سورہ بینہ، زلزلہ اور عادیات
اس سبق میں ہم سورہ بینہ ، سورہ زلزلہ، اور سورہ عادیات کو پڑھیں گے، نیز ان کے کلمات کی مختصر شرح اور تفسیر کو جانیں گے، اسی طرح ان سورتوں کے ذریعہ قیامت کے دن مومنوں اور کافروں کے احوال کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے، نیزان سورتوں سے کشیدہ فوائد پر اطلاع کے ساتھ ساتھ جانیں گے کہ اچھائی اور برائی کا کیا مفہوم ہے، اور آخرت میں انسان کے لئے ان دونوں چیزوں کا کس قدر اثر ہے۔
#بصیرت
Best Online Quran Academy
0322 5730026
Ecommerce Wala
Best Online Quran Academy
I am Qari Muhammad Waseem. I'm Online Quran Teacher
آیۃ الکرسی
اس درس میں سب سے عظیم آیت کے بارے میں جانیں گے ، اس کی مختصر شرح و تفسیر کو پڑھیں گے، نیز اس کی اہمیت وفضیلت کے ساتھ ساتھ اس کے اندر بیان شدہ احکامات و فوائد پر غور وفکر کریں گے
#بصیرت
Best Online Quran Academy
0322 5730026
سُورۃ الفاتحہ
اس درس میں ہم قرآن کی سب سے عظیم سورت کے بارے میں جانیں گے ، اس کی مختصر شرح و تفسیر کو پڑھیں گے، نیز اس کی اہمیت وفضیلت کے ساتھ ساتھ اس کے اندر بیان شدہ احکامات و فوائد پر غور وفکر کریں گے۔
#بصیرت
Best Online Quran Academy
0322 5730026
بصیرت کلاس 1:قرآن اور اسے سیکھنے کی فضیلت
جیسا ک آپ کو معلوم ہے کہ قرآن کریم اللّٰه تعالی کی طرف سے ایک زندہ وجاوید معجزہ ہے، اور اس سے شغف رکھنا نہایت ہی شرف وعظمت کا باعث ہے۔ قرآن کے بارے مزید معلومات سے بہرہ ور ہونے کےلئے آپ کے سامنے موجود باب اول کے پہلے سبق میں قرآن اور اسے سیکھنے کی فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں ہم قرآن کا تعارف، آسمانی کتابوں میں قرآن کا مقام ومرتبہ، قرآن کو سیکھنے اور سکھانے کی اہمیت، قران کی تلاوت کی فضیلت، نیز اس کے آداب کو پڑھیں گے۔
پیج فالو کیجیئے شکریہ
#بصیرت
Best Online Quran Academy
03225730026
تیسرا کلمہ
ویڈیو پسند آئے تو لائک اور شیئر کیجئے پیج فالو کیجیئے شکریہ
If you like the video, please like and share. Follow the page. Thank you.
#کلمہ
Best Online Quran Academy
0322 5730026
دوسرا کلمہ شہادت
ویڈیو پسند آئے تو لائک اور شیئر کیجئے پیج فالو کیجیئے شکریہ
If you like the video, please like and share. Follow the page. Thank you.
#کلمہ #شہادت
Best Online Quran Academy
0322 5730026
پہلا کلمہ طیب /لائک اور شیئر کیجئے /پیج فالو کیجیئے
First Kalma Tayyab / Like and share
Contact Whatsapp:+92 322 5730026
#قربانیاں
0322 5730026 Best Online Quran Academy @
پیج لائک اور فالو کیجیئے شکریہ
19/12/2025
سیرتِ خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ
پارٹ-27
عنوان: استقامت، ایثار اور ایمان کی قیمت
حضرت عثمان رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں
ابو جہل اچانک آگے بڑھا اور اس نے نبی کریم ﷺ کے کپڑے پکڑنے کی کوشش کی۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کے سینے پر ایک گھونسہ مارا جس سے وہ زمین پر گر پڑا۔ دوسری طرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰه عنہ نے امیہ بن خلف کو دھکیلا، اور تیسری طرف خود حضور نبی کریم ﷺ نے عتبہ بن ابی معیط کو دھکا دیا۔ آخرکار وہ لوگ آپ ﷺ کے پاس سے ہٹ گئے۔
اس وقت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اللّٰه کی قسم! تم لوگ اس وقت تک نہیں مرو گے جب تک اللّٰه کی طرف سے اپنی سزا نہ پا لو۔”
حضرت عثمان رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں:
“یہ الفاظ سن کر ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جو خوف سے کانپ نہ اٹھا ہو۔”
پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
“تم لوگ اپنے نبی کے لیے بہت بُرے ثابت ہوئے ہو۔”
یہ ارشاد فرما کر آپ ﷺ اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے اور ہم سب آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔
جب آپ ﷺ اپنے دروازے پر پہنچے تو اچانک ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
“تم غم نہ کرو، اللّٰه تعالٰی خود اپنے دین کو پھیلانے والا، اپنے کلمے کو پورا کرنے والا اور اپنے نبی کی مدد فرمانے والا ہے۔ اللّٰه بہت جلد ان لوگوں کو تمہارے ہاتھوں ذبح کروائے گا۔”
اس کے بعد ہم اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے، اور اللّٰه کی قسم! غزوۂ بدر کے دن اللّٰه تعالٰی نے واقعی ان لوگوں کو ہمارے ہاتھوں ذبح کرایا۔
ایک دن نبی کریم ﷺ خانۂ کعبہ کا طواف فرما رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط وہاں آیا۔ اس نے اپنی چادر اتار کر آپ ﷺ کی گردن میں ڈال دی اور زور سے کھینچنے لگا، یہاں تک کہ آپ ﷺ کا گلا گھٹنے لگا۔
اسی وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰه عنہ دوڑتے ہوئے آئے، عقبہ کو کندھوں سے پکڑ کر دھکیلا اور فرمایا:
“کیا تم اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللّٰه ہے، اور جو تمہارے رب کی طرف سے کھلی نشانیاں لے کر آیا ہے؟”
بخاری شریف کی روایت کے مطابق حضرت عروہ بن زبیر رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللّٰه عنہ سے پوچھا:
“مشرکین میں سے نبی کریم ﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ سخت اور بدترین سلوک کس نے کیا تھا؟”
انہوں نے جواب دیا:
“میں نے دیکھا کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے آپ ﷺ کی گردن میں کپڑا ڈال کر زور سے گلا گھونٹا۔ اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰه عنہ نے اسے دھکیل کر دور کیا۔”
یہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللّٰه عنہ کی روایت ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو اس سے کہیں زیادہ سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
پھر جب مسلمانوں کی تعداد اڑتیس (38) ہو گئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰه عنہ نے عرض کیا:
“یا رسول اللّٰه ﷺ! ہمیں مسجد الحرام میں تشریف لے چلئے تاکہ ہم وہاں نماز ادا کر سکیں۔”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“ابو بکر! ابھی ہماری تعداد کم ہے۔”
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰه عنہ نے دوبارہ یہی درخواست کی، حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ تمام صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہم کے ساتھ مسجد الحرام تشریف لے آئے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰه عنہ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، لوگوں کو کلمۂ توحید کی دعوت دی۔ یوں وہ پہلے شخص بنے جنہوں نے علانیہ مجمع میں کھڑے ہو کر اسلام کی دعوت دی۔
اس کے جواب میں مشرکینِ مکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰه عنہ اور دوسرے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ حضرت ابو بکر رضی اللّٰه عنہ کو سب سے زیادہ مارا گیا۔ عقبہ بن ابی معیط نے دوہرا تلا والے جوتوں سے ان کے چہرے پر اتنی ضربیں لگائیں کہ چہرہ پہچانا نہ جاتا تھا۔
اسی دوران بنو تمیم کے لوگ پہنچ گئے۔ مشرکین حضرت ابو بکر رضی اللّٰه عنہ کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ وہ انہیں ایک کپڑے میں لپیٹ کر بے ہوشی کی حالت میں گھر لے آئے۔ سب کو یقین تھا کہ ابو بکر رضی اللّٰه عنہ اب زندہ نہیں بچیں گے۔
بعد میں وہ لوگ دوبارہ حرم آئے اور کہا:
“اللّٰه کی قسم! اگر ابو بکر مر گئے تو ہم عقبہ کو قتل کر دیں گے۔”
شام کے وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰه عنہ کو ہوش آیا تو سب سے پہلا سوال یہی کیا:
“رسول اللّٰه ﷺ کا کیا حال ہے؟”
کسی نے جواب نہ دیا۔ آخر ان کی والدہ نے کہا:
“اللّٰه کی قسم! ہمیں تمہارے دوست کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔”
حضرت ابو بکر رضی اللّٰه عنہ نے فرمایا:
“امِ جمیل بنت خطاب رضی اللّٰه عنہا کے پاس جا کر معلوم کریں۔”
وہ حضرت عمر رضی اللّٰه عنہ کی بہن تھیں اور اسلام لا چکی تھیں مگر ایمان چھپائے ہوئے تھیں۔
آخر امِ جمیل رضی اللّٰه عنہا نے بتایا کہ رسول اللّٰه ﷺ دارِ ارقم میں ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰه عنہ نے کہا:
“اللّٰه کی قسم! میں نہ کچھ کھاؤں گا نہ پیوں گا جب تک رسول اللّٰه ﷺ سے نہ مل لوں۔”
چنانچہ انہیں سہارا دے کر دارِ ارقم لے جایا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھتے ہی گلے لگا لیا، بوسہ دیا، اور تمام صحابہ رضی اللّٰه عنہم بھی خوشی سے لپٹ گئے۔
حضرت ابو بکر رضی اللّٰه عنہ نے عرض کیا:
“یا رسول اللّٰه ﷺ! میری والدہ یہاں موجود ہیں، ممکن ہے اللّٰه آپ کے طفیل انہیں جہنم سے بچا لے۔”
آپ ﷺ نے دعا فرمائی، انہیں اسلام کی دعوت دی، اور وہ فوراً مسلمان ہو گئیں۔
ایک دن صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہم نے کہا:
“قریش نے آج تک نبی کریم ﷺ کے سوا کسی اور کی زبان سے بلند آواز میں قرآن نہیں سنا۔ کون ہے جو ان کے سامنے قرآن پڑھے؟”
یہ سن کر حضرت عبداللّٰه بن مسعود رضی اللّٰه عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا:
“میں ان کے سامنے بلند آواز سے قرآن پڑھوں گا۔”
Best Online Quran Academy
Whatsapp No:+923225730026
ﷺ
#قربانیاں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Riyadh