08/10/2024
خود کو چاہے جتنا بھی بڑا سمجھو تو یاد رکھنا ایک نا ایک دن اپنے سے کمزور شخص کے بھی مختاج ہونگے۔
Lead like a king. Fight like a champion. Speak like a philosopher.
08/10/2024
خود کو چاہے جتنا بھی بڑا سمجھو تو یاد رکھنا ایک نا ایک دن اپنے سے کمزور شخص کے بھی مختاج ہونگے۔
02/10/2024
افسوس ناک خبر!
مبارک ہو!آج پورا پچاس50 سال مکمل ہوگیا (7 ستمبر1974)قادیانیوں کوکافرقرار دینےکااورآجکادن ہمارےلئےخوشی کا دن ہےاوراس دن کو ہم یوم الفتح کے نام سےبھی منایاجاسکتاہے۔
04/05/2024
جب عثمانی ترکوں کے پاس کوئی مہمان آتا تو وہ اس کے سامنے قہوہ اور سادہ پانی پیش کرتے
اگر مہمان پانی کی طرف ہاتھ بڑھاتا وہ سمجھ جاتے کہ مہمان کو کھانے کی طلب ھے تو پھر وہ بہترین کھانے کا انتظام کرتے
اور اگر وہ قہوہ کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو وہ جان لیتے کہ مہمان کو کھانے کی حاجت نہیں ھے
اگر کسی گھر کے باہر پیلے رنگ کے پھول رکھے نظر آتے تو اس کا مطلب ہوتا کہ اس گھر میں مریض موجود ھے آپ اس مریض کی وجہ سے گھر کے باہر شور شرابہ نہ کریں اور عیادت کو آسکتے ہیں
اور اگر گھر کے باہر سرخ پھول رکھتے ہوتے تو یہ اشارہ ہوتا کہ گھر میں بالغ لڑکی ہے لہذا گھر کے آس پاس بازاری جملے نہ بولے جائیں
اور اگر آپ پیغامِ نکاح لانا چاہتے ہیں تو خوش آمدید۔
گھر کے باہر دو قسم کے ڈور بیل (گھنٹی نما) ہتھوڑے رکھے ہوتے
ایک بڑا ایک چھوٹا
اگر بڑا ہتھوڑا بجایا جاتا تو اشارہ ہوتا کہ گھر کے باہر مرد آیا ھے لہذا گھر کا مرد باہر جاتا تھا
اور اگر چھوٹا ہتھوڑا بجتا تو معلوم ہوتا کہ باہر خاتون موجود ہے لہذا اس کے استقبال کے لئیے گھر کی خاتون دروازہ کھولتی تھی
عثمانی ترکوں کے صدقہ دینے کا انداز بھی کمال تھا
کہ
ان کے مالدار لوگ سبزی فروش یا دوکانداروں کے پاس جا کر اپنے نام سے کھاتہ کھلوا لیتے تھے
اور جو بھی حاجت مند سبزی یا راشن لینے آتا تو دوکاندار اس سے پیسہ لیئے بغیر اناج و سبزی دے دیتا تھا یہ بتائے بغیر کہ اس کا پیسہ کون دے گا
کچھ وقت بعد وہ مالدار پیسہ ادا کر کے کھاتہ صاف کروا دیتا
اگر کسی عثمانی ترک کی عمر تریسٹھ سال سے بڑھ جاتی اور اس سے کوئی پوچھتا کہ آپکی عمر کیا ہے؟
تو وہ
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حیاء و ادب کرتے ہوئے یہ نہ کہتا کہ میری عمر تریسٹھ سال سے زیادہ ہوگئی
ہے
بلکہ یہ کہتا
بیٹا ہم حد سے آگے بڑھ چکے ہیں
کیسا ادب کیسا عشق تھا ان لوگوں کا
کیسی بہترین عادات تھی ان لوگوں کی
یہی وجہ تھی کہ عالم کفر نے سلطنت عثمانیہ کے غداروں سے مل کر ٹکڑے کر ڈالے ۔
میرا دل کرتا ہے کہ اس پوسٹ کو میں ہر مسلمان تک پہنچاوں تاکہ تمام مسلمان اپنی تاریخ کو پڑھیں اور پھر سے یہ اصول اپنائیں انشاءاللہ
اللہ پاک ہم سب کو صراط المستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
03/05/2024
Stay Just For A Few Second
یہ میرے دوست کو ایک میسج آیا ہے جیسے آپ دیکھ بہت ہنسوگے
😆 😂 😆 😆 😂
03/05/2024
Stay Just For A Few Second
😆😂 😂 😆
معذرت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ تبلیغی جماعت کے80 فیصد لوگ سیکولر جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں
اور اسلام کی دعوت دینےکیلئے افریقہ جاتے ہیں
تلخ حقیقت
25/04/2024
ضلع #خیرپور میرس کے سالانہ امتحانات میں آٹھویں جماعت کے پرچہ میں کے بارے میں بکواس نامنظور اس پر فوری طور پر ایکشن لیا جائے
سب دوستوں کو گذارش ہے کہ اپنے اپنے فیسبک آئڈی پر یے کاپی پیسٹ کر کے پوسٹ رکھیں ۔۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا
17/04/2024
بانی جامعہ اسلامیہ دارالعلوم سرحد شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی سید ایوب جان بنوری رحمہ اللہ فاضل دارالعلوم دیوبند (انڈیا)
حضرت بنوری رحمہ اللہ کی پیدائش 21 رمضان المبارک 1330ھ بمطابق 12 ستمبر 1912ء بروز چہار شنبہ دن کے ایک دو بجے کے درمیان بنوری سٹریٹ بھانہ ماڑی پشاور شہر میں اپنے گھر پر ہوئی۔ آپکے والد گرامی کا نام سید فضل خالق بنوری ہے، نو آپکے پیدائش کے وقت حیات تھے۔ آپ کے جد امجد سید آدم بنوری جو کہ سر ہند قصبہ بانور میں رہتے تھے ۔ انہی کی نسبت سے آپ کو بنوری کہا جاتا ہے ۔ آپکا آبائی وطن پشاور ہے تاہم آپ کے خاندان کی شاخیں وطن عزیز کے مختلف شہروں میں پھیلی ہوئی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شجرہ نسب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کا سلسلہ نسب حضرت آدم بنوری رحمہ اللہ تک جا پہنچا ہے اور ان سے آگے حضرت حسین رضی اللہ عنہ تک جا پہنچا ہے جو حسب ذیل شجرہ کے مطابق تحریری طور پر موجود ہے ۔
حضرت آدم بنوری رحمہ اللہ _____: محمد اولیاء ____عبدالاحد ____ رحمت اللہ _____ غلام حبیب _____میر موسیٰ ______ میر بادشاہ _____میر نادر شاہ _______ فضل ربانی _____فضل خالق ________________ حضرت علامہ سید ایوب جان بنوری رحمہ اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابتدائی تعلیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر اپنے والد ماجد سے حاصل کی اور پھر مسجد غلام جیلانی رح ( جو کہ آج کل جامعہ شاہ ولی اللہ رح کے نام سے مشہور ہے) اندرون آسیہ گیٹ میں حاصل کی ۔
قرآن مجید مشہور عالم دین المعروف " ہشتنگری مولانا " سے پڑھا اور پھر 1344ھ میں 14 سال کی عمر میں درس نظامی شروع کیا ۔ حضرت مولانا ایوب شاہ صاحب رح سے حسامی ، ہدایہ ، اور ملا حسن تک کتابیں پڑھیں اور پھر 1349 ھ میں 19 سال کے عمر میں اپنے پھوپھی زاد بھائی علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ (بانی جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی) کی تحریک پر دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور اپنی تعلیم کے بقیہ سال دارالعلوم دیوبند کے ممتاز اساتذہ کرام سے شرف تلمذ حاصل کی ۔
اکابرین کے اسمائے گرامی جن سے آپ نے شرف تلمذ حاصل کیا ۔
1: شیخ الاسلام اسیر مالٹا حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ
2: حضرت مولانا محمد ابرہیم بلیاوی رحمہ اللہ
3: حضرت مولانا سید اصغر حسین رحمہ اللہ
4: حضرت مولانا مفتی ریاض الدین رحمۃ اللہ علیہ
5: حضرت مولانا اعزاز علی رحمہ اللہ
6: حضرت مولانا رسول خان ہزاروی رحمہ اللہ
7: حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ سے بھی چند اسباق پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ درسی خدمات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فراغت کے بعد اپنے چچا جناب سید فضل حمدانی بنوری رحمہ اللہ کے مدرسہ رفیع الاسلام میں تدریس کا آغاز کیا ۔صبح کے نماز کے بعد درس وتدریس کا سلسلہ شروع ہوتا جو کہ نماز ظہر تک جاری رہتا تھا ۔ اس دورانیہ میں تقریباً 23 کتابیں پڑھایا کرتے تھے ۔ جسکے بعد باقاعدہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم سرحد معروض وجود میں ایک مستقل عمارت کی شکل میں ایا۔
جس میں آپ نے آخری دم تک تدریسی خدمات انجام دیئے۔
۔۔۔۔۔۔ سیاسی سرگرمیاں۔ ۔۔۔۔۔۔۔
دور طالب علمی میں پشاور میں علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللّٰہ علیہ کی صدارت میں ایک جلسہ منعقد ہوا تھا ۔
اسی کنونشن نے آپ کی سیاسی شعور کو جلا بخشی اور علمی سیاست میں قدم رکھنے کا عزم مصمم کیا ۔
آپ نے علمی سیاست میں باقاعدہ حصہ دارلعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے لیا۔جس میں آپ صوبائی ناظم اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔ قیدوبند کی صعوبتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے پوری زندگی میں دو مرتبہ قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ پہلی مرتبہ قومی اتحاد کے دور میں تحریک نظامی مصطفی میں اور دوسری مرتبہ تحریک بحالی جمہوریت میں دونوں مرتبہ ہری پور جیل میں چند ماہ قید کاٹی ۔
۔۔۔۔۔۔۔ بیعت و سلوک ۔۔۔۔۔۔۔۔
دورۂ حدیث کے دوران حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے آپ نے بیعت ہونے کی درخواست کی تھی مگر حضرت مدنی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے فراغت کی شرط لگائی تھی ۔ فراغت کے بعد حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے باقاعدہ بیعت ہوئے اور وظائف وغیرہ سلسلہ چشتیہ میں لے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ تاریخ وفات۔ ۔۔۔۔۔۔
12 اگست 1998
اللہ رب العزت حضرت صاحب کا قبر انوارات سے بھر دے
17/04/2024
ڈرائیور بیچارے کی غلطی کہاں ہے اس میں؟ اس نے اسلام آباد جانا تھا، جہاں اسلام آباد جانے کا نشان نظر آیا اس نے گاڑی ادھر چڑھا دی۔
اب آگے روڈ ہی ختم تو غلطی CDA کی ہوئی نا۔
Beauty of the world World Reality
دریا کابل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نوشہرہ
سیلاب آنے کا خطرہ ہے۔
اللہ خیر کرے۔آمین
Shaidu News Nowshera Beauty of the world Hafiz Munir حافظ منیر احمد Maulana Asad Mahmood BBC Pashto PSG - Paris Saint-Germain JUI Nowshera