Mudarsa Arabia Madania Ehle Sunnat Wal Jammat Chokri Samahni Azad Kashmir

Mudarsa Arabia Madania is propogating sunni Islam in Samahni valley District bhimber azad kashmir.Mu

Operating as usual

08/04/2022
08/04/2022
15/01/2022
15/01/2022
14/01/2022
31/12/2021
26/12/2021

Hafiz Umer Farooq Naat
Ramloh

30/10/2021
28/10/2021
18/10/2021
13/04/2021
08/11/2020

Maulana qasim gujjar sb

08/11/2020
24/10/2020
13/05/2020
09/04/2020

Ameen

08/04/2020

Ameen

06/02/2020

فخر السادات استاد القرء القاری الشیخ سید انوار الحسن شاہ بخاری

06/02/2020

Do Not (Even) Come Close To It | اس کے قریب بھی مت آنا

06/02/2020

Must listen

Timeline photos 21/08/2016

Do Participate....

Timeline photos 23/05/2016

Timeline photos

Timeline photos 23/05/2016

Timeline photos

Timeline photos 26/12/2015

Timeline photos

Timeline photos 20/12/2015

Timeline photos

Timeline photos 13/12/2015

Think Over It.....

12/12/2015

’وکی لیکس‘ اور ہاتف غیبی....
سلیم جاوید
ہمارے بعض سادہ دل بھائیوں میں ایک چیز مشترک ہے، وہ ہے ہاتف غیبی۔ ہمارے دوست جب میدانِ کربلا کا سماں باندھتے ہیں تو ہر مکالمہ’آواز آئی‘ سے شروع ہوتا ہے۔ کس کی آواز؟ کوئی پتہ نہیں۔ اصحاب تبلیغ کا بیان اکثر اس ترکیب کے گرد گھومتا ہے کہ ’فرمایا‘۔ کس نے فرمایا؟ یہ سامع
کے ذوق پرچھوڑدیا جاتا ہے-
امریکی دوستوں نے، مسلم معاشروں کو متزلزل کرنے کے لئے، اسی طرح ’وکی لیکس‘ نام کا شوشہ چھوڑا تھا، جو طلسمی آوازوں کا جنگل تھا۔ اگرچہ یہ نوٹنکی مارکیٹ نہ ہوسکی مگرہمارے’ دیسی بھائی‘ بہرحال مغربی میڈیا کو وحی کا درجہ دیتے ہیں-
ہوا یوں کہ پچھلے دنوں ہمارے ایک انقلابی دوست نے تمتماتے چہرے کے ساتھ، وکی لیکس کے حوالے سے ’انکشاف ‘ کیا کہ مولانا فضل رحمان نے امریکی سفیرسے کہا تھا کہ انہیں وزیراعظم بنا دیا جائے- اس کے ساتھ ہی حسب فطرت، گالی گلوچ کا تڑکہ بھی لگایا۔ میں نے عرض کیا بھائی، ان جناتی بے سروپا حوالوں کی بجائے کوئی ایسا حوالہ دیا کرو جسے کسی معقول محفل میں کم از کم سنجیدہ تو لیا جا سکے۔
میں نے کہا ’میں آپ کووکی لیکس کا نہیں بلکہ ایک کتاب کاحوالہ دیتا ہوں۔ ایسی کتاب جو پاکستان میں چھپی ہے، جس کامصنف وزیر قانون رہا ہے اورجمہوریت کی خاطر اس کی 50سالہ جدوجہد ریکارڈ پر ہے- حوالے کا دوسرا کردار، پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے مالی امور کا نگران جرنیل ہے، تیسرا کردار،مولانا فضل رحمان ہے، اور مزے کی بات یہ کہ کتاب بھی موجود اور تینوں کردار بھی زندہ ہیں۔ اس کو کہتے ہیں ’ریفرینس‘ دینا-
پھڑک گئے- ’کونسی کتاب ہے؟ مصنف کون ہے؟ تواب تو آپ کو یقین آگیا ہوگا کہ مولانا فضل رحمان بکاو¿ مال ہے‘-
عرض کیا ’کتاب کانام ہے’تاریخ بحالی جمہوریت‘- مصنف ہے جسٹس سید افضل حیدر۔ وہ صفحہ 77 پر لکھتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے مالی امور کے نگران، جنرل نصرت سے ایک بار میں نے پوچھا کہ پاکستان میں کوئی ایسا سیاستدان بھی ہے جس نے ایجنسیوں سے رقم نہ لی ہو۔ جنرل صاحب نے کہا کہ صرف ایک، وہ ہے مولانا فضل رحمن۔ تو میرے عزیز، حوالے وکی لیکس کے نہیں چلتے۔ زندہ، سنجیدہ اور ذمہ دار گواہوں کے چلتے ہیں‘-
میں نے مزید کہا ’مولانا کی وزیراعظم والی بات کو آپ نے دل پہ لے لیا ورنہ یہ بات تو مولانا، ڈیرہ کے بھرے جلسے میں کہہ چکا ہے کہ مغرب،علما سے خواہ مخواہ خوفزدہ ہوکر، اپنے گماشتوں کے ذریعے ہمارا راستہ روکتا ہے-ہم امریکہ سے کہتے ہیں کہ ایک بارہم کو بھی آزماو¿، ہم دنیا کوزیادہ پرامن بنائیں گے۔
بات وکی لیکس سے چلی تھی۔ چلواس میں توجھوٹی سچی کسی دستاویزکاعکس پیش ہواکرتا تھا۔ مگر طرفہ تماشا یہ ہے کہ اسامہ بن لادن کو پولیو کے قطروں سے ٹریس کرنے کا دعوے دار امریکہ ،ہمیں بتاتا ہے کہ طالبان کے ترجمان نے،کسی’ گمنام مقام‘ سے فون پر، خودکش دھماکہ کی ذمہ داری قبول کر لی۔
کون طالبان؟ کون ترجمان؟ کہاں گئی موبائل سم کی لوکیشن ٹریسنگ؟ بس وہی۔’آواز آئی‘ اور’ فرمایا‘ کا ناٹک اور اس کے ساتھ ہی ہماری نام نہاد تعلیم یافتہ اشرافیہ کی لغویات شروع۔
برسبیل تذکرہ، پاکستانی صحافت کی جعل سازیاں اور مولویوں کی سادگی کا حال بھی سنتے جائیں۔
پچھلے ستمبرمیں، مولانا امتیاز عباسی ( جے یو آئی-آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری) نے خاکسار کی عزت افزائی فرمائی اور ملنے آئے۔ باتوں باتوں میں انہوں نے بڑی خوشی سے، اپنے موبائل میں ایک پاکستانی صحافی کے کالم کی امیج دکھائی جس میں کتاب کے حوالے کو ٹوئسٹ کرتے ہوئے لکھا تھا ’جنرل نصرت نے کہا، پاکستان میں صرف دولیڈر ہیں جنہوں نے ایجنسیوں سے پیسہ نہیں لیا، ایک مولانا اور دوسراعمران خان‘-
میں نے کہا ’ مولانا، کتاب میرے پاس ہے۔ اس میں میں عمران خان کا نام نہیں ہے حالانکہ واقعہ 2004ءکا ہے‘-
ساتھ بیٹھے ایک نوجوان نے کہا(غالباً کامران عباسی نام تھا)- ’کیا آپ عمران خان کو دیانتدار نہیں سمجھتے؟‘
عرض کیا ’بھائی، کوئی دوسرا نہ بھی کہے تو میں عمران خان کو ضرور دیانتدارکہوں گا-وہ اس لئے کہ پہلی بار1996 ءمیں، ڈیزل سپلائی میں مولانا کا نام آیا (طالبان کے ٹینک پانی سے نہیں چلتے تھے)- پھر 1998ء میں نوازشریف کے ایما پر اے این پی نے باقاعدہ اسے مہم کی شکل دے کر مولانا ڈیزل نام مشہور کیا۔ (( نوازشریف نے اسامہ کی حوالگی کا فیصلہ کرلیا تھا)۔
2002ءمیں، مشرف دورمیں وزارت عظمی کے لئے تین امیدوار تھے-ظفراللہ جمالی، امین فہیم اور مولانا فضل رحمن ۔ اوپن ووٹنگ تھی۔ عمران خان نے اپنا ووٹ مولانا فضل رحمن کو دے کر مولانا کو ایک دیانت دار اور اہل لیڈر قرار دیاتھا"-
’اگر ایسا ہے تو دوبارہ عمران خان نے اسے مولانا ڈیزل کہنا کیوں شروع کردیا؟‘
’اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھراورکیا ثبوت ہے کہ وہ عمران خان ہے‘-
معذرت! بات وکی لیکس سے شروع ہوئی ور مزید’ پراسرارکرداروں‘ کی طرف گھوم گئی

Timeline photos 03/12/2015

RIP....

15/11/2015

رات کا آخری پہر تھا.. سردی تھی کہ ھڈیوں کے اندر تک گھسی جارھی تھی..
بارش بھی اتنی تیز تھی جیسے آج اگلی پچھلی کسر نکال کر رھے گی..
میں اپنی کار میں دوسرے شہر کے ایک کاروباری دورے سے واپس آرھا تھا اور کار کا ھیٹر چلنے کے باوجود میں سردی محسوس کررھا تھا..
دل میں ایک ھی خواھش تھی کہ بس جلد از جلد گھر پہنچ کر بستر میں گھس کر سو جاؤں..
مجھے اس وقت کمبل اور بستر ھی سب سے بڑی نعمت لگ رھے تھے.. سڑکیں بالکل سنسان تھیں حتیٰ کہ کوئی جانور بھی نظر نہیں آرھا تھا.. لوگ اس سرد موسم میں اپنے گرم بستروں میں دبکے ھوئے تھے..
جیسے ھی میں نے کار اپنی گلی میں موڑی تو مجھے کار کی روشنی میں بھیگتی بارش میں ایک سایہ نظر آیا..
اس نے بارش سے بچنے کے لیے سر پر پلاسٹک کے تھیلے جیسا کچھ اوڑھا ھوا تھا اور وہ گلی میں کھڑے پانی سے بچتا بچاتا آھستہ آھستہ چل رھا تھا..
مجھے شدید حیرانی ھوئی کہ اس موسم میں بھی کوئی شخص اس وقت باھر نکل سکتا ھے اور مجھے اس پر ترس آیا کہ پتہ نہیں کس مجبوری نے اسے اس پہر اس طوفانی بارش میں باھر نکلنے پر مجبور کیا..
میں نے گاڑی اس کے قریب جا کر روکی اور شیشہ نیچے کرکے اس سے پوچھا..
"بھائی صاحب ! آپ کہاں جا رھے ھیں..؟ آئیے میں آپ کو چھوڑ دیتا ھوں.."
اس نے میری طرف دیکھ کر کہا.. "شکریہ بھائی.. بس میں یہاں قریب ھی تو جارھا ھوں اس لیے پیدل ہی چلا جاؤں گا.."
میں نے تجسس بھرے لہجے میں پوچھا.. "اس وقت آپ کہاں جا رھے ھیں..?"
اس نے بڑی متانت سے جواب دیا.. "مسجد.."
میں نے حیرانی سے پوچھا.. "اس وقت مسجد میں کیا کرنے جا رھے ھیں..?"
اس نے کہا.. "میں اس مسجد کا مؤذن ھوں اور فجر کی اذان دینے کے لیے مسجد میں جارھا ھوں..
" یہ کہہ کر وہ اپنے رستے پر چل پڑا اور مجھے ایک نئی سوچ میں گم کرگیا..
کیا آج تک ھم نے کبھی سوچا ھے کہ سخت سردی کی رات میں طوفان ھو یا بارش'
کون ھے جو اپنے وقت پر اللہ کے بلاوے کی صدا بلند کرتا ھے..؟؟؟
کون ھے جو ھمیں بتاتا ھے کہ "نماز نیند سے بہتر ھے"..؟؟؟
کون ھے جو یہ اعلان کرتا ھے کہ "آؤ نماز کی طرف.. آؤ کامیابی کی طرف"..؟؟؟
اور اسے اس کامیابی کا کتنا یقین ھے کہ اسے اس فرض کے ادا کرنے سے نہ تو سردی روک سکتی ھے اور نہ بارش..
جب ساری دنیا اپنے گرم بستروں میں نیند کے مزے لے رھی ھوتی ھے وہ اپنے فرض کو ادا کرنے کے لیے اٹھ جاتا ھے..
تب مجھے علم ھوا کہ یقینا" ایسے ھی لوگ ھیں جن کی وجہ سے اللہ ھم پر مہربان ھیں اور انہی لوگوں کی برکت سے دنیا کا نظام چل رھا ھے..
میرا دل چاھا کہ نیچے اتر کر اسے سلام کروں لیکن وہ جا چکا تھا..
اور تھوڑی دیر بعد جیسے ہی فضا اللہ اکبر کی صدا سے گونجی' میرے قدم بھی مسجد کی جانب اٹھ گئے اور آج مجھے سردی میں مسجد کی طرف چلنا گرم بستر اور نیند سے بھی اچھا لگ رھا تھا
رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی !

04/11/2015

بزرگی کامعیار خوشبو کو مت بنائیں
....................
مادر علمی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں زمانہ طالبعلمی کے دوران ایک عالم دین کے سانحہ ارتحال کے موقعہ پران کی تدفین کےاگلےروزکسی طالبعلم نے حضرت مولانا عطاء الرحمن شہید رحمہ اللہ سے عرض کیاکہ استاذ جی! کل فلاں مولانا کے وصال کے بعد ان کی قبرسےخوشبو آنے لگی ہے،
مولانا رحمہ اللہ نے فرمایا کہ :
مولوی صاحب ! قبرسے خوشبوآنےکو کسی مسلک،گروہ یا جماعت کی حقانیت کی دلیل کےطور پر مت پیش کرو!کیونکہ اس کےدو نقصانات ہیں : (1)جن علماءاور بزرگان دین کی قبروں سےخوشبو نہیں آئے گی عوام الناس ان کو بزرگ نہیں سمجھیں گے
(2)لوگ خود کو اہل حق ثابت کرنےکےلئے اپنے علماء اور دینی پیشواؤں کی قبروں میں نہایت رازداری کے ساتھ خوشبو ڈالناشروع کردیں گے پھر تم کیاکرو گے؟
کل سے ممتازعالم دین مولانا ڈاکٹر شیرعلی شاہ رحمہ اللہ کےحوالےسے یہ خبرگردش کررہی ہےکہ ان کی قبرسےخوشبو آنے لگی ہے حضرت ڈاکٹر صاحب جیسے خدا ترس عالم دین کی نسبت سے اس طرح کاواقعہ کوئی حیران کن نہیں ہے کیونکہ جس شخص کی پوری زندگی قال اللہ وقال الرسول کےزمزمے اور صدائے حق بلندکرتےگزری ، اس کی قبر سے خوشبو آنا بعید نہیں، تاہم اس طرح کےواقعات کواپنےمسلک اورمکتب فکر کی حقانیت اور مدمقابل کے بطلان کی دلیل کےطور پر پیش کرتےہوئے احتیاط کی ضرورت ھےکہیں ایسا نہ ہوکہ ہمارے مسلکی یا جماعتی مخالفین اپنے مقتداؤں کی قبروں پر مشک وعودکی خوشبو انڈیلنا شروع کردیں اور پھر بزرگی صرف ان مردوں کی میراث بن کررہ جائے جن کے ورثاء و متبعین وافرمقدار میں عطریات کی خریداری کرسکتے ہوں اور غریب مردے بزرگ ہوکر بھی مطعون ٹھہریں......
یہی نکتہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے مولانا مفتی عبد اللہ برمی مدظلہم سے بھی منقول ہے.

Timeline photos 02/11/2015

Think Over It...

Timeline photos 31/10/2015

Timeline photos

Timeline photos 31/10/2015

Timeline photos

Timeline photos 30/10/2015

INA LILAH HI WA INA ILAIHI RAAJIUN...

Timeline photos 29/10/2015

MASHA ALLAH...

Timeline photos 28/10/2015

DO PARTICIPATE...

Timeline photos 26/10/2015

ALLAH HU AKBAR...

Videos (show all)

Hafiz Umer Farooq NaatRamloh#Samahni

Location

Category

Website

Address


Riyad
4200

Other Education in Riyad (show all)
Allama Iqbal Society of Saudi Arabia Allama Iqbal Society of Saudi Arabia
Riyad, 11466

Reviving the ideology of Dr.Allama Iqbal