Islamic Lectures video

Islamic Lectures video

Share

�To Act and Reflect�

Be a Considerate Muslim and Leave prohibited Actions

03/03/2021

Duniya Momin Ke Liye Qaid Khana Hai || Shaykh Tausif Ur Rahman (حفظه الله)

03/03/2021

مولانا انعام اللہ عثمانی صاحب نے اخیر کر دی پیج لائیک کریں شکریہ

02/03/2021

شرک فی الذات کیا ہے؟

01/03/2021

ماشااللہ بہت ہی خوبصورت آواز ہے

01/03/2021

اللہ تعالی ہم کو عقیدہ توحید کی سوجھ بوجھ عطا فرمائے

01/03/2021

خوبصورت آواز

01/03/2021

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
آپ قرآن اور حدیث کی روشنی میں جواب دیجئے گا، جزاکـــــــــــــ الله خيرا
🔘سوال نمبر 1 : میں نے دیکھا لوگ کفن پہ کلمہ طیبہ لکھواتے ہیں، اور جنازے پہ کلمہ طیبہ کی چادر رکھ دیتے ہیں. کیا قرآن اور حدیث میں اس کا زکر ہے؟

🔘سوال نمبر 2 : جنازہ دفنانے کے فوراً بعد قبر کے 4 کونوں میں جو تلاوت کی جاتی ہے، اس کا تعلق قرآن اور حدیث سے ثابت ہے؟
آپ رہنمائی کیجئے گا قرآن اور حدیث کی روشنی میں
آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا. الله پاک ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمیـــــــــــــــــن یا رب العالمین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَعَلَيــْـــــــكُم السَّــــــــلاَم وَرَحْمَــــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــــاتُه

سوال نمبر / ❶

کسی کےمرنے کے بعد ثواب پہنچانے کا مسئلہ ہمارے ہاں دیگر بہت سے مسائل کی طرح غلط رنگ اختیا رکرچکا ہے اور اگر قرآن و حدیث کی روشنی میں بغور جائزہ لیا جائے تو اس زمانے میں ایصال ثواب کی جتنی مروجہ شکلیں ہیں وہ خود ساختہ رسومات کے ضمن میں آتی ہیں اور خاندان و برادری کے رسم و رواج بن چکی ہیں یا کچھ مذہبی پیشہ وروں کے کھانے پینے کا ذریعہ ۔ برصغیر پاک وہند کی تاریخ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اس طرح کی رسمیں زیادہ تر ہندؤں سے لی ہیں
انہیں خود ساختہ رواج میں سے ایک رسم یہ ہے کہ جب کو ئی مو ت واقع ہو تی ہے تو غریب یا متوسط طبقہ سے ہو کفن پر شہادتیں لکھ کر میت کے سینہ پر رکھ کر دفن کرتے ہیں ، اور پھر کچھ لوگ اسقاط کے نا م پر کچھ رقم بعض علا قوں میں تو شہ کے نا م سے غلہ نمک چھو ہا رے وغیرہ قبر پر لو گو ں میں تقسیم کرتے ہیں اچھی گزر ان والے لو گ حفا ظ قبر پر چند دن بٹھا تے ہیں اور میت کے ورثا ء ایک کا پی رکھ دیتے ہیں آنے والے لو گ اپنا نا م لکھا کر حسب تو فیق 20،10یا زیادہ روپے دے کر جا تے ہیں اسی دن یا دوسرے دن قبر پر روشنی آگ یا لا لٹین جلا کر 40دن رکھتے ہیں پھر ختم قرآن کا سلسلہ ہر جمعرات سے جا ری ہو کر کو ئی پکے چا لیس کو ئی کچے یعنی جس دن جمعرات ہو چا لیسواں کرتے ہیں

میت کے کفن پر قرآنی سورت یا کلمہ طیبہ لکھنا ناجائز اور بدعت سیئہ اور قبیحہ ہے۔ یہ خانہ ساز دین، آسمانی دین کے خلاف ہے۔ قرآن و حدیث میں ان افعال قبیحہ پر کوئی دلیل نہیں، بلکہ سلف صالحین میں سے کوئی بھی ان کا قائل و فاعل نہیں۔ یہ بدعتیوں کی ایجادات ہیں۔ اہل سنت ان خرافات و بدعات سے بیزار ہیں، کیونکہ یہ انتہائی جرات مندانہ اقدام دین الٰہی میں بگاڑ کا باعث ہے۔

سوال نمبر / ❷

ہمارے ہاں میت کو دفنانے کے بعد ایک ایسا عمل کیا جاتا ہے جسے یہاں احناف (بریلوی، دیوبندی) تلقین کہتے ہی۔ مسلک بریلوی دفنانے کے بعد قبر کے چاروں کونوں پے کھڑے ہو کر قرآن کی تلاوت کرتے ہیں یعنی چار قاری ہوتے ہیں جو باری باری پڑھتے ہیں ، یہی طریقہ تلقینِ میت کہلاتا ہے ۔

✦بعض لوگ تلقین المیت ثابت کرنے کے لئے حدیث پیش کرتے ہیں:

"حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ وَهُوَ فِي النَّزْعِ، فَقَالَ: إِذَا أَنَا مُتُّ، فَاصْنَعُوا بِي كَمَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نصْنَعَ بِمَوْتَانَا، أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنْ إِخْوَانِكُمْ، فَسَوَّيْتُمِ التُّرَابَ عَلَى قَبْرِهِ، فَلْيَقُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى رَأْسِ قَبْرِهِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَسْمَعُهُ وَلَا يُجِيبُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَسْتَوِي قَاعِدًا، ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَقُولُ: أَرْشِدْنَا رَحِمَكَ اللهُ، وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ. فَلْيَقُلْ: اذْكُرْ مَا خَرَجْتَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّكَ رَضِيتَ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا، فَإِنَّ مُنْكَرًا وَنَكِيرًا يَأْخُذُ وَاحِدٌ مِنْهُمْا بِيَدِ صَاحِبِهِ وَيَقُولُ: انْطَلِقْ بِنَا مَا نَقْعُدُ عِنْدَ مَنْ قَدْ لُقِّنَ حُجَّتَهُ، فَيَكُونُ اللهُ حَجِيجَهُ دُونَهُمَا ". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنْ لَمْ يَعْرِفْ أُمَّهُ؟ قَالَ: «فَيَنْسُبُهُ إِلَى حَوَّاءَ، يَا فُلَانَ بْنَ حَوَّاءَ»"
کہ سعید بن عبداللہ الاودی بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا،جب وہ جان کنی کی حالت میں تھے،وہ فرمانے لگے: جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے ساتھ اسی طرح کا معاملہ کرنا،جس طرح ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مردوں کے ساتھ کرنے کا حکم دیا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ننے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ جب تم میں سے کوئی فوت ہو جائے اور تم اسکی قبر پر مٹی برابر کر چکو تو تم میں سے ایک شکص اسکی قبر کے سرہانے کی جانب کھڑا ہو کر کہے،اے فلاں عورت کے فلاں بیٹے! جب وہ یہ کہے گا تو مردہ اٹھ کر بیٹھ جائے گا،مردہ یہ بات سنے گا،لیکن جواب نہیں دیگاـ پھر وہ کہے:اے فلاں عورت کے بیٹے فلاں!وہ کہے گا اللہ تجھ پر رحم کرے! ہماری رحنمائی کر،لیکن تم اسکا شعور نہیں رکھتےـ پھر کہے کہ تو اس بات کو یاد کر،جس پر دنیا سے رخصت ہوا ہےـ اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ـ تو اللہ کے رب ہونے،محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے،اسلام کے دین ہونے اور قرآن کے امام ہونے پر تھاـ منکر اور نکیر میں سے ایک،دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے،چلو! جس آدمی کو اس کا جواب بتا دیا گیا ہو،اس کے پاس ہم نہیں بیٹھتےـ چنانچہ دونوں کے سامنے اللہ تعالی اسکا حامی بن جائے گاـ ایک آدمی نے عرض کی،اللہ کے رسول!اگر وہ (تلقین کرنے والا) اس کی (مرنے والے کی) ماں کو نہ جانتا ہو تو (کیا کرے؟) فرمایا: وہ اسے حواء علیہ السلام کی طرف منسوب کر کے کہے، اے حواء کے فلاں بیٹے ـ (المعجم الکبیر للطبرانی ج ۸ ص ۲۵۰،الدعاء للطبرانی ج ۳ ص ۲۹۸،وصایا علماء عند حضور الموت لابن زبیر ص ۴۶-۴۷،الشافی لعبدالعزیر نقلاً عن تلخیص الحبیر لابن حجر ج ۲ ص ۱۳۶،اتباع الاموات للابراھیم الحربی نقلاً عن المقاصد الحسنہ للسخاوی ص ۲۶۵،الاحکام لضیاء المقدسی نقلاً عن المقاصد الحسنہ لسخاوی ص ۲۶۵)

✍یہ سند سخت ترین ضعیف ہے کینکہ
- اسماعیل بن عیاش کی اہل حجاز سے بیان کردہ روایت ضعیف ہوتی ہے
مزکورہ روایت بھی اہل حجاز سے ہے لہذا ضعیف ہے

- اس روایت کا ایک راوی عبداللہ بن محمد القرشی مجہول ہے اسکی توثیق کہیں دستیاب نہیں ،چنانچہ امام ذہبی رح (متوفی ۷۴۸ ھ) فرماتے ہیں:
"عبدالله،لا يدرى من هو"
کہ یہ عبداللہ نامی راوی، معلوم نہیں ہو سکا کہ کون ہےـ (میزان الاعتدال ج ۳ ص ۲۴۴ تحقیق عمران بن ھارون)

- یحیی بن ابی کثیر مدلس ہیں

امام دارقطنی رح (متوفی ۳۸۵ ھ) فرماتے ہیں:
"ويحيى بن أبي كثير معروف بالتدليس"
کہ اور یحی بن ابی کثیر تدلیس میں مشہور ہیں. (علل الدارقطنی ج ۱۱ ص ۱۲۴)

- اس کے ایک راوی سعید بن عبداللہ اودی کی توثیق نہیں مل سکی

✦تلقین المیت کو ثابت کرنے کے لئے سنن ابن ماجہ سے یہ حدیث بھی پیش کی جاتی ہے:
"حدثنا محمد بن بشار قال: حدثنا أبو عامر قال: حدثنا كثير بن زيد، عن إسحاق بن عبد الله بن جعفر، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لقنوا موتاكم: لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله رب العرش العظيم، الحمد لله رب العالمين " قالوا: يا رسول الله كيف للأحياء؟ قال: «أجود، وأجود»"
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے مرنے والوں کو ان الفاظ کی تلقین کرو ": لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله رب العرش العظيم، الحمد لله رب العالمين" "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو حلیم و کریم ہے ،پاک ہے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے.سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے"صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! زندوں کے لئے یہ ذکر کیسا ہے؟ فرمایا: "زیادہ اچھا زیادہ عمدہ". (سنن ابن ماجہ ج ۲ ص ۴۲۸)

✍ یہ روایت ضعیف ہے اس میں دو علتیں ہیں

۱- إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ مجہول ہے کسی ایک بھی امام نے اس کی توثیق نہیں کی ہے

۲- کثیر بن زید بھی ضعیف ہے
امام علی بن مدینی رح (متوفی ۲۳۴ ھ) فرماتے ہیں:
"صَالح وَلَيْسَ بِالْقَوِيّ"
کہ نیک و صالح تھا مگر قوی نہیں تھا. (سؤالات ابن أبي شيبة لابن المديني ص ۵ و شاملہ ص ۹۵)

امام ابو زرعہ الرازی رح (متوفی ۲۶۴ ھ) فرماتے ہیں:
"هو صدوق فيه لين"
کہ وہ سچا تھا لیکن حدیث میں کمزور تھا. (الجرح و تعدیل ج ۷ ص ۱۵۱ و سند صحیح)

امام ابو حاتم الرازی رح (متوفی ۲۷۷ ھ) فرماتے ہیں:
"صالح ليس بالقوى"
کہ نیک و صالح تھا مگر قوی نہیں تھا. (الجرح و تعدیل ج ۷ ص ۱۵۱)

امام نسائی رح (متوفی ۳۰۳ ھ) فرماتے ہیں:
"كثير بن زيد ضَعِيف"
کہ کثیر بن زید ضعیف ہے. (کتاب الضعفاء والمتروکین ص ۲۰۶)

امام ابن معین رح (متوفی ۳۲۷ ھ) فرماتے ہیں:
"ليس بذاك القوى"
کہ یہ قوی نہیں تھا. (الجرح و تعدیل ج ۷ ص ۱۵۱ وسند صحیح)

نیز فرماتے ہیں:
"ليس بشيء"
کہ یہ کچھ بھی نہیں تھا. (تاريخ ابن ابى خيثمة ج ۲ ص ۳۳۶)

امام ابن جوزی رح (متوفی ۵۹۷ ھ) نے کثیر بن زید کو ضعفاء میں نقل کیا ہے. (الضعفاء والمتروکین ج ۳ ص ۲۲)

امام ذھبی رح (متوفی ۸۴۸ ھ) فرماتے ہیں:
"كُثَيْرُ بْنُ زَيْدٍ صُوَيْلِحُ فِيهِ لِينٌ"
کہ کثیر بن زید صالح ہے مگر اس میں کچھ کمزوری ہے. (معجم الشيوخ ج ۱ ص ۳۰۰)

امام ابن حجر عسقلانی رح (متوفی ۸۵۲ ھ) فرماتے ہیں:
"وَكثير بن زيد مُخْتَلف فِيهِ"
کہ اور کثیر بن زید مختلف فیہ راوی ہے. (تغلیق التعلیق ج ۳ ص ۲۴۹)

شیخ زبیر علی زئی رح نے بھی اس حدیث کو ضعیف کہا ہے. (سنن ابن ماجہ ج ۲ ص ۴۲۸)

ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
وَالسَّــــــــلاَم عَلَيــْـــــــكُم وَرَحْمَــــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــــاتُه

28/02/2021

It's reality of life
یہ زندگی کی حقیقت ہے

25/02/2021

🟢ماہ رجب کے حوالے سے مختصر معلوماتی ویڈیو👌🏼
💡ایسی عبادت جس کا اللہ عزوجل نے ہمیں ماہ رجب اور تمام حرمت والے مہینوں میں کرنے کا حکم دیا۔
شيخ: سعد العتيق.

Want your school to be the top-listed School/college in Riyadh?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Riyadh