا۔ مَیں اپنی زندگی میں درپیش تمام آزمایشوں کے لِئے خُدا کا بے حد خوشی کے ساتھ شُکر گُزار تھا اور اِس بات پر شرمندہ تھا کہ اُس وقت مَیں نے اُن کی قدر نہ کی۔
بہت جلد ہم دشمن کے خلاف بڑی دلیری کے ساتھ کامِل طور پر جنگ کر رہے تھے۔دُشمن کی فوج کی جانب سے اُن کا غضب آگ اور گندھک کی صورت میں برسا۔ مَیں دیکھ سکتا تھا کہ وہ مسیحی جو اِس فوج کی گرفت میں تھے اِس غضب کی آگ میں جل رہے تھے۔ اُن کا ہم پر حملہ کرنا نا ممکن تھا تو اُنہوں نے ایک دوسرے کو مارنا شروع کردیا۔ ہمارے خلاف چلنے والے دشمن کے تیر غیر موثر ہو چُکے تھے ، تو دُشمن نے حملے کے لِئے گِدھ بھیج دئیے۔ جنہوں نے اپنی تلواروں کو اپنی ڈھال نہ بنایا تھا وہ بھی کُچھ گِدھ کو مار گِرانے میں کامیاب رہے ، لیکن وہ جِن چوٹیوں پر کھڑے تھے وہاں سے گِرائے بھی جا رہے تھے۔ اُن میں سے چند لوگ نِچلے درجے پہ جا پہنچے، لیکن کُچھ لوگ سب سے نیچے جا پہنچے جنہیں گِدھ اُٹھا کر لے گئے۔
نئے ہتھیار
اگرچہ سچائی کے تیر گِدھ کے اندر تک اُسے زخمی تو نہ کر سکے، لیکن اِن کے اثر کے بدولت اُنہیں واپس جانا پڑتا تھا۔ جتنی بار وہ واپس جاتے تو ہم میں سے کُچھ لوگ اگلی سطح پر چڑھنے میں کامیاب ہوجاتے۔ جب ہم اُس مقام پر پہنچ گئے جِس کا نام ''گلتیوں دو بیس '' تھا، یہ اُس اُونچائی پر واقع تھا جہاں تک گِدھ کی پرواز ناممکن تھی۔ اِس سطح کے اوپر کے بادِلوں نے ہماری آنکھوں کو اپنی روشنی اور خوبصورتی سے دُھندلا کر دیا تھا۔ مَیں نے اُس دن ایسا سکون محسوس کیا جِس کا تجربہ آج سے پہلے کبھی نہ کیا تھا۔
شروع میں میرے اندر دُشمن کے خلاف جنگ کے جذبہ کی شدت اِسی قدر نفرت اور غضب سے بھری ہوئی تھی کہ جس قدر خُدا کی بادشاہی، سچائی اور قیدیوں کے لِئے میرے اندر محبت کا جذبہ متحرک تھا۔ لیکن اِس مُقام پر آ کر مَیں نے ایمان، اُمید اور محبت کو جانا جسے اِس سے قبل مَیں دور ہی سے پیروی کرتا رہا تھا۔ اِس موقع پر میں اِن کے جلال کی قوت سے معمور ہو گیا۔ جب مَیں اِن میں معمور ہؤا ، تو اِنہوں نے میرے ہتھیار کو مرمت کر کے چمکانا شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مکمل طور پر تبدیل ہو کر اُس جلال کو ظاہر کرنے لگے جو اِن کے اندر موجود تھا۔ جب انہوں نے میری تلوار کو چھُؤا ، اور اِس میں سے ایک شاندار بجلی چمکنے لگی۔ اور پھِر محبت نے کہا،''جو اِس مُقام تک پہنچتے ہیں اُنہیں اِس زمانے کے لِئے طاقت بخشی جاتی ہے ،اور مَیں تمہیں اِسکا طریقہ استعمال سکھاؤنگی''۔
''گلتیوں دو بیس'' وہ مقام اِس قدر وسیع تھا کہ وہاں سے کِسی کو گرنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ وہاں بہت سے تیر تھے جن پر اُمید کا نام لِکھا ہؤا تھا ۔ ہم نے یہ تیر نیچے موجود گِدھوں پر چلائے، اور اِن تیروں کی وجہ سے وہ باآسانی مر گئے۔ اِس مقام پر موجود آدھے لوگ اِن تیروں سے دشمن پر حملہ کر رہے تھے جبکہ باقی آدھے لوگوں نے اِن تیروں کو نچلے مقام پر موجود لوگوں تک پہنچانا شروع کر دیا۔
گِدھوں کے جھُنڈ لہروں کی صورت میں نیچے کی سطح پر آکر حملہ کرتے رہے، لیکن ہر بار اُن کی تعداد میں واضح کمی دیکھی جا سکتی تھی ۔ ''گلتیوں دو بیس'' کے مقام سے ہم تاریکی کے راہنماؤں کے علاوہ تمام دشمنوں پر حملہ کر سکتے تھے ، کیونکہ وہ ابھی بھی ہماری پہنچ سے دور تھے۔ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم سچائی کے تیروں کو اُس وقت تک استعمال نہیں کریں گے جب تک کہ ہم سارے گِدھوں کو مار نہیں دیتے، کیونکہ اُن کی جانب سے قائم کِئے گئے مایوسی کے بادلوں نے سچائی کو غیر موثر بنا دیا تھا۔ اِس سب میں بہت وقت لگا، لیکن ہم تھکے نہیں۔
ایمان، اُمید اور محبت، جو ہر بڑھتے مقام کے ساتھ ہمارے ہتھیاروں کے طور پر بڑھتے گئے، اور اب وہ اِس قدر بڑے ہوگئے کہ جنگ کے حدف سے باہر موجود لوگ بھی اِنہیں با آسانی دیکھ سکتے تھے۔ اُن کا جلال قیدیوں کے خیموں تک روشن تھا جو ابھی بھی گِدھوں کے بادلوں میں گھِرے ہوئے تھے۔ ہمارے جذبے بڑھتے جا رہے تھے اور مُجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اِس فوج اور اِس جنگ کا حصہ ہونا میرے لِئے اب تک کی سب سے عظیم مہم جوئی ہے۔
ہمارے پہاڑوں پر حملہ کرنے والے گِدھوں کو تباہ کرنے کے بعد، ہم نے اُن گِدھوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا جنہوں نے قیدیوں کے گرد بسیرا کر رکھا تھا۔ جیسے جیسے اندھیرے کے بادل اُن پر سے چھٹتے گئے اور سورج کی روشنی اُن پر پڑی، تو وہ بیدار ہونا شروع ہوگئے جیسے پہلے وہ ایک گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے۔ ہوش میں آتے ہی اُنہوں نے اپنی حالت پر غور کیا ، خصوصاً اُس قے کو دیکھ کر اُلجھن کا اظہار کیا جو اُن سے لپٹی ہوئی تھی، اور اپنے آپ کو صاف کرنا شروع کیا۔جونہی اُنہوں نے ایمان ،اُمید اور محبت کو دیکھا، تو اُنہیں وہ پہاڑ دکھائی دیا جس پر ہم موجود تھے اور اُنہوں نے اُس پہاڑ کی جانب دوڑنا شروع کردیا۔ دشمن کی جانب سے اُن پر الزامات کے تیروں کی بارش کی گئی تاکہ اُنہیں مار گرائیں لیکن وہ نہ رُکے۔ جِس وقت تک وہ اُس پہاڑ تک پہنچے بہت سے لوگوں کے بدنوں کے اندر درجنوں اور اِس سے زیادہ تیر دھنسے ہوئے تھے، لیکن اُنہیں دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ اُنہیں اِس بات کی کوئی فِکر نہیں تھی۔ جیسے جیسے اُنہوں نے پہاڑ پر اُوپر کی جانب بڑھنا شروع کیا اُن کے زخم ٹھیک ہونا شروع ہو گئے۔ مایوسی کے بادل چھٹتے جا رہے تھے اورحالات قدرِ آسان دکھائی دے رہے تھے۔
پھندا
وہ جو پہلے قید میں تھے اُنہوں نے اپنی نِجات کی بڑی خوشی منائی۔ پہاڑ پر چڑھتے ہوئے ہر بڑھتے مرحلے پر اُن کی شُکرگزاری بیان سے باہر تھے جِس کے نتیجے میں ہمیں اِن سچائیوں کی قدرومنزلت کا احساس اور بھی بڑھ گیا۔ جلد ہی آزاد ہوئے اِن قیدیوں کے اندر دشمن کے خلاف غضب کا احساس بھڑکا۔ اُنہوں نے اپنے ہتھیار باندھے اور منت سماجت کرنے لگے تاکہ ہم اُنہیں واپس جاکر دشمن سے لڑنے کی اجازت دیں۔ ہم نے اِس بات پر غور کیا، اور اِس نتیجے پر پہنچے کہ ہم سب کو مقابلہ کے لِئے اِس پہاڑ پر رہنا چاہیے۔ ایک بار پھِر خُدا کی آواز آئی، جو ہم سے کہہ رہی تھی: ''تُم نے دوسری بار حکمت سے کام لیا ہے۔ تُم دشمن کے میدان میں جاکر اُس کےساتھ جنگ نہیں جیت سکتے، اِس کے لِئے ضروری ہے کہ تُم میرے پاک پہاڑ پر ٹھہرے رہو''۔
مَیں حیران تھا کہ محظ سوچ بچار اور مختصر مشاورت سے ہم ایک اور اہم فیصلہ کرنے میں کامیاب رہے۔ تب سے میں نے ٹھان لیا کہ مَیں پوری کوشش کروں گا کہ آئندہ دعا کے بغیر مَیں کِسی فیصلہ کے نتائج پر نہیں پہنچونگا۔ اُس وقت حکمت میرے قریب آئی، مضبوطی سے میرے کندھوں کو پکڑ کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ، مُجھ سے کہا:''تُمہیں ضرور ایسا ہی کرنا چاہیے!'' مَیں نے اِس بات پر غور کیا ، اگرچہ جِس مقام''گلیتیوں دو پیس'' پر مَیں کھڑا ہوں وہ بہت وسیع ہے، لیکن مُجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ مَیں اُس کے کنارے پر آپہنچا تھا، جہاں سے آسانی سے میں نیچے گر سکتا تھا۔ مَیں نے دوبارہ حکمت کی آنکھوں میں دیکھا، اور اُس نے بڑے سنجیدہ انداز میں مُجھ سے کہا، ''جِس وقت تُم سجھو کہ تمہارے قدم مضبوطی سے قائم ہیں تو ہوشیار رہنا، ایسا نہ ہو کہ تُم گِر جاؤ۔ اِس زندگی میں تُم کِسی بھی مُقام سے گِر سکتے ہو''۔