Yeshua Al Masih loves Pakistan

Yeshua Al Masih loves Pakistan یسوع مسیح کا دوست �

آخری تلاش (حتمی جُستجو)کلامِ خُدا ہماری پناہ گاہ ہےجوں جوں ہم اُوپر ی سطحوں پر چڑھتے گئے ہماری تلواریں بڑھتی گئیں۔ مَیں ...
03/31/2026

آخری تلاش

(حتمی جُستجو)

کلامِ خُدا ہماری پناہ گاہ ہے

جوں جوں ہم اُوپر ی سطحوں پر چڑھتے گئے ہماری تلواریں بڑھتی گئیں۔ مَیں تقریباً اپنی تلوار کو پیچھے چھوڑ چُکا تھا کیونکہ مَیں نے سوچا شاید مُجھے اُوپر کی سطح پر اِس کی ضرورت نہیں ہے۔ بالآخر مَیں نے فیصلہ کیا کہ مُجھے یہ ہتھیار کِسی مقصد کے تحت دیا گیا ہے، لہذاٰ بہتر ہے کہ میں اِسے اپنے پاس رکھوں۔ مَیں اِسے زمین میں گاڑھا اور اِسے خود کے ساتھ باندھ لیا جبکہ مَیں دشمن پر حملہ کر رہا تھا۔ تب مَیں خُدا کی آواز کو یہ کہتے سُنا: ''تُم نے حِکمت سے کام لیا جو تُمہیں مذید اوپر چڑھنے کے قابِل بنائے گی۔ بہت سے لوگ اِس لِئے گِر گئے کیونکہ اُنہوں نےخود کو گاڑنے کے لِئے صحیح طور سے اپنی تلوار کو استعمال نہ کیا تھا''۔ میرے علاوہ کِسی نے یہ آواز نہ سُنی، لیکن بہت سے لوگ جو مُجھے یہ سب کرتا دیکھ رہے تھے اُنہوں نے بھی ایسے ہی کیا۔ مَیں حیران تھا کہ خُدا نے یہ فیصلہ لینے سے قبل مُجھ سے کلام کیوں نہ کیا تھا۔ بعد ازاںمَیں نے محسوس کیا کہ وہ مُجھ سے پہلے ہی کِسی نہ کِسی طریقے سے کلام کر چُکا تھا ۔ پھر مَیں نے جانا کہ میری ساری زندگی کی تربیت اِس وقت کے لِئے کی گئی تھی۔ مُجھے اِس طور سے تیار کیا گیا کہ مَیں نے اپنی پوری زندگی خُدا کی آواز سُنی اور اُس کی تابعداری کی۔مَیں یہ بھی جانتا تھا کہ جو حکمت اور فہم مُجھ میں تھا اِس جنگ کہ دوران نہ تو وہ بڑھ سکتی تھی اور نہ ہی اِسے کم کیا جاسکتا تھا۔ مَیں اپنی زندگی میں درپیش تمام آزمایشوں کے لِئے خُدا کا بے حد خوشی کے ساتھ شُکر گُزار تھا اور اِس بات پر شرمندہ تھا کہ اُس وقت مَیں نے اُن کی قدر نہ کی۔
بہت جلد ہم دشمن کے خلاف بڑی دلیری کے ساتھ کامِل طور پر جنگ کر رہے تھے۔دُشمن کی فوج کی جانب سے اُن کا غضب آگ اور گندھک کی صورت میں برسا۔ مَیں دیکھ سکتا تھا کہ وہ مسیحی جو اِس فوج کی گرفت میں تھے اِس غضب کی آگ میں جل رہے تھے۔ اُن کا ہم پر حملہ کرنا نا ممکن تھا تو اُنہوں نے ایک دوسرے کو مارنا شروع کردیا۔ ہمارے خلاف چلنے والے دشمن کے تیر غیر موثر ہو چُکے تھے ، تو دُشمن نے حملے کے لِئے گِدھ بھیج دئیے۔ جنہوں نے اپنی تلواروں کو اپنی ڈھال نہ بنایا تھا وہ بھی کُچھ گِدھ کو مار گِرانے میں کامیاب رہے ، لیکن وہ جِن چوٹیوں پر کھڑے تھے وہاں سے گِرائے بھی جا رہے تھے۔ اُن میں سے چند لوگ نِچلے درجے پہ جا پہنچے، لیکن کُچھ لوگ سب سے نیچے جا پہنچے جنہیں گِدھ اُٹھا کر لے گئے۔

نئے ہتھیار

اگرچہ سچائی کے تیر گِدھ کے اندر تک اُسے زخمی تو نہ کر سکے، لیکن اِن کے اثر کے بدولت اُنہیں واپس جانا پڑتا تھا۔ جتنی بار وہ واپس جاتے تو ہم میں سے کُچھ لوگ اگلی سطح پر چڑھنے میں کامیاب ہوجاتے۔ جب ہم اُس مقام پر پہنچ گئے جِس کا نام ''گلتیوں دو بیس '' تھا، یہ اُس اُونچائی پر واقع تھا جہاں تک گِدھ کی پرواز ناممکن تھی۔ اِس سطح کے اوپر کے بادِلوں نے ہماری آنکھوں کو اپنی روشنی اور خوبصورتی سے دُھندلا کر دیا تھا۔ مَیں نے اُس دن ایسا سکون محسوس کیا جِس کا تجربہ آج سے پہلے کبھی نہ کیا تھا۔
شروع میں میرے اندر دُشمن کے خلاف جنگ کے جذبہ کی شدت اِسی قدر نفرت اور غضب سے بھری ہوئی تھی کہ جس قدر خُدا کی بادشاہی، سچائی اور قیدیوں کے لِئے میرے اندر محبت کا جذبہ متحرک تھا۔ لیکن اِس مُقام پر آ کر مَیں نے ایمان، اُمید اور محبت کو جانا جسے اِس سے قبل مَیں دور ہی سے پیروی کرتا رہا تھا۔ اِس موقع پر میں اِن کے جلال کی قوت سے معمور ہو گیا۔ جب مَیں اِن میں معمور ہؤا ، تو اِنہوں نے میرے ہتھیار کو مرمت کر کے چمکانا شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مکمل طور پر تبدیل ہو کر اُس جلال کو ظاہر کرنے لگے جو اِن کے اندر موجود تھا۔ جب انہوں نے میری تلوار کو چھُؤا ، اور اِس میں سے ایک شاندار بجلی چمکنے لگی۔ اور پھِر محبت نے کہا،''جو اِس مُقام تک پہنچتے ہیں اُنہیں اِس زمانے کے لِئے طاقت بخشی جاتی ہے ،اور مَیں تمہیں اِسکا طریقہ استعمال سکھاؤنگی''۔
''گلتیوں دو بیس'' وہ مقام اِس قدر وسیع تھا کہ وہاں سے کِسی کو گرنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ وہاں بہت سے تیر تھے جن پر اُمید کا نام لِکھا ہؤا تھا ۔ ہم نے یہ تیر نیچے موجود گِدھوں پر چلائے، اور اِن تیروں کی وجہ سے وہ باآسانی مر گئے۔ اِس مقام پر موجود آدھے لوگ اِن تیروں سے دشمن پر حملہ کر رہے تھے جبکہ باقی آدھے لوگوں نے اِن تیروں کو نچلے مقام پر موجود لوگوں تک پہنچانا شروع کر دیا۔
گِدھوں کے جھُنڈ لہروں کی صورت میں نیچے کی سطح پر آکر حملہ کرتے رہے، لیکن ہر بار اُن کی تعداد میں واضح کمی دیکھی جا سکتی تھی ۔ ''گلتیوں دو بیس'' کے مقام سے ہم تاریکی کے راہنماؤں کے علاوہ تمام دشمنوں پر حملہ کر سکتے تھے ، کیونکہ وہ ابھی بھی ہماری پہنچ سے دور تھے۔ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم سچائی کے تیروں کو اُس وقت تک استعمال نہیں کریں گے جب تک کہ ہم سارے گِدھوں کو مار نہیں دیتے، کیونکہ اُن کی جانب سے قائم کِئے گئے مایوسی کے بادلوں نے سچائی کو غیر موثر بنا دیا تھا۔ اِس سب میں بہت وقت لگا، لیکن ہم تھکے نہیں۔
ایمان، اُمید اور محبت، جو ہر بڑھتے مقام کے ساتھ ہمارے ہتھیاروں کے طور پر بڑھتے گئے، اور اب وہ اِس قدر بڑے ہوگئے کہ جنگ کے حدف سے باہر موجود لوگ بھی اِنہیں با آسانی دیکھ سکتے تھے۔ اُن کا جلال قیدیوں کے خیموں تک روشن تھا جو ابھی بھی گِدھوں کے بادلوں میں گھِرے ہوئے تھے۔ ہمارے جذبے بڑھتے جا رہے تھے اور مُجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اِس فوج اور اِس جنگ کا حصہ ہونا میرے لِئے اب تک کی سب سے عظیم مہم جوئی ہے۔
ہمارے پہاڑوں پر حملہ کرنے والے گِدھوں کو تباہ کرنے کے بعد، ہم نے اُن گِدھوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا جنہوں نے قیدیوں کے گرد بسیرا کر رکھا تھا۔ جیسے جیسے اندھیرے کے بادل اُن پر سے چھٹتے گئے اور سورج کی روشنی اُن پر پڑی، تو وہ بیدار ہونا شروع ہوگئے جیسے پہلے وہ ایک گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے۔ ہوش میں آتے ہی اُنہوں نے اپنی حالت پر غور کیا ، خصوصاً اُس قے کو دیکھ کر اُلجھن کا اظہار کیا جو اُن سے لپٹی ہوئی تھی، اور اپنے آپ کو صاف کرنا شروع کیا۔جونہی اُنہوں نے ایمان ،اُمید اور محبت کو دیکھا، تو اُنہیں وہ پہاڑ دکھائی دیا جس پر ہم موجود تھے اور اُنہوں نے اُس پہاڑ کی جانب دوڑنا شروع کردیا۔ دشمن کی جانب سے اُن پر الزامات کے تیروں کی بارش کی گئی تاکہ اُنہیں مار گرائیں لیکن وہ نہ رُکے۔ جِس وقت تک وہ اُس پہاڑ تک پہنچے بہت سے لوگوں کے بدنوں کے اندر درجنوں اور اِس سے زیادہ تیر دھنسے ہوئے تھے، لیکن اُنہیں دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ اُنہیں اِس بات کی کوئی فِکر نہیں تھی۔ جیسے جیسے اُنہوں نے پہاڑ پر اُوپر کی جانب بڑھنا شروع کیا اُن کے زخم ٹھیک ہونا شروع ہو گئے۔ مایوسی کے بادل چھٹتے جا رہے تھے اورحالات قدرِ آسان دکھائی دے رہے تھے۔

پھندا

وہ جو پہلے قید میں تھے اُنہوں نے اپنی نِجات کی بڑی خوشی منائی۔ پہاڑ پر چڑھتے ہوئے ہر بڑھتے مرحلے پر اُن کی شُکرگزاری بیان سے باہر تھے جِس کے نتیجے میں ہمیں اِن سچائیوں کی قدرومنزلت کا احساس اور بھی بڑھ گیا۔ جلد ہی آزاد ہوئے اِن قیدیوں کے اندر دشمن کے خلاف غضب کا احساس بھڑکا۔ اُنہوں نے اپنے ہتھیار باندھے اور منت سماجت کرنے لگے تاکہ ہم اُنہیں واپس جاکر دشمن سے لڑنے کی اجازت دیں۔ ہم نے اِس بات پر غور کیا، اور اِس نتیجے پر پہنچے کہ ہم سب کو مقابلہ کے لِئے اِس پہاڑ پر رہنا چاہیے۔ ایک بار پھِر خُدا کی آواز آئی، جو ہم سے کہہ رہی تھی: ''تُم نے دوسری بار حکمت سے کام لیا ہے۔ تُم دشمن کے میدان میں جاکر اُس کےساتھ جنگ نہیں جیت سکتے، اِس کے لِئے ضروری ہے کہ تُم میرے پاک پہاڑ پر ٹھہرے رہو''۔
مَیں حیران تھا کہ محظ سوچ بچار اور مختصر مشاورت سے ہم ایک اور اہم فیصلہ کرنے میں کامیاب رہے۔ تب سے میں نے ٹھان لیا کہ مَیں پوری کوشش کروں گا کہ آئندہ دعا کے بغیر مَیں کِسی فیصلہ کے نتائج پر نہیں پہنچونگا۔ اُس وقت حکمت میرے قریب آئی، مضبوطی سے میرے کندھوں کو پکڑ کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ، مُجھ سے کہا:''تُمہیں ضرور ایسا ہی کرنا چاہیے!'' مَیں نے اِس بات پر غور کیا ، اگرچہ جِس مقام''گلیتیوں دو پیس'' پر مَیں کھڑا ہوں وہ بہت وسیع ہے، لیکن مُجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ مَیں اُس کے کنارے پر آپہنچا تھا، جہاں سے آسانی سے میں نیچے گر سکتا تھا۔ مَیں نے دوبارہ حکمت کی آنکھوں میں دیکھا، اور اُس نے بڑے سنجیدہ انداز میں مُجھ سے کہا، ''جِس وقت تُم سجھو کہ تمہارے قدم مضبوطی سے قائم ہیں تو ہوشیار رہنا، ایسا نہ ہو کہ تُم گِر جاؤ۔ اِس زندگی میں تُم کِسی بھی مُقام سے گِر سکتے ہو''۔

آخری تلاش (حتمی جُستجو)جہنُم کا لشکر اپنے سفر پر گامزن ہے اِبلیسی فوجمَیں نےایک  ایسی بڑی اِبلیسی فوج دیکھی جو میری نظر ...
03/28/2026

آخری تلاش
(حتمی جُستجو)

جہنُم کا لشکر اپنے سفر پر گامزن ہے

اِبلیسی فوج

مَیں نےایک ایسی بڑی اِبلیسی فوج دیکھی جو میری نظر کی وسعت تک چار سو پھیلی ہوئی تھی۔ یہ مختلف گروہوں میں بٹی ہوئی تھی، اور ہر گروہ اپنا اپنا نشان/بینر اُٹھائے ہوئے تھا۔سب سے پہلا اور زورآور گرو ہ وہ تھا جِس میں غرور، خود ساختہ نیک نامی، عزت، خود پرستی،اور غیر منصفانہ عدالت ، اور سب سے بڑھ کر حسد شامِل تھی۔اِس وسیع لشکر کا نمائندہ خود بھائیوں پر الزام لگانے والا تھا۔ مَیں جان گیا کہ وہاں اِن کے علاوہ بھی بے شمار اِبلیسی گروہ موجود ہیں جو میرے دائرہِ نظر سے دور ہیں، لیکن جو مَیں دیکھ سکا یہ جہنم کا وہ لشکر ہے جنہیں کلیسیاؤں کے خلاف بھیجا جا رہا ہے۔
یہ حملہ آور گروہ اپنے ساتھ ہتھیار لِئے ہوئے تھا جِن پر اُن ہتھیاروں کے نام لِکھے ہوئے تھے: اُن کی تلواروں کا نام خوف تھا؛ بھالوں کا نام دغابازی ، اور اُن کے تیروں کے نام الزام، چغلی، بدگوئی اور عیب جوئی تھے۔خبرگیر اور اِبلیس کی چھوٹی تنظیموں کو اِس فوج سے قبل بھیجا گیا تاکہ وہ بڑے حملے کی تیاری کر سکیں، جِن کے نام ٹھکرانا، کڑواہٹ، بے صبری، معاف نہ کرنا اور شہوت پرستی تھے۔مَیں اپنے دِل میں جانتاتھا کہ کلیسیاؤں میں اِس سے پہلے اِن چیزوں کا سامنہ نہیں کیا گیا۔
اِس فوج کو بھیجے جانے کا بُنیادی مقصد نفاق ڈالنا تھا۔ اِسے بھیجا گیا تاکہ یہ ہر سطح پر کلیسیائی تعلقات پر حملہ کرے ، پھر چاہے وہ پاسٹر کے اپنی کلیسیاء کے ساتھ تعلق ہو،میاں اور بیوی کے تعلقات ہو، یہاں تک کے بچوں کے آپسی معاملات بھی اِن کے ہدف کا نشانہ ہیں۔ اِن چھوٹی تنظیموں کا مقصد کلیسیاؤں، گھرانوں اور لوگوں میں اُن جگہوں کو ڈھونڈ نکالنا شامِل ہے جہاں معاف نہ کرنے، کرواہٹ، اور شہوت وغیرہ جیسی چیزیں آسانی سے جڑ پکڑ سکتی ہوں، تاکہ وہ بعد ازاں وہ بڑی دڑاڑیں قائم کر سکیں جو نفاق ڈالنے کے کام کو تکمیل دے سکیں۔
اِس رویا کا سب سے حیران کُن حصہ یہ ہے کہ اِس لشکر کی سواری گھوڑوں پر نہیں ، بلکہ مسیحیوں پر تھی! اِن میں سے بہت سے لوگ بڑے خوش لباس، قابلِ احترام، اور بظاہر بڑے نفیس اور تعلیم یافتہ تھے۔ یہ وہ مسیحی تھے جنہوں نے خود تاریکی کی طاقتوں کو اِس طور سے قبول کیا کہ دشمن با آسانی اِنہیں استعمال کر سکا اور یہ سوچتے رہے کہ خُدا اِنہیں استعمال کررہا ہے۔ الزام لگانے والا جانتا ہے کہ مُنقسم(تقسیم شُدہ) گھر کبھی قائم نہیں رہ سکتا ، اور اِس فوج نے اِس طور سے اپنا کام دِکھایا کہ کلیسیاء مکمل طور پر حصوں میں بٹ گئی اور خُدا کے جلال سے دور ہو گئی۔

قیدی

اِن پہلے گروہوں کے بعد آنے والوں میں دوسرے مسیحیوں کی ایک بڑی بھیڑ تھی جو اِس فوج کے قیدی تھے۔یہ سب زخمی حالت میں تھے، جِن کی دیکھ بھال خوف کی بدروحیں کر رہی تھیں۔ بظاہر دیکھنے میں یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہاں اِبلیسی روحوں سے زیادہ تعداد اِن قیدیوں کی تھی۔ حیرانی اِس بات کی تھی کہ اِن قیدیوں کے پاس اپنی تلواریں اور سِپر موجود تھی، لیکن اِنہوں نے اُن کا استعمال نہ کیا۔ میرے لِئے یہ نہایت غمناک صورتحال تھی کہ اِن تھوڑی سی خوف کی روحوں نے لوگوں کی اتنی بڑی تعدار کو اسیری میں لے رکھا ہے۔ اگر قیدی اپنے ہتھیاروں کا استعمال کرتے تو اِنہیں با آسانی تباہ کر کے بھگایا جا سکتا تھا۔
قیدیوں کے اُوپر بادل گِدھ سے بھرے ہوئے تھےجنہیں افسردگی کا نام دیا گیا تھا ،جِن کے باعث سارے بادل کالے ہوگئے تھے۔وہ گِدھ قیدیوں کے کندھوں پر بیٹھ کر قے کرتے تھے ۔ اُن کی قے مذمت کی صورت میں ہوتی ہیں۔ یہ قے جب قیدی پر گرتی ہے تو وہ اُٹھ کر تھوڑی دیر کے لِئے سیدھا چلتا ہے ، اور پھر جُھک کر ، پہلے سے بھی زیادہ کمزور پڑ جاتے ہیں۔ایک بار پھِر، میں حیران تھا کہ یہ قیدی اپنی تلواروں سے اِس گِدھ کے جُھنڈ پر حملہ کیوں نہیں کرتے، حالانکہ وہ چاہتے تو یہ کام با آسانی کر سکتے تھے۔
عموماً ایک کمزور قیدی لڑکھڑا کر گِر جاتا تھا۔ جیسے ہی وہ زمین پر گِرتا، تو دوسرے قیدی اُسے اپنی تلوارں سے زخمی کرنے لگتے اور اُنہیں یہ جرات کرنے پر حقارت کا سامنہ کرنا پڑتا۔ اِس کے بعد وہ قیدی جو گِرے ہوئے قیدی کو تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے، گِدھ کو بُلاتے تاکہ وہ اُنہیں مرنے سے پہلے ہی نوچ کھائیں۔
جس وقت میں یہ منظر دیکھ رہا تھا ، تو مُجھے معلوم ہوا کہ یہ قیدی اِس مذمت کو خُدا کی سچائی کا نام دے رہے ہیں۔ یوں مُجھے سمجھ آئی کہ اِن قیدیوں کا خیال ہے کہ یہ در حقیقت خُدا کی فوج کا حصہ ہیں! اِسی لِئے اِنہوں نے خوف کی چھوٹی بدروح وں کو نہیں مارا، اور یہ اِن گِدھوں کو خُدا کے پیغامبر سمجھ رہے تھے! گِدھوں کے اِن بادلوں کی تاریکی اِس قدر گہری تھی کہ جِس نے اِن قیدیوں کی آنکھوں کو اندھا کر رکھا ہے اور اِس کے نتیجے میں یہ سادہ لوح اِنسان اپنے سامنے ہونے والی ہر چیز کو یوں خیال کر رہے ہیں گویا یہ خُدا کی طرف سے ہو۔

اِن قیدیوں کو صرف ایک ہی خوراک میسر تھی اور وہ تھی اِن گِدھوں کی قے۔ جنہوں نے اِسے کھانے سے اِنکار کیا وہ کمزور پر کر گِر گئے۔جنہوں نے اِسے کھایا گو کہ وہ طاقتور ہوگئے ، لیکن اُن میں اِبلیسی طاقت تھی۔ اور پھر اُنہوں نے دوسرے پر قے کرنا شروع کردیا۔ جب ایک مرد یا عورت ایسا کرنا شروع کردیتا تو ایک بد روح اُس پر سوار ہوتی اور اُسے پہلی صفوں میں ترقی دے دی جاتی۔

گِدھوں کی قے سے بھی ناگوار ایک گندہ کیچڑتھا جِسے یہ بدروحیں پیشاب اور پاخانے کی شکل میں اُن مسیحیوں پر گراتے تھے جِن پر وہ سوار تھے۔ یہ گندہ کیچڑ غرور، خودغرضی وغیرہ تھا، جو اُس گروہ کی صفت تھیں جِن میں یہ شمار تھے۔ تاہم، یہ گندہ کیچڑ مسیحیوں کو مذمت کی قے سے اِس قدر بہتر معلوم ہوتا تھا کہ وہ با آسانی اِن اِبلیسی روحوں کا یقین کرلیتے کہ یہ خُدا کے پیغامبر ہیں، اور وہ سمجھتے تھے یہ یہ گندہ کیچڑ روح القدس کا مسح ہے۔
پھِر میں نے خُدا کی آواز کو یہ کہتے سُنا، ''یہ دشمن کے آخری دور کی فوج کا آغاز ہے۔ یہ اِبلیس کا اصل دھوکہ ہے، اور اُس کی حتمی تباہی کی قوت جاری ہو چُکی ہے جب وہ مسیحیوں کو مسیحیوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ زمانوں سے وہ اِس فوج کو استعمال کرتا آ رہا ہے، لیکن وہ اِس سے پہلے تک اِس بڑے پیمانے پہ لوگوں کو اپنی بُرائی پھیلانے کے لِئے استعمال نہ کرسکاتھا۔ ڈرو مت۔ میرے پاس بھی ایک فوج ہے ۔ تُمہیں اب اُٹھنا اور لڑنا ہے، کیونکہ اب اِس جنگ سے چھپنے کی کوئی جگہ نہیں رہی۔ تُمہیں میری بادشاہی، سچائی، اور اُن کے لِئے جِن کے ساتھ دھوکا ہؤا لڑنا ہوگا''۔ مَیں خود کو اِس اِبلیسی فوج کے سامنے خود کو اِس قدر پسپا اور غضب ناک محسوس کیاکہ مَیں چاہتا تھا ایسی دُنیا میں رہنے سے اچھا ہے میں مر ہی جاؤں۔ تاہم، خُدا کے اِس کلام نے مُجھے اتنی ہمت اور حوصلہ افضائی بخشتی کے مَیں فوراً اِن مسیحی قیدیوں پر چلانا شروع ہوگیا کہ اُنہیں دھوکہ دیا جارہا ہے، مَیں ایسے سمجھ رہا تھا جیسے وہ میری آواز سُن لیں گے۔جب مَیں نے ایسا کیا، تو ایسا لگا کہ اِس ساری فوج نے مُڑ کر مُجھے دیکھنا شروع کر دیا ہے؛ لیکن مَیں نے چِلانا جاری رکھا۔ میں نے سوچا کہ یہ مسیحی جاگ جائیں گےاور جان جائیں گے کہ اُن کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، اِس کے برعکس اُن میں سے بہت سے لوگوں نے اپنے تیروں کا رُخ میری طرف موڑ دیا۔ جبکہ دوسرے اِسی سوچ میں گُم تھے کہ میرے ساتھ کیا کرنا چاہیے۔ تب مُجھے معلوم ہؤا کہ مَیں نے یہ کام بہت جلدبازی کیا ہے اور یہ میری طرف سے ایک احمقانہ غلطی تھی۔

جنگ کا آغاز

جب میں نے اپنے پیچھے نظر کی تو مَیں نے دیکھا کہ خُدا کی فوج میرے پیچھے کھڑی تھی۔ہزاروں سپاہی ہونے کے باوجود ہم اُن سے تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ اُن میں سے کُچھ مکمل طور پر زرہ بکتر میں ملبوس تھےجبکہ اکثر جُزوی طور پر محفوظ تھے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی سے زخمی حالت میں تھی۔ جن کے پاس مکمل زرہ بکتر موجود تھا اُن کی سِپر بہت چھوٹی تھی اور میں جانتا تھا کہ یہ اُنہیں دشمن سے آنے والے حملوں سے روک نہیں سکتی۔ اِن سپاہیوں میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی تھی۔
اِس فوج کے پیچھے آنے والا ہجوم بظاہر قیدیوں جیسا لگ رہا تھا جو بُرائی کی فوج کا پیچھا کر رہے تھے، لیکن یہ اُن سے کافی حد تک مختلف معلوم پڑتے تھے۔ اِن لوگوں کے چہرے نہایت خوش تھے، اور یہ کھیلنے، گیت گانے، ضیافت کرنے اور ایک خیمہ سے دوسرے خیمہ میں چہل قدمی کرنے میں مصروف تھے۔ اِس منظر نے مُجھے جشن منانے جیسے ماحول کی یاد دلادی۔ میں نے اپنی آواز بُلند کر کے چیخ و پُکار کے ساتھ اُنہیں آگاہ کرنے کی کوشش کی کہ یہ وقت اِن کاموں کے لِئے نہیں ہے، مَیں اُنہیں بتانا چا رہا تھا کہ جنگ شروع ہونے والی ہے، لیکن اُن میں سے چند لوگ ہی میری آواز کو سُن سکتے تھے۔ جنہوں نے مُجھے 'امن کا نشان' دکھاتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ پر یقین نہیں رکھتے، اور یہ کہ خُدا اُن کے ساتھ کُچھ بُرا نہیں ہونے دیگا۔ مَیں نے اُنہیں وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ خُدا نے ہمیں ہتھیار دیئے ہیں تو اُس کی کوئی وجہ ہے ، لیکن اُنہوں نے بس یہی جواب دیا کہ وہ امن و خوشی کی جگہ میں پہنچ چکے تھے جہاں اُن کے ساتھ کُچھ نہیں ہوسکتا۔ مَیں نے دِل سوزی سے دعا کرنا شروع کردی کہ جِن کے پاس ہتھیار ہیں خُدا وند اُنکے ایمان کی سِپر کو اور بڑھائے، تاکہ وہ اُن کو بچانے میں ہماری مدد کر سکیں جو جنگ کے لِئے تیار نہیں ہیں۔

ایک پیغام رساں میرے پاس آیا، اور مُجھے ایک نرسنگھا دے کر کہا کہ جلدی سے اِسے پھونکو۔ مَیرے نرسنگھا پھونکتے ہی ، جنہوں نے زرہ بکتر پہنا ہؤا تھا وہ متحرک ہو گئے۔ اُن کے پاس اور ہتھیار لائے گئے، جو اُنہوں نے جلدی سے باندھ لِئے۔ مَیں نے غور کیا کہ اُن میں سے جو لوگ زخمی تھے اُنہوں نے اپنے زخموں پر ہتھیار نہیں باندھے، لیکن اِس سے پہلے کہ میں دشمن کے بارے میں کُچھ بولتادشمن کے تیر ہم پر گرنا شروع ہوگئے۔ ہر وہ شخص جو خُدا کے ہتھیار کے بغیر تھاوہ زخمی حالت میں تھا۔ جنہوں نے اپنے زخموں کو نہیں ڈھانکا اُنہوں نے اُسی جگہ پر واپس چھوٹ کھائی۔
جنہیں بہتان کے تیروں کی ضرب لگی اُنہوں نے فوراً اُن پر بہتان لگانا شروع کردیا جو زخمیوں میں شمار نہیں تھے۔ جنہیں بدگوئی کی ضرب لگی اُنہوں نے بدگوئی کرنا شروع کردی، اور دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے تمام لوگ گروہوں میں بٹ گئے۔اِس کے بعد گِدھ ہوا میں اُڑتے ہوئے آئے اور جو زخمی تھے اُنہیں جھپٹ کر قیدیوں کے گروہ میں پہنچا دیا۔ زخمیوں کے پاس ابھی بھی تلواریں تھیں اور وہ باآسانی اُن گِدھ پر حملہ کر سکتے تھے، لیکن اُنہوں نے ایسا نہ کیا۔ درحقیقت اُنہیں اُن کی مرضی سے لے جایا گیاکیونکہ وہ ہم باقی لوگوں پر سخت غصہ تھے۔
دوسرے طرف ہماری فوج میں موجود لوگوں کا حال اُس سے بھی بد تر تھا۔ ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ زمین پر زخمی پڑے درد سے کراہ رہے تھے۔ بہت سے ایسے لوگ جو زخمی نہیں تھے وہ غیر یقینی کی غفلت کا شکار تھے۔ زخمی اور عدم اعتماد والوں کو تیزی سے گِدھ لے کر جا رہے تھے۔ کُچھ لوگ زخمیوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اور اُنہیں گدھ کی پہنچ سے دور کر رہے تھے، لیکن زخمی لوگ اِس قدر غضبناک تھے کہ وہ اُنہیں کو دھمکا کر دور کر رہے تھے جو اُنہیں مدد کرنے کی کوشش میں تھے۔

جو زخمی ہونے سے بچ گئے وہ تیزی سے جنگ کے منظر سے دوڑنے لگے۔دشمن کے ساتھ یہ پہلا مقابلہ اِس قدر غضبناک اور پریشان کُن تھا کہ مُجھے اُکساہٹ محسوس ہورہی تھی کہ میں بھی اِس لڑائی میں اُن کے ساتھ جا مِلوں۔ پھر اچانک، اِن میں سے کُچھ لوگ دوبارہ ظاہر ہوئے اِس بار مکمل ہتھیاروں کے ساتھ، اور بڑی سِپر لِئے۔ اِنہوں نے گِرے ہوئے کی جگہ لینا شروع کردی، اور نئے عہدے مقرر کرنا شروع کردیئے تاکہ پیچھے اور مورچوں پہ کھڑے ہوئے کو بچا سکیں۔ اُن میں بہت دلیری آگئے، اور ہر ایک مرتے دم تک لڑنے کے لِئے کھڑا ہوگیا۔ اچانک تین فرشتے جِن کے نام ایمان، اُمید اور محبت تھے آکر ہمارے پیچھے کھڑے ہوئے، اور ہر کِسی کی سِپر بڑھنے لگی۔

شاہراہ

ہمارے پاس وہ تلواریں تھیں جو خُدا کا کلام کہلاتی ہیں، اور ہمارے تیر بائبل کی سچائیاں کہلاتے ہیں۔ ہم جوابی حملہ تو کرنا چاہتے تھے، لیکن اِس بات سے پریشان تھے کہ اُن مسیحیوں کو کیسے محفوظ رکھیں جِن پر اِبلیسی فوجیں سوار تھیں۔ پھِر ہم پر ظاہر ہؤا کہ اگر ہم اِن مسیحیوں کو سچائی کی ضرب لگاتے ہیں تو یہ اُٹھ کھڑے ہوکر اِن مظلموں کا مقابلہ کریں گے۔ مَیں نے کُچھ تیر چلائے،اور تقریباً سبھی تیر اُن مسیحیوں کو جا لگے۔ تاہم، جب سچائی کے تیر اُن کے اندر جا لگے، تو وہ جاگنے کے بجائے گِر کر زخمی ہوگئے اور غضب ناک ہوئے، اور اُن کے اُوپر سوار اِبلیس پہلے سے زیادہ بڑا ہوگیا۔ یہ دیکھ کر سب دنگ رہ گئے، اور دِلوں میں یہ خیال کرنے لگے یہ شاید اِس جنگ کو جیتنا نا ممکن ہے، لیکن ایمان، اُمید اور محبت کے ساتھ ہمیں اِس بات کی تسلی تھی کہ کم از کم ہم ڈٹے رہیں گے۔ تب ایک اور فرشتہ جِس کا نام حکمت ہے نمودار ہؤا اور ہماری راہنمائی کی کہ ہم اپنے پیچھے موجود پہاڑپر سے جنگ کریں۔

پہاڑ پر جتنی اُونچائی پر آپ نظر دوڑائیں مختلف سطحوں پر کھڑی چٹانیں دیکھی جا سکتی تھیں۔ ہر بڑھتی سطح کے ساتھ ساتھ چٹان تنگ ہوتی جا رہی تھی، جِن پر کھڑا ہونا مشکل تھا۔ ہر سطح کو بائبل کی سچائی پر مبنی ایک ایک نام دیا گیا۔ سطح جِس قدر نچلی ہوتی اُسے اُسی قدر بُنیادی نام دیا گیا جیسے کہ نِجات، پاکیزگی، دُعا، ایمان وغیرہ، اور سطح جیسے جیسے بڑھتی اُسے اُسی لحاظ سے بائبل کی سچائی پر مبنی وہ نام دیا گیا جونسبتاً زیادہ پیچیدہ تھے۔ ہم جتنا اُوپر چڑھتے، ہماری سِپر اور تلواریں بھی اُونچائی کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئیں، اور اُس مُقام پر دُشمن کی طرف سے آنے والے تیروں کی تعداد بہت کم ہوگئی۔

ایک المناک غلطی

کُچھ لوگ جو نِچلی سطح پر ٹِکے رہے ، اُنہوں نے دشمن کی طرف سے آنے والے تیروں کو اُٹھا کر واپس اُن کی طرف چلانے شروع کردیے۔ یہ ایک افسوسناک غلطی تھی۔ اِبلیسی فوجیں با آسانی اُن تیروں سے پچتی رہیں تاکہ وہ تیر اُن کی طرف موجود مسیحیوں کو لگتے رہیں۔ جب ایک مسیحی کو الزام اور بہتان کا یہ تیر لگتا، تو کڑواہت یا غصے کی اِبلیسی روح اُڑکر اُ س تیر پر بیٹھ جاتی۔ بعد ازاں وہ اپنے ذہر کو اُن مسیحیوں پر پیشاب اور پاخانہ کی صورت پر اُن پر اُنڈیلنا شروع کر دیتی۔ جب مسیحیوں میں غرور اور خودساختہ نیک نامی کے ساتھ ساتھ دو یا تین بُری روحیں اور جمع ہو جاتیں، تو وہ خود اِبلیس کی بِگڑی ہوئی شبیہ اختیار کر لیتے۔
ہم یہ سارا منظر اُوپر کی سطح سے دیکھ رہے تھے، لیکن وہ لوگ جو نِچلی سطح پر موجود تھے وہ یہ سب نہیں دیکھ سکے۔ ہم میں سے آدھے لوگوں نے مذید اُوپر چڑھنے کا ارادہ کیا ، جبکہ آدھے لوگوں نے واپس نیچے جانا چاہا تاکہ وہ اُن لوگوں کو بتا کر سارے منظر سے آگاہ کر سکیں۔ پھِر سب کو خبردار کیا گیا کہ وہ رُکنے کے بجائے اوپر چڑھتے جائیں، سوائے چند لوگوں کے جنہیں اپنی موجودہ سطح پر رُکنے کی ہدایت کی گئی تاکہ وہ نیچے سے آنے والے سپاہیوں کو اوپر چڑھنے کی حوصلہ افضائی کریں۔

حفاظت

جب ہم اُس سطح پر پہنچ گئے جِس کا نام ''بھائی چارے کی یکجہتی '' تھا ، تو اُس مقام پر دشمن کا کوئی تیر بھی ہم تک نہ پہنچ سکا۔ ہمارے کیمپ میں موجود کافی لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اُنہیں یہیں تک چڑھنا تھا۔ میں سمجھ گیا تھا کیونکہ ہر بڑھتے مرحلے کے ساتھ قدم جماتے ہوئے اوپر چڑھنا مذید مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ تاہم، مَیں نے یہ بھی محسوس کیا کہ میرے ہتھیار جِس قدر مضبوط ہیں میں اوپر چڑھ سکا، لہذاٰ مَیں نے چڑھنا جاری رکھا۔
بہت جلد میرا نشانہ اِس قدر تیز ہوگیا کہ مَیں مسیحیوں کو نقصان پہنچائے بغیر شیطانی روحوں کو مارنے لگا۔ مَیں نے محسوس کیا کہ اگر میں اوپر چڑھتا جاؤں تو میں دور تک اپنے تیر چلا کر بُرائی کے لشکروں کے حاکموں جو اپنی فوجوں کے پیچھے رہتی ہیں مار سکتا ہوں۔ اِسی طرح ، جو لوگ مسلسل اوپر چڑھتے گئے اُن کی قوت اور کردار دونوں پروان چڑھتے گئے جِس نے اُنہیں بڑے سورما بنایا، اور میں جانتا تھا کہ اِن میں سے ہر کوئی بہت سے دشمنوں کو تباہ و برباد کر دیگا۔
ہر مرحلے/سطح پر سچائی کے تیر بِکھرے ہوئے تھے اور میں جانتا تھا کہ یہ اُن لوگوں کے تیر ہیں جو اِس مقام سے گِر گئے تھے۔ ہر تیر کا نام اُس سطح کی سچائی پر رکھا گیا۔ بعض لوگ اُن تیروں کو اُٹھانے میں آڑ محسوس کر رہے تھے، لیکن مَیں جانتا تھا کہ ہمیں نیچے موجود اُس بڑے لشکر کو ختم کرنے کے اِن سب تیروں کی ضرورت ہے۔ مَیں نے ایک تیر اُٹھا کر چلایا اور بڑی آسانی سے ایک شیطانی روح کو مار دیا دیکھتے دیکھتے باقی سب نے بھی وہ تیر اُٹھا کر دشمن کی جانب اُڑانا شروع کر دیئے۔

ہم نے دشمن کے بہت سے گروہوں کو ختم کرنا شروع کردیا۔ جِس کے نتیجے میں ، ہم تمام بُرائی کی فوجوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ۔ ایک وقت کو تو یوں محسوس ہؤا جیسے ہم جِس قدر کامیاب ہورہے تھے اُسی قدر ہمارے مخالفت میں شدت ہوتی جا رہی تھی۔ اگرچہ ہمارا کام کبھی نہ ختم ہونے والا لگ رہا تھا، لیکن اِس نے ہمیں پُر جوش کردیا تھا۔

ہر اِنسان کے دِل میں سچائی ، اطمینان اور خُدا کو جاننے کی تڑپ ہوتی ہے۔ بائبل مُقدس ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا نے یِسُوعؔ مسیح...
03/23/2026

ہر اِنسان کے دِل میں سچائی ، اطمینان اور خُدا کو جاننے کی تڑپ ہوتی ہے۔
بائبل مُقدس ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا نے یِسُوعؔ مسیح کے وسیلہ سے ہم پر اپنی محبت کو ظاہر کیا۔ یِسُوعؔ مسیح صرف ایک نبی نہیں بلکہ وہ خُدا کا بیٹا ہے، جو دُنیا میں آیا تاکہ ہم نئی زندگی حاصل کریں۔
جب خُدا اِنسان کے دِل کو چھوتا ہے تو یِسُوع اُس کی زندگی میں کام کرنا شروع کرتا ہے، جِس کے بعد اُس میں اُمید اور تبدیلی کی ایک نئی لہر دوڑتی ہے۔
اکثر اوقات ہماری کوشش ہوتی ہے کہ سب کُچھ فوراً تبدیل ہو جائے، لیکن خُدا کے وعدے اپنے وقت پر پورے ہوتی ہیں اور دُعا اور ایمان ہمیں سفر میں مظبوطی بخشتے ہیں۔
بائبل مقدس میں ہم دیکھتے ہیں کہ خُدا اپنے لوگوں کو قوت دیتا ہے اور اُنہیں اپنی حضوری میں بڑھاتا ہے۔
اگر آپ یِسُوعؔ مسیح کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو یہ پیغام سُنیں۔

🎧 آڈیو پیغام:
https://drive.google.com/file/d/1j8-9LULfSnaEhn215EGvjduCTO0dkJDj/view

خُدا آپ کو برکت دے۔

پیغام:
وہ وقت، جب خُدا ہمیں چھوتا ہے، تو مسیح ہماری روح میں سرائیت کرتا ہے۔ درحقیقت یہی وہاں وقت ہے جب خُدا کی اُمید کے وسیلہ آپکی تمام خواہشات اور منصوبے پورے ہوتے ہیں۔ یہ تجربہ ایسے ہی ہے جیسے کِسی عورت کا اُمید سے ہونا؛ کہ آپ نے خُدا سے جو برکت حاصل کی ہے اب وہ ایمان اور آپکی دُعاؤں کے وسیلہ آپ میں پرورش پاریا ہے۔ مسیح آپ میں صورت پکڑ رہا ہے( گلتیوں 4:19)۔ اِس وقت سے خُدا کے ساتھ آپکا سفر صرف مذہب نہیں رہا – اب یہ منزل بن چکی ہے۔ اگرچہ ، ترقی کے اِس مرحلہ میں،روحانی ناپختگی ک نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔خُدا کے وعدہ کو پورا ہونے میں وقت لگتا ہے۔

ہم غصہ اور بے صبری سے لڑتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی کوشش سے وہ تمام چیزیں حاصِل کرسکتے ہیں جِن کا خُدا نے وعدہ کیا ہے۔ اگر ہم تاخیر کو تسلیم کریں ،تو ہمیں ہمارا ضمیر ملامت کرتا ہے۔
خُدا کے وعدے کو جنم دینا اِس بات کا احساس ہونے میں وقت لگتا ہے کہ خُدا ہی اُن وعدوں کو پورا کرنے والا ہے جو اُس نے باندھے ہیں۔ ہمارا کام اُسکے ساتھ مِل کر اپنے دِل کو تیار کرنا ہے۔ لہذاٰ، مسیح کے ساتھ ہمارے سفر کا پہلا مرحلہ کامیابی کا نہیں بلکہ نشونما پانے کا ہے۔
لیکن صرف خُدا ہی روحانی شخصیت نہیں جو ہماری زندگی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اِبلیس بھی ہماری منزل اور مُقدسیت کو دیکھ رہا ہے جو ہماری اندرپروان چڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر اُس وقت جب ہم منزل کے قریب ہوتے ہیں ،اِبلیس موقع ڈھونڈتا ہے کہ وہ ہماری زندگی میں خُدا کے کام کو ضائع کردے ۔ ہم اندر اور باہر جنگ کا سامنہ کرتے ہیں۔ رات کے تاریک وقت میں ہم اپنے مقصد کے بارے سوال کرتے اور اپنی روحانی ترقی پر شک کرتے ہیں۔

ظاہری طور پر ہم لوگوں کی باتوں کا سامنہ کرتے ہیں اور اِبلیس اِس تنقید کو ہمارے خلاف استعمال کرتا ہے۔ ہمارا رویہ اُن لوگوں کے ساتھ غلط ہوتا ہے جنہیں اِبلیس اِستعمال کرتا ہے۔ ہم اُن سے بحث کرتے ہیں: '' مُجھ میں خُدا کا کُچھ اثر ہے! کیا تُمہیں نظر نہیں آتا؟ مُجھ ہر تنقید مت کرو؛ مَیری مدد کرو!''
شاید ہمیں لوگوں کی منظوری سے تسلی ملتی ہے، لیکن جِس تسلی کو ہم ڈھونڈ رہے ہیں وہ عارضی ہے۔ کیا ہم اِنسان کو اُسکی ظاہری ناکامی پر الزام دیں گے؟ نہیں۔ خُدا کے کاموں کے لیے ،کوئی اِنسان ہماری مدد نہیں کرسکتا سوائے خُدا کے۔ اگرچہ ہماری روحانی ترقی ایک دوسرے کے لیے شفاعتی دعا کرنے میں ہے،اور خُدا ہمیں مسیح میں زور بخشتا ہے۔
آپ یاد کرینگے کہ جب سلیمان نے ہیکل تعمیر کی، تو اُس نے اِسکے دونوں ستونوں کے نام یا کن اور بوعز رکھے (1 سلاطِین 7:21)۔ یاکن کے معنی ''وہ قائم کریگا''، بوعز کے معنی ''اُس میں زور ہے''۔ اگر ہم سچی لگن سے خُدا کی خدمت میں داخل ہوتے ہیں، تو ہمیں اُسکی قوت کے علاوہ کِسی قوت پر تکیہ نہیں کرنا اور نا ہی اُس کامیابی پر جِسے اُس نے قائم کیا ہے۔
دعا بندھنوں کو توڑتی ہے مُکاشفہ 12 ہمیں روحانی ترقی کے اصول سے آگاہ کرتا ہے ۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ کِس طرح مسیح ہم میں داخل ہوتا ہے۔

جسکے بعد مسیح ہم میں نشونما پاتا ہے اور اِبلیس اُسے ہماری زندگیوں سے نِکال باہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ آخر کار ہم مسیح کے اِنسانی خادم کے وسیلہ اُسے ظاہر ہوتے اور کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
اگر ہم سچی لگن سے خُدا کی خدمت میں داخل ہوتے ہیں
تو ہمیں اُسکی قوت کے علاوہ کِسی قوت پر تکیہ نہیں کرنا
اور نا ہی اُس کامیابی پر جِسے اُس نے قائم کیا ہے۔
یُوحنا نے ایک بڑا نِشان دیکھا: '' ۔ ۔ ۔ ایک عورت نظر آئی جو آفتاب کو اوڑھے ہوئے تھی اور چاند اُ س کے پاؤں کے نیچے تھا اور بارہ سِتاروں کا تاج اُس کے سر پر ۔ ۔ ۔ ''(مُکاشفہ 12:1،2)۔

بہت سے مفسرین اِس عورت کو یوں خیال کرتے ہیں جیسے اِسرائیل ، مسیح کو جنم دے رہا ہو، یا دونوں عہد ناموں کے نبی نئے اِسرائیل کو تشکیل دے رہے ہوں۔ جبکہ دوسرے

اِسے اُس عمل کے طوردیکھتے ہیں جہاں خُدا دُعا کے ذریعے سے لوگوں کو روحانی طور قوموں کے درمیان بیدار کر رہا ہو۔ آخری دور میں بھی لوگ خُدا کے خادمین کو بے پناہ شفاعتی دُعائیں کرتے دیکھیں گے، جو مسیح کی دوسرے آمد کا سبب بنیں گیں۔

مُکاشفہ 12 باب میں دردِزَہ سے دو چار عورت جِس بھی چیز کی نشاندہی کر رہی تھی، ہمارا بُنیادی مقصد اُسکے اِس عمل کے وقت کو دیکھنا ہے۔ اِس عورت کا عکس ، اُس عظیم مُشکت کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو مسیح نے ہماری خاطر خُدا کے حضور برداشت کی ۔
ہمیں چاہیے کہ ہم نیکی اور ایمان سے سرشار ہو کر خُدا کے حضور دُعا کریں۔ یہ وہ وقت ہے جو مسیح کو ہماری زندگیوں میں لانے کے لیے ایک نئی جہت بخشتا ہے۔

وہ عورت جو دردِ زَہ میں مبتلا ہے، وہ بندھنوں کو توڑنے میں خُدا کے مقاصد کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے: '' ۔ ۔ ۔ اور دردِ زَہ میں چلاتی تھی اور بچہ جننے کی تکلیف میں تھی''(آیت 2)۔ اور وہ بیٹا جنی یعنی وہ لڑکا جو لوہے کے عصا سے سب قوموں پر حکومت کرے گا ۔ ۔ ۔ ''(آیت 5)۔
یہی حال ہمارے ساتھ بھی ہے۔ خُدا نے ہمیں جو رویا دی ہوسکتا ہے کہ یہ دُنیا پر حکومت نہ کرے ، لیکن جب یہ ظاہر ہوگا، ت یہ مسیح ہوگا؛ جو دُنیا پر حکومت کریگا۔ وہ ہمارے ایمان ، تیاری اور پُر زور دُعاؤں کے بغیر ظاہر نہیں ہوگا۔

کام کرنے ، خدمت کرنے اور منظرِ عام پر آنے کا ایک وقت ہے۔ ایک وقت ہے یہ بھی ہے جب خُدا کا مقصد ہمارے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ یہ وقت پوری لگن سے دُعا کرنے کا وقت ہے۔
یہ بات نہایت اہمیت کی حامِل ہے کہ گُزشتہ سالوں میں خُدا نے کلیسیاؤں میں گرم جوشی کے ساتھ دُعا کرنے کی تحریک دی۔ خُدا کی خدمت سے بڑھ کر کوئی کام نہیں ،لیکن نیا مقصد نئے سِرے سے پیدا ہونا ہے۔ یہ وقت دُعا کرنے کا ہے۔

03/19/2026
09/26/2025

My prayer is that this will be both informative and comforting for you. God continues to speak in profound ways today, and I would like to share one of the specific ways He does so.

09/13/2024
God inhabits our gratitude as sure as Hell inhabit pur complaints.It is here that we can especially see that the greates...
09/04/2024

God inhabits our gratitude as sure as Hell inhabit pur complaints.

It is here that we can especially see that the greatest evil can be found where the greatest good has been corrupted.

To complain is to ignore God's love and power to help us through a difficult time and place.

What is sad is when it inevitably spills out on others..
Lets focus on the possibilities of great good, looking to see with His eyes.

Trusting our imagination is critical in this hour as a divine means of God speaking to us. So be careful with what you see and hear, to avoid too much noise drowning out that still small voice. Competing for that occupation of our mind and thoughts.

So let's worship the Lord and give him thanks, for He is good... Whom Hell can not stop

Today's audio message;
https://drive.google.com/file/d/16Bqb904nsR9JKW8t4sZfa9B6RaeoiYCe/view?usp=drivesdk

Please click the down arrow for it to load and play

This is a word for; more than just a few of you.

It's not too late. God loves to take the late and the tired and do something exciting that only He can do.
So believe him, and ask Him what you should ask for.

Have a blessed weekend

20___________________اُسکے جلال کا جامہ پہنےمسیح کی روح جو آسمان پرہے وہی روح ہم میں بستی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ، آسمان پر...
06/18/2024

20
___________________
اُسکے جلال کا جامہ پہنے

مسیح کی روح جو آسمان پرہے وہی روح ہم میں بستی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ، آسمان پر مسیح جلال کا جامہ پہنے ہوئے ہے؛ اور زمین پردہ ہمارے ناقص بدن میں آیا ۔
لیکن مسیح چاہے آسمان میں ہو یا زمین پر ،وہ یکساں ہے۔پالُس رسول کلیسیاء پر اُسکی قُدرت اور جلال کو بخوبی ظاہر کرتے ہیں۔ اُس نے کہا، ''تُم اپنے آپ کو آزماؤ کہ ایمان پر ہو یا نہیں۔ اپنے آپ کو جانچو۔ کیا تُم اپنی بابت یہ نہیں جانتے کہ یِسُوعؔ مسیح تُم میں ہے؟ ورنہ نامقبول ہو''(2 کرنتھیوں 13:5)۔
دوسری جگہ پالُس رسول نے اپنی روحانی زندگی کو ظاہر کرتے ہوئے ''مسیح کے ساتھ صلیب اُٹھا ئی '' ہے۔ پالُس رسول کہتے ہیں،

مَیں مسیح کے ساتھ مصلوب ہُؤا ہوں اور اَب مَیں زِندہ نہ رہا بلکہ مسیح مُجھ میں زندہ ہے اور مَیں جو اَب جِسم میں زندگی گُذارتا ہوں تو خُدا کے بیٹے پر ایمان لانے سے گُذارتا ہُوں جِس نے مُجھ سے محبت رکھی اور اپنے آپ کو میرے لِئے موت کے حوالہ کردیا ۔ ۔ ۔ ''(گلتیوں 2:20،21)۔
اِس میں خُدا کے کِس فضل کے بارے بیان کیا گیا ہے؟ جِس پُرانی گُنہگار شخصیت کو ہم جانتے تھے وہ فنا ہو گئی تاکہ مسیح خود ہماری زندگیوں میں اپنے جلال کو ظاہر کرے۔ ابتدا ہی سے یہ خُدا کا منصوبہ تھا ۔ خُدا اِس دُنیا کی انتہا تک اِس مقصد کو پورا کریگا۔ مُکاشفہ 10:7 میں پڑھتے ہیں،''بلکہ ساتویں فرشتہ کی آواز دینے کے زمانے میں جب نر سِنگا پھونکنے کو ہوگا تو خُدا کا پوشیدہ مطلب اُس خوشخبری کے موافق جو اُس نے اپنے بندوں نبیوں ک دی تھی پورا ہوگا ''۔ خُدا کا بھید '' کیا ہے؟ خُدا کا بھید '' مسیح جو جلال کی اُمید ہے تُم میں رہتا ہے''(کُلسیّوں 1:27)۔
آپ دیکھیں گے کہ وہ وقت آئے گا جب خُدا کا بھید ،بھید نہ رہے گا۔ جب ہماری تیاری کا وقت پوراہوگا، اور ہم اُسکی مانند ہونگے۔ ہماری فانی زندگیاں فنا ہونگیں ،اور ہم لافانی جلال کا جامہ پہنیں گے۔ جِس طرح مسیح نے بدن کا جامہ پہنا ،اِسی طرح ہم اُسکی مانند جلال کا جامہ پہنیں گے۔ پس ہمارا نیک مقصد اپنے دِلوں کو خُداوند کی دوبارہ آمد کے لیے تیار کرنا ہے۔ خُدا کے فضل کی رویا کے ساتھ ،ہم صلیب اُٹھائیں گے،یہ جانتے ہوئے کہ اب جو ہم مصیبت اُٹھارہے ہیں خُدا اِسکے عوض ہمیں ہماری سوچ سے بڑھ کر اپنے فضل سے نوازے گا!پالُس رسول فرماتے ہیں:
''ہم ہر وقت اپنے بدن میں یِسُوؔع کی موت لِئے پھِرتے ہیں تاکہ یِسُوعؔ کی زندگی بھی ہمارے بدن میں ظاہر ہو۔ کیونکہ ہم جیتے جی یِسُوعؔ کی خاطر ہمیشہ موت کے حوالہ کِئے جاتے ہیں تاکہ یِسُوعؔ کی زندگی بھی ہمارے فانی جِسم میں ظاہر ہو''۔
ـــــــــــــــ 2 کرنتھیوں 4:10،11
یِسُوعؔ کی زندگی – وہ ہمارا نِشان اور ہمارا فضل ہے ! 'جِس
کے لِئے اُس نے تُمہیں ہماری خوشخبری کے وسیلہ سے بُلایا تاکہ تُم ہمارے خُداوند یِسُوعؔ مسیح کا جلال حاصِل کرو''(تھِسلُنیکیوں2:14)۔
ابتدا ہی سے یہ خُدا کا منصوبہ تھا
کہ وہ اِنسان کو اپنی شبیہ پر ڈھالے۔
اِسکے علاوہ اور کوئی منصوبہ نہ تھا۔
بیشک اُسکی آمد جلد ہے''یہ اُس دِن ہوگا جب کہ وہ اپنے مُقدسوں میں جلال پانے اور سب ایمان لانے والوں کے سبب سے تعجب کا باعث ہونے کے لیے آئے ۔ ۔ ۔ ''(تھِسلُنیکیوں 1:10)۔'' کیونکہ تُم کر گئے اور تُمہاری زِندگی مسیح کے ساتھ خُدا میں پوشیدہ ہے۔جب مسیح جو ہماری زندگی ہے ظاہر کیا جائے گا تو تُم بھی اُس کے ساتھ جلال میں ظاہر کِئے جاؤ گے''(کُلسیّوں 3:3،4)۔ یہ وہ زندگی ہے—مسیح کی زندگی – جو حق تعالیٰ کا پردہ ہے۔ یہ کوئی ''پیچیدہ تعلیم''نہیں، بلکہ یہ بُنیادی مسیحت ہے! ہم 'زندہ خطوط '' ہیں ،جِسے تمام لوگ جانتے اور پڑھتے ہیں۔ کلیسیاء مسیح کی وہ صورت ہے جِسے دُنیا دیکھی ہے! کیا یِسُوعؔ نے خود نہیں کیا،''اَے باپ ! مَیں جانتا ہوں کہ جنہیں تُونے مُجھے دیا ہے جہاں مَیں ہُوں وہ بھی میرے ساتھ ہوں تاکہ مَیرے اُس جلال کو دیکھیں جو تُو نے مجھے دیا ہے کیونکہ تُونے بنایِ عالم سے پیشتر مُجھ سے محبت رکھی''(یُو حنا 17:24)؟
اگرچہ ابھی اُسکے جلال کو دیکھنا باقی ہے تو بھی ہمیں اِس سے قبل اپنی زندگیوں میں اُسکے جلال کو حاصِل کرنا ہے۔اُس نے یہ بھی کہا:
اور وہ جلال جو تُونے مُجھے دِیا ہے مَیں نے اُنہیں دِیا ہے تاکہ وہ ایک ہوں جیسے ہم ایک ہیں۔
مَیں اُن میں اور تُو مُجھ میں تاکہ وہ کامِل ہوکر ایک ہوجائیں اور دُنیا جانے کہ تُو ہی نے مُجھے بھیجا اور جِس طرح کہ تُونے مُجھ سے محبت رکھی''۔
ـــــــــــ یُوحنا 17:22،23
ہمارا مقصددُنیا پر مسیحت کو ظاہر کرنا نہیں بلکہ مسیح کے جلال کو ظاہر کرنا ہے۔ ہمیں مسیح کی نافرمانی کی خاطر نہیں بُلایا گیا بلکہ اِس لیے کہ وہ ہم میں سے ہوکر اِنسانیت پرظاہر ہوسکے۔
دورِ حاضِر میں ہر شخص میں دو قسم کے مسیحی ہیں: ایک یِسُوعؔ اور دوسری اُسکی اپنی ذات ۔ ہم سب کو سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اُس میں کِس طرح رہیں۔ یِسُوعؔ نے کہا، '' اُس روز تُم جانو گے کہ مَیں اپنے باپ میں ہُوں ااور تُم مُجھ میں اور مَیں تُم میں''(یُوحنا 14:20)۔ وہ دِن آتا ہے، بلکہ آج ہی سے ،جب آپ اِس قیمتی سب کو جان جائیں کہ آپ مسیح میں ہیں اور مسیح آپ میں ہے۔ ''یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا کہ اگر کوئی مُجھ سے محبت رکھے تو وہ میرے کلام پر عمل کرے گا اور میرا باپ اُس سے محبت رکھے گا اور ہم اُس کے پاس آئیں گے اور اُس کے ساتھ سکونت کریں گے''یُوحنا 14:23)۔ ہماری زندگی ،جو کبھی بغاوت اور خود پسندی سے بھری پڑی تھی ،اب خُدا کی بندگی ،اور اُسکے جلال سے معمور ۔

Robed in His Glory | خُدا کے جلال کا جامہ پہنے | Love of God | Bible Study Welcome to our Bible study session where we delve into the...

Address

With The Saints In Glory
Double Oak, TX
75077

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yeshua Al Masih loves Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category