Love Allah

Call Directions

Love Allah Do good always do good.

06/10/2026
05/10/2026

`"ہم "کل" کے دھوکے میں رہتے ہیں..." 🍁`
*کل نماز کی پابندی کریں گے،*
> کل قرآن پڑھیں گے،
*کل گناہ چھوڑ دیں گے،*
> کل توبہ کر لیں گے...
*اور پھر نہ جانے کتنے "کل"*
*گزر جاتے ہیں۔*

`یاد رکھو،` *"توبہ کے لیے بہترین وقت "اب" ہے۔"*

> اللہ کی طرف ایک قدم بڑھاؤ،
> وہ رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ 🌷

*❐* *اسْتَغْفِرُ اللَّهَ*💐
*❐* *اسْتَغْفِرُ اللَّهَ*🕋
*❐* *اسْتَغْفِرُ اللَّهَ*🌻

05/10/2026

*کیا آپ کو پتا ہے سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ کہنے سے کیا ہوتا ہے؟*

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری اور رحمن کو بہت محبوب ہیں: *سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ۔"*

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

*یعنی یہ مختصر سا ذکر اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے اور قیامت کے دن میزانِ اعمال میں بہت بھاری ہوگا۔*

آج سے اسے اپنی زبان کا معمول بنا لیجیے۔

05/10/2026

*❃ اَللَّھُمّ اِنّی أسئلُکَ توبَةً نَّصُوْحَا قَبْلَ الْمَوت*
"اے اللّٰــــــہ موت سے پہلے پہلے مجھے سچی توبہ نصیب فرما" 💖

*❃ یَا مُقلِبَ الْقُلُوبِ ثَبِّت قَلبِ عَلَی ِدیْنِک*
"اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو دین پہ ثابت قدم رکھ" 💫

*❃ اَللّھُمَ اِنّی أسئلُکَ حُسنُ الْخَاتِمَہ*
"اے اللّٰــــــہ میرا انجام اچھا کرنا" ❣️
*آمیــــــن الہــــــــی آمیـــــــن*🫀🫀

_یہ تین دعائیں ہمارے سلف صالحین نے کبھی نہیـــــں چھوڑی اپنی ڈیلی روٹین میں ضرور شامل کریں یا تشہد کی دعاؤں میں شامل کر لیجیے_🌻💖

05/10/2026

کچھ لوگ ہماری موجودگی کی قدر تب تک کرتے ہیں جب تک انہیں ہماری ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے ہی حالات بدلتے ہیں، وہ اُن قربانیوں اور خلوص کو بھول جاتے ہیں جو کبھی اُن کے لیے سکون کا باعث تھے۔ مگر کسی کے بھول جانے سے ہماری نیکی کی قدر کم نہیں ہوتی، درخت اپنا سایہ دے کر احسان نہیں جتاتے، اور خلوص سے محبت کرنے والے بھی بدلے کی شرط نہیں رکھتے۔ 🤍🥀

05/10/2026

انسان کی سب سے بڑی آزمائش یہ ہے کہ وہ اختیار ملنے کے بعد بھی انسان ہی رہے۔

05/10/2026

*مومن کی آزمائش — ایمان کی مضبوطی کا امتحان*

دنیا کی زندگی راحت اور آسائش کا نام نہیں، بلکہ یہ آزمائش اور امتحان کی جگہ ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی میں مختلف حالات سے گزرتا ہے ، کبھی خوشی ملتی ہے، کبھی غم، کبھی صحت، کبھی بیماری، کبھی مال میں فراخی اور کبھی تنگی، کبھی اولاد خوشی کا سبب بنتی ہے اور کبھی انہی کے معاملات انسان کے لیے آزمائش بن جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾
"جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہتر ہے۔"
(الملک: 2)
لہٰذا مومن کو یہ سمجھنا چاہیے کہ زندگی میں آنے والی ہر مشکل بے مقصد نہیں ہوتی۔ بعض آزمائشیں انسان کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں، بعض اس کے درجات بلند کرتی ہیں، بعض اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہیں اور بعض اس کے ایمان کی حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں۔
مومن کو آزمائش ضرور آتی ہے
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لا بد أن يبتلى المؤمن في شيء من ماله، أو نفسه، أو ولده، أو أهله، ويُبتلى المؤمن على قدر دينه، إن كان في دينه صلابة زِيدَ في البلاء.»
"مومن کو ضرور کسی نہ کسی چیز میں آزمائش آتی ہے، اس کے مال، جان، اولاد یا اہل و عیال میں سے، اور مومن کو اس کے دین کے بقدر آزمایا جاتا ہے ، اگر اس کے دین میں مضبوطی ہو تو اس کی آزمائش بھی زیادہ کر دی جاتی ہے۔"
(تفسير ابن كثير، 2/179)
یہ قول ہمیں ایک بہت اہم حقیقت سمجھاتا ہے کہ آزمائش کا آنا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی دلیل نہیں ہوتا۔ بلکہ ایک مومن کی آزمائش اس کے لیے خیر، اجر، گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
قرآن نے آزمائش کو پہلے ہی بیان کر دیا
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ﴾
"کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لائے، اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟"
(العنکبوت: 2)
یعنی ایمان صرف زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں، بلکہ جب انسان مشکل حالات سے گزرتا ہے تو اس کے ایمان، صبر، توکل اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾
"اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی کے ذریعے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔ وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔"
(البقرۃ: 155-156)
غور کیجیے! اللہ تعالیٰ نے آزمائش کا ذکر کرنے کے بعد صبر کرنے والوں کے لیے خوشخبری بیان فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس کی زندگی میں کبھی پریشانی نہ آئے، بلکہ کامیابی یہ ہے کہ پریشانی کے وقت وہ صبر کا دامن نہ چھوڑے۔
انبیاء علیہم السلام سب سے زیادہ آزمائے گئے
اگر ہر آزمائش اللہ کی ناراضی کی علامت ہوتی تو سب سے زیادہ آزمائش انبیاء علیہم السلام پر نہ آتی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أشد الناس بلاء الأنبياء، ثم الأمثل فالأمثل»
"سب سے زیادہ آزمائش انبیاء پر آتی ہے، پھر جو ان کے بعد بہتر ہوں، پھر جو ان کے بعد بہتر ہوں۔"
(جامع الترمذي)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نیکی اور ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیاوی مشکلات سے بالکل محفوظ ہوجائے گا۔ بلکہ بعض اوقات ایمان کی مضبوطی کے ساتھ آزمائش بھی سخت ہوتی ہے۔ یہی مضمون حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کے مذکورہ قول میں بھی بیان ہوا ہے۔
آزمائش اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذریعہ بھی ہوسکتی ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إنَّ عِظَمَ الجزاءِ مع عِظَمِ البلاءِ، وإنَّ اللهَ إذا أحبَّ قومًا ابتلاهم، فمن رضي فله الرضا، ومن سخط فله السخط»
"بے شک بڑے اجر کے ساتھ بڑی آزمائش ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت فرماتا ہے تو انہیں آزماتا ہے ، پس جو راضی رہے اس کے لیے رضا ہے، اور جو ناراض ہو اس کے لیے ناراضی ہے۔"
یہ حدیث جامع الترمذی، حدیث 2396 میں ہے اور محدثین نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
اس لیے مصیبت کے وقت صرف تکلیف کو نہ دیکھیں، بلکہ اس کے پیچھے ملنے والے اجر کو بھی دیکھیں۔ مومن کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ اللہ کے فیصلے پر صبر کرے گا تو یہی تکلیف اس کے لیے آخرت کا سرمایہ بن سکتی ہے۔
تکلیف بھی گناہوں کا کفارہ بن سکتی ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«ما يُصيبُ المؤمنَ من وصَبٍ ولا نَصَبٍ، ولا سَقَمٍ ولا حَزَنٍ، حتَّى الهَمِّ يُهِمُّه، إلَّا كُفِّرَ به مِن سيِّئاتِه»
"مومن کو جو بیماری، تھکن، غم یا پریشانی پہنچتی ہے، حتیٰ کہ جو فکر اسے لاحق ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں میں سے بعض کو مٹا دیتا ہے۔"
(صحیح مسلم: 2573)
سو جس تکلیف کو انسان دنیاوی نگاہ سے صرف نقصان سمجھ رہا ہوتا ہے، ممکن ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی اس کے لیے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن رہی ہو۔
*آزمائش میں مومن کو کیا کرنا چاہیے؟*
آزمائش کے وقت مومن کا طرزِ عمل بہت اہم ہے۔ اسے چند باتوں کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے:
مصیبت آنے پر زبان سے ناشکری، شکوہ اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر اعتراض کے بجائے صبر اختیار کرنا چاہیے۔
یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ مومن یقین رکھتا ہے کہ اس کا رب اس کے حال سے باخبر ہے اور اس کے لیے وہی فیصلہ بہتر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہے۔
آزمائش انسان کو اللہ سے دور کرنے کے بجائے اللہ کے قریب کرنے والی ہونی چاہیے۔ نماز، دعا، توبہ اور استغفار میں اضافہ کرنا چاہیے۔
صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بیماری کا علاج نہ کرے، مالی نقصان کو دور کرنے کی کوشش نہ کرے یا گھریلو مسائل کو حل کرنے کے لیے جائز تدبیر نہ کرے۔ مومن اللہ پر توکل کرتے ہوئے جائز اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔
انسان کو سوچنا چاہیے کہ اس مشکل نے اسے کیا سکھایا؟ کیا اس نے اسے اللہ کے قریب کیا؟ کیا اس نے اس کے اندر صبر، توکل اور عاجزی پیدا کی؟ اگر آزمائش کے بعد بندہ پہلے سے زیادہ اللہ کے قریب ہوجائے تو یہ آزمائش اس کے لیے بڑی نعمت بن سکتی ہے۔
حضرت ایوب علیہ السلام کی زندگی آزمائش اور صبر کی عظیم مثال ہے۔ انہیں شدید تکلیف پہنچی، لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق نہیں توڑا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾
"بے شک ہم نے اسے صابر پایا، وہ کیا ہی اچھا بندہ تھا، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔"
(ص: 44)
غور کیجیے! آزمائش کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں صابر اور اَوّاب یعنی بہت زیادہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا قرار دیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصیبت کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان صرف اسے برداشت کرلے، بلکہ یہ ہے کہ مصیبت اسے اللہ تعالیٰ سے مزید قریب کردے۔
اللہ تعالیٰ نے صابرین کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾
"یہ وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے عنایتیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔"
(البقرۃ: 156-157)
یعنی مصیبت کے وقت «إنا لله وإنا إليه راجعون» کہنا محض ایک جملہ نہیں، بلکہ یہ مومن کے عقیدے کا اظہار ہے کہ ہم اللہ کے بندے ہیں، ہماری جان، مال، اولاد اور ہر نعمت اسی کی عطا ہے، اور آخرکار ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
مومن کی زندگی آزمائشوں سے خالی نہیں۔ کبھی مال میں کمی آتی ہے، کبھی صحت متاثر ہوتی ہے، کبھی اولاد یا اہلِ خانہ کے معاملات پریشان کرتے ہیں، کبھی انسان کو لوگوں کی طرف سے اذیت پہنچتی ہے اور کبھی حالات اس کے صبر کا امتحان لیتے ہیں۔
لیکن حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کا یہ قول ہمیں ایک عظیم حقیقت یاد دلاتا ہے:
«ويُبتلى المؤمن على قدر دينه، إن كان في دينه صلابة زِيدَ في البلاء.»
یعنی مومن کو اس کے دین کے بقدر آزمایا جاتا ہے، اور اگر اس کے دین میں مضبوطی ہو تو آزمائش بھی بڑھ سکتی ہے۔
لہٰذا جب زندگی میں کوئی مشکل آئے تو فوراً یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہوگیا ہے۔ بلکہ اپنے دل کو سنبھالیں، صبر کریں، اللہ سے تعلق مضبوط کریں، دعا کریں، جائز اسباب اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھیں۔
یاد رکھیے کہ آزمائش مومن کی منزل نہیں، مومن کی تربیت کا ایک مرحلہ ہے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان آزمائش سے گزرے تو اس کا ایمان پہلے سے زیادہ مضبوط ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر آزمائش میں صبر، استقامت، حسنِ ظن، توکل اور اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری مصیبتوں کو ہمارے گناہوں کی معافی، درجات کی بلندی اور اپنی قربت کا ذریعہ بنائے۔ آمین

05/10/2026

🌸 خوشی میں بھی اللہ کو یاد رکھیں 🌸

بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب زندگی میں کوئی خوشی آتی ہے، شادی ہو، کامیابی ملے یا کوئی خواہش پوری ہو تو وہ دنیا کی خوشیوں میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ اللہ کو یاد کرنا، نماز پڑھنا اور درود شریف پڑھنا بھول جاتے ہیں۔

یاد رکھیں! 🤍
جس رب نے آپ کو خوشی دی ہے، وہی اسے کبھی بھی غم میں بدل سکتا ہے۔ اس لیے خوشی کے وقت اپنے رب کو نہ بھولیں۔

خوشی ملے تو شکر کریں،
غم آئے تو صبر کریں،
اور ہر حال میں اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھیں۔ 🤲

نماز کو وقت پر ادا کریں، درود شریف پڑھیں اور اپنے رب کو ہر حال میں یاد رکھیں۔
کیونکہ اصل خوشی دنیا میں نہیں، اللہ کی رضا میں ہے۔ 🌙

05/10/2026

کیا آپ کی رومزہ روٹین میں سیدالاستغفار شامل ہے۔؟؟
اگر نہیں شامل تو شامل کر لیں اس کی بہت فضیلت ہے۔

اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلٰى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔ترجمہ:

اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں اپنے کیے ہوئے کاموں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا۔حدیث کا حوالہ:
حضرت شداد بن اوسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“جو شخص دن میں یقین کے ساتھ یہ دعا پڑھے اور شام سے پہلے فوت ہو جائے تو وہ جنتی ہے، اور جو رات میں یقین کے ساتھ پڑھے اور صبح سے پہلے فوت ہو جائے تو وہ بھی جنتی ہے۔”حوالہ:
📖 صحیح بخاری، حدیث نمبر 6306
(کتاب الدعوات، باب افضل الاستغفار)

یہ دعا صبح و شام پڑھنا بہت فضیلت رکھتا ہے۔

13/09/2026

إمام قرطبى رحمه اللہ تعالٰی نے قرآن کریم کے ادب و احترام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے لکھا:
"قرآن کے ادب میں سے یہ ہے کہ کوئی دن ایسا نہ گزرے جس میں مصحف سے کم از کم ایک بار تلاوت نہ کی جائے۔
حضرت ابو موسیٰ رضي اللہ تعالٰی عنه فرمایا کرتے تھے:
مجھے شرم آتی ہے اگر میں روزانہ کم از کم ایک بار اپنے رب کے عہد (قرآن) کو نہ دیکھوں۔
(الجامع لأحکام القرآن، ١/٢٨)

Address

Medina

Telephone

0599981600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Love Allah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category