بیرون ممالک رھنے اور بسنے والے والدین خود بھی اردو سیکھیں اور اپنے بچوں کو بھی ضرورسیکھائیں۔
Almi Urdu Dosti
یہ صفحہ اردو کے فروغ کے لیے بنایا گیا ھے ، اردو نہ صرف ایک زبان ھے بلکہ یہ ایک تہزیب ھے ۔
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے
سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے
تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی
تیری زلفوں کی مستی برستی رہی
تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی
جب گھلی تیری راہوں میں شام ستم
ہم چلے آئے لائے جہاں تک قدم
لب پہ حرف غزل دل میں قندیل غم
اپنا غم تھا گواہی ترے حسن کی
دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں پہ مارے گئے
نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی
تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی
کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے
ہجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کر چلے جن کی خاطر جہانگیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
20/11/2025
29/10/2024
Poetry event in Sweden | Tribute to Ahmad Nadeem Qasmi #AhmadNadeemQasmi #poetry #Pakistantodaynews
27/10/2024
گزشتہ روز سویڈن کے رالحکومت سٹاک ہولم میں عظمِ الشان مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا ۰مشاعرے کا انعقاد عالمی اُردو دوستی نے کیا مشاعرے کا آغاز تلاوت قرآن پا ک سے کیا گیا تلاوت قرآنِ پاک کی سعادت عضیر افضل نے حاصل کی۰مشاعرے میں پاکستان کے عظیم شاعر احمد ندیم قاسمی مرحوم کو حراج تحسین پیش کیا گیا ۰پروگرام میں لوگوں کی کثیرتعداد نے شرکت کی جس میں خواتین کی تعداد نمایاں تھی۰ مشاعرے میں اُردو اَدب کی بہتری پر گفتگو کی گئی ۰گفتگو کرنے والوں میں شامل تھے افشاں آئنور ڈنمارک ، چوھدری افتحار خیدر ،محمد عمران جماعتِ اسلامی ۰ ارشد خان ملتانی ، طارق محمود ، سردار تیمور کشمیر کونسل ۰مشاعرے کی نقابت کے فرائض سرفراز احمد اور روخی سیماب صاحبہ نے ادا کئے ۰ ،اس پروگرام میں سفیرِ پاکستان محترم بلال حئی صاحب نے مہمانِ حصوصی کے طور پر شرکت کی اور پاکستانیوں کو اُردو اَدب اور کشمیر کے مسئلے پر بریف کیا ۰ہر شاعر نے احمد ندیم قاسمی مرحوم کی اُردو اَدب کے لئے دی گئی حدمات پر گفتگو کی اور اپنا اپنا کلام بھی سنایا جس پر شعراء نے خوب داد وصول کی ۰شعراء میں شامل تھے جمیل احسن ،شکیل خان شکو ، سہیل صفدر ، رانا ثاقب افتخار،شہناز منہاس، سلطانہ ناز، زہد حسین زہد ،مرزا ابرار حسین،طاہر حفیظ تارڑ، اور عالیہ افضل اور آخر میں عالمی اُردو دوستی سٹاک ہولم کے صدر موسیٰ کاظم شاہ نے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور بعد میں تمام اخباب کو بہترین کھانا پیش کیا گیا ۔
25/10/2024
ہم عالمی اردو دوستی کی جانب سے اپنی معزز مہمان محترمہ افشاں آئنور صاحبہ کو سٹاک ہوم آمد پر خوشآمدید کہتے ہیں۔
واقف ہوں خوب عشق کے طرز بیاں سے میں
کہہ دونگا دل کی بات نظر کی زباں سے میں
میری وفا کا شوق سے تو امتحان لے
گزروں گا تیرے عشق میں ہر امتحاں سے میں
اب جاں بہ لب ہوں شدت درد نہاں سے میں
ایسے میں تجھ کو ڈھونڈ کے لاؤں کہاں سے میں
تیرا خیال تیری تمنا لئے ہوئے
دل بجھ رہا ہے آس کا شعلہ لئے ہوئے
حیراں کھڑی ہوئی ہے دو راہے پہ زندگی
ناکام حسرتوں کا جنازہ لئے ہوئے
ایسے میں تجھ کو ڈھونڈ کے لاؤں کہاں سے میں
آواز دے رہا ہے دل خانماں خراب
سینے میں اضطراب ہے سانسوں میں پیچ و تاب
اے روح عشق جان وفا کچھ تو دے جواب
ایسے میں تجھ کو ڈھونڈ کے لاؤں کہاں سے میں
اے حسن آشنا تیرے جلوؤں کی خیر ہو
بیگانہ ہو گیا ہوں غم دو جہاں سے میں
ساحر لدھیانوی
اردو کا قتل عام
از ریاض عاقب کوہلر
”انگریزی زبان، اردو زبان سے بہت زیادہ فصیح و بلیغ ہے“ ....یہ ایسا جملہ ہے جو جانے کب سے ہمارے دماغوں میں ٹھونسا بلکہ ٹھونکا جارہا ہے اور اس بات کو ہمارا ”تاریک خیال(لبرل) طبقہ" تو مانتا ہی ہے ،عام اور اردو سے محبت رکھنے والا طبقہ بھی اس سوچ کو جھٹلانے کی جرّات نہیں کرتا۔ اگر بات کی جائے میڈیکل،سائنس وغیرہ کی تو اسے حقیقت سمجھا جائے گا۔کیوں کہ مذکورہ علوم کی جدید تحقیقات میں استعمال ہونے والی زبان انگریزی ہے۔ ہر تحقیق اور کھوج جس کے لئے نئے الفاظ کی ضرورت پڑتی ہے وہ اسی زبان میں ڈھالی جاتی ہے تب اس میدان میں انگریزی کی برتری تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔اگر اردو کو ان علوم کے ماہرین کی سرپرستی میسر ہو جائے تو بلا شک و شبہ اردو بھی نئے الفاظ وتراکیب سے امیر ہو جائے گی۔لیکن بات اگر اظہار خیال کی کی جائے، داستان، حکایت اور قصے کہانیوں کی آجائے ،شاعری ،تحریر ور تقریر کی آجائے، تب انگریزی کو اردو پر فائق سمجھنا نا انصافی اور عدل کے منافی رائے ہوگی۔انگریزی کی برتری صرف اسماءکے مقابلے تسلیم کی جاسکتی ہے کہ چونکہ ایجادات ہمیشہ سائنسی تعلیم کے تابع ہوتی ہیں اس لیے ہر نئی بننے والی چیز کا نام انگریزی زبان سے ہو کر اردو میں شامل ہوتا ہے۔اس سے ہٹ کر انگریزی کی برتری تسلیم کرنا کم از کم مجھے گوارا نہیں ہے۔ بہت سے میدان ایسے بھی ہیں جہاں انگریزی ،اردو کے مقابل لولی لنگڑی ہیی نہیں مکمل بے بس نظر آتی ہے۔ جیسے رشتوں کو لے لیں انگریزی کے ایک ”کزن“ کے مقابلے میں اردو میں کتنے الفاظ موجود ہیں، چچا زاد، تایا زاد، خالہ زاد، پھوپی زاد........ یا انکل کے مقابلے میں چچا، ماموں، تایا، خالو، پھوپھا، سسٹر کی جگہ بہن، ہمشیرہ، باجی ،آپا ،بجیا، اپیا وغیرہ اگر لکھنے لگوں تو کئی صفحات کالے ہو جائیں۔
اردو کی بدقسمتی ہے کہ وطن عزیز میں میڈیا پر جو گروہ قابض ہے ایک تو وہ مخصوص مقاصد کو اردو کو پیچھے دھکیل رہے ہیں دوسرا ان کی اردو کے بارے سوچ اور علم اتنا محدود اور لاغر ہے کہ ہمیں اردو ہی لولی لنگڑی نظر آنے لگی ۔رہی سہی کسر ان لکھاریوں نے پوری کر دی جن کے پاس سندیں تو انگریزی تعلیم کی ہیں اور لکھتے وہ اردو میں ہیں۔ ان میں بڑی تعداد خواتین لکھاریات کی ہے کہ جو علمیت بگھارنے کو بے دریغ انگریزی الفاظ و تراکیب کا استعمال کرتی ہیں ۔ جب ہمیں سننے کو اردو انگریزی کا ملغوبہ ملے گا، پڑھنے کو ایسی تحاریر ملیں گی جن میں اردو کی مٹی پلید کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہواہو گا تب انگریزی کو اردو پر فائق سمجھنا کوئی ایسا عجیب اور انوکھا بھی نہیں ہے۔
ہمارے کم تعلیم یافتہ اداکار و اداکارائیں بھی اردو کے قتلِ عام میں پیش پیش ہیں ۔ہم ہر بات کی وضاحت کو انگریزی الفاظ کا سہارا یوں لیتے ہیں جیسے اردو کے پاس الفاظ کا ذخیرہ محدود ہو۔ حالاں کہ اردو کے دامن میں الفاظ کی کمی نہیں ہے ،ہم خود انجان ہیں اور اپنی لاعلمی کی بنا پر اردو کو تنگ دامن اور بخیل زبان سمجھ بیٹھے ہیں۔
کوئی بھی ترکیب یا محاورہ تبھی ز بان زدِ عام ہو سکتا ہے جب اسے عام تحاریر میں استعمال کیا جائے اوربول چال میں برتا جائے۔علم اگر صفحات کی زینت بنا کتابوں میں پھنسا رہے گا۔ الفاظ اگر لغات کی قید میں پڑے سسکتے رہیں گے تو اس زبان سے گلہ کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا زیادہ مناسب رہے گا۔ آج اردو کے ساتھ بیگانوں بلکہ گناہ گاروں اور اچھوتوں کا سا سلوک کیا جا رہا ہے ۔اور ایسا کرنے والے ہم سب ہیں ۔آج وہ دور آگیا ہے کہ ہم اردو سمجھنے کو انگریزی کے محتاج ہو گئے ہیں۔ کسی لفظ کی وضاحت ہم انگریزی کے لفظ سے کرتے ہیں۔ یقین مانیں بہت دفعہ ایسا موقع آیا کہ اپنے موبائل فون کا نمبر بتاتے ہوئے کہا ۔”اٹھاون ،تراسی........“تو حیرت اور ناواقفیت سے بھرا ”کیا ....؟“ سننے کو ملا۔ تب عرض کیا۔”فائیو ڈبل ایٹ تھری........“اور سامع کا مطمئن انداز میں سرہلانادل کو گھایل کر گیا۔اسے ظلم و ناقدری کی انتہا نہ کہا جائے تو اور کیا ہے۔ اپنے ون، ٹو، تھری پڑھنے والے بچوں کو ہم ایک دو تین بھی سکھلا دیں تو کیا فرق پڑے گا۔اردو کا مٹنا گویا اس علم کا مٹنا ہے جو ہمارے اجداد نے بڑی محنت اور جانفشانی سے ہمارے لیے ضبط تحریر میں لا کر چھوڑ گئے ہیں اور اس میں ایک بڑا حصہ اسلام علوم کا ہے۔دوسرا صرف انگریزی جاننے والے خواتین و حضرات اردو کے بہت سے الفاظ کو صحیح تلفظ سے نہیں پڑھ سکتے یوں انھیں قرآن مجید بھی درست تلفظ سے پڑھنا نہیں آتااور یہی ک ف ر کی کوشش ہے کہ انھیں اپنے اسلاف سے کاٹا جائے۔
ان حالات میں ضروری تھا کہ ہمارے ادیب اردو کی بقا کی کوشش کرتے اور کم از کم ناولوں ،افسانوں ،کالموں ، مضامین اور دوسرے تحریری میدانوں میں اصل اردو کی شکل کو سامنے لاتے ،مگر سچ کہوں تواردو کو اتنا ہی خطرہ جدید دور کی لکھاریات سے ہے جتنا خطرہ ہے ٹی وی اسکرین پر بیٹھے مخصوص مقاصد کے حصول کو زبان درازی کرنے والے اینکروں سے ہے۔ ہر دو نے اردو کے ساتھ وہ سلوک کیا ہوا ہے کہ بے چاری اردو زبان چیخ اٹھتی ہے۔ بہ قول شاعر....
اب تو الفاظ بھی چلاتے ہیں
کس قسائی نے آن گھیرا ہے
اچھے خاصے سادہ ،آسان اور عام فہم الفاظ کی جگہ انگریزی کے وہ الفاظ استعمال کرتی ہیں کہ سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے، سمجھ میں نہیں آتا آخر یہ مکمل انگریزی ہی میں کیوں نہیں لکھتیں، ہر جملے کے بیچ چند اردو الفاظ لکھ کر ان کا حلیہ کیوں بگاڑ رہی ہیں۔ نیک بخت حتی الوسع کوشش کرتی ہیں کہ کوئی فقرہ مکمل اردو کا نہ لکھا جائے اوربعض اوقات تو انگریزی الفاظ کا ایسا اختصار سامنے لاتی ہیں کہ بندہ رونے کے قابل رہتا ہے نہ ہنسنے لائق۔ کافی محترماﺅں کے ہاں یونیورسٹی کے لئے ”یونی“ کا لفظ عام مستعمل دیکھا ہے۔ اب بے چاریوں کو یہ معلوم نہیں کہ یہ لفظ اردو لغات میں موجود ہے اور اس کے معنی ایسے ہیں کہ بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔مطلب عورت کے جسم کے پوشیدہ حصے کو ”یونی“ کہتے ہیں۔
گو یونیورسٹی کے لئے اردو میں جامعہ کا لفظ مستعمل ہے، لیکن اب یونیورسٹی اتنا رچ بس گیا ہے کہ اردو لغات میں بھی جگہ پا لی ہے اس لیے ہم اسے اردو ہی کا لفظ سمجھیں گے، مگر یونیورسٹی کو یونی کہنے میں پتا نہیں کون سی تعلیم کا اظہار مقصود ہے۔ انگریزی کا ہر وہ لفظ جس کا یک لفظی اردو متبادل موجود ہو لکھاری کو ہر ممکن کوشش کرنا چاہیے کہ تحریر میں وہی لفظ لائیں، البتہ جن الفاظ کا یک لفظی متبادل موجود نہ ہو انھیں انگریزی میں لکھنا معیوب نہ ہوگا، کیوں ہر زبان دوسری زبانوں سے الفاظ مستعار لیا کرتی ہے۔البتہ یہ کام تبھی کیا جاتا ہے جب وہ لفظ اس زبان میں موجود نہ ہو۔
” کم آن ، تھینکس، واٹ، شٹ اپ، گیٹ آﺅٹ، چینج، ہیپی، ڈونٹ وری، ٹائیلٹ، باتھ روم، فلور، چیئر، ٹیبل، مرمر، سونگ، یس،نو، وائے ناٹ، تھنک، ناٹ، واک،اباﺅٹ، ویری فنی، ہاﺅ سویٹ، لاک........“اور ایسے سیکڑوں الفاظ جو عام بول چال میں مستعمل ہیں کیا ان کے یک لفظی اردو متبادل موجود نہیں ہیں؟....اگرموجود ہیں اور بالکل موجود ہیں تو لکھنے میں کیا امر مانع ہے۔ ہمیں کیوں لگتا ہے کہ انگریزی بولنا تعلیم یافتہ ہونے کی علامت ہے۔ ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ انگریزی فقط ایک زبان ہے ۔ ہم کیوں انگریزی سے اتنے مرعوب اور متاثر ہیں کہ اس کے لیے اردو کا قتل کرتے ہوئے ذرا بھی دل نہیں کانپتا۔
ہمارے اکا دکا کرکٹر ایسے ہیں جو انگریزی سے نابلد ہیں اور جب وہ انعام وصول کرنے آتے ہیں تو یوں شرمندہ شرمندہ اور نادم نظر آتے ہیں جیسے چوری کرتے یا بدکاری کرتے پکڑے گئے ہوں۔ اور ہمارے ناظرین میں ایسے احمق،بے وقوف اور جاہل ناقد موجود ہیں جو ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ آج تک کسی انگریز نے پاکستان میں آکر اردو بولنے کی کوشش نہیں کی اور ہمیں یہی سوچ لے بیٹھتی ہے کہ ہمیں درست انگریزی نہ آئی تو لوگ ہنسیں گے۔ میں تو کہتا ہوں ہمارے کھلاڑیوں کو چاہیے کہ ہمیشہ اردو ہی میں انٹرویو دیا کریں، کیوں کہ ان کی اردو سے کسی کو مسئلہ ہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔
بعض اوقات اپنے متعلق لوگوں کی ایسی رائے بھی نظر سے گزری ہے کہ گاڑھی اردو لکھتا ہے، تقیل الفاظ برتتا ہے اور اس کی تحریر پڑھنا کافی مشکل لگتا ہے وغیرہ وغیرہ....حالاں کہ میں ہمیشہ آسان الفاظ کا انتخاب کرتا ہوں، اگر کوئی مشکل لفظ تحریر کروں تو اس کے معنی ضرور درج کرتا ہوں البتہ انگریزی کے صرف وہ الفاظ استعمال کرتا ہوں جن کا متبادل اردو میں موجود نہ ہو۔اور میرے لکھنے کے مقاصد میں اردو زبان کی ترویج و اشاعت سرفہرست ہے۔آپ لوگوں سے بھی التماس ہے کہ اردو لکھنے کی عادت ڈالیں تاکہ ہماری زبان زندہ رہ سکے ورنہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں اردو لکھنے اور پڑھنے والے ڈھونڈے نہیں ملیں گے۔
*مولانا روم سے 5 سوال پوچھے گئے، مولانا روم کے جواب غور طلب ہیں۔*
*👈سوال ۔ 1 ۔ خوف کس شے کا نام ہے ؟*
جواب ۔ غیرمتوقع صورتِ حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے ۔ اگر ہم غیر متوقع کو قبول کر لیں تو وہ ایک مُہِم جُوئی میں تبدیل ہو جاتا ہے
*👈سوال ۔ 2 ۔ حَسَد کِسے کہتے ہیں ؟*
جواب ۔ دوسروں میں خیر و خُوبی تسلیم نہ کرنے کا نام حَسَد ہے ۔ اگر اِس خوبی کو تسلیم کر لیں تو یہ رَشک اور کشَف یعنی حوصلہ افزائی بن کر ہمارے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
*👈سوال ۔ 3 ۔ غُصہ کس بلا کا نام ہے ؟*
جواب ۔ جو امر ہمارے قابو سے باہر ہو جائے ۔ اسے تسلیم نہ کرنے کا نام غُصہ ہے ۔ اگر کوئی تسلیم کر لے کہ یہ امر اُس کے قابو سے باہر ہے تو غصہ کی جگہ عَفو ۔ درگذر اور تحَمّل لے لیتے ہیں
*👈سوال ۔ 4۔ نفرت کسے کہتے ہیں ؟*
جواب ۔ کسی شخص کو جیسا وہ ہے ویسا تسلیم نہ کرنے کا نام نفرت ہے ۔ اگر ہم غیر مشروط طور پر اُسے تسلیم کر لیں تو یہ محبت میں تبدیل ہو سکتا ہے.
*👈سوال ۔ 5 ۔ زہر کسے کہتے ہیں ؟*
جواب ۔ ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زیادہ ہو ” زہر“ بن جاتی ہے خواہ وہ قوت یا اقتدار ہو ۔ انانیت ہو ۔ دولت ہو ۔ بھوک ہو ۔ لالچ ہو ۔ سُستی یا کاہلی ہو ۔ عزم و ہِمت ہو ۔ نفرت ہو یا کچھ بھی ہو
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
Klicka här för att få din sponsrade notering.
Plats
Kontakta skolan/högskolan
Telefon
Webbplats
Adress
Sigtuna
Stockholm
19331