Muhammad onlin quran Academy

Muhammad onlin quran Academy

Share

Onlin techar quran clasess And qurani vedeos And islami vedeos

18/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جو شخص اپنے کسی مومن بھائی کو اس کی مصیبت پر تسلی اور دلجوئی دے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت و کرامت کا لباس پہنائے گا۔"

حوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 1601

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے مصیبت زدہ مسلمان کی دلجوئی، تسلی اور غم میں اس کا ساتھ دینے کی عظیم فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی جب کوئی مومن کسی پریشان یا غم زدہ مسلمان کے پاس جا کر اسے حوصلہ دیتا، صبر کی تلقین کرتا اور محبت و ہمدردی کے ساتھ اس کے دکھ میں شریک ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس نیکی کے بدلے قیامت کے دن اسے عزت و کرامت عطا فرمائے گا، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام صرف عبادات ہی نہیں بلکہ دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے اور ان کے دلوں کو سہارا دینے کی بھی تعلیم دیتا ہے، مثال کے طور پر اگر کسی شخص کے گھر میں وفات ہو جائے، اسے مالی نقصان پہنچے یا وہ کسی دوسری مصیبت میں مبتلا ہو تو ہمیں صرف رسمی الفاظ کہنے کے بجائے اس کے پاس بیٹھنا، اسے تسلی دینا، اس کے لیے دعا کرنا اور حسبِ استطاعت اس کی مدد کرنا چاہیے، یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسی غم زدہ انسان کے دل کو سہارا دینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت قیمتی عمل ہے، اس لیے ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی مصیبت کے وقت ان سے منہ موڑنے کے بجائے محبت، ہمدردی اور خیرخواہی کے ساتھ ان کا ساتھ دینا چاہیے۔

18/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اے ابنِ آدم! اگر تو میرے پاس زمین بھر گناہ لے کر آئے، پھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو میں بھی تیرے پاس زمین بھر مغفرت لے کر آؤں گا۔"

حوالہ: جامع ترمذی، حدیث نمبر: 3540

اس حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ نے توحید کی عظمت اور اپنی بے پایاں مغفرت کو بیان فرمایا ہے، یعنی اگر کسی بندے کے گناہ بہت زیادہ ہوں، حتیٰ کہ زمین بھر گناہوں کے برابر ہوں، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے خالص توحید پر اس سے ملے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنی وسیع مغفرت کی عظیم بشارت دیتا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ شرک سے بچنا اور خالص توحید پر قائم رہنا انسان کی زندگی کا سب سے اہم معاملہ ہے اور کسی شخص کو اپنے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، مثال کے طور پر اگر کسی انسان سے زندگی میں بہت سے گناہ سرزد ہوگئے ہوں تو اسے یہ سوچ کر ناامید نہیں ہونا چاہیے کہ اب اس کی بخشش نہیں ہوسکتی، بلکہ اسے شرک سے مکمل طور پر بچتے ہوئے سچے دل سے توبہ، استغفار اور اصلاحِ اعمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف واپس آنا چاہیے، البتہ اس عظیم بشارت کا مطلب گناہوں پر بے خوف ہوجانا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھتے ہوئے گناہوں کو چھوڑنے اور توبہ کرنے کی کوشش کرنا ہے، یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت انتہائی وسیع ہے اور توحید سب سے عظیم بنیاد ہے، اس لیے ہمیں زندگی بھر خالص توحید پر قائم رہنا، شرک سے بچنا اور ہر گناہ کے بعد اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ و مغفرت طلب کرتے رہنا چاہیے۔

06/08/2026

06/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تمام گناہوں میں سے اللہ تعالیٰ جس کی سزا چاہتا ہے قیامت تک مؤخر فرما دیتا ہے، سوائے والدین کی نافرمانی کے؛ بے شک اللہ تعالیٰ اس کی سزا نافرمان شخص کو دنیا میں بھی دے سکتا ہے۔"

حوالہ: شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر: 7505

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے والدین کی نافرمانی کی سنگینی اور اس کے برے انجام کو بیان فرمایا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ دوسرے گناہوں میں سے جس کی سزا چاہے قیامت تک مؤخر فرما سکتا ہے لیکن والدین کی نافرمانی ایسا سنگین گناہ ہے جس کی سزا نافرمان شخص کو دنیا میں بھی مل سکتی ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو اپنے والدین کے ساتھ ادب، محبت، نرمی اور حسنِ سلوک کا معاملہ کرنا چاہیے اور ان کی جائز باتوں میں اطاعت کرتے ہوئے انہیں تکلیف پہنچانے، ان کے سامنے آواز بلند کرنے اور ان کی دل آزاری سے بچنا چاہیے، مثال کے طور پر اگر والدین بڑھاپے میں کسی خدمت یا مدد کے محتاج ہوں تو اولاد کو ان کی خدمت کو بوجھ سمجھنے کے بجائے خوش دلی سے ان کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں، ان سے نرم لہجے میں بات کرنی چاہیے اور ان کے لیے دعا کرتے رہنا چاہیے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ والدین کی نافرمانی نہایت سنگین گناہ ہے اور اس کے برے اثرات انسان کو دنیا میں بھی دیکھنے پڑ سکتے ہیں، اس لیے ہمیں والدین کی رضا، خدمت اور احترام کا خاص خیال رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ان کے حقوق صحیح طریقے سے ادا کرنے کی توفیق مانگتے رہنا چاہیے۔

06/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اے لوگو! اللہ سے توبہ کرو اور اس سے معافی مانگو، کیونکہ میں اللہ سے ہر دن ایک سو مرتبہ توبہ اور استغفار کرتا ہوں۔"

حوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 1424

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے توبہ و استغفار کی عظیم اہمیت اور اللہ تعالیٰ کی طرف بار بار رجوع کرنے کی فضیلت کو بیان فرمایا ہے، یعنی مومن کو اپنے گناہوں اور کوتاہیوں پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہنا چاہیے اور توبہ و استغفار کو اپنی روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بنانا چاہیے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ خود ہر دن کثرت سے توبہ اور استغفار فرمایا کرتے تھے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو کبھی اپنے اعمال پر مغرور نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیشہ اپنی کمی اور کوتاہی کو محسوس کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنی چاہیے، مثال کے طور پر اگر کسی شخص سے کوئی غلطی یا گناہ سرزد ہو جائے تو اسے مایوس ہونے یا گناہ پر قائم رہنے کے بجائے فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اپنے کیے پر نادم ہونا چاہیے، گناہ چھوڑ دینا چاہیے اور سچے دل سے استغفار کرنا چاہیے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ توبہ اور استغفار اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت حاصل کرنے کا عظیم ذریعہ ہیں، اس لیے ہمیں ہر روز کثرت سے اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرتے ہوئے اپنے دل اور اعمال کو گناہوں سے پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

06/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہوگا، اور جنت میں میرے رفیق عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہوں گے۔"

حوالہ: جامع ترمذی، حدیث نمبر: 3707

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی عظیم فضیلت، بلند مقام اور جنت میں آپ ﷺ کی رفاقت کی بشارت کو بیان فرمایا ہے، یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا بلند مرتبہ عطا فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں جنت میں اپنا رفیق قرار دیا، یہ ان کے ایمان، اخلاص، سخاوت، حیا اور دینِ اسلام کے لیے عظیم خدمات کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت اور ان کا احترام کرنا چاہیے اور ان کی ایمان، تقویٰ، سخاوت اور دین کے لیے قربانی جیسی خوبیوں کو اپنی زندگی میں اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرح اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے مال کو نیکی کے کاموں میں خرچ کرے، حیا اور اچھے اخلاق اختیار کرے اور دین کی خدمت میں اپنا حصہ ڈالے تو وہ اللہ تعالیٰ سے عظیم اجر اور جنت میں نیک لوگوں کی رفاقت کی امید رکھ سکتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا مقام نہایت بلند اور عظیم ہے، اس لیے ہمیں ان سے محبت کرتے ہوئے ان کی سیرت اور نیک صفات سے اپنی زندگی کو سنوارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

30/04/2026

نبی کریم صلى اللّٰهُ عَلَيْهِ وسلم نے فرمایا:

جو شخص رات کو باوضو سوئے، پھر اسی حالت میں اس کو موت آجائے، تو وہ شہید مرا۔
اور ایک اور جگہ فرمایا: جو شخص رات کو باوضو سوتا ہے، تو ایک فرشتہ ساری رات اُس سے جڑا رہتا ہے، اُس کے لیے ان کلمات سے استغفار کرتا ہے: ’’اے اللہ! اپنے فلاں بندے کی مغفرت فرما دے، کیونکہ وہ رات باوضو سویا ہے۔‘‘

اس حدیث میں رات کو باوضو سونے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، یعنی وضو کی حالت میں سونا انسان کے لیے حفاظت، رحمت اور مغفرت کا سبب بن جاتا ہے، اور اگر اسی حالت میں موت آ جائے تو اسے عظیم اجر یعنی شہادت کا درجہ بھی مل سکتا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے اعمال بھی اللہ کے ہاں بہت بڑی قدر رکھتے ہیں، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص روزانہ سونے سے پہلے وضو کر لے تو وہ نہ صرف پاکیزگی کی حالت میں سوتا ہے بلکہ اس کے لیے فرشتوں کی دعا اور مغفرت کا سبب بھی بنتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مومن کو اپنی روزمرہ زندگی کے معمولات کو بھی عبادت بنا لینے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ نیت اور سنت کے مطابق کیا گیا ہر عمل اللہ کے قرب کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

30/04/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“مومن کی روح ایک پرندے کی شکل میں جنت کے درخت سے لٹکتی رہتی ہے، حتیٰ کہ اللہ پھر اسے واپس لوٹا دے گا، اس کے بدن کی طرف جس دن اسے اٹھائے گا۔”

📖 موطا امام مالک، حدیث نمبر: 504

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے مومن کی روح کی برزخی حالت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ مومن کی روح موت کے بعد ایک پرندے کی مانند جنت کے درختوں سے وابستہ رہتی ہے، یعنی وہ راحت، سکون اور اللہ کی نعمتوں میں ہوتی ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے دوبارہ جسم میں لوٹا دیا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کے لیے موت اختتام نہیں بلکہ ایک بہتر اور پُرسکون زندگی کی شروعات ہے۔ یہ ہمیں ترغیب دیتا ہے کہ ہم ایمان اور نیک اعمال کے ساتھ زندگی گزاریں تاکہ ہمیں بھی ایسی ہی آرام دہ برزخی زندگی نصیب ہو۔
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص دنیا میں نیک اعمال کرتا ہے، نماز کا اہتمام کرتا ہے اور اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھتا ہے، تو موت کے بعد اس کی روح کو سکون اور راحت ملتی ہے، اور وہ جنت کی نعمتوں سے بہرہ مند ہوتی ہے۔

30/04/2026

The Messenger of Allah ﷺ said (as narrated by Abu Dharr رضي الله عنه):
“When one of you loves his companion, let him go to his house and inform him that he loves him for the sake of Allah, the Mighty and Majestic.”
(As-Silsilah: 220)

This hadith highlights the beauty of expressing sincere love between believers. In Islam, love for others should be based on faith and the pleasure of Allah. Expressing this love strengthens bonds, increases affection, and spreads kindness in the community. It reminds us not to keep good feelings hidden, but to share them in a pure and meaningful way.

Want your school to be the top-listed School/college in Medina?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Medina