Learn About Life.

Learn About Life.

Share

Think & plan about your future, enjoy your present and learn from the past which is good or bad!

05/01/2026

Celebrating my 6th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

12/12/2025

امریکہ کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی خسارے میں جا رہی تھے۔ کمپنی کے مالکان نے خسارے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ایک کنسلٹنٹ ہائر کر لیا۔ کنسلٹنٹ نے دو ماہ کے مطالعے کے بعد کمپنی کے زوال کی بڑی ہی دلچسپ وجہ بیان کی۔ اس نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ کے دوران ڈائریکٹر سے پوچھا فرض کریں آپ میں سے ایک صاحب کچن میں کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک ڈش تیار کر رہے ہیں۔ یہ ڈش جب تیاری کے قریب پہنچ جاتی ہے تو ایک دوسرے صاحب کچن میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ ڈش کا ڈھکن اٹھاتے ہیں اور پتیلی میں ایک چمچ سیاہ مرچ ڈال دیتے ہیں یہ صاحب جاتے ہیں تو دوسرے صاحب آ جاتے ہیں یہ بھی ڈھکن اٹھاتے ہیں، ڈش دیکھتے ہیں اور اس میں نمک کا ایک چمچ ڈال دیتے ہیں۔ ان کے بعد تیسرے صاحب آتے ہیں۔ یہ بھی ڈش کو دیکھتے ہیں اور اس میں دو بڑے چمچ کوکنگ آئیل ڈال دیتے ہیں۔ لوگ کچن میں آتے جاتے ہیں اور ڈش میں اپنی اپنی مرضی کی چیزیں ڈالتے جاتے ہیں تو آپ بتائیے اس ڈش کا کیا بنے گا؟
تمام ڈائریکٹرز فورا بولے وہ ڈش کھانے کے قابل نہیں رہے گی۔ کنسلٹنٹ مسکرایا اور آہستہ سے بولا آپ کی کمپنی کے ساتھ ہو رہی ہے، تو رکیں۔
اپنے اندر چھپے ٹیلنٹ کو دریافت کریں۔

08/12/2025

نبی اللہ سلیمان اورچمگادڑ کی حکمت
جب اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام نے چمگادڑ سے مشورہ کیا
تو اُس وقت اللہ کی چار مخلوقات شکایت اور حاجت لے کر حاضر ہوئیں

پہلی: سورج
عرض کی: اے نبی اللہ، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی باقی مخلوق کی طرح ایک ہی جگہ میں سکونت دے دے
میں مشرق و مغرب کے درمیان مسلسل حرکت سے تھک چکی ہوں

دوسری: سانپ
کہا: اے سلیمان، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی ہاتھ پاؤں عطا کرے جیسے دیگر جانوروں کو دیے ہیں،
میں پیٹ کے بل رینگ رینگ کر تھک چکی ہوں

تیسری: ہوا
کہی: اے نبی اللہ، میں مسلسل بے مقصد ادھر اُدھر بھٹکتی رہتی ہوں
میرے لیے اللہ سے سکون کی جگہ مانگیں

چوتھی: پانی
کہا اے سلیمان میں کبھی زمین میں کبھی آسمان کے نیچے ہر جگہ پھر رہا ہوں
نہ مجھے ٹھکانہ ہے نہ ٹھہراؤ
اللہ سے کہیے کہ مجھے ایسی جگہ عطا کرے جہاں میں رُک سکوں
اور جو مجھے چاہے وہ میرے پاس آئے

سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو مشورے کے لیے بلایا
ان میں چمگادڑ بھی تھا سب سے چھوٹا سب سے کمزور
سلیمان علیہ السلام نے اسے باقیوں کے سوالات سنائے اور فرمایا
اے چمگادڑ تم نے سب کی شکایتیں سنیں
اب تمہاری رائے کیا ہے؟

چمگادڑ نے نرمی سے پر ہلائے آدب سے آگے آیا اور بولا

اے نبی اللہ
یہ سب سکون چاہتے ہیں
مگر ان کی حرکتوں میں حکمت ہے
جسے اللہ ہی جانتا ہے

اگر سورج رک جائے
تو دنیا اندھیرے میں ڈوب جائے
نہ فصل ہو نہ دن رات کا نظام قائم رہے

اگر سانپ کو پاؤں دے دیے جائیں
تو اس کی ہیبت ختم ہو جائے
اور جو راز اللہ نے اس میں رکھے ہیں وہ زائل ہو جائیں

اگر ہوا ساکن ہو جائے
تو ہوا سڑ جائے
کشتیاں رک جائیں
بارش نہ ہو
کھیتی تباہ ہو جائے

اگر پانی رُک جائے
تو بدبو دار ہو جائے
نہ قابلِ استعمال رہے
کچھ جگہوں کو زیادہ ملے، کچھ کو محروم کر دے

پھر چمگادڑ نے دھیمے لہجے میں کہا
اے نبی اللہ
ہر چیز کی راحت اس کی حرکت میں ہے
ان کا اصل مقام وہی ہے جہاں اللہ نے ان کو رکھا ہے
اللہ نے کوئی چیز بے مقصد نہیں بنائی
اور جس شکوہ میں ہم مبتلا ہیں
اسی میں اللہ کی کوئی نعمت چھپی ہوتی ہے
جو صرف غور و فکر کرنے والے کو نظر آتی ہے

سلیمان علیہ السلام مسکرائے
پرندوں اور جانوروں کی طرف دیکھا اور فرمایا

چمگادڑ نے سچ کہا
اگرچہ کمزور ہے
لیکن تم سب سے زیادہ سمجھدار نکلا
اللہ کا شکر ادا کرو
کیونکہ تم میں سے ہر ایک کے وجود میں ایسی حکمت ہے
جو صرف وہی جانتا ہے جسے اللہ نے بصیرت عطا کی ہو

یہ سن کر
سورج شرمندہ ہو گیا
سانپ خاموش ہو گیا
ہوا تھم گئی
پانی کو اطمینان ہوا
اور سب اپنی اپنی جگہ پر لوٹ گئے
اس یقین کے ساتھ کہ اللہ ان کی حالت کو بہتر جانتا ہے
اور اس کا ہر حکم حکمت سے خالی نہیں

اگر آپ نے یہاں تک پڑھا ہے
تو ایک بار ضرور درود پڑھیں
Copied post

20/11/2025
20/11/2025

بیٹا، یاد رکھو کہ حقیقی تباہی ہمیشہ بُرے یا شریر انسانوں کی وجہ سے نہیں آتی—اکثر یہ کمزور کردار اور بے عملی کی پیداوار ہوتی ہے۔
بیٹا، میرے قریب بیٹھو اور اس حقیقت کو پوری سنجیدگی سے سنو:
زندگی کے تجربات نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ سب سے بڑے المیے اُن لوگوں کے ہاتھوں نہیں ہوئے جو بد نیت تھے، بلکہ اُن افراد کی کمزوریوں کے باعث جنہوں نے ذمہ داری، سچائی اور اپنے کردار کے بوجھ سے آنکھیں چُرائیں۔

وہ کمزور مرد جنہوں نے مشکل فیصلوں سے راہِ فرار اختیار کی؛
جو ذمہ داری کے خوف سے مفلوج رہے؛
جو زندگی کے دباؤ کو قبول کرکے ڈھلتے رہے، بجائے اس کے کہ وہ خود زندگی کا رُخ متعین کرتے۔
وہ مرد جنہوں نے وقتی آرام کے بدلے اپنی صلاحیتوں کا سودا کیا
اور آخرکار اس کی قیمت اپنے مستقبل سے چکائی۔

بیٹا، کمزوری کبھی بے ضرر نہیں ہوتی—یہ خاموشی سے شروع ہو کر انسان کی پوری شخصیت کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
میں نے ایسے مرد دیکھے جنہوں نے اپنی کمزوری کے ہاتھوں وہ سب گنوا دیا جسے وہ دل سے عزیز رکھتے تھے۔
میں نے گھر برباد ہوتے دیکھے
صرف اس لیے کہ آدمی نے بے عزتی کا سامنا کرنے کی ہمت نہ کی۔
میں نے بچوں کو اپنے والدوں سے دور ہوتے دیکھا
کیونکہ باپ ناحق کے خلاف کھڑے ہونے سے خوفزدہ تھے۔
میں نے مردوں کو شراب میں ڈوبتے دیکھا
کیونکہ سچ کا سامنا کرنا انہیں خود کو آہستہ آہستہ ختم کرنے سے زیادہ دشوار لگا۔

کمزوری بڑھتی ہے، پھیلتی ہے، اور بالآخر انسان کے وجود کو اندر سے روند ڈالتی ہے۔
طاقتور آدمی بھی ناکام ہو سکتا ہے—
لیکن وہ سیکھ کر دوبارہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
کمزور آدمی ہار مان لیتا ہے
اور اپنی ناکامی کا ذمہ دار ہر شے کو ٹھہراتا ہے سوائے اپنے آپ کے۔

طاقتور آدمی اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے؛
کمزور آدمی اپنی شرمندگی چھپاتا ہے یہاں تک کہ یہی شرمندگی اسے زندہ دفن کر دیتی ہے۔
طاقتور آدمی حفاظت اور ذمہ داری کا بوجھ اٹھاتا ہے؛
کمزور آدمی امید رکھتا ہے کہ یہ فرض کوئی اور پورا کر دے گا۔

وقت گزرنے پر حقیقت سامنے آ جاتی ہے:
کمزور آدمی صرف مواقع نہیں کھوتے—
وہ اپنی وراثت (legacy) بھی کھو دیتے ہیں۔
وہ اس لیے نہیں ہارتے کہ زندگی نے انہیں شکست دی،
بلکہ اس لیے کہ انہوں نے لڑنے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے درد سے بچنے کی کوشش میں اپنی پوری زندگی پچھتاوے کے حوالے کر دی—
اور بیٹا…
پچھتاوا ہمیشہ اُس درد سے کہیں زیادہ چیختا ہے جو ایک مضبوط اور باوقار آدمی برداشت کرتا ہے۔

یاد رکھو:
کمزور آدمی نہ اپنے بچوں کا دفاع کر سکتا ہے،
نہ اپنے گھر کا،
نہ اپنے نام اور عزت کا۔
وہ دباؤ میں ٹوٹ جاتا ہے،
غلط بیانی کا شکار ہو جاتا ہے،
اور اکثر اُن باتوں پر معافی مانگتا ہے جن پر اسے قائم رہنا چاہیے۔
وہ اپنی دنیا کو بکھرتے دیکھتا ہے
اور بس اتنا کہتا ہے:
“مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیا کرنا چاہیے تھا۔”

کمزوری بظاہر معمولی محسوس ہو سکتی ہے،
لیکن یہ آہستہ آہستہ انسان کو ایسے کھا جاتی ہے جیسے زنگ لوہے کو۔
اسی لیے، بیٹا، ابھی طاقت پیدا کرو—جب وقت تمہارے پاس ہے۔

طاقت نظم و ضبط میں ہے۔
طاقت خود پر قابو میں ہے۔
طاقت سچائی، عزم اور خدا سے تعلق میں ہے۔
طاقت اُس ہمت میں ہے جو آسان غلطی کے بجائے مشکل درست فیصلے کو چنتی ہے۔

کمزوری اس وقت بڑھتی ہے جب تم اسے جواز دو،
اور طاقت اس وقت بڑھتی ہے جب تم اسے عمل میں لاؤ۔

دنیا اُن مردوں سے بھری پڑی ہے جو پچھتاتے ہیں
کہ نہ وہ بولے جب بولنا لازم تھا،
نہ وہ رہنمائی کر سکے جب انہیں آگے بڑھنا چاہیے تھا،
اور نہ وہ کھڑے ہو سکے جب غیرت، عدل اور کردار ان سے یہ تقاضا کرتے تھے۔

بیٹا، تم ان مردوں میں شامل نہ ہونا۔

آخری بات:
کمزور مرد سب سے شدید پچھتاوے چھوڑتے ہیں،
اور مضبوط مرد سب سے مضبوط وراثتیں۔

اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے—
تم کون سا شخص بننا چاہتے ہو
اس سے پہلے کہ زندگی تم پر اپنی مرضی مسلط کر دے۔

09/11/2025

اپنے بیٹوں کو سکھائیں کہ طاقت آواز بلند کرنے یا غصہ دکھانے میں نہیں، بلکہ اپنے نفس پر قابو رکھنے میں ہے۔
انہیں سکھائیں کہ مردانگی اس میں نہیں کہ وہ کسی کو خوفزدہ کریں، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو محفوظ محسوس کرائیں۔

نرمی کمزوری نہیں، بلکہ سمجھداری ہے۔ غصہ جیت نہیں، بلکہ نقصان ہے۔ محبت کنٹرول نہیں، بلکہ احترام ہے۔

انہیں یہ سکھائیں کہ اگر وہ واقعی طاقتور بننا چاہتے ہیں،

تو اپنے غصے پر قابو پانا سیکھیں،

اپنے رویے میں رحم پیدا کریں،

اور اپنی نیت کو صاف رکھیں۔

انہیں یہ سکھائیں کہ کسی عورت کا سکون، اس کی عزت، یا اس کے خواب کسی کھیل یا انا کا حصہ نہیں۔

انہیں یہ سکھائیں کہ عورت کوئی جیتنے کی چیز نہیں، بلکہ سمجھنے، احترام اور محبت کے لیے ہے۔

اپنے بیٹوں کو سکھائیں کہ:

ایک اچھا شوہر یا بھائی یا بیٹا بننے کے لیے انہیں کسی کو دبانے کی ضرورت نہیں، بلکہ خود کو سنبھالنے کی ضرورت ہے۔

انہیں یہ احساس دلائیں کہ ﷲ کے نزدیک اصل مرد وہ ہے

جو اپنی ماں کے آنسوؤں کو مسکراہٹ میں بدل دے،

اپنی بیوی کے دل کو امن دے،

اور اپنی بہن کے لیے تحفظ کا احساس بنے، بغیر کسی خوف، تذلیل یا احسان کے۔

انہیں سکھائیں کہ رحم، انصاف، اور عزت، یہی مردانگی کی اصل پہچان ہیں۔ نہ دولت، نہ غصہ، نہ برتری۔

اور سب سے بڑھ کر،

انہیں یہ سکھائیں کہ عورت کو عزت دینے والا مرد کبھی کمزور نہیں ہوتا, وہ وہی ہوتا ہے جسے ﷲ اپنی محبت سے مضبوط کرتا ہے۔

06/11/2025

*والدین متوجہ ہوں*
لڑکا دس سال کا ہوجائے تو اسے والد کے حوالے کردیں عورتوں کی محفلوں سے الگ کردیں....!!

گاڑی کا ٹائر بدلا جا رہا ہے تو اسے سکھاؤ،
مارکیٹ سے سامان لانا ہے تو اسے لے کر جائیں
اور بتائیں کہ جاؤ فلاں فلاں چیزیں لو
اور ساتھ ساتھ سمجھاتے رہو۔

دس سال کے بچے کو پتا ہونا چاہیے کہ
آلو پیاز کی قیمت کیا ہے ؟
قریبی دکان کہاں پر ہے،
فلاں کا گھر کونسا ہے،
کونسا مکینک اچھا کام کرتا ہے،
گھر آئے مرد مہمانوں کا کیسے استقبال کرنا ہے۔

اس کے ساتھ اپنے کپڑے استری کرنا،
اپنا بستر بنانا،
ضرورت کے وقت اپنے لئے کھانا گرم کرنا،
اپنا سبق وقت پر یاد کرنا،
وقت پر سونا وقت پر جاگنا،
یہ صرف کرنی کی باتیں نہیں ہیں اس پر عمل کرنا ہے۔

دس سال کا بچہ اب ایک عشرہ آگے آچکا ہےاب اسے کچھ نیا کرنے کو دل کرتا ہے اب اس کے لئے صرف ماں باپ کا پیار کافی نہیں ہوتا ہے۔

اس عمر میں مخلوط تقریبوں میں لے جانے سے احتیاط کریں اور کوشش کریں کہ جب خواتین کا کوئی پروگرام ہو تو بچے کو کسی اور دلچسپ سے کام میں مصروف کردو اور یہ سب کچھ پیار محبت سے کروانا ہے کہ بچے کو احساس ہو کہ یہ سب میرے خود کے لئے بہتر ہے نہ کہ اسے نوکروں کی طرح حکم دو۔

اگر آپ اسے درست کاموں میں مصروف نہیں کریں گے تو وہ خود اپنے لئے کچھ دلچسپیاں تلاش کرے گا نئے دوست بنائے گا اور ایسی سرگرمیاں کرنے کی کوشش کرے گا جو والدین اس کے لئے بالکل پسند نہیں کریں گے۔

بچے کی تربیت کریں گے تو کل وہ آپ کو سود سمیت لوٹائے گا اور اگر صرف کھانے پینے پر دھیان دوگے تو پھر چیختے چلاتے رہ جاو گے کہ ہم نے تم پر خرچ کیا ہے پڑھایا لکھایا ہے لیکن ان پر اثر نہیں ہوگا اس لئے ان کو وقت دیں نیندیں قربان کریں۔

یہ کام مشکل ہے، بالکل آسان نہیں ہے لیکن یہ کرنا ہے اگر آپ کو اللہ نے اولاد کی نعمت سے نوازا ہے اور والدین کے رتبے پر فائز کیا ہے تو جان مت چھڑائیں، اس عہدے کا پاس رکھیں۔
اچھی تربیت کرنے سے ہی یہ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک اور ممکنہ طور پر پرہیزگاروں کی رہنما بن سکتی ہے۔

06/11/2025

🧄 لہسن کی پوشیدہ آگ – گھر کی فضا کو پاک کرنے کا قدیم قدرتی راز 🌿
کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی لہسن کی پھلی صرف کھانے کا ذائقہ نہیں بڑھاتی بلکہ آپ کے گھر کی فضا کو بھی پاک کر سکتی ہے؟
قدیم زمانوں میں لوگ لہسن جلا کر گھر سے منفی توانائیاں، جراثیم، بدبو اور بیماریوں کو دور کرتے تھے۔
آج جدید سائنس بھی تسلیم کرتی ہے کہ لہسن جلانے سے فضا صاف، سانس ہلکی، اور ذہن پرسکون ہوتا ہے۔
🔬 لہسن جلانے کے سائنسی فائدے
🔥 جب لہسن کو ہلکی آنچ دی جاتی ہے تو اس میں موجود "الیسن (Allicin)" نامی جز آزاد ہوتا ہے۔
یہ ایک طاقتور اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل مرکب ہے جو فضا میں موجود نقصان دہ جراثیم، وائرس اور فنگس کو ختم کرتا ہے۔
💨 اس کا دھواں گھر کی بدبو، نمی، اور نقصان دہ بیکٹیریا کو دور کرتا ہے۔
چند منٹوں میں آپ محسوس کریں گے کہ فضا ہلکی، تازہ اور پرسکون ہو گئی ہے۔
🌿 روحانی اور ذہنی سکون
قدیم زمانوں میں لوگ یقین رکھتے تھے کہ لہسن جلانے سے گھر کی منفی توانائی ختم ہوتی ہے۔
آج کے ماہرین نفسیات بھی مانتے ہیں کہ لہسن کی خوشبو دماغ کے Limbic System کو سکون دیتی ہے، جس سے ذہنی دباؤ کم اور مزاج بہتر ہوتا ہے۔
🧘‍♀️ کسی ایسے کمرے میں جلائیں جہاں جھگڑا یا تناؤ رہتا ہو، صرف چند منٹ میں فضا کا بوجھل پن ختم ہو جاتا ہے۔
😮‍💨 سانس کی نالیوں کے لیے قدرتی فائدہ
لہسن کا دھواں ہلکے انداز میں قدرتی انہیلر کا کام کرتا ہے۔
یہ ناک، گلے اور سینے کی بندش کھولتا ہے، خاص طور پر نزلہ، زکام یا الرجی میں بہت مفید ہے۔
سونے سے پہلے 10 منٹ کے لیے جلائیں، سانس میں نرمی اور نیند میں سکون محسوس ہوگا۔
🦟 قدرتی انسیکٹ ریپیلنٹ
مچھر، چیونٹیاں اور مکھی لہسن کی بو سے دور رہتے ہیں۔
گھر کے دروازے کے پاس یا کچن میں ایک لہسن کی پھلی جلا دیں —
یہ قدرتی حفاظتی دائرہ بنا دیتا ہے جو گھنٹوں تک کام کرتا ہے۔
🧠 ذہنی تازگی اور فوکس میں اضافہ
لہسن کا ہلکا دھواں دماغی توجہ بڑھاتا ہے، تھکن کم کرتا ہے، اور موڈ بہتر بناتا ہے۔
طالبعلموں اور لکھاریوں کے لیے نہایت مفید۔
🍳 گھر کی بدبو کا خاتمہ
مچھلی، گوشت یا کسی سخت کھانے کی بدبو ختم نہیں ہو رہی؟
لہسن جلا کر دیکھیں — یہ خوشبو کو چھپاتا نہیں بلکہ ختم کرتا ہے۔
گھر کی فضا چند لمحوں میں صاف محسوس ہوگی۔
⚙️ لہسن جلانے کا درست طریقہ
1. ایک تازہ، بغیر چھلی ہوئی لہسن کی پھلی لیں۔
2. اسے چمٹے سے پکڑیں اور آگ لگائیں۔
3. جب ہلکی آگ جلنے لگے تو پھونک مار کر صرف دھواں باقی رہنے دیں۔
4. 10–12 منٹ تک جلنے دیں اور دھواں پورے کمرے میں پھیلنے دیں۔
5. بعد میں آگ بجھا کر پھلی کو مٹی یا پانی میں ڈال دیں۔
⚠️ یاد رکھیں:
بند کمرے میں نہ جلائیں، کھڑکی کھولیں۔
حاملہ خواتین اور بچوں کے آس پاس احتیاط سے استعمال کریں۔
آگ کو کبھی اکیلا مت چھوڑیں۔
🕰️ کب جلانا بہتر ہے

مہمانوں کے جانے کے بعد
سونے سے پہلے
موسم کی تبدیلی پر
بیماری کے بعد
یا جب گھر کی فضا بھاری محسوس ہو

03/11/2025

یہ تصویر ایک شوہر کی سپورٹ کو ظاہر کرتی ہے ۔ اگر شوہر اپنی بیوی کو سپورٹ کرے اور بیوی اپنے شوہر پر اعتماد کرے تو دونوں ایک اچھی زندگی گزار سکتے ہیں ۔ شوہر ایک مضبوط سہارا ہے جو بے لوث محبت کرتا ہے پر شرط یہ ہے کہ اس کی عزت کی جائے اسے اُس کی محبت خلوص سے لوٹائی جائے ۔ پھر آپ زندگی کی ہر مشکل میں شوہر کو مضبوط سہارا پائیں گی ۔
اللّٰہ کی ذات سب کی زندگیوں کو خوشیوں سے بھر دیں ۔ آمین

31/10/2025

ننگے پاؤں درخت کو چھونا ایک تجربہ جو صرف 15 منٹ میں آپ کی زندگی بدل سکتا ہے
کیا آپ نے کبھی ننگے پاؤں زمین پر چل کر کسی درخت کے تنے کو چھوا ہے؟
اگر نہیں، تو شاید آپ نے فطرت کی سب سے گہری طاقت کو ابھی تک محسوس ہی نہیں کیا۔
یہ محض ایک روحانی تجربہ نہیں — بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ درختوں اور زمین سے براہِ راست رابطہ انسان کے جسم، دماغ اور روح پر حیرت انگیز اثرات ڈالتا ہے۔
جب آپ ننگے پاؤں کسی درخت کے نیچے کھڑے ہوتے ہیں، تو آپ کا جسم زمین کی قدرتی توانائی (Earth Energy) کو جذب کرتا ہے۔ یہ وہی توانائی ہے جو صدیوں سے انسان، جانور اور پودوں کے درمیان زندگی کا توازن برقرار رکھے ہوئے ہے۔
درخت نہ صرف ہمیں آکسیجن دیتے ہیں بلکہ وہ ہماری منفی توانائی، ذہنی دباؤ اور تھکن کو بھی جذب کر لیتے ہیں — جیسے کوئی قریبی دوست ہمارے دکھ سن کر بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔
درخت کو چھونے کا عمل صرف جسمانی رابطہ نہیں بلکہ ایک روحانی گفتگو ہے۔
جب آپ اپنی ہتھیلیاں درخت کے کھردرے تنے پر رکھتے ہیں، تو آپ اس کی دھڑکن کو محسوس کر سکتے ہیں — ایک خاموش مگر جاندار دھڑکن جو زمین کے اندر سے آتی ہے۔
یہ دھڑکن آپ کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی ہے، اور چند منٹوں میں آپ کے اندر ایک غیر معمولی سکون، شکرگزاری اور جینے کی نئی لہر دوڑنے لگتی ہے۔
تحقیقات کے مطابق، ننگے پاؤں زمین سے جڑنے (Earthing) سے جسم میں Cortisol کی سطح کم ہوتی ہے، دل کی دھڑکن متوازن رہتی ہے، نیند بہتر ہوتی ہے، اور انسان کا موڈ حیرت انگیز طور پر خوشگوار بن جاتا ہے۔
اور جب آپ کسی درخت کے ساتھ یہ لمحہ گزارتے ہیں، تو آپ فطرت کے ساتھ وہ بندھن دوبارہ جوڑ لیتے ہیں جو جدید زندگی کی مصروفیات نے توڑ دیا ہے۔
انسان اور درخت کا رشتہ صدیوں پرانا ہے۔
درخت نے ہمیشہ ہمیں سایہ، آکسیجن، لکڑی، پھل اور دوائیں دیں — مگر آج کے انسان نے فطرت سے اپنا رشتہ کمزور کر لیا ہے۔
ہم اینٹوں کے شہروں میں قید ہیں، مصنوعی ہوا میں سانس لیتے ہیں، اور اپنی روح کو اس قدرتی سکون سے محروم کر بیٹھے ہیں جو درخت ہمیں بلا شرط دیتے ہیں۔
اگر آپ روز صرف 15 منٹ ننگے پاؤں درخت کے ساتھ گزاریں تو یقین کیجیے، آپ کا جسم ہلکا، ذہن پرسکون، اور دل شکر سے لبریز ہو جائے گا۔
درخت کو گلے لگائیے، اس سے بات کیجیے، اور محسوس کیجیے کہ یہ فطرت آپ سے کتنی محبت کرتی ہے۔
درخت صرف زمین کے پودے نہیں، بلکہ انسان کے دل کے مرہم ہیں۔

25/10/2025

‏میچورٹی کا ایک لیول یہ ہوتا ہے کہ آپ وضاحت دینا چھوڑ دیتے ہیں اور خاموش ہوجاتے ہیں، بحث نہیں کرتے اگر کوئی آپکو برا بھلا بھی کہہ دے تو یہ کہہ کر مسکرا کر آگے بڑھ جاتےہیں کہ " Yes I'm....
اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ سچ میں ویسے ہی ہوتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ وہ بات آپکے لیے اہمیت ہی نہیں رکھتی۔

یاد رکھیں۔۔
گاڑی کے پیچھے کچھ فاصلے تک ہی کتا بھونکتا اور دوڑتا رہتا ہے،
نہ ہی کتا آپ سے گاڑی چھیننا چاہتا ہے
نہ گاڑی میں بیٹھنا چاہتا ہے
اور نہ ہی اسے گاڑی چلانی آتی ہے

ایسے ہی زندگی کے سفر میں کچھ اسی عادت کے لوگ بنا کسی مقصد کے آپ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔
اس لئے جب آپ اپنی منزل پر رواں دواں ہوں اور لوگ آپ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کریں تو ان سے الجھنے کے بجائے اپنی منزل کی طرف متوجہ رہیں..

یاد رکھیں،
آپ کو تلخ نہیں ہونا،
آپ کو بدلہ لینے والا نہیں بننا۔
آپ کو چالیں چلنے والا،
جال بچھانے والا بھی نہیں بننا۔
آپ کو ایسا بھی نہیں ہونا کہ آپ شاطر کہلائیں۔
اور ایسا بھی نہیں کرنا کہ آپ گڑھے کھودیں۔

آپ کو لگے زخم ہیں، دل پر ہیں اور روح پر بھی ہیں،
لیکن ان کے لیے مرہم بدلہ لے کر تیار نہ کریں۔
مرہم آسمانی ہی اچھے ہوتے ہیں۔
مرہم رحمانی ہی شفاء دیتے ہیں۔
چھوڑ دیں جو ہوا، جانے دیں جس نے جو کیا۔
اپنے پیچھے دروازے بند کر کے آگے بڑھ جائیں۔
زخم دینے والوں، تکلیف پہنچانے والوں،
روح کو روند دینے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنا حال ٹھیک کریں۔ کیونکہ آپ کو وہ نہیں بننا جو حالات آپ کو بنا رہے ہیں۔ آپ کو وہ بننا ہے جو اعمال بناتے ہیں۔

"رب کا بندہ بننے کی کوشش کریں"
بندہِ مومن۔۔۔
یعنی ایک بہترین انسان

22/10/2025

جوتا پالش کرنے والے بچے نے پالش کے دوران ہی پوچھ لیا۔ سر ! کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں؟
پروفیسر جو اس کا مستقل گاہک تھا ' نے قہقہہ لگا کر جواب دیا
’’دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے‘‘
بچے نے اگلا سوال کیا۔
’’کیسے؟‘‘
پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا‘اوراسکے تختے پر
دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں‘
پہلی لکیر پر محنت‘ محنت اور محنت لکھا‘
دوسری لکیر پر ایمانداری‘ ایمانداری اور ایمانداری لکھا
اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر لکھ دیا۔
بچہ پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتا رہا۔
پروفیسر یہ لکھنے کے بعد بچے کی طرف دیکھ کر مخاطب ہوا ۔
ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں
پہلا زینہ محنت ہے
آپ جو بھی ہیں‘ آپ اگر صبح‘ دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہو جائیں گے. آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں۔ آپ کی دکان‘ فیکٹری‘ دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہئے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہئے۔ آپ کامیاب ہو جائیں گے۔
پروفیسر نے مزید کہا ۔ ہمارے اردگرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں۔ یہ محنت نہیں کرتے‘ آپ جوں ہی محنت کرتے ہیں آپ نوے فیصد سست لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آ جاتے ہیں۔ آپ ترقی کیلئے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں۔
اگلا مرحلہ ایمانداری ہوتی ہے. ایمانداری چار عادتوں کا مرکب ہے۔
وعدے کی پابندی
جھوٹ سے نفرت
زبان پر قائم رہنا
اپنی غلطی کا اعتراف کرنا۔
آپ محنت کے بعد ایمانداری کو اپنی زندگی اور کاروبار کا حصہ بنا لو۔ وعدہ کرو تو پورا کرو۔ جھوٹ کسی قیمت پر نہ بولو۔ زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو آپ اس پر ہمیشہ قائم رہو اور ہمیشہ اپنی غلطی‘ کوتاہی' اور خامی کا آگے بڑھ کر اعتراف کرو
تم ایماندار ہو جاؤ گے۔
کاروبار میں اس ایمانداری کی شرح 50 فیصد ہوتی ہے
آپ پہلا تیس فیصد محنت سے حاصل کرتے ہیں. آپ کو دوسرا پچاس فیصد ایمانداری سے ملتا ہے اور پیچھے رہ گیا 20 فیصد تو یہ 20 فیصد آپ کا ہنر ہوتا ہے. آپ کا پروفیشنل ازم، آپ کی صلاحیت اور آپ کا ہنر آپ کو باقی 20 فیصد بھی دے دے گا۔
"آپ سو فیصد کامیاب ہو جاؤ گے‘‘
پروفیسر نے بچے کے چہرے پر نظریں جمائے بات جاری رکھی اور کہا۔
یہ یاد رکھو ہنر‘ پروفیشنل ازم اور سکل کی شرح صرف 20 فیصد ہے اور یہ 20 فیصد بھی آخر میں آتا ہے۔ آپ کے پاس اگر ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے 80 فیصد کامیاب ہو سکتے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائیں۔
آپ کو محنت ہی سے سٹارٹ لینا ہو گا
ایمانداری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا ہو گا'
آخر میں خود کو ہنر مند ثابت کرنا ہوگا۔
پروفیسر نے گہری سانس لی اور بتایا کہ میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا ہے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ
وہ بے ایمان تھے اور سست بھی
اور میں نے دنیا کے بے شمار بے ہنر لوگوں کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا ہے۔
’ میرے عزیز بچے تم سمیت کوئی بھی ان تین لکیروں پر چلنا شروع کر دے کامیابی اس کے قدم چومے گی ۔یہ کہہ کر پروفیسر نے بچے کو ڈالر تھمایا اور وہاں سے روانہ ہوگیا ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Riyadh?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Solay
Riyadh