Barakaat Al Madinah
We have 100% orignal Roghan E Bilsan and Ajwa Dates from Madinah. All our Products are Grade A quali
جسمانی کمزوری دور کرنے کےسلسلہ میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’رات کا کھانا ہرگز نہ چھوڑو خواہ ایک مٹھی کھجور ہی کھالو کیونکہ رات کا کھانا چھوڑنے سے بڑھاپا طاری ہو جاتا ہے۔‘‘
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت میں جب کوئی بیمار ہوتا تو حکم دیتے کہ جو کا دلیہ یعنی تلبینہ تیار کیا جائے آپﷺ فرماتے تھے کہ ’’یہ بیماری کے غم کو دل سے اتار دیتا ہے اور اس کمزوری کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘
حضرت تمیم الدین ؓ نے آپ ﷺکی خدمت میں منقی تحفہ میں پیش کیا ، آپﷺ نے اسے قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ اسے کھائو کہ ’’یہ بہترین کھانا ہے جو تھکن کو دور کرتا ہے، غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے، اعصاب کو مضبوط کرتا ہے ، چہرے کی دلکشی کو بڑھاتا ہے اور بلغم کو خارج کرتا ہے۔‘‘
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ’’تربوز کھانا بھی ہے اور مشروب بھی۔ یہ مثانہ کو دھوکر صاف کر دیتا ہے، پیٹ کو صاف کرتا ہے، ریڑھ کی ہڈی سے پانی نکال دیتا ہے اور چہرے کو نکھارتا ہے۔‘‘
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جس نے روزانہ منقی سرخ کے21 دانے کھائے وہ تمام موذی امراض سے محفوظ رہتا ہے۔
حضرت عامر بن سعد ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’جس نے صبح کے وقت عجوہ کھجور کے سات دانے کھائے اس دن اسے سحر اور زہر بھی نقصان نہیں دیں گے۔‘‘
ایک اور حدیث میں ارشاد گرامی ہے کہ ’’جس نے رات کے وقت کھجوریں کھائیں اس پر زہر اثر انداز نہ ہوگا‘‘۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ کھجور سے قولنج نہیں ہوتا‘‘
ابن ماجہ نے ایک حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب کبھی درد سر ہوتا تو آپ ﷺ اپنے سر پر مہندی کا پلاسٹر چڑھاتے اورفرماتے کہ ’’یہ درد کے لئے خدا کے حکم سے نافع ہے‘‘۔
قبض کے مرض کے سلسلہ میں آپﷺ فرماتے ہیں کہ ’’جو کا دلیہ یعنی تلبینہ پیٹ کو اس طرح صاف کر دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے چہرے کو پانی سے دھو کر اس سے غلاظت اتار دیتا ہے۔‘‘
حضرت ابی عثمان الہندی ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ’’جس کو ریحان پیش کیا جائے وہ انکار نہ کرے، کھانا کھانے کے دوران تخم ریحان کا آدھا چمچہ پانی کے ساتھ لیا جائے تو یہ قبض کو رفع کرتا ہے۔‘‘
اسی سلسلہ میں آپﷺ نے فرمایا کہ ’’اپنے دستر خوان کو سبز چیزوں سے مزین کرو۔‘‘
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے رسول ال
03/11/2020
روضہ رسول اور حجرہ مبارکہ کے خادم آغا احمد علی یاسین انتقال کر گئے
سبق ویب سائٹ کے مطابق ٹوئٹر پر مسجد نبوی شریف کے موذنوں کے اکاؤنٹ میں کہا گیا ہے کہ ’خادم حجرہ مبارکہ آغا احمد علی یاسین کی نماز جنازہ کل پیر کو مسجد نبوی شریف میں ادا کی گئی اور انہیں سپرد خاک کردیا گیا‘۔
روضہ اطہر اور حجرہ مبارکہ کے خادم آغا احمد علی یاسین کی وفات کے بعد اب مدینہ منورہ میں صرف تین آغا حیات ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی مسجد نبوی شریف کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
آغا کون ہیں؟
اغوات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حرمین شریفین کی خدمت کے لیے خود کو وقف کر دینے والے باکمال، خوش خصال اور منکسر الحال لوگ ہیں۔ ان کی اپنی ایک تاریخ ، تہذیب اور قاعدے قانون ہیں۔
مسجد نبوی شریف میں اغوات کی تاریخ ملک الناصر صلاح الدین بن ایوب کے عہد سے شروع ہوتی ہے۔ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے مسجد نبوی شریف کی خدمت کے لیے اغوات تعینات کیے تھے۔
ہر دور میں اغوات کا لباس منفرد رہا ہے۔ معروف سیاح ابن بطوطہ نے ان کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے’ اغوات خوش اطوار ہوتے ہیں۔ ان کے ملبوسات دلچسپ انداز کے ہوتے ہیں۔ اغوات کے سردار کو شیخ الحرم کہا جاتا ہے‘۔
اغوات لفظ جمع ہے، اس کا واحد آغا ہے۔ آغا غیر عربی لفظ ہے۔ یہ ترکی، کردی اور فارسی زبانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کردی اپنے شیوخ اور بزرگوں کو آغا کہتے ہیں۔ ترک سردار اور سربراہ کے لیے آغا کا لفظ استعمال کرتے ہیں جبکہ فارسی میں آغا خاندان کے سربراہ کے لیے بولا جاتا ہے۔
آغااحمد یاسین کے انتقال کے بعد اب مدینہ منورہ میں صرف تین آغا حیات ہیں۔
مسجد نبوی شریف میں ان کے لیے ایک مخصوص جگہ ہے جسے ’دکۃ الاغوات‘ کہا جاتا ہے۔ یہ جگہ مسجد نبوی شریف کے ایک گوشے میں ہے۔ ماضی قریب تک یہ لوگ وہاں سفید عمامہ، رنگین شال اور کمر پر بیلٹ باندھے ہوئے مستعد شکل میں بیٹھے نظر آتے تھے۔ جونہی انہیں خدمت کے لیے طلب کیا جاتا فوراً ہی اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔
بعض روایات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اغوات کا رواج حبشی قبائل کے یہاں سے شروع ہوا ہے۔ یہ قبائل اپنی اولاد کو کم عمری میں نامرد بنا دیتے اور انہیں حرمین شریفین کی خدمت کے لیے وقف کردیا کرتے تھے۔
نئے اغوات حرمین شریفین کے کارکنان کی مدد سے تلاش کیے جاتے تھے۔ حرمین شریفین کے کارکن جب بھی حبشہ جاتے تو انہیں ’آغا‘ والی خصوصیات کے حامل افراد تلاش کرنے کی ذمہ داری دے دی جاتی تھی۔
جب ان میں سے کسی ایک کو مطلوبہ شخص مل جاتا تو وہ اس کی اطلاع شیخ الاغوات کو دیتا اور وہ حرمین شریفین میں خدمت کے لیے رسمی تقرری کی خاطر اس کی درخواست حکام کو پیش کردیتا۔
اغوات حرمین شریفین میں صفائی، نظم و ضبط اور خواتین و مردوں کو الگ الگ کرنے کے کام پر مامور ہیں۔ اسی طرح سے جب مسجد نبوی شریف بند کی جاتی تو اغوات ہی خواتین کو مسجد سے نکالنے کی ذمہ داری انجام دیتے تھے۔
اغوات کارِ خیر کے لیے مشہور رہے ہیں۔ ان میں عالم فاضل اور فقیہ بھی گزرے ہیں۔ مدینہ منورہ کے بعض اغوات نے فلاحی کاموں اور ضرورت مندوں کی مدد میں بڑا نام کمایا۔ ان میں ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے مساجد، مدارس اور رباطیں قائم کرائیں۔
قباء کے محلے میں موجود مسجد آلآغا اس کا روشن ثبوت ہے۔ یہ مسجد اب بھی موجود ہے۔ اغوات کے نام سے رباط کا وقف بھی پایا جاتا ہے۔ اغوات اپنی امارت کے لیے مشہور ہیں۔ ان کا کوئی وارث نہیں ہوتا اور نہ انہیں اپنی دولت کسی کو ہبہ کرنے یا اس میں تصرف کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔
ان کی موت پر ان کی املاک ادارۂ اوقاف کے حوالے ہوجاتی ہیں۔ ان کی نہ اولاد ہوتی ہے اور نہ نسل۔ ان کا سلسلہ ان کی موت پر ختم ہوجاتا ہے۔
الاغوات کا محلہ مدینہ منورہ کے مشہور محلوں میں سے ایک ہے۔ اس کی گلی باب جبریل کے سامنے سے شروع ہوکر اور باب جمعہ کی جانب چلتی تھی۔ الاغوات محلے کے گھر عام طور پر بڑے پرانے طرز کے ہوتے تھے۔ یہ مٹی اور اینٹوں کے بنے ہوتے تھے۔ دو اورتین منزلہ ہوتے تھے۔ الاغوات محلے کی کئی گلیاں مشہور ہیں۔
حرمین شریفین کی عظیم الشان خدمات کے اعتراف کے طور پر سعودی عہد اقتدار میں اغوات کو بڑی قدر و منزلت حاصل ہوئی۔
1346 ھ میں سعودی عہد کے آغاز ہی سے اغوات کے ساتھ خصوصی برتاؤ شروع کردیا گیا۔ بانیٔ مملکت شاہ عبدالعزیز نے ایک شاہی فرمان جاری کرکے واضح کیا کہ ’ اغوات حرم ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اپنی خصوصی حیثیت پر قائم رہیں گے، کسی کو بھی ان پر نہ اعتراض کا حق ہوگا اور نہ ان کے امور میں کوئی مداخلت کا اختیار ہوگا‘۔
شاہ عبدالعزیز کی وفات کے بعد شاہ سعود نے 4 ربیع الاول 1374 ھ کو اپنے والد کے فرمان کی تصدیق و توثیق کرتے ہوئے
مندرجہ ذیل فرمان جاری کیا: ’ہم اغوات الحرم کو ان کے نظم ونسق پر جوں کا توں برقرار رکھتے ہیں، کوئی شخص بھی ان کے امور میں نہ تو مداخلت کرے گا اور نہ اغوات کے لیے کسی قسم کی پریشانی کا باعث بنے گا‘۔
اغوات بتاتے ہیں کہ خادم حرمین شریفین شاہ فہد ہر سال ان کے نام شاہی تحفہ بھیجا کرتے۔ وہ ان کے لیے مشلح بھی ارسال کیا کرتے تھے۔ یہ تحفہ انہیں مسجد الحرام اور مسجد نبوی شریف کی جنرل پریذیڈنسی کے توسط سے ملا کرتا تھا۔
سعودی حکومت انہیں تنخواہیں دیتی ہے۔ علاوہ ازیں اوقاف سے ہونے والی آمدنی ان میں برابر برابر تقسیم کردیتی ہے۔ اغوات کے اوقاف مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، جدہ، طائف اور الاحساء میں پائے جاتے ہیں۔ بیرون مملکت عراق، مراکش اور یمن میں بھی اغوات کے لیے اوقاف ہیں۔ ان سے انہیں بھاری آمدنی ہوتی ہے۔
ماضی میں اغوات حرمین شریفین میں خدمات انجام دیا کرتے تھے۔ ان میں مطاف کو دھونا، حرمین شریفین کو کبوتروں کے فضلے سے صاف کرنا اور شمعیں روشن کرنا وغیرہ شامل تھا۔ ماضی قریب تک اغوات صرف چار کام انجام دیتے رہے ہیں جو یہ ہیں:
بادشاہ اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کے استقبال میں حصہ لینا۔
ریاست کے مہمان سربراہوں، وزراء اور ان کے ہمراہ آنے والی شخصیتوں کی خدمت، ان کے لیے قالین بچھانا اور آب زمزم پیش کرنا۔
طواف کے دوران خواتین کو مردوں سے علیحدہ کرنا اور اذان کے بعد خواتین کو طواف سے روکنا۔
مسجد نبوی شریف میں اغوات روضہ مبارکہ کی صفائی پر مامور رہے ہیں، ضرورت پڑنے پر مہمانوں کے لیے روضہ کا دروازہ کھولتے تھے، سرکاری مہمانوں کو باب سلام پر خوش آمدید کہتے تھے اور مسجد نبوی شریف سے رخصت ہونے تک ان کے ہمراہ رہتے تھے۔
لا حول ولا قوۃ الا با اللّٰہ علی العظیم 😢😥😢
آئیں ایک ٹرینڈ شروع کرتے ہیں
اسے کاپی پیسٹ کرتے جائیں اور اپنی پوسٹس کا ہیش ٹیگ بھی بناتے جائیں تو ان شاء اللہ یہ آواز دنیا بھر میں بلند ہو گی اور دنیا بھر کے لوگ اس خبیث و رزیل کے متعلق جان لیں گے کہ کوئی مسلۂ تو ہے اسے۔
جزاکم اللہ
Commençons un tand
Continuez à le copier et même faire de vos messages une étiquette de hachage, de sorte que la voix d’Allah sera entendue partout dans le monde et les gens du monde entier sauront sur les nouvelles qu’il ya un fichier.
Jazaqmullah
فرنج ترجمہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
Ali Bin Abi Talib Down Street
Medina
15661