Multani ladka

Multani ladka

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Multani ladka, Palestine hotel Ibrahim Al khaleel misfalah kubri Road, Makkah.

08/05/2026

« گھروں میں فرشتے بلائیں شیطان نہیں »

*ابو جعفر* نے اپنی بیٹی کا نکاح `شيبة بن نصاح` سے کر دیا تو لوگوں نے کہا
آپ نے ایک تنگدست انسان سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے حالانکہ مالداروں کے پیغامِ نکاح بھی آئے تھے
فرمایا
> إِن كَانَ شيبَة مقلا فسيملأ بَيتهَا قُرْآنًا
اگر شیبہ تنگدست ہے تو میری بیٹی کے گھر کو قرآن سے بھر دے گا
جب ان کا نکاح ہوا تو لوگ کہتے تھے
*يُولد بَينهمَا مصحف*
اِن دونوں سے مصحف پیدا ہوگا
❗ السبعة في القراءات لابن مجاهد ص ٥٩ ❗
مراد تھا کہ ان کے گھر علم ہی علم ہوگا کیونکہ میاں بیوی دونوں علم و فضل والے ہیں
پہلے زمانے یا یوں کہ لیں عروجِ اسلام اور آج کے دور میں فرق یہی ہے کہ *اُس وقت بیوی وہی تلاش کی جاتی تھی جو دین میں معاون ہو اور آج وہ تلاش کی جاتی ہے جو کمائی میں معاون ہو*
آج کی بیوی کا زور بھی یہی ہوتا ہے کہ شوہر کا ہاتھ کمائی میں مضبوط کروں
دین میں ساتھ چلنے کا ذہن کم ہی ہے
`لوگ احمق سے احمق تر ہوتے جا رہے ہیں` کہ گھر کا سکون اور معاشرے میں عزت مال و دولت میں تلاش کرتے ہیں جبکہ یہی مال اصل میں بے سکونی و ذلت کا سبب ہے
*گھروں میں کروڑوں روپے آتے ہوں مگر رحمت کا ایک فرشتہ نہ آتا ہو تو سکون ہوگا ؟*
دنیا داروں کی نظروں میں آپ معزز ہوں مگر رحمت والے فرشتوں کی نظروں میں مبغوض ہوں تو یہ عزت ہے کہ ذلت ہے ؟
`گھروں کو قرآن سے بھریں دین و ایمان سے بھریں دنیا و شیطان سے نہ بھریں`

اور گھر کو دین و ایمان سے بھرنے کی طرف پہلا قدم علم والی خاتون اختیار کرنا ہے

08/05/2026

کندیاں جنگل میں خاتون کی سر کٹی لا ش برامد
سٹی پولیس اور کندیاں پولیس کی فوری کاروای
واردت ٹریس
تفصیلات
ملزم اختر حسین ولد احمد نواز قوم چھینہ سکنہ سہراب والا
مقتولہ بینک سٹریٹ میانوالی کی رھائشی تھی. شادی شدہ تھی
کل تھانہ سٹی لڑکی کے شوہر وغیرہ نے گمشدگی کی رپورٹ درج کروای اور لڑکے کو نامزد کیا جب لڑکے کی تھانہ سٹی تفتیش ھوی تو اس نے انکشاف کیا کہ کندیاں کے جنگل میں ملاقات ھوی اور وہاں تلخ کلامی ھوی عورت بضد تھی میرے ساتھ شادی کرو میں شادی نہی کرنا چاہتا تھا اور میں نے چھرے سے ق تل کر کے سر کاٹ دیا
یہ ھے غیر مرد سے تعلقات کا انجام
ایس ایچ اوسٹی نے بھرپور محنت کی فوری کاروای کی اور ملزم گرفتاری اور واردات ٹریس ھوی
یہ واقعہ ھمیں سبق دیتا ھے کہ غیر محرم سے تعلقات سے انسان کتنی تکلیف برداشت کرتا ھے
ایک مر گئ دوسرا اجڑ گیا خدا سب پر رحم کرے
لاش برامد کر لی گئ
ھم دن بدن بے راہ و روی کا شکار ھیں اس واردات کے بعد انسان کیا کچھ سوچتا ھے
اللہ پاک سب پر رحم فرمائیں
خاتون پندرہ سال سے شادی شدہ تھی گھر نہی بستا انسان طلاق لے کر راستہ جدا کر لیتا ھے
بحرکیف ایس ایچ او سٹی اور انکی ٹیم نے بہت کم وقت میں بلائینڈ مرڈر ٹریس کیا اور روائیتی سستی نہی دکھای کہ گھر سے اس مرد کے ساتھ بھاگ گی ھو گی
اور فوری ملزم گرفتار اور مقدمہ ٹریس ھوا

08/05/2026

یہ تمھاری بھابھی ہیں
بدکاری و بد کرداری دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے ، روزانہ پرنٹ میڈیا و سوشل میڈیا پہ عجیب و غریب خبریں پڑھنے سننے میں آتی رہتی ہیں ، بچوں کو قتل کر کے ماں کسی کے ساتھ چلی گئی ، کسی کے پیار میں شوہر کو سوتے میں سلا دیا وغیرہ وغیرہ
یقینا اس کے اہم ترین اسباب میں بے پردگی ، فحاشی و عریانی اور نامحرم مردوں سے بے دھڑک میل جول بھی ہیں ۔
شوہر اپنے دوستوں سے ملاقات کرواتے ہوئے فخریہ بتاتا ہے کہ یہ تمھاری بھابھی ہیں اور پھر گھروں میں بےپردہ آنا جانا ، ملنا ملانا برائی کے راستے کھولتا چلا جاتا ہے
زمانہ جتنا بھی بدلے قرآنی احکام کبھی نہیں بدلتے قرآن کا اعلان ہے وقرن فی بیوتکن اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو
یاد رکھئے ! شریعت کی پاسداری ہی بے کلی و بے قراری سے بچانے کا ذریعہ بنتی ہے اس لئے قرآنی احکام کو سینے سے لگا کر زندگی گزارئیے

08/05/2026

Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉 Ghulam Mustafa Mustafa, Muhammad Nadeem, Khan Bublo

08/05/2026

*🔸مٹی کے برتن میں کھانا پکانے کے فوائد ...🔸*

مٹی کے برتنوں میں کھانا پکانے کی تاریخ کئی برسوں پُرانی ہے کیونکہ انسانوں نے اپنی ابتداء میں ہی مٹی کو اپنے ہاتھوں سے مختلف شکلوں میں ڈھالنا دھات کے استعمال سے بہت پہلے سیکھ لیا تھا اور تب سے لے کر آج تک مٹی کے برتن کھانا پکانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
پرانے وقتوں میں استعمال ہونے والے گھریلو آلات بھی مٹی کے بنائے گئے ہوتے تھے۔ مٹی کے برتن میں کھانا کھانے کے چند اہم فوائد بھی ہیں جن سے آپ ناواقف ہوں گے۔ آئیں ہم کو بتاتے ہیں۔

*(1) ...مٹی کے برتن میں الکالائن موجود ہوتی ہے*

مٹی قُدرتی الکالائن ہوتی ہے اور الکالائن تیزابیت کا خاتمہ کرتی ہے اور جب ہم مٹی کے برتن میں کھانا پکاتے ہیں تو مٹی کی الکالائن خصوصیات کھانے کی تیزابیت کو ختم کرتی ہے جس سے ہمارے جسم کا پی ایچ کی سطح بہتر رہتی ہے اور خوراک جہاں جلد ہضم ہوجاتی ہے۔
مٹی کے برتنوں میں کھانا پکاتے وقت کھانے میں قیمتی منرلز (میگنیشیم، کیلشیم، آئرن، فاسفورس، سلفر) وغیرہ شامل ہوتے ہیں جو ہماری صحت کے لئے خزانے سے کم نہیں ہوتے۔

*(2) ...گھی اور تیل کم خرچ ہوتا ہے*
مٹی کے برتن میں کھانا پکانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے اُن میں کھانا ہلکی آنچ پر پکتا ہے جس سے کھانے کے اندر موجود قُدرتی تیل جلتا نہیں ہے اور نمی کے ساتھ کھانے میں شامل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے کھانے میں گھی اور تیل کا استعمال کم کرنا پڑتا ہے۔

*(3) ... مٹی کے برتن سستے ہوتے ہیں*

دھات کے برتن ، کُوکر وغیرہ جہاں کھانے کی غذائیت اور ذائقے کو نقصان پہنچاتے ہیں وہاں دھات مہنگی ہونے کی وجہ سے یہ برتن بھی مہنگے داموں ملتے ہیں مگر مٹی کے برتن جہاں عام دستیاب ہیں وہاں آپ انہیں انتہائی سستے داموں خرید سکتے ہیں۔

*(4) ...کھانے کے وٹامن ضائع نہیں ہوتے*
مٹی کے برتن کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں باریک باریک کئی سوراخ ہوتے ہیں جو حدت اور نمی کو کھانے کے اندر تک داخل کرنے کا سبب ہیں جبکہ دھات کے برتن کی نسبت مٹی کے برتن میں کھانا آہستہ آہستہ تیار ہوتا ہے اور تیز آنچ لگنے کے باعث بچا رہتا ہے جس سے کھانے میں موجود وٹامنز اور غذائیت محفوظ رہتی ہے اورکھانے میں مہک برقرار رہتی ہے۔

*(5) ...مٹی کے کونسے برتن استعمال نہیں کرنے چاہیے*

طبی ماہرین کے مطابق مٹی کے ایسے برتن جنہیں مختلف کمیکلز کیساتھ پالش کر کے تیار کیا جاتا ہے ان میں کھانا پکانا صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور پالش کرنے سے مٹی کے برتنوں کے مسام بند ہوجاتے ہیں جس سے ہوا برتن میں داخل نہیں ہوپاتی اور پالش میں استعمال ہونے والے خطرناک کمیکلز کا کھانے میں شامل ہوجانے کے خدشات ہوتے ہیں اس لیے مٹی کے وہی برتن استعمال کرنے چاہیے جن پر کسی قسم کی پالش وغیرہ کا استعمال نہ کی گئی ہو۔

*▪️ضروری بات▪️*
*اس پوسٹ میں شامل تمام مواد کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا ہے اور اسے طبی مشورے کے طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔ قارئین کو صحت سے متعلق متعلقہ پیشہ ور افراد سے رابطہ کرنا چاہئے.*

04/05/2026

ٹیپو سلطان کی شہادت 😢 پر زمین ہی نہیں کانپی آسمان بھی کھل کر رویا
انگریزوں نے آخری دن شیر میسور کی نعش کے ساتھ کیا کیا ؟

شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے ،
یہ معروف قول تھا شیر میسور ٹیپو سلطان شہید کا ۔

ٹیپو سلطان ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے آخری حکمران تھے۔ آپ کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ آپ نے اور آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو روکے رکھا اور کئی بار انگریز افواج کو شکست فاش دی۔

یوں تو شجاعت و بہادری کے کئی قصے ان سے منسوب ہیں مگر اپ کے ذوق کی نذر ایک تحریر کررہا ہوں ۔

سینئیر کالم نگار جی این بھٹاپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ :
ڈیوک آف ولنگٹن کی سپاہ ایک خونریز معرکہ میں سرنگا پٹنم فتح کرچکی تھیں مگر ڈیوک آف ولنگٹن کو ابھی تک اپنی فتح کا یقین نہیں آرہا تھا۔ وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنےاوپرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹنم کے میدان میں جمع ہونے والے محب وطن شہیدوں کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے، رات کی سیاہی اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔ لگتا تھا آسمان نے بھی ٹیپو سلطان کی شکست پر جو اسکے اپنے بے ضمیر درباریوں‘ اور لالچی وزیروں کی وجہ سے ہوئی اپنا چہرہ شب کی تاریکی میں چھپا لیا تھا‘ اتنے میں چند سپاہی ولنگٹن کے خیمے میں آئے‘ انکےچہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ انہوں نے اسے ٹیپو سلطان کی شہادت اور اسکی نعش برآمد ہونے کی اطلاع دی۔ یہ نعش سلطان کے وفاداروں کے ڈھیر کے نیچے دبی ملی۔ جنرل ولنگٹن خوشی سے حواس باختہ ہوکر سلطان کی نعش کے پاس پہنچا تو وہ نعش وفاداروں کے جمگھٹ میں ایسی پڑی تھی جیسے بْجھی ہوئی شمع اپنے گرد جل کر مرنے والے پروانوں کے ہجوم میں ہو‘ جنرل نے سلطان کے ہاتھ میں دبی اسکی تلوار سے اسے پہچان کر اسکی شناخت کی۔ یہ تلوار آخر وقت تک سلطان ٹیپو کے فولادی پنجے سے چھڑائی نہ جا سکی۔

اس موقع پر جنرل نے ایک بہادر سپاہی کی طرح شیر میسور کو سلیوٹ کیا اور تاریخی جملہ کہا کہ ’’آج سے ہندوستان ہمارا ہے، اب کوئی طاقت ہماری راہ نہیں روک سکتی‘‘ اور اسکی نعش اندر محل کے زنان خانے میں بھجوائی تاکہ اہلخانہ اس کاآخری دیدار کریں اس کے ساتھ ہی آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھک گیا۔

جب سلطان کی قبر کھودی جانے لگی تو آسمان کا سینہ بھی شق ہو گیا اور چاروں طرف غیض و غضب کے آثار نمودار ہوئے، بجلی کے کوندے لپک لپک کر آسمان کے غضب کا اظہار کر رہے تھے۔ اس وقت غلام علی لنگڑا، میر صادق اور دیوان پورنیا جیسے غدارانِ وطن خوف اور دہشت دل میں چھپائے سلطان کی موت کی خوشی میں انگریز افسروں کےساتھ فتح کے جام لنڈھا رہےتھے، اور انکے چہروں پر غداری کی سیاہی پھٹکار بن کر برس رہی تھی‘ جوں ہی قبر مکمل ہوئی لحد بن گئی تو آسمان پھٹ پڑا اور سلطان میسور کی شہادت کے غم میں برسات کی شکل میں آنسووں کا سمندر بہہ پڑا۔ قبر پر شامیانہ تانا گیا محل سے لیکر قبر تک جنرل ولنگٹن کے حکم پر سلطان میسور کا جنازہ پورے فوجی اعزاز کے ساتھ لایا گیا۔

فوجیوں کے دو رویہ قطار نے کھڑے ہوکر ہندوستان کے آخری عظیم محبِ وطن بہادر جنرل اور سپوت کے جنازے کو سلامی دی۔ میسور کے گلی کوچوں سے نالہ و آہ شیون بلندہو رہا تھا، ہر مذہب کے ماننے والے لاکھوں شہری اپنے عظیم مہربان سلطان کیلئے ماتم کر رہے تھے اور آسمان بھی انکے غم میں رو رہا تھا۔

جنرل ولنگٹن کے سپاہ نے آخری سلامی کے راؤنڈ فائر کئے اور میسور کی سرزمین نے اپنے ایک عظیم سعادت مند اور محب وطن فرزند کو اپنی آغوش میں ایک مادر مہربان کی طرح سمیٹ لیا۔ اس موقع پر سلطان کے معصوم چہرے پر ایک ابدی فاتحانہ مسکراہٹ نور بن کر چمک رہی تھی۔ آج بھی ہندوستان کے ہزاروں باسی روزانہ اس عظیم مجاہد کی قبر پر بلا کسی مذہب و ملت کی تفریق کے حاضر ہو کر سلامی دیتے ہیں۔

*4 مئی یوم شہادت*
شیر میسور *ٹیپو سلطان*
ٹیپو سلطان 22 نومبر 1750 کو دیوانہ ہالی میں پیدا ہووے

آپکا اصل نام "فتح علی" تھا.لیکن آپ کے مرشد "مستان ٹیپو "کی نسبت سے آپکا نام ٹیپو سلطان رکھا گیا.

آپ ایک عظیم مصلح ،لیڈر ،سپاہ سالار تھے.اس عظیم لیڈر کی زیر نگرانی میزائل ٹیکنالوگی بنائی گئی لیکن اسلام دشمن عناصر کی وجہ سے انگریز وہ ٹیکنالوگی حاصل کر کے لے گۓ. میسور کی چوتھی جنگ جو کہ سرنگا پٹم پہ لڑی گئی ،سلطان کی فوج کے غدّار میر صادق,غلام علی ،پر نیا پنڈت نے انگریزوں کو خفیہ جگہوں ک نقشے فراہم کئے جہاں راکٹ "تغرق " محفوظ کئے گئے تھے .اس تہ خانوں میں سرنگ لگوا کر دریاۓ کاویری
کا پانی چھوڑ دیا جس نے تمام راکٹ ناکارہ ہو گئے .جس سے سلطان کو شکست ہوئی.

وہ چاہتا تو بچ سکتا تھا، چاہتا تو ہتھیار ڈال دیتا۔ مگر جس مردِ مجاہد نے کہا تھا: "شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے"، وہ آخری سانس تک ڈٹا رہا

قلعے کے واٹر گیٹ کے پاس، زخمی اور خون میں لت پت، ٹیپو اکیلا لڑتا رہا۔ کئی گولیاں لگیں، جسم گر گیا، مگر حوصلہ نہ جھکا۔ دشمنوں نے اسے پہچانا تک نہیں، وہ شہادت پا چکا تھا۔ جب اس کا جسم اٹھایا گیا، تو دنیا کو خبر ہوئی کہ یہی وہ شیر تھا جس سے پوری سلطنت کانپتی تھی۔

ٹیپو سلطان مرا نہیں، امر ہو گیا۔ اس کی شہادت شکست نہ تھی، بلکہ مزاحمت کا اعلان تھی۔ وہ پہلا حکمران تھا جو انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوا۔ وہ نہ صرف آخری رکاوٹ تھا بلکہ غیرت، بہادری، اور آزادی کا چراغ تھا، جو آج بھی دلوں میں روشن ہے۔

ٹیپو سلطان 4th مئی کو سرنگا پٹم کی جنگ میں شہید ہوۓ
لڑا تھا جو سپاہیوں کی طرح ،ایسا بھارت میں بادشاہ نہ ہوا
روح ہو گئی تھی تن سے جدا ،ہاتھ تلوار سے جدا نہ ہوا

*ٹیپو سلطان تاریخ میں نہیں، قوموں کے ضمیر میں زندہ رہتا ہے۔*

04/05/2026

*عقلمندی اور ظرف کی کہانی*

ایک نجی طیارے میں چار مسافر سوار تھے: ایک ڈاکٹر، ایک وکیل، ایک بزرگ مولوی صاحب اور ان کا پوتا۔ اچانک جہاز کا انجن فیل ہو گیا۔ پائلٹ نے کاک پٹ سے نکل کر سب کو مطلع کیا:

" میں نے پوری کوشش کر لی ہے لیکن اب جہاز کو بچانا ممکن نہیں، یہ کسی بھی لمحے گر سکتا ہے۔

اپنی جان بچانے کے لیے پیراشوٹ پہنیں اور چھلانگ لگا دیں۔" یہ کہہ کر پائلٹ نے خود ایک پیراشوٹ پہنا اور کود گیا۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ مسافر چار تھے اور پیراشوٹ صرف تین۔ ڈاکٹر نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، فوراً ایک پیرا شوٹ اٹھایا اور یہ چلاتے ہوئے چھلانگ لگائی کہ " میں ڈاکٹر ہوں، دنیا کو میری اشد ضرورت ہے، میں لوگوں کی جانیں بچاتا ہوں !"

پھر وکیل آگے بڑھا اور بولا :

میں دنیا کا سب سے ذہین آدمی ہوں، میرا بچنا بہت ضروری ہے۔ "

یہ کہہ کر اس نے بھی ایک بیگ اٹھایا اور یہ جا وہ جا۔

بزرگ مولوی صاحب نے شفقت سے اپنے پوتے کی طرف دیکھا اور کہا:

"بیٹا! میں نے اپنی زندگی گزار لی ہے، تم ابھی کم عمر ہو ۔ ان شاء اللہ تمہیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے، تمہارے سامنے پوری زندگی پڑی ہے۔ تم یہ آخری پیراشوٹ لو اور اپنی جان بچاؤ۔" لڑکا مسکرایا اور اطمینان سے بولا :

" دادا جان ! فکر کی کوئی بات نہیں، ابھی دو پیراشوٹ باقی ہیں۔ کیونکہ " دنیا کا سب سے ذہین آدمی " میرا اسکول بیگ پہن کر چھلانگ لگا چکا ہے۔ "

> *حاصل کلام :* آپ کا پیشہ آپ کی پہچان نہیں ، بلکہ آپ کا ظرف اور اخلاق بتاتا ہے کہ آپ حقیقت میں کیا ہیں۔

30/04/2026
30/04/2026

*پردہ ایک جیسا نہیں ہوتا، کچھ ڈھانپنا حفاظت اور حیا کے لیے ہوتا ہے اور کچھ صرف دکھاوے کے لیے.!!!🍂*

30/04/2026

*اللہ پاک نے تاکید فرمائی کہ سچے لوگوں کی صحبت اختیار کریں کیونکہ صحبت کا اثر تربیت سے زیادہ ہوتا ہے‼️۔*

30/04/2026

یہ کوئی عام گلی نہیں ہے آپسی نفرت کی زندہ مثال ہے!
یہ تین بھائیوں کے ایک ہی گھر کے تین الگ راستے ہیں۔
ایک وقت تھا جب یہ سب ایک ساتھ بیٹھتے تھے،
ایک ہی دروازے سے آتے جاتے تھے…
ہنسی بھی ایک تھی، اور دکھ بھی ایک۔
پھر نہ جانے کیا ہوا…
دلوں میں دیواریں بن گئیں،
اور ان دیواروں نے راستوں کو بھی تقسیم کر دیا۔
آج حالت یہ ہے کہ
ان تنگ راستوں سے ایک جنازہ بھی نہیں گزر سکتا…
سوچو… جب ماں یا باپ کا جنازہ اٹھے گا،
تو کون سے راستے سے جائے گا؟
یا پھر… کیا دل اتنے تنگ ہو چکے ہیں
کہ کندھے بھی الگ الگ ہو جائیں گے؟
یہ صرف اینٹوں کی دیواریں نہیں…
یہ ٹوٹے رشتوں کی کہانی ہے۔
اللہ ہمیں جوڑے رکھے…
کیونکہ گھر دیواروں سے نہیں،
دلوں سے بنتے ہیں۔ ❤️"
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو آپسی محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین 🤲

Want your school to be the top-listed School/college in Makkah?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Palestine Hotel Ibrahim Al Khaleel Misfalah Kubri Road
Makkah
24233