DAWAT UL QURAN
- Home
- Saudi Arabia
- Riyadh
- DAWAT UL QURAN
دعوتِ ایمان بذریعہ قرآن و حدیث
My Perpetual Charity ✨️
السلام و علی من التبع الھدیٰ !
--------
ایمان اور کفر کا فرق
---------
ایک انسان صرف اس لئے مسلم نہیں ہوتا کیونکہ وہ ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوتا ہے اورپھراسے ایک اسلامی نام دے دیا جاتاہے۔ ایمان دراصل علم اور شعوری فیصلے کے مجموعے کا نام ہے۔ یعنی کوئی بھی انسان باایمان ہونے کا دعوٰی اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک وہ انسان اور خالق کے درمیان رشتے کو صحیح طور سے سمجھ کر اپنا نہ لے۔ اسی لئے ایک کافر ی
ا تو اس رشتے کے بارے میں علم نہیں رکھتا اور یا پھر وہ جانتے بوجھتےاسے رد کرتا ہے۔ لہذا ایمان اور کفر کے درمیان اصل فرق علم کا ہے اور اسی لئے ایک مسلم گھرانے میں جنم لے کر تمام زندگی اسلام سے لاعلمی میں گزار دینا مسلمان ہونا نہیں ہے۔ اسی طرح دین اسلام بھی دنیا میں اسی صورت دوبارہ غالب ہوسکتا ہے جب وہ مسلمانوں کے اکثریت کی زندگیوں میں غالب ہو جائے اور ان کے ہر عمل اور فیصلے میں اسکی واضح جھلک نظر آئے۔
----------------------------------------------------------------------
لوگو الله تعالی پر خالص ایمان لے آؤ اور ایمان کو کفر و شرک کی غلا ظت سے پاک کر لو ،کیونکہ الله تعالی کا فیصلہ ہے کہ:
وہ شرک کو ہر گز ہرگز معاف نہیں کرےگا:
إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا ﴿٤٨﴾
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا۔(48)
إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١١٦﴾
اسے اللہ تعالیٰ قطعاً نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک مقرر کیا جائے، ہاں شرک کے علاوه گناه جس کے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے واﻻ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ (سورۃ النساء آیت:48، 116)
اور اگر کفروشرک کی حالت مین موت آگئی تو کوئی بھی نیکی کام نہ آئےگی ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم مقدرہوگی:-
اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ ۗأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٥٧﴾
ایمان ﻻنے والوں کا ولی اللہ تعالیٰ خود ہے، وه انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں۔ وه انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں، یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے۔ ((سورۃ نمبر:2، البقرۃ آیت:257))
اللہ کے انبیاء شرک نہیں کرتے وہ تو توحید کی دعوت دینے کے لیئے ہی چنے گئے ہوتے ہیں ، لیکن اللہ نے انسانوں کو توحید کی اہمیت اور شرک کی ہولناکی واضح کرنے کے لیئے قرآن میں 18 انبیاء کا نام پکار کر کہا کہ اگر ان میں سے بھی کوئی شرک کرتا تو ان کے بھی تمام اعمال برباد کردیئے جاتے:-
ذَٰلِكَ هُدَى اللَّـهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴿٨٨﴾
اللہ کی ہدایت ہی ہے جس کے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت کرتا ہے اور اگر (فرضاً) یہ (انبیاء) حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وه سب اکارت ہوجاتے ) سورۃ نمبر:6، الانعام آیت:88)
وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٤٧﴾
اور یہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو اور قیامت کے پیش آنے کو جھٹلایا ان کے سب کام غارت گئے۔ ان کو وہی سزا دی جائے گی جو کچھ یہ کرتے تھے ( سورۃ نمبر:7، الاعراف آیت:147)
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ ﴿٢﴾ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ ﴿٣﴾ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً ﴿٤﴾
اس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے، (اور) محنت کرنے والے تھکے ہوئے ہوں گے ،وه دہکتی ہوئی آگ میں جائیں گے۔ ((سورۃ نمبر:88،الغاشیہ آیت:2،3،4))
-------------------------
آج موقع ہے وقت ہے اگر یہ ہاتھ سےنکل گیا تو ہمیشہ ہمیشہ کا پچتاوا ہوگا اس سے پہلے کے مہلت کا وقت ختم ہو جائے عقیدے اور ایمان کو قرآن و سنت کے مطابق کر لو کیونکہ الله تعالی کا فیصلہ ہے کہ:
*جو الله کے نازل کردە احکامات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ لوگ خالصتاََ ظالم اور کافر ہیں:
فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴿٤٤﴾
تمہیں چاہیئے کہ لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میرا ڈر رکھو، میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول پر نہ بیچو،
جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وه (پورے اور پختہ) کافر ہیں (44)(سورۃ نمبر:5، المائدہ، آیت:44)۔
--------------------
*شرک نمبر ١:
الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کو اپنی مدینے والی قبر مین سلام سننے والا سمجھنا جبکہ انکے سننے کے اسباب الله نے ختم کر دیئےہیں انکی وفات کے وقت:-
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ ﴿١٤٤﴾
محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ صرف رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے ہیں، کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا یہ شہید ہو جائیں، تو تم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو ہرگز اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا، عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا (سورۃ نمبر:3، آلِ عمران آیت:144)
وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ ۖ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٧﴾ وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ ﴿٨﴾
(اے محمد ﷺ)تجھ سے پہلے جتنے پیغمبر ہم نے بھیجے سبھی مرد تھے جن کی طرف ہم وحی اتارتے تھے پس تم اہل کتاب سے پوچھ لو اگر خود تمہیں علم نہ ہو(7) ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ وه کھانا نہ کھائیں اور نہ وه ہمیشہ رہنے والے تھے (8) ( سورۃ نمبر:21، الانبیاء آیت:8،34)
اور بغیر اسباب کے سننے کی صفت صرف الله کی ہے:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖفَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ﴿١٨٦﴾
جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے (186)(سورۃ البقرۃ:184)
قرآن میں الله تعالی کا فیصلہ ہے کہ مرنےکے بعد کسی میں بھی سننے کی طاقت نہیں:
إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ ﴿٨٠﴾
بیشک آپ نہ مُردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں، جبکہ وه پیٹھ پھیرے روگرداں جا رہے ہوں (سورۃ نمبر:27، النمل آیت:80)
وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ ۖ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ ﴿٢٢﴾
اور زنده اور مردے برابر نہیں ہوسکتے، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے، اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں (22) ( سورۃ نمبر:35، فاطر آیت:22)
فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ﴿٥٢﴾
بیشک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو (اپنی) آواز سنا سکتے ہیں جب کہ وه پیٹھ پھیر کر مڑ گئے ہوں (سورۃ نمبر:30، الروم، آیت:52)
----------------------------
*شرک نمبر ٢:
الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کو اپنی مدینہ والی قبرمیں سلام کا جواب دینے والا سمجھنا جبکہ الله کا فیصلہ ہے کہ مرنے والے قیامت تک جواب نہیں دے سکتے :
أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ﴿١٩١﴾ وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ ﴿١٩٢﴾ وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ ۚ سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنتُمْ صَامِتُونَ ﴿١٩٣﴾إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿١٩٤﴾ أَلَهُمْ أَرْجُلٌ يَمْشُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ أَيْدٍ يَبْطِشُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌ يُبْصِرُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا ۗ قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ﴿١٩٥﴾ إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّـهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ ﴿١٩٦﴾وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ ﴿١٩٧﴾ وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا ۖ وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ ﴿١٩٨﴾
کیا ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہ کر سکیں اور وه خود ہی پیدا کئے گئے ہو ،اور وه ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وه خود بھی مدد نہیں کرسکتے،اور اگر تم ان کو کوئی بات بتلانے کو پکارو تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں تمہارے اعتبار سے دونوں امر برابر ہیں خواه تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو، واقعی تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وه بھی تم ہی جیسے بندے ہیں سو تم ان کو پکارو پھر ان کو چاہئے کہ تمہارا کہنا کر دیں اگر تم سچے ہو ۔کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وه چلتے ہوں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وه کسی چیز کو تھام سکیں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وه دیکھتے ہوں، یا ان کے کان ہیں جن سے وه سنتے ہیں آپ کہہ دیجئے! تم اپنے سب شرکا کو بلا لو، پھر میری ضرر رسانی کی تدبیر کرو پھر مجھ کو ذرا مہلت مت دو ۔ یقیناً میرا مددگار اللہ تعالیٰ ہے جس نے یہ کتاب نازل فرمائی اور وه نیک بندوں کی مدد کرتا ہے ۔اور تم جن لوگوں کی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وه تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے اور نہ وه اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔اور ان کو اگر کوئی بات بتلانے کو پکارو تو اس کو نہ سنیں اور ان کو آپ دیکھتے ہیں کہ گویا وه آپ کو دیکھ رہے ہیں اور وه کچھ بھی نہیں دیکھتے ۔(سورۃ نمبر:7، الاعراف آیت:190-198)
---------------------------
*شرک نمبر ٣ :
الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پیش کئےجانے کا عقیدە رکھنا جبکہ قرآن میں الله کا فیصلہ ہے کہ ہرقسم کے اعمال صرف الله پر ہی پیش کئے جاتے ہیں:
وَاِلَیْہِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ کُلُّہٗ (ھود:۲۳ ۱)
‘‘ اور اسی (اﷲ) کی طرف ہی ہر کام لوٹایا جاتا ہے ۔’’
اَلآ اِلَی اللہِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ (الشوریٰ :۵۳)
‘‘ خبردار! )جان لو کہ( اﷲ ہی کی طرف تمام کام رجوع کرتے ہیں۔’’
وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿٢٧١﴾
اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھنے واﻻ ہے، (البقرۃ: ،271)
وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ﴿١٥٦﴾
اللہ تمہارے عمل کو دیکھ رہا ہے (آلِ عمران:156)
نبیﷺ تو خود پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ ان دنوں میں اﷲ کی بارگاہ میں اعمال پیش ہوتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال جب بارگاہ الٰہی میں پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں ۔ ( جامع ترمذی:جلد۱، ابواب الصوم، باب صوم الاربع والخمیس، صفحہ ۷۸۹)
----------------------------
*شرک نمبر 4:
الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کو اپنی مدینہ والی قبر میں باشعور سمجھنا جسکی وجہ سے وہ سلام سن سکتےاور جواب بھی دےسکتےہیں جبکہ الله کا قرآن میں فیصلہ ہےکہ مرنےوالا قیامت تک مردہ ہی رہےگا اوراس میں کوئی شعور بھی باقی نہیں :
إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ ۘ وَالْمَوْتَىٰ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ﴿٣٦﴾
وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں۔ اور مُردوں کو اللہ زنده کر کے اٹھائے گا پھر سب اللہ ہی کی طرف ﻻئے جائیں گے۔( سورۃ نمبر:6، الانعام ، آیت:36)
وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ﴿٢٠﴾ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ﴿٢١﴾
اور جن جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں وه کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے، بلکہ وه خود پیدا کیے گئے ہیں مردے ہیں زنده نہیں، انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ (سورۃ نمبر:16، النحل ، آیت نمبر:20-21 )
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ ﴿٥﴾ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ ﴿٦﴾
اور اس سے بڑھ کر گمراه اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں ،اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کر جائیں گے ۔ (سورۃ الاحقاف:5-6)
----------------------------------
*شرک نمبر ۵:
آپ صلی الله علیہ وسلم کو الله کے نور مین سے نور سمجھنا جبکہ الله کا فیصلہ ہے کہ اس جیسی کوئی بھی چیز نہیں:
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ
اس جیسی کوئی چیز نہیں (سورۃ نمبر:42، الشوریٰ آیت:11)
وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿٤﴾
اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔(سورۃ نمبر:112، الاخلاص آیت:4)
*شرک نمبر 6:
ایسے امام کی یا عالم کی یالیڈر کی یاجماعت کی اطاعت کرنا جس کے ایمان میں کوئی بھی شرک ہو جبکہ الله کا فیصلہ ہے کہ شرک کی اطاعت کرنے والےبھی مشرک ہیں اور قیامت کےدن اپنے اماموں کےساتھ اٹھائے جائینگے ۔
مشرک کی اطاعت کرنے والا بھی مشرک:
وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
''اگر تم نے ان کی بات تسلیم کی تو یقیناً تم مشرک ہو''۔(الانعام:121)
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاء شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ
''کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر) رکھے ہیں جنہوں نے ایسے احکام اور ضابطے مقرر کردیے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں؟''۔(الشوریٰ:21)
اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ (سورۃ التوبہ:31)
"انہوں نے اپنے علماء اور دریشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا ہے"۔
عَنۡ عَدِيٍّ بۡنِ حَاتِمٍ أنَّہٗ سَمِعَ النَّبِیَّؐ یَقۡرَأُ ھٰذِہِ الآیۃَ (اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ) الآیۃ، فَقُلۡتُ لہٗ: إنَّا لَسۡنَا نَعۡبُدُھُمۡ قَالَ: ألَیۡسَ یُحَرِّمُوۡنَ مَا أحَلَّ اﷲُ فَتُحَرِّمُوۡنَہٗ، وَیُحِلُّوۡنَ مَا حَرَّمَ اﷲُ فَتُحِلُّوۡنَہٗ؟ فَقُلۡتُ: بَلیٰ، قَالَ: ’’فَتِلۡکَ عِبَادَتُہُمۡ‘‘ (رواہ احمد والترمذی وحَسَّنہ)
''عدی بن حاتم (طائی)سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو (سورہ توبہ کی) یہ آیت (٣١) پڑھتے سنا ''انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو اللہ کے سوا رب بنا لیا ہے'' (عدی کہتے ہیں) تو میں نے کہا: ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے۔ آپؐ نے فرمایا: جب وہ خدا کے حلال ٹھہرائے ہوئے کو حرام ٹھہراتے تو تم اس کو حرام نہیں ٹھہراتے اور جب وہ خدا کے حرام کردہ کو حلال کر لیتے ہیں تو تم ان کوحلال نہیں ٹھہراتے؟ میں نے کہا: یہ تو ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: تو پھر یہی تو ان کی عبادت ہے''۔
يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ ۖ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَـٰئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَابَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا ﴿٧١﴾
پھر خیال کرو اس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے اُس وقت جن لوگوں کو ان کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا گیا وہ اپنا کارنامہ پڑھیں گے اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا۔ (سورۃ بنی اسرائیل،آیت:71)
إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ ﴿١٦٦﴾ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ ﴿١٦٧﴾
جس وقت پیشوا لوگ اپنے تابعداروں سے بیزار ہوجائیں گے اور عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور کل رشتے ناتے ٹوٹ جائیں گے، اور تابعدار لوگ کہنے لگیں گے، کاش ہم دنیا کی طرف دوباره جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہوجائیں جیسے یہ ہم سے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال دکھائے گا ان کو حسرت دﻻنے کو، یہ ہرگز جہنم سے نہ نکلیں گے۔ (البقرۃ:166-167)
قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ فِي النَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰ إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَـٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ ﴿٣٨﴾ وَقَالَتْ أُولَاهُمْ لِأُخْرَاهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ ﴿٣٩﴾
اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو فرقے تم سے پہلے گزر چکے ہیں جنات میں سے بھی اور آدمیوں میں سے بھی، ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جاؤ۔ جس وقت بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب اس میں سب جمع ہوجائیں گے تو پچھلے لوگ پہلے لوگوں کی نسبت کہیں گے کہ ہمارے پروردگار ہم کو ان لوگوں نے گمراه کیا تھا سو ان کو دوزخ کا عذاب دو گنا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ سب ہی کا دوگنا ہے، لیکن تم کو خبر نہیں،اور پہلے لوگ پچھلے لوگوں سے کہیں گے کہ پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت نہیں سو تم بھی اپنی کمائی کے بدلے میں عذاب کامزه چکھو۔ (سورۃ الاعراف:38-39)
وَبَرَزُوا لِلَّـهِ جَمِيعًا فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللَّـهِ مِن شَيْءٍ ۚ قَالُوا لَوْ هَدَانَا اللَّـهُ لَهَدَيْنَاكُمْ ۖ سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍ﴿٢١﴾ وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٢٢﴾
سب کے سب اللہ کے سامنے روبرو کھڑے ہوں گے۔ اس وقت کمزور لوگ بڑائی والوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابعدار تھے، تو کیا تم اللہ کے عذابوں میں سے کچھ عذاب ہم سے دور کرسکنے والے ہو؟ وه جواب دیں گے کہ اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم بھی ضرور تمہاری رہنمائی کرتے، اب تو ہم پر بے قراری کرنا اور صبر کرنا دونوں ہی برابر ہے ہمارے لیے کوئی چھٹکارا نہیں،جب اور کام کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تو تمہیں سچا وعده دیا تھا اور میں نے تم سے جو وعدے کیے تھے ان کے خلاف کیا، میرا تم پر کوئی دباؤ تو تھا ہی نہیں، ہاں میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری مان لی، پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہارا فریاد رس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے، میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے، یقیناً ﻇالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (سورۃ نمبر:14، ابراہیم، آیت:21-22)
-----------------------------
*قرآن کےمطابق فیصلہ نہ کرنےوالا پکّا کافر ہےاور کافرپر الله تعالیٰ اوراسکے فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہےاوروہ بھی ہمیشہ ہمیشہ جہنّم میں رہیں گے :
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴿٤٤﴾
جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وه (پورے اور پختہ) کافر ہیں (44)
قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ اللَّـهِ ۚ مَن لَّعَنَهُ اللَّـهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ ۚ أُولَـٰئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَأَضَلُّ عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ ﴿٦٠﴾
کہہ دیجیئے کہ کیا میں تمہیں بتاؤں؟ کہ اس سے بھی زیاده برے اجر پانے واﻻ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون ہے؟ وه جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور اس پر وه غصہ ہوا اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے معبودان باطل کی پرستش کی، یہی لوگ بدتر درجے والے ہیں اور یہی راه راست سے بہت زیاده بھٹکنے والے ہیں (60)
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۖ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّـهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّـهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ﴿٧٢﴾
بے شک وه لوگ کافر ہوگئے جن کا قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے حاﻻنکہ خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل! اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے، یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا (72)
(سورۃ نمبر:5، المائدہ آیت:44 ،60،72)
أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا ﴿١٠٥﴾
یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کی ملاقات سے کفر کیا، اس لئے ان کے اعمال غارت ہوگئے پس قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔
(سورۃ نمبر:18، الکھف آیت:105)
----------------------
*کفر نمبر ١:
الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کی موت کے بعد ان کی مدینے والی قبر مین زندە سمجھنا جبکہ قرآن میں الله سبحان وتعالیٰ کا فیصلہ ہے کےمرنے والے مردہ ہیں ان میں جان نہیں اور نہ ہی قیامت سے پہلے زندہ کئے جائیں گے:
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ ﴿١٤٤﴾
محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ صرف رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے ہیں، کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا یہ شہید ہو جائیں، تو تم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو ہرگز اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا، عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا (سورۃ نمبر:3، آلِ عمران آیت:144)
وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ ۖ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٧﴾ وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ ﴿٨﴾
(اے محمد ﷺ)تجھ سے پہلے جتنے پیغمبر ہم نے بھیجے سبھی مرد تھے جن کی طرف ہم وحی اتارتے تھے پس تم اہل کتاب سے پوچھ لو اگر خود تمہیں علم نہ ہو،ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ وه کھانا نہ کھائیں اور نہ وه ہمیشہ رہنے والے تھے۔ ( سورۃ نمبر:21، الانبیاء آیت:8،34)
ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّـهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَأَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴿٦﴾ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّـهَ يَبْعَثُ مَن فِي الْقُبُورِ ﴿٧﴾
یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہی مردوں کو جِلاتا ہے اور وه ہر ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے ،اور یہ کہ قیامت قطعاً آنے والی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ قبروں والوں کو دوباره زنده فرمائے گا (سورۃ نمبر:22، الحج، آیت:6-7)
ثُمَّ إِنَّكُم بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ﴿١٥﴾ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ ﴿١٦﴾
اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مر جانے والے ہو ، پھر قیامت کے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے۔
حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ ﴿٩٩﴾ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚكَلَّا ۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا ۖ وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ﴿١٠٠﴾
یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے،کہ اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک اعمال کر لوں، ہرگز ایسا نہیں ہوگا، یہ تو صرف ایک قول ہے جس کا یہ قائل ہے، ان کے پس پشت تو ایک برزخ (آڑ) ہے، ان کے دوباره جی اٹھنے کے دن تک ۔ (سورۃ نمبر:23، المومنون ، آیت:15-16، 100)
--------------------------
* کفر نمبر ٢:
الله کےنبی محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے والی قبر میں سلام سننے والا اور جواب دینے والا سمجھا جانا، جبکےقرآن میں الله سبحانہ وتعالیٰ کا فیصلہ ہےکےمرنے والےنہ کچھ پکار سن سکتے ہیں اور نہ جواب دے سکتےہیں بلکہ وہ تو پکارنےوالوں کی پکار سے بھی غافل ہیں :
إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ ۘ وَالْمَوْتَىٰ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ﴿٣٦﴾
وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں۔ اور مُردوں کو اللہ زنده کر کے اٹھائے گا پھر سب اللہ ہی کی طرف ﻻئے جائیں گے۔( سورۃ نمبر:6، الانعام ، آیت:36)
وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ﴿٢٠﴾ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ﴿٢١﴾
اور جن جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں وه کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے، بلکہ وه خود پیدا کیے گئے ہیں مردے ہیں زنده نہیں، انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ (سورۃ نمبر:16، النحل ، آیت نمبر:20-21 )
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ ﴿٥﴾ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ ﴿٦﴾
اور اس سے بڑھ کر گمراه اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں ،اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کر جائیں گے ۔ (سورۃ الاحقاف:5-6)
--------------------------
*کفر نمبر ٣:
الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم کی روح مدینہ والی قبر میں لوٹائے جانے کا عقیدہ رکھنا جبکہ الله کاقرآن میں فیصلہ ہے کہ مرنے والے کی روح روک لی جاتی ہےاسکی روح کو اسکی خوائش پر بھی واپس نہیں بھیجا جاتا اور قیامت کے دن ہی روحوں کولوٹایا جائیگا اور پھر سےزندہ کیا جائیگا۔((یاد رہے اس بارے میں اسلام کا اصول بلکل سیدھا سادہ ہے کہ روح کے جسم سے ملاپ کو زندگی اور اسی جسم سے روح کے اخراج کو موت کہتے ہیں، لہٰذا مرنے والے کی روح اک بار جسم سے خارج ہونے کے بعد قیامت سے پہلے اس جسم میں نہیں لوٹائی جاتی)
كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ۖ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴿٢٨﴾
تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حاﻻنکہ تم مرده تھے اس نے تمہیں زنده کیا، پھر تمہیں مار ڈالے گا، پھر زنده کرے گا، پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔(سورۃ البقرۃ، آیت:28)
ثُمَّ إِنَّكُم بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ﴿١٥﴾ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ ﴿١٦﴾
اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مر جانے والے ہو ، پھر قیامت کے دن بلا شبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے۔(سورۃ المومنون:15-16)
حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ ﴿٩٩﴾ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚكَلَّا ۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا ۖ وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ﴿١٠٠﴾
یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے ،کہ اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک اعمال کر لوں، ہرگز ایسا نہیں ہوگا، یہ تو صرف ایک قول ہے جس کا یہ قائل ہے، ان کے پس پشت تو ایک برزخ (آڑ) ہے، ان کے دوباره جی اٹھنے کے دن تک ۔ (سورۃ نمبر:23، المومنون ، آیت: 100)
--------------------------
*کفر نمبر 4:
الله تعالی کی کتاب اور اسکے آخری نبی صلی الله علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ایمان اور عقیدە نہ رکھنے والے بلکہ اس کے خلاف دینے والے طاغوتوں کا رد نہ کرنا، بلکہ اسے مسلم سمجھ کر اسے اپنا امام یا لیڈر بنانا، یا ایسی کسی جماعت مین شامل ہو جانا، ایسے کوگوں کے پیچھے نماز پڑھ کر انہیں اپنا امام بنا کر انکی اطاعت کرنا جبکہ قرآن میں الله کا فیصلہ ہے کہ ایسے طاغوتوں سے اجتناب کیا جائے اور اگر کوئی ایسی محفل جس مین قرآن و سنت کا مزاق اڑایا جا رہا ہو چاہے وە انکار کر کے یا الله کی کتاب کے خلاف تعلیمات و عقائدسمجھائے تو اس محفل کو بھی چھوڑ دیا جائے۔
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّـهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴿٢٥٦﴾ اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ ۗأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٥٧﴾
ایمان ﻻنے والوں کا ولی اللہ تعالیٰ خود ہے، وه انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں۔ وه انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں، یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے ، دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے، اس لئے جو شخص طاغوت کا انکار کرکے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے ۔(البقرۃ:256-257)
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّـهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚإِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا ﴿١٤٠﴾
اور اللہ تعالیٰ تمہارے پاس اپنی کتاب میں یہ حکم اتار چکا ہے کہ تم جب کسی مجلس والوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع میں ان کے ساتھ نہ بیٹھو! جب تک کہ وه اس کے علاوه اور باتیں نہ کرنے لگیں، (ورنہ) تم بھی اس وقت انہی جیسے ہو، یقیناً اللہ تعالیٰ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے واﻻ ہے۔ (النساء:140)
--------------------------------------------
*کفر نمبر ۵:
مسلمانوں کوچھوڑ کر کسی بھی مرنےمیں شامل ہو جانا جن کے عقائد و نظریات الله اورسنّت کےخلاف ہوں جبکہ قرآن میں الله کا فیصلہ ہےکہ فرقے نہ بنائے جائیں جنہوں نے فرقے بنائےوہ مشرک ہیں ان سےآپ صلی الله علیہ وسلم کاکچھ بھی تعلق نہیں اس الله نے تمہارا نام پہلے بھی مسلم رکھا تھا اور اب بھی مسلم ہے اور فرقےجنہوں نے مسلم کہ علاوہ اپنی الگ سے پہچان بنا لی ہےوہ مسلم نہیں :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴿١٠٢﴾ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئیے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا، اور اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو،(سورۃ نمبر:3، آلِ عمران، آیت:102-103)
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّـهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ﴿١٥٩﴾
بےشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروه گروه بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلادیں گے ۔(الانعام:159 )
مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿٣١﴾ مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖكُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ﴿٣٢﴾
(لوگو!) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر اس سے ڈرتے رہو اور نماز کو قائم رکھو،
اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ ،ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے ۔(سورۃ نمبر:30، الروم، آیت:31-32)
مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ۚ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَـٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ
دین اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا قائم رکھو، اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اس قرآن سے پہلے اور اس میں بھی تاکہ پیغمبر تم پر گواه ہو جائے اور تم تمام لوگوں کے گواه بن جاؤ۔(سورۃ نمبر:22، الحج، آیت:78)
وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّـهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ﴿٣٣﴾
اور اس سے زیاده اچھی بات واﻻ کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں ۔(سورۃ نمبر:41، حم السجدہ/غافر، آیت:33)).
قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّـهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ﴿٦٤﴾
آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آو جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں۔ پس اگر وه منھ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں۔(سورۃ نمبر:3، آلِ عمران، آیت:64)
---------------------------------------------------------
کیا صرف ایک کلمہ گوخاندان میں پیدا ہونا ہی مسلم ہونا ہے؟
ابوہریرہ ؓ نےکہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھراسکے ماں باپ اسے یہودی ، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ صحیح بخاری
ابومعاویہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بچہ ملت (اسلامیہ) پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی زبان سے اس کا اظہار کردے۔ صحیح مسلم اسلام دین فطرت ہےاورہربچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اسکے ماں باپ (یا وہ خود) کسی اور مذہب کی طرف یا تمام مذاہب سے دور لے جاتے ہیں۔ لہذا صرف کسی مسلم گھرانے میں پیدا ہونے کا آخرت میں بخشش سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ آخرت میں سرفرازی تو انہی کو ملے گی جو اس دنیا میں خود کوشش کرکے حق کی تلاش کریں گےاورپھراسے مان کراس پرعمل کریں گے۔ دین اسلام کی تکمیل ہوچکی ہے لہذا اب یہ ہر انسان کی ذاتی ذمہ داری ہے کہ وہ اسکی طرف تگ ودوکرے جیسا کہ قران میں ارشاد ہے۔
آج میں تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر چکا۔ المائدہ ۳ لہذا کسی عیسائی یا لادین کے ہاں یا پھرافریقہ کے کسی جنگلی قبیلے میں پیدا ہونا اور پھر اسی حالت میں اپنے باپ دادا کے دین پر چلتےہوئے مر جانا آخرت میں بخشش کے لئے کافی نہیں اورنہ ہی قیامت کےدن اللہ کے دربارمیں یہ تاویلیں کام آئیںگی لہذا یہ بات ہر کلمہ گو پر بالکل ویسے ہی لاگو ہوتی ہے جیسے کسی ایسے شخص پرجو غیرمسلم خاندان میں پیدا ہوا۔ سو اگر کوئی ایسے کلمہ گو خاندان میں پیدا ہوا جو قبروں اورمزاروں پر فیض ڈھونڈنے کواسلامی خیال کرتے ہیں تو یہ اب اس فرد کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے باپ دادا کی رسومات پرٹک نہ رہے بلکہ خود جدوجہد کرکے دین حق کی تلاش کرے ورنہ اکابریں کی تقلید تو مشریکین مکہ بھی کرتے تھے۔ لیکن انہی میں سے جنہوں نے بھی یہ خرافات چھوڑ کر حق کی طرف قدم بڑھایا توحید کو تھاما اسے دل سے مانا اس پر عمل کیا اورپھر اپنے باپ دادا کے عقائد کو ٹھوکر ماردی اوران کی رسومات سے بیزاری کا اعلان کیا تو یہی لوگ صحابی رسول ہوئے۔ دین اسلام اپنے باپ دادا کے دین اور انکے طور طریقوں کی تقلید کا نام نہیں اور نہ ہی کسی کلمہ گو خاندان میں پیدا ہوناجنت کا ٹکٹ دلا دیتا ہے۔ ہمیں روزحشر صرف اپنے عقیدے اوردین میں اپنی کوشش کا صلہ ملے گا۔ پھر نہ کسی اورکے پڑھے قران کا ثواب ہمارے اعمال نامے میں شامل ہوگا اورنہ ہمارے نام پر کسی اورکے بنائے ہوئے ہسپتال یا ویلفئر ٹرسٹ سے ہمیں کوئی فائدہ ہوگا۔ اگر آخرت میں اپنا حصہ چاہیئے تواسکے لئے آج کوشش کریں جب سانسیں چل رہی ہیں اورآج اپنا محاسبہ کریں۔ دیکھیں کہ کہیں آپ دنیا پروری میں لگ کرایسے کاموں کا حصہ تو نہیں بن رہے جن کا اسلام سے تعلق ہی نہیں؟ کہیں آپکی کمائی میں سود کی آمیزش تو نہیں؟ کہیں آپ قبر پرستی میں تو مبتلا نہیں؟ کیا آپ تمام غیر اسلامی رسومات سےدور رہتے ہیں؟ جب آپ کا ہمسایہ گھنٹی بجا کر آپ کو عید میلاد کی کھیر یا شب برات کے حلوے کی پلیٹ پکڑاتا ہے تو کیا آپ اسے خوشی خوشی کھا لیتے ہیں یا پھر آپ اپنے ہمسائے کو محبت سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کے غیر اللہ کی نذرونیاز کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں؟ کیا جب محلے سے میلاد یا ختم کی دعوت آتی ہے تو نئے کپڑے پہن کر بھاگے جاتے ہیں یا پھر انہیں سمجھاتے ہیں کہ یہ غیراسلامی رسومات ہیں؟ کیا کسی کی فوتگی پرسوشل پریشر کا شکار ہو کرایصال ثواب کی ہر غلط رسم کا حصہ بن جاتے ہیں؟ الغرض کیا آپ رک کرکبھی سوچتے ہیں کہ آخر آپ ایمان کی کون سی حالت میں ہیں یا کیا ایمان ہے بھی یا صرف ایک مسلم نام ہی ہے؟ ذرا سوچیئے!
----------------------------------------
طاغوت کا انکار۔ ایمان کی شرط
اورالله کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ (النحل۳۶)
اور جو لوگ طاغوتوں کو پوجنے سے بچتے رہے اور الله کی طرف رجوع ہوئے انہیں خوشخبری ہے پس میرے بندوں کو خوشخبری دے دو (الزمر۱۷)
طاغوت کا لفظ طغیان سے ماخوذ ہے یعنی جب کوئی چیزاپنی حد پارکرجائے۔ یقینا ایمان کی طرف پہلا قدم طاغوت کےانکارسے ہی شروع ہوتا ہے۔ طاغوت سے مراد صرف پتھر کے بت ہی نہیں بلکہ وہ تمام غیرصالح لوگ یا علماء سُو ہیں جو اللہ اوراسکے رسول ﷺ کی بتائی ہوئی تمام حدود پھلانگ گئے اوراسلام کےنام پرکفروشرک کی دعوت دے رہے ہیں اورآج اسلام کے نام پر جنکی اطاعت کی جا رہی ہے۔ یعنی طاغوت کا انکاران تمام جھوٹے خداؤں اورانکی تعلیمات کا رد ہےجنہیں کسی نا کسی شکل میں پوجا جاتا ہے یا جنکی بات کو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی بات پر ترجیح دی جاتی ہے۔
عدی بن حاتم ؓ (جو اسلام قبول کرنے سے پہلے عیسائی تھے) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کوسورۃ توبہ کی یہ آیت تلاوت کرتےسنا کہ ان (اہل کتاب نے) نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الله کے سوا خدا بنا لیا ہے(التوبہ۳۱) تو پوچھا کہ اے نبی یہ لوگ ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ نبیﷺ نے فرمایا، یقیناً کرتے تھےکہ جب یہ کسی چیزکو حلال قراردیتےتولوگ اسےحلال سمجھنےلگتےاورجب حرام قراردیتے تووہ اسےحرام مان لیتے۔ اوریقیناً یہی ان کی پرستش ہے(ترمذی، کتاب التفسیر)
غور فرمائیے! آج سب جانتے ہوئےبھی عید میلاد وشب برات منانا، ختم یا گیارہویں کی نذرونیاز کھانا، کسی عزیز کے مرنے پر قران خوانی اور گٹھلیاں پڑھنے کی محفلیں سجانا اورسوئم ، چالیسویں اور برسیاں منعقد کرنا،غرض کسی بھی ایسے مشرکانہ یا بدعتی عمل کا حصہ بننا جو قران اور حدیث سے تو ثابت نہیں لیکن کسی مولوی کا فرمان ہو یا پھر لوگوں اورمعاشرے کے دباؤ میں آکر ایسی کسی بداعمالی میں شریک ہونا یقیناً طاغوت میں حصہ داری اوراللہ اوراسکے نبی کی کھلی نافرمانی ہے۔ اللہ ہم سب کو دنیا دارکی بجائےصرف دین دار بننے کی توفیق عطا فرمائےتاکہ ہم حقیقی معنوں میں مسلم بن کر اللہ کے دین کا حق ادا کر سکیں۔ آمین۔
-------------------------------------------
دینی امور پر اجرت قران کی رو سے
اور میری آیتوں کو تھوڑی قیمت پر نہ بیچو اور مجھ ہی سے ڈرو۔ البقرہ ۴۱
بے شک جو لوگ الله کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتےاوراس کے بدلے میں تھوڑا سا مول لیتےہیں یہ لوگ اپنے پیٹوں آگ بھرتے ہیں اورالله ان سے قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ البقرة ۱۷۴
-----------------------------------------------
دینی امور پر اُجرت حدیث کی رو سے
عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسولﷺ سے فرمایا کہ مجھے میری قوم کا امام مقرر کر دیجئے۔ تو نبیﷺ نے فرمایا کہ تم ان کے امام ہو، ان کی امامت کرو ضعیفوں کا خیال رکھتے ہوئے اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اذان دینے پر اجرت نہ لے۔ ابو داؤد، کتاب الصلواۃ
عبدالرحمٰن بن شبلؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:قران پڑھو اور اس سے اعراض نہ کرو، اس کو ذریعہ معاش نہ بناؤ اور نہ ہی اس سے بہت سے دنیاوی فوائد حاصل کرو۔ مسند احمد، جلد ۵
عمران بن حصینؓ ایک قاری کے پاس سےگذرے جو قران پڑھ رہا تھاجس نے ان سے سوال کیا تو عمرانؓ نے (اناللہ وانا الیہ راجعون) پڑھا اور کہا نبیﷺ نے فرمایا جوشخص قران پڑھےاسے چاہئیے کہ اللہ سوال کرے اس لئےکہ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو قران پڑھ کر لوگوں سے سوال کریںگے۔ ترمذی کتاب فضائل
عبادہ بن الصامت سے روایت ہے کہ میں نے اصحاب صفہ میں سے چند لوگوں کو قران پڑھایا اور لکھنا سکھایا تو ان میں سے ایک شخص نے مجھے ایک کمان تحفے میں دی۔ میں نے خیال کیا کہ یہ کوئی مال نہیں تو ہے نہیں، میں اللہ کی راہ میں اس سے تیر چلاؤں گا۔ تو میں نبیﷺ کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ایک شخص نے جسے میں نے قران پڑھایا اور لکھنا سکھایا تھا ، مجھے ایک کمان تحفہ میں دی اور یہ کوئی مال تو ہے نہیں، میں اس سے اللہ کی راہ میں تیر چلاؤں گا۔ آپﷺ نے فرمایا اگر تم آگ کا طوق پہننا چاہتے ہو تو اس کمان کو لے لو۔ ابوداؤد۔ کتاب الاجارہ فی کسب المعلم
--------------------------------------------
انبیا علیہم السلام دین پر معاوضہ نہ لیتے تھے:
نوح علیہ السلام:اےمیری قوم میں تم سےاس پر کچھ مال نہیں مانگتا میری مزدوری الله کےذمہ ہے۔
ھود ۲۹ ھود علیہ السلام: اے میری قوم میں تم سے اس (دین) پر اجرت نہیں مانگتا۔ ھود ۵۱
صالح علیہ السلام: اور میں تم سے اس پر اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ کے پاس ہے۔ الشعراء ۱۴۵
محمد صلی اللہ علیہ وسلم: اے نبیﷺ کہ دو میں نے (دین پر) تم سے کچھ اجرت مانگی ہوتو وہ تمہاری، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ سبا ۴۷
------------------------
صحابہ کا ذریعہ معاش:
انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ ہمارے ساتھ کچھ آدم بھیج دیں جو ہمیں قران و سنت کی تعلیم دیں تو آپﷺ نے ان کے ساتھ انصار میں سے ستر آدمی بھیج دیے جنہیں قراء کہا جاتا تھا اور ان میں میرے ماموں بھی تھے۔ یہ قران پڑھتے تھے اور رات کو درس و تدریس اور تعلیم و تعلم میں مشغول رہتے تھے اور دن کے وقت مانی لا کر مسجد میں ڈالتے تھے اور جنگل سے لکڑیاں لا کر انہیں فروخت کردیتے۔ صحیح مسلم، جلد سوم، کتاب الامارت
عروہؓ نے بیان کیا کہ عائشہؓ نے فرمایا: رسول اللہﷺ کے صحابہ اپنے لئے مزدوری کیا کرتے تھے اور (زیادہ مشقت کی وجہ سے) ان کے جسم سے پسینے کی بوآتی تھ، اس لئے ان سے کہا گیا کہ غسل کر لیا کرو۔ (صحیح بخاری۔ کتاب البیوع)
-----------------------------------
اس مضمون کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر ختم کرتے ہیں اللہ ہمیں قرآن و سنت پر ایمان لانے کی توفیق عطافرمائے جیسا کہ ان پر ایمان لانے کا حق ہے!
----------------------------------------------
حذیفہ بن الیمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا ۔ اس خوف سے کہ کہیں میری زندگی میں ہی شر نہ پیدا ہو جائے ۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ، ہم جاہلیت اور شر کے دور میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس خیر سے نوازا تو کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا زمانہ ہو گا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ۔ میں نے پوچھا کیا اس شر کے بعد پھر خیر کا زمانہ آئے گا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں لیکن اس خیر میں کمزوری ہو گی۔ میں نے پوچھا کہ کمزوری کیا ہوگی؟ فرمایا کہ کچھ لوگ ہوں گے جو میرے طریقے کے خلاف چلیں گے‘ ان کی بعض باتیں اچھی ہوں گی لیکن بعض میں تم برائی دیکھو گے ۔ میں نے پوچھا کیا پھر دور خیر کے بعد دور شرآئے گا؟ فرمایا کہ ہاں جہنم کی طرف سے بلانے والے دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے جوان کی بات مان لےگا وہ اس میں انہیں دھکیل دیں گے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ان کی کچھ صفت بیان کیجئے۔ فرمایا کہ وہ ہمارے ہی جیسے ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولیں گے۔ میں نے پوچھا پھر اگر میں نے وہ زمانہ پایا تو آپ مجھے ان کے بارے میں کیاحکم دیتے ہیں؟ فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا ۔ میں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو؟ فرمایا کہ پھر ان تمام لوگوں سے الگ ہو رہنا خواہ تمہیں جنگل میں جا کر درختوں کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت آ جائے۔(صحیح بخاری ۔ کتاب الفتن)
--------------------------------------
جنتیوں کا بنیادی عقیدہ
لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ
لاالٰہ الا اﷲ کا مطلب یہ ہے کہ اﷲکے علاوہ کوئی الٰہ نہیں جو خالق و مالک کہلائے جانے کا مستحق ہو؛ عالم الغیب، حاضروناظراورمختارِکل سمجھا جائے؛ نفع و نقصان جس کی مُٹھی میں ہو؛ حاجت روائی، مشکل کشائی، فریادرسی جس کی صفت ہو؛ اٹھتے بیٹھتے جس کو پکارا جائے؛ جس سے غائبانہ خوف کھایا جاے؛ امیدیں وابستہ کی جائیں اور جس پر توکل کیا جائے؛ واسطے اور وسیلے کے بغیر جس سے دعائیں مانگی جائیں؛ جس کے حضور رکوع و سجود ہوں اور جس کے نام کی نذرو نیاز کی جائے؛ قانون سازی جس کا حق ہو؛ سب جس کے بندے اور محتاج ہوں نیز کسی کو اُس پر زور یا زبردستی کا یارا نہ ہو۔
محمدرسول اﷲ کے اقرار کے معنی یہ ہیں کہ نبی ا بشر اور اﷲتعالیٰ کے آخری رسول ہیں؛ اُن کے قول و عمل کے سامنے کسی کا قول و عمل ہرگز قابلِ قبول نہ ہوگا اور نبی اکے قول و عمل کی وہی تعبیر مُعتبر ٹھہرے گی جو صحابہ کرام ثکے تَعامُل سے ثابت ہے؛ قیامت تک سنتِ نبوی زندگی کے ہر شعبے میں سندِ آخر ہے اور ہر قسم کی بدعت قابل ردّ رہے گی۔
اس عقیدے کا مالک گناہ گار سے گناہگار بندہ انجامِ کار جنت کی بادشاہی میں اِن شاء اﷲپہنچ کے رہے گا اور اِس کے خلاف عقیدہ رکھنے والا جنت کی خوشبو تک نہ پاسکے گا چاہے وہ پنج وقتہ صلوٰۃ کا پابند، تہجدگزار اور صائم الدّھر ہی کیوں نہ ہو۔
25/06/2026
سیدنا حسین ابن علیؓ
سیدنا حسین بن علی ؓ تاریخ کی ان چند مظلوم شخصیات میں سے ہیں جو کہ ایک حادثہ فاجعہ سے دوچار ہوکر نہ صرف مظلومانہ شہید ہوئے بلکہ ان کی پوری کی پوری شخصیت کو اس حادثہ فاجعہ کے تناظر میں ہی دیکھا جانے لگا اور ان کی شخصیت کے دوسرے نمایاں خدوخال اور کارنامے محو ہوکر رہ گئے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سیدنا حسینؓ کی زندگی کے کئی دوسرے گوشے بھی ایسے ہیں جو کہ ان کی جلالت قدری اور عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔
ہمیں سخت حیرت ہوتی ہے کہ ایک طرف تو ہمارا وہ طبقہ ہے جو کہ شیعیت سے متاثر ہے کہ اس کو سیدنا حسینؓ کی زندگی میں واقعہ کربلا کے علاوہ اور کوئی قابل ذکر بات نظر نہیں آتی اور وہ اسی کا پرچار کرتا رہتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ وہ ہے جو کہ ایک دوسری انتہا پر جا کر انتہائی گستاخانہ لہجے میں دعویٰ کرتا ہے کہ سیدنا حسینؓ کی زندگی میں کربلا کے علاوہ اور کوئی قابل ذکر بات تھی ہی نہ۔ استغفراللہ۔ یہ دونوں گروہ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ جبکہ سیدنا حسینؓ کی پوری زندگی اعلائے کلمۃ اللہ کی سربلندی کے لئے جدوجہد سے معمور تھی اور اپنے عہد جوانی سے ہی سیدنا حسینؓ مختلف غزوات میں شامل رہے۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا عمر ؓ کے دور میں تو سیدنا حسینؓ عہد طفولیت میں تھے لیکن سیدنا عثمانؓ کے دور میں عہد جوانی میں قدم رکھتے ہی سیدنا حسینؓ تمام نمایاں غزوات اور جہادی مہم میں شامل رہے۔چنانچہ خلافت عثمانی کے دور میں سیدنا حسینؓ نے غزوہ طبرستان میں شرکت کی جس کی امارت سعید بن العاصؓ کے ہاتھ میں تھی جو اس وقت کوفہ کے گورنر تھے۔ اسی طرح سیدنا عثمانؓ نے جو فوج افریقہ روانہ فرمائی ،سیدنا حسینؓ اس میں بھی شامل تھے اور افریقہ فتح ہونے تک دشمنوں سے لڑتے رہے۔ طرابلس میں رومیوں کے خلاف برسرپیکار رہے جبکہ سبطلہ کے حاکم جرجیر کی ڈیڑھ لاکھ فوج سے جہاد کیا اور فتح مند ہوئے۔ قفصہ کی جنگ میں بھی تلوار کے جوہر دکھائے اور کامران رہے، بعدازاں قلعہ اجم کے محاصرہ میں بھی سیدنا حسینؓ کا برابر حصہ تھا۔
ابن خلدون کے مطابق سیدنا حسینؓ بہت سی مغربی جنگوں میں شامل رہے جیسا کہ اوپر جہاد طبرستان کا ذکر گزر چکا ہے جو کہ سن ۳۰ ہجری میں ہوا تھا۔ علاوہ بریں خراسان، قومس، نہاوند، جرجان، طمیسہ، بحیرہ، دہستان اور ایسی متعدد جنگوں میں سیدنا حسینؓ نے شرکت فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے ان تمام جنگوں میں مسلمانوں کو فتح و نصرت سے ہمکنار کیا۔ یہ تمام فتوحات سیدنا عثمانؓ کے عہد مبارک میں ہوئیں۔ سیدنا عثمانؓ کے آخری دور میں آپ ان حضرات میں شامل تھے جو کہ پہرہ دار کی حیثیت سے سیدنا عثمانؓ کے دروازے پر تعینات تھے اور بلوائیوں سے سیدنا عثمانؓ کی حفاظت کرتے ہوئے شدید زخمی بھی ہوئے۔ سیدنا حسینؓ کی طرح سیدنا حسنؓ اور سیدنا مروانؓ بھی بلوائیوں سے سیدنا عثمانؓ کی حفاظت کرتے ہوئے زخمی ہوئے تھے۔ .
سیدنا علیؓ کے دور میں مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگی کی وجہ سے کفار کے خلاف مسلسل قتال نہ ہوسکا سو اس عہد میں دوسرے مسلمانوں کی طرح آپ کا کسی جہاد میں شامل ہونے کا امکان نہیں رہتا۔ البتہ سیدنا معاویہؓ کے دور میں جب فتوحات اسلامی اور جہاد کا پھر سے آغاز ہوتا ہے تو سیدنا حسینؓ کی پوری حمایت و موجودگی ان فتوحات و جہاد میں شامل رہتی ہے۔ سیدنا معاویہؓ کے دور حکومت میں عقبہ بن نافع الفہری کی سرکردگی میں دوبارہ جہاد افریقہ شروع ہوتا ہے تو سیدنا حسینؓ ایک دفعہ پھر اس میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ اسکے بعد جب سیدنا معاویہؓ کی اسلامی فوجیں بلاد روم میں داخل ہوتی ہیں تو سیدنا حسینؓ ان میں بھی شریک نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ قسطنطنیہ میں حملہ آور ہونے والا پہلا لشکر جس کے سپہ سالار یزید بن معاویہؒ تھے اور جس میں سیدنا عبداللہ بن عمرؓ، سیدنا عبداللہ بن عباسؓ، سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ اور میزبان رسول سیدنا ابو ایوب انصاری ؓ بھی شامل تھے، ان سب حضرات کے ساتھ سیدنا حسینؓ بھی اس لشکر میں شامل تھے۔ یاد رہے کہ یہ وہی لشکر ہے جس کے مغفور لہم ہونے کی شہادت لسان نبوت ﷺ نے دی تھی اور اسی وجہ سے اس لشکر میں صحابہ نے دور دراز سے شرکت کی اور سیدنا ابو ایوب انصاریؓ اپنی کبرسنی اور ضعف کے باوجود اس لشکر میں شامل ہوکر لڑنے آئے اور قسطنطنیہ کے محاصرے کے دوران ہی آپؓ کا انتقال ہوا تھا۔ اسی مبارک لشکر کے بارے میں امام ابن کثیر اپنی کتاب البدایہ و النہایہ جلد ۸ صفحہ ۱۵۱ میں لکھتے ہیں کہ:
’’سیدنا حسینؓ ہر سال سیدنا معاویہؓ کے پاس جایا کرتے تھے اور سیدنا معاویہؓ ان کو انعام و اکرام سے نوازتے تھے اور حسینؓ اس لشکر میں شامل تھے ، جس نے قسطنطنیہ میں یزید بن معاویہ کی معیت میں حملہ کیا تھا۔‘‘
شیعہ مولف سید امیر علی اس بابت اپنی تالیف ہسٹری آف سیریسنس صفحہ ۸۴ میں لکھتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ نے قسطنطنیہ کے محاصرے میں عیسائیوں کے خلاف بڑی شاندار خدمات سرانجام دیں۔
المختصر سیدنا حسینؓ کی پوری زندگی جہاد اسلامی میں گزری اور واقعہ کربلا کے علاوہ ان کی زندگی کے اور بھی بہت سے نمایاں پہلو ہیں اور وہ کسی طور سے جہاد و غزوات میں دوسرے مسلمانوں سے پیچھے نہیں رہے تھے۔ سو جو لوگ سیدنا حسینؓ پر اس طرح کی لغو پھبتی کستے ہیں کہ واقعہ کربلا کے علاوہ سیدنا حسین کی زندگی کا کوئی نمایاں پہلو اور کارنامے نہیں تھے، ان کو اپنی اس کوتاہ فہمی اور کم علمی پر استغفار کرنا چاہیئے اور اپنی کم علمی پر سیدنا حسینؓ کی بابت اس طرح کی خامہ فرسائی سے توبہ کرنی چاہیئے۔
سیدنا حسینؓ نے معتدد نکاح کئے اور سب عرب کے ممتاز گھرانوں اور جید صحابہ کی آل اولاد سے کئے۔ یہاں سب کا ذکر کرنا تو طوالت کا باعث ہوگا سو سر دست ان کی چند ازواج کے نام یہاں بیان کردئیے جاتے ہیں۔ سیدنا حسینؓ کا ایک نکاح سیدہ رباب کلبیہ سے ہوا تھا جو کہ عر ب کے معزز عیسائی قبیلہ بنو کلب سے تعلق رکھتی تھیں اور سیدنا معاویہؓ کی زوجہ اور ام یزید سیدہ میسونؒ کی چچازاد تھیں۔ اس لحاظ سے سیدنا حسینؓ اور سیدنا معاویہؓ ہم زلف ٹھہرتے ہیں اور سیدنا حسینؓ یزید بن معاویہؒ کے خالو۔ اسی طرح سے سیدنا حسینؓ کا ایک اور نکاح سیدہ لیلیٰ بنت ابی مرہ سے ہوا تھا جن سے سیدہ سکینہؒ اور جناب علی اصغر ؒ پیدا ہوئے تھے۔ یہ سیدہ لیلیٰ سیدنا معاویہؓ کی حقیقی بہن سیدہ میمونہ بنت ابو سفیانؓ کی بیٹی تھیں، گویا سیدنا معاویہ ؓکی حقیقی بھانجی اور یزید کی پھوپھی زاد بہن سیدنا حسینؓ کی زوجیت میں تھیں سو اس رشتہ سے سیدنا حسین ؓ سیدنا معاویہؓ کے بھانجہ داماد اور یزید کے بہنوئی تھے۔ سیدنا حسینؓ نے ایک نکاح سیدنا ابو بکر صدیق کی پوتی حفصہ بنت عبدالرحمٰن بن ابی بکرؒ سے بھی کیا تھا۔ سیدنا حسینؓ کی ایک زوجہ کا نام شہر بانو بھی بتایا جاتا ہے جس کو ایران کے بادشاہ یزدگرد کی بیٹی باور کروایا جاتا ہے لیکن یہ سخت لغو بات ہے اور تمام جید مورخین نے اسکا انکار کیا ہے۔ الفاروق میں علامہ شبلی نعمانی نے سیدنا حسینؓ کے شہربانو سے نکاح کے باطل ہونے پر مفصل بحث کی ہے اور اس کے وقوع کا مطلق انکار کیا ہے۔
سیدنا حسینؓ کی مظلومانہ شہادت واقعہ کربلا کے حادثہ فاجعہ کے نتیجے میں ہوئی جس پر مفصل کلام ہم کئی بار کر چکے ہیں سو اس کے اعادہ کی ضرورت کا یہ مضمون محتمل نہیں۔ ہمارے اس مضمون کا مقصد ان تاریخی حقائق اور سیدنا حسینؓ کی شخصیت و کردار کے ان پہلووں کو سامنے لانا تھا جس پر واقعہ کربلا کے تحت ہونے والے افراط و تفریط پر مبنی مباحث نے دبیز پردے ڈال رکھے ہیں تاکہ قارئین کو نواسہ رسولﷺ سیدنا حسینؓ کی زندگی کے دوسرے پہلوؤں سے بھی آگاہی حاصل ہو اور یہ پتہ چل سکے کہ یہ نواسہ رسولﷺ ایک عظیم مجاہد بھی تھے جن کی پوری زندگی جہاد اسلامی اور اعلائے کلمۃ اللہ کی سربلندی میں گزری۔ اللہ سیدنا حسینؓ پر اپنی کڑوڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ہم مسلمانوں کو ان کے نقش قدم پر چلنے اور درست معنوں میں ان کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
تحریر: محمد فھد حارث
08/04/2026
Surah Al Baqarah 257 with Urdu and English Translation
06/04/2026
Imagine planting one seed and harvesting 700. This is how Allah describes the reward of spending in His way. It’s not about how much you have; it’s about the barakah (blessing) in what you give. ✨
📖 Surah Al-Baqarah, Ayat 261
English Translation
The example of those who spend their wealth in the way of Allah is like a seed of grain which grows seven ears; in each ear is a hundred grains. And Allah multiplies the reward for whom He wills. And Allah is all-Encompassing and Knowing.
Urdu Translation
جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس سے سات بالیاں اگیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے (ثواب میں) کئی گنا اضافہ کر دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
05/04/2026
ایران کی "غیر مشروط" حمایت میں سرتاپا ڈوبے وہ اشخاص جو مسلسل عرب ممالک پر تبرے پڑھ رہے ہیں، ان سے میرے صرف دو سوالات ہیں جن کے جوابات ہنوز ندارد ہیں۔ اگر وہ جوابات مل جائیں تو مجھے انکا اور میرے سوالات سے انکو میرا موقف سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ ان میں پہلا سوال اعتقادی ہے جبکہ دوسرا سیاسی:
١. دیکھیں بات بڑی سادہ ہے مگر ہم نے خود ہی اسے پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگر کوئی شخص یا گروہ اپنے عقائد میں کھلے شرکیہ نظریات رکھتا ہو، ائمہ کو خدائی صفات میں شریک کرتا ہو، قبروں اور شخصیات کے گرد دین کو گھماتا ہو، تو پھر اصولی طور پر اس پر واضح تنقید ہونی چاہیے۔ لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہی سب کچھ نظر انداز کر دیا جاتا ہے صرف اس بنیاد پر کہ وہ امریکہ کے خلاف کھڑا ہے۔ یعنی عقیدہ، توحید، شرک، سب ثانوی ہو جاتے ہیں اور اصل معیار سیاسی موقف بن جاتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں معاملہ خطرناک رخ اختیار کرتا ہے۔ جب آپ کسی کے باطل عقائد کو صرف اس لیے نظر انداز کریں کہ وہ آپ کے پسندیدہ سیاسی کیمپ میں ہے، تو پھر آپ دراصل اصولوں پر نہیں بلکہ جذبات اور مفادات پر کھڑے ہیں۔ اسی لیے جب کچھ لوگ ایران کے لیڈرز کے لیے دعائیں کرتے ہیں، ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوتے ہیں، اور ان کے واضح عقائد کے باوجود ان کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں، تو یہ سوال اٹھنا بالکل فطری ہے کہ کیا یہ رویہ مرجئہ جیسی سوچ کی طرف اشارہ نہیں کرتا، جہاں عقیدہ پسِ پشت چلا جاتا ہے اور صرف ایک خاص عمل یا موقف ہی معیار بن جاتا ہے۔
٢. دیکھیں ایران کی خطے میں جو تاریخ ہے وہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں، پچھلی تین دہائیوں میں ایران نے یہی کیا ہے کہ اپنی پراکسیز کے ذریعے عربوں کی گردن پر سوار رہا ہے اور مختلف عرب ممالک کو مسلسل مشکلات میں ڈالے رکھا ہے۔ جہاں جہاں اس کا بس چلا وہاں اس نے اثر و رسوخ بڑھایا، شام، یمن اور عراق ہمارے سامنے ہیں۔ یہ سب اس وقت بھی ہوا جب اس کے سامنے اسرائیل اور امریکہ جیسے مضبوط مخالفین موجود تھے۔ اب اگر آج عرب ممالک ایران کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں اور انہی کے تعاون کے ذریعے ایران اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ خطے میں اسرائیل اور امریکہ کو شکست دے دے اور اس کی خطے میں بالادستی قائم ہو جائے تو پھر کیا گارنٹی ہے کہ وہ وہی پالیسی عرب ممالک کے خلاف دوبارہ نہیں اپنائے گا جو وہ پچھلے چالیس پینتالیس سال سے اپناتا آ رہا ہے؟ عرب ممالک کو اس بات کی یقین دہانی کون دے گا؟ کیا انہیں اپنے ریاستی مفادات کے حوالے سے نہیں سوچنا چاہیے؟ اگر آپ پچھلے تیس چالیس سال کا جائزہ لیں تو خلیجی ممالک کو جتنا نقصان ایران نے پہنچایا ہے اتنا اسرائیل یا امریکہ نے نہیں پہنچایا۔ تو اگر آپ خلیجی ممالک کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو اصل بڑا خطرہ کون ہے؟ اور اگر آج وہ ایران کو مزید مضبوط کر دیتے ہیں تو کل کو ایران کے ممکنہ اثر و رسوخ سے انہیں کون بچائے گا؟
سائل: محمد فھد حارث
04/04/2026
Whether it’s financial stress, family pressure, or just feeling stuck. But Allah promises that if you have Iman (faith), He will personally lead you out of those "darknesses" and into the Light. 🕯️✨
Surah Al-Baqarah (2:257) with Urdu And English Translation
02/04/2026
The Ibad-ur-Rahman are those who balance their day and night perfectly. By day, they are peaceful and kind to people—even those who are difficult. By night, they are broken and sincere before their Creator.
Surah Furqan ayat 63 -66 W8tybUrdu and English Translation
Ayat 63
"And the servants of the Most Merciful are those who walk upon the earth easily, and when the ignorant address them [harshly], they say [words of] peace,"
Ayat 64
"And those who spend [part of] the night to their Lord prostrating and standing [in prayer],"
Ayat 65
"And those who say, 'Our Lord, avert from us the punishment of Hell. Indeed, its punishment is ever adhering;'"
Ayat 66
"Indeed, it is evil as a settlement and residence."
31/03/2026
We often look far away to do "big" charity, but Islam teaches us to start at home. 🕯️❤️ Your parents and your family are your first "Sadaqah."
Surah Al Baqarah ayat 215 with Urdu and English Translation
Address
Riyadh
Telephone
Website
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when DAWAT UL QURAN posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.
Contact The School
Send a message to DAWAT UL QURAN:
Shortcuts
Category
Listing takedown request
Tell us why this listing should be removed. Our team will review your request.