Islamic Scholars

Islamic Scholars

Share

Islamic Scholars Page upload daily basis new Islamic trending video.

02/22/2025

❤️❤️❤️

03/25/2024

03/14/2024

11/25/2023

روضہ اقدس کا دروازہ خود بخود کھل گیا اللہ عنہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے بیان فرمایا : جب حضرت ابو بکر صدیق رضی کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھے اپنے سرہانے بٹھایا اور فرمایا : اے علی جب میں فوت ہو جاؤں تو آپ خود مجھے اپنے ان ہاتھوں سے غسل دینا جن ہاتھوں سے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دیا تھا اور مجھے بھی وہی خوشبو لگانا اور میری میت حضور صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اقدس کے پاس لے جانا اگر تم دیکھو کہ خود بخود دروازہ کھول دیا گیا ہے تو مجھے وہاں دفن کر دینا ورنہ واپس لا کر عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا اس وقت تک کہ جب اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ نہ (یعنی قیامت نہ آ جائے۔ اور پھر ان کی خواہش کے مطابق ہی انہیں غسل اور متبرک خوشبو والا کفن دیا گیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے میں نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر پہنچ کر اجازت طلب کی اور عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ ابو بکر ہیں جو اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ پھر میں نے دیکھا کہ روضہ اقدس کا دروازه (خود بخود) کهل گیا اور میں نے سنا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے۔ حبیب کو اس کے حبیب کے ہاں داخل کردو۔ بے شک حبیب بھی ملاقات حبیب کے لیے مشتاق فرما دے ہے۔ الله تعالى أخرجه ابن عساكر في تاريخ مدينة دمشق، 30/436، 492/2 والسيوطي في الخصائص الكبر




11/18/2023

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھ کر کبھی کبھار بات چیت اور مزاح فرمایا کرتے تھے۔ یوں بھی ہوتا کہ وہ مجلس مستقل ایک واقعہ اور قصہ بن جایا کرتی۔
ایک مرتبہ نبی کریمؐ اپنے رفقاء سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمانؓ کی معیت میں علیؓ کے گھر تشریف لے گئے۔
سیدنا علیؓ کی اہلیہ سیدہ فاطمہؓ نے شہد کا ایک پیالہ ان حضرات کی مہمان داری کی خاطر پیش کیا۔ شہد اور خوبصورت چمکدار پیالہ۔۔۔ اتفاق سے اس پیالے میں اک بال گرگیا۔
آپؐ نے وہ پیالہ خلفائے راشدین کے سامنے رکھا اور فرمایا: آپ میں سے ہر ایک اس پیالے کے متعلق اپنی رائے پیش کرے۔
ابوبکر صدیقؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک مومن کا دل اس پیالے کی طرح چمکدار ہے، اور اس کے دل میں ایمان شہد سے زیادہ شیریں ہے، لیکن اس ایمان کو موت تک باحفاظت لے جانا بال سے زیادہ باریک ہے۔
عمرؓ فرمانے لگے کہ حکومت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور حکمرانی شہد سے زیادہ شیریں ہے لیکن حکومت میں عدل وانصاف کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
عثمانؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک علم دین، اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے، اور علم دین سیکھنا شہد سے زیادہ میٹھا ہے لیکن اس پر عمل کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
علیؓ نے فرمایا: میرے نزدیک مہمان اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور اس کی مہمان نوازی شہد سے زیادہ شیریں ہے اور ان کو خوش کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
سیدہ فاطمہؓ فرمانے لگیں کہ یارسول اللہ، اگر اجازت ہو تو میں بھی کچھ عرض کروں؟ آپؐ کے اجازت دینے پر فرمانے لگیں کہ عورت کے حق میں حیا اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے۔ اور اس کے چہرے پر پردہ شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور غیر مرد کی اس پر نگاہ نہ پڑے یہ بال سے بھی زیادہ باریک ہے ۔
کیا خوب ہی محفل تھی، جب خلفائے راشدین اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو آپؐ کی طرف متوجہ ہوئے۔
ادھر سرکار دو عالمؐ کے لب مبارک ہے تو زبان نبوت سے یہ الفاظ مبارک نکلے کہ معرفت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور معرفت الٰہی کا حاصل ہونا اس شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اور معرفت الٰہی کے بعد اس پر عمل کرنا، بال سے زیادہ باریک ہے۔
ادھر زمین پر یہ مبارک محفل سجی تھی ادھر رب ذوالجلال سے جبریلؑ بھی اجازت لے کر آپہنچے اور فرمانے لگے کہ ’’میرے نزدیک راہ خدا چمکدار سے زیادہ روشن ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور اپنا مال و اپنی جان قربان کرنا شہد سے زیادہ شیریں اور اس پر استقامت بال سے زیادہ باریک ہے۔‘‘
جب زمین پر سجی اس محفل میں سب اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو جبریل امین فرمانے لگے کہ یارسول! اللہ تعالیٰ بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں، فرمایا کہ جنت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور جنت کی نعمتیں اس شہد سے زیادہ شیریں ہیں، لیکن جنت تک پہنچنے کے لیے پل صراط سے گزرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
بلاشبہ یہ مجلس بھی مبارک اور ہر ایک کی گفتگو بھی مبارک، اس مجلس میں جہاں آقا نامدارؐ تھے وہیں صحابہ بھی تھے، آپ کی یہ مجلس اور اس میں ہونے والی گفتگو ہم سب کیلیے مشعل راہ ہے..!!

سن کے احوال ان کی محفل کا
دل یہ تڑپے کہ میں وہیں ہوتا

11/16/2023

*ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺑﻦ ﺟﺮﺍﺡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ••┈┈•••○○❁⭕❁○○•••┈┈•• ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺑﻦ ﺟﺮﺍﺡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺷﺎﻡ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍکثر ﻋﻼﻗﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮨﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺭﺩﻥ، ﺷﺎﻡ، ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ اور ﻟﺒﻨﺎﻥ، لیکن ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻋﻼﻗﮯ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺻﻮﺑﮧ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺑﻦ ﺟﺮﺍﺡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﺍﺳﮑﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺗﮭﮯ.. ﺷﺎﻡ ﮐﺎ ﺻﻮﺑﮧ ﺑﮍﺍ ﺯﺭﺧﯿﺰ ﺗﮭﺎ، ﻣﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﺭﯾﻞ ﭘﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻡ ﮐﺎ ﺳﺮﺳﺒﺰ ﻭ ﺷﺎﺩﺍﺏ ﻋﻼﻗﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﮐﻤﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﯾﮏ مرتبہ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺷﺎﻡ ﺩﻭﺭﮦ ﭘﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻئے۔ دورہء شام ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ کہ : ﺍﮮ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﭼﺎہتا ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺎئی ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮں ﺟﮩﺎﮞ ﺗﻢ ﺭہتے ہو ...؟ ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮍے ﺻﻮﺑﮧ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺑﻦ ﮔﯿﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﻓﺮﺍﻭﺍﻧﯽ ہے، ﺍﺱ لیے ﺍﻧﮑﺎ ﮔﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ چاہا کہ آیا ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ اس مال و زر کی سرزمین پر اپنا رہن سہن کیسا رکھا ہوا یے۔ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ : " ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮯ ﺟﺐ ﺁﭖ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﭽﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ.. " ﺗﻮ جناب ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ : ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎہتا ہوﮞ " ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺐ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺧﺘﻢ ہو گئی ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ فاروق ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ کہ : ﮐﮩﺎﮞ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭہے ہو ...؟ " ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﺑﺲ ﺍﺏ ﺗﻮ ﻗﺮﯾﺐ ہے " ﭘﻮﺭﺍ ﺩﻣﺸﻖ ﺷﮩﺮ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺳﮯ ﺟﮓ ﻣﮕﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ، ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﺍ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﺳﻮائے ﺍﯾﮏ ﻣﺼﻠّﮯ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : " ﺗﻢ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ہو ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎﺯﻭﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺮﺗﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ نہیں ہے، ﺗﻢ یہاں ﮐﯿﺴﮯ ﺭہتے ہو ...؟ " ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ کہ : " ﺍﮮ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ! ﺍﻟﺤﻤﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺿﺮﻭﺭﺕ کا ﺳﺎﺭا ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻣﯿﺴﺮ ہے، ﯾﮧ ﻣﺼﻠﯽ ہے ﺍﺱ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺘﺎ ہوں ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﺎ ہوں ... " ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻭﭘﺮ ﭼﮭﭙﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﻧﮑﺎﻻ ﺟﻮ ﻧﻈﺮ نہیں ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ : ﺍَﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺑﺮﺗﻦ ﯾﮧ ہے " ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺍﺱ ﺑﺮﺗﻦ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﺮﺍ ہوﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﮐﮭﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﺑﮭﯿﮕﮯ ہوئے ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ : " ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺗﻮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺭہتا ہوﮞ، ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻓﺮﺻﺖ ﻧﮩﯿﮟ ہوﺗﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ، ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﻮ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ہوں ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺳﻮﮐﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﺑﻮ ﺩﯾﺘﺎ ہوں ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺳﻮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ہوں ... " ﺟﻨﺎﺏ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁ ﮔﺌﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ : " ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ہی ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﮑﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﭽﻮﮌﻧﮯ کے ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ﮔﺎ ... " ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ فاروق ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ : " ﺍﮮ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﯿﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﺱ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﯽ ﺭﯾﻞ ﭘﯿﻞ ﻧﮯ ہم ﺳﺐ ﮐﻮ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ، ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺗﻢ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ہو ﺟﯿﺴﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻧﮯ ﺗﻢ ﭘﺮ ﮐﻮئی ﺍﺛﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﻻ
islamic 💯🙏🕋

Want your school to be the top-listed School/college in American Canyon?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


American Canyon, CA