Physics Mentor

Physics Mentor Hi and Welcome to my page.

09/04/2022
Another Legend goes to Jannah
10/10/2021

Another Legend goes to Jannah

06/10/2021

🌹فزکس2021کانوبلپرائز

پچھلے سال کی طرح اس بار بھی فزکس کا نوبل انعام دو حصوں میں بٹ کر تین لوگوں کو ملا۔
یہ نوبل انعام اجتماعی طور پر statistical mechanics اور گلوبل وارمنگ کے نام ہوا ہے۔

نوبل پرائز کا پہلا آدھا حصہ میکس پلانک انسٹیٹیوٹ (جرمنی) کے #کلاؤزہیسلمین اور پرنسٹن یونیورسٹی (امریکہ) کے جاپانی نژاد نے شئیر کیا۔
ان دونوں کا کام weather اور climate پہ زمینی کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کے اثرات پر تھا جبکہ
دوسرا آدھا حصہ روم (اٹلی) کے سائنس دان
جیورجیپاریسی کو دیا گیا جنکا کام کمپلیکس فزیکل سسٹمز پہ تھا۔

تقریباً دو سو سال پہلے ایک سائنسدان فورئیر نے دریافت کیا کہ سورج کی روشنی زمین سے ٹکرا کر واپس ہماری فضا میں dark heat کے طور پر سٹور ہو جاتی ہے۔ اس dark heat کو آج ہم گرین ہاؤس ایفیکٹ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ ایفیکٹ گرین ہاؤس گیسوں کیوجہ سے ہوتا ہے جن میں کاربن ڈائی آکسائڈ گیس، میتھین گیس اور پانی کے بخارات (یعنی ہائیڈروجن+آکسیجن) وغیرہ شامل ہیں۔
سائیوکورومنابے نے 1950 میں 1D کمپیوٹر سمولیشنز (اور 1975 میں 3D) سے یہ ثابت کیا کہ کس طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے بڑھنے سے ہماری زمین کا ٹمپریچر بڑھ جاتا ہے۔ اسکے گرافز بتاتے ہیں کہ اگر فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ دوگنا ہو جاۓ تو زمین کا درجہ حرارت تقریباً °2 سینٹی گریڈ بڑھ جاتا ہے۔ منابے کے انہیں ماڈلز کی بنیاد پر موجودہ climates کے اندازے لگائے جاتے ہیں۔
اسی طرح کلاؤزہیسلمین نے ایک ایسا ماڈل پیش کیا جس میں آب و ہوا (climate) اور موسم (weather) کے درمیان باہمی تعلق بیان کیا گیا اور بتایا گیا کہ کیسے زمین پر موجود کارخانے اور فیکٹریاں کاربن ڈائی آکسائڈ گیس پیدا کر کر کے فضا میں بھیج رہی ہیں جو گلوبل وارمنگ کا باعث بن رہی ہیں۔ کلاؤزہیسلمین نے آب و ہوا اور موسمی تبدیلیوں کا بنیادی عنصر انسانی (کارخانوں کی پیدا کردہ) کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کو ٹھہرایا ہے کیونکہ قدرتی طور پر پائی جانیوالی نائٹروجن اور آکسیجن وغیرہ تو گلوبل وارمنگ میں بہت ہی کم حصہ دار ہیں۔

1980 میں جیورجی_پاریسی نے statistical modeling کی اور بتایا کہ بظاہر بے ترتیب رجحان (random phenomenon) کے اندر بھی مخفی قوانین اور ترتیب پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کمپلیکس فزیکل سسٹمز کا مطالعہ کیا جس کی بنیاد frustration phenomenon
پر کھڑی ہے۔ یہ frustration ایک خاص طریقہ کار ہے جس میں ہمارے کمپلیکس سسٹم کو سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ وہ کونسی state میں کھڑا ہوگا یا کونسی state میں جائیگا۔ spin glass اسکی ایک مثال ہے جس میں triangular lattice کے تیسرے کونے پر spin state کونسی ہو گی up یا down یہ سمجھنا مشکل ہے۔ کیونکہ anti-feromagnetic order میں کوئی بھی دو consective spin states ایک جیسی نہیں ہونی چاہئیں۔ تاہم اس گتھی کو سلجھا دیا گیا ہے۔ ایک اور مثال یہ ہے کہ اگر کسی مائع (liquid) کو ٹھنڈا کیا جاۓ تو وہ ٹھوس (solid) شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کی lattice کے اندر ایٹموں اور مالیکیولز کی ایک خاص ترتیب ہوتی ہے۔ مگر جب ہم کسی مائع (liquid) کو تیزی سے ٹھنڈا کر دیں تو وہ مائع اور ٹھوس (amorphous solid) بن جاتا ہے جس میں پارٹیکلز کنفیوز اور فرسٹریشن کا شکار ہوتے ہیں کہ وہ کس جگہ یا state میں رکیں گے۔ اس کیس میں سسٹم کے بہت سارے minima ہوتے ہیں۔ کس میں کون سا پارٹیکل جاۓ کچھ پتہ نہیں چلتا۔ جیورجی پاریسی نے انہی بے ترتیبیوں کے اندر مخفی قوانین اور ترتیبیں (hiden rules) دریافت کیے ہیں۔
جیورجی کے اس کام کا اطلاق بہت سارے کمپلیس سسٹمز پر ہو سکتا ہے مثلاً نیورو سائنس، موسمی تبدیلیاں، چڑیوں کے اڑتے ہوۓ بے ترتیب جھنڈ کے اندر مخفی ترتیبیں، ایٹم سے لیکر پلانیٹس وغیرہ تک اس کے استعمالات بتاۓ جا رہے ہیں۔

Heartily Welcome to my all new followers
11/02/2021

Heartily Welcome to my all new followers

28/10/2020

26/10/2020

Adress

Stockholm
00000

Telefon

+46734700000

Webbplats

Aviseringar

Var den första att veta och låt oss skicka ett mail när Physics Mentor postar nyheter och kampanjer. Din e-postadress kommer inte att användas för något annat ändamål, och du kan när som helst avbryta prenumerationen.

Kontakta Skolan/högskolan

Skicka ett meddelande till Physics Mentor:

Genvägar

Dela