30/04/2026
نبی کریم صلى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسلم نے فرمایا:
جو شخص رات کو باوضو سوئے، پھر اسی حالت میں اس کو موت آجائے، تو وہ شہید مرا۔
اور ایک اور جگہ فرمایا: جو شخص رات کو باوضو سوتا ہے، تو ایک فرشتہ ساری رات اُس سے جڑا رہتا ہے، اُس کے لیے ان کلمات سے استغفار کرتا ہے: ’’اے اللہ! اپنے فلاں بندے کی مغفرت فرما دے، کیونکہ وہ رات باوضو سویا ہے۔‘‘
اس حدیث میں رات کو باوضو سونے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، یعنی وضو کی حالت میں سونا انسان کے لیے حفاظت، رحمت اور مغفرت کا سبب بن جاتا ہے، اور اگر اسی حالت میں موت آ جائے تو اسے عظیم اجر یعنی شہادت کا درجہ بھی مل سکتا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے اعمال بھی اللہ کے ہاں بہت بڑی قدر رکھتے ہیں، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص روزانہ سونے سے پہلے وضو کر لے تو وہ نہ صرف پاکیزگی کی حالت میں سوتا ہے بلکہ اس کے لیے فرشتوں کی دعا اور مغفرت کا سبب بھی بنتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مومن کو اپنی روزمرہ زندگی کے معمولات کو بھی عبادت بنا لینے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ نیت اور سنت کے مطابق کیا گیا ہر عمل اللہ کے قرب کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
30/04/2026
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مومن کی روح ایک پرندے کی شکل میں جنت کے درخت سے لٹکتی رہتی ہے، حتیٰ کہ اللہ پھر اسے واپس لوٹا دے گا، اس کے بدن کی طرف جس دن اسے اٹھائے گا۔”
📖 موطا امام مالک، حدیث نمبر: 504
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے مومن کی روح کی برزخی حالت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ مومن کی روح موت کے بعد ایک پرندے کی مانند جنت کے درختوں سے وابستہ رہتی ہے، یعنی وہ راحت، سکون اور اللہ کی نعمتوں میں ہوتی ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے دوبارہ جسم میں لوٹا دیا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کے لیے موت اختتام نہیں بلکہ ایک بہتر اور پُرسکون زندگی کی شروعات ہے۔ یہ ہمیں ترغیب دیتا ہے کہ ہم ایمان اور نیک اعمال کے ساتھ زندگی گزاریں تاکہ ہمیں بھی ایسی ہی آرام دہ برزخی زندگی نصیب ہو۔
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص دنیا میں نیک اعمال کرتا ہے، نماز کا اہتمام کرتا ہے اور اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھتا ہے، تو موت کے بعد اس کی روح کو سکون اور راحت ملتی ہے، اور وہ جنت کی نعمتوں سے بہرہ مند ہوتی ہے۔
30/04/2026
The Messenger of Allah ﷺ said (as narrated by Abu Dharr رضي الله عنه):
“When one of you loves his companion, let him go to his house and inform him that he loves him for the sake of Allah, the Mighty and Majestic.”
(As-Silsilah: 220)
This hadith highlights the beauty of expressing sincere love between believers. In Islam, love for others should be based on faith and the pleasure of Allah. Expressing this love strengthens bonds, increases affection, and spreads kindness in the community. It reminds us not to keep good feelings hidden, but to share them in a pure and meaningful way.
30/04/2026
اس دن سے ڈرو کہ نہ باپ اپنے بیٹے کے کام آئے گا۔