مجموعہ علماء اھل الحدیث

مجموعہ علماء اھل الحدیث

Share

ہماری دعوت خالص اتباع قرآن و سنّت

03/05/2026

جن علماء کے اعلامیہ پر دستخط تھے۔
انہوں نے اپنے دستخط واپس لئے ہیں جن کے نام۔۔
حافظ مسعود عالم صاحب حفظه الله
مولانا ارشاد الحق اثری صاحب حفظه الله
مفتی عبد الستار حماد صاحب حفظه الله
چوہدری یسین ظفر صاحب حفظه الله
اس موقع پر
مولانا عبد الرشید حجازی صاحب حفظه الله
حافظ عبد الستار حامد صاحب حفظه الله
رانا شفیق خان پسروری صاحب حفظه الله
ڈاکٹر عبد الغفور راشد صاحب حفظه الله
شیخ ابوتراب صاحب حفظه الله
قاری صہیب میر محمدی صاحب بھی شامل تھے۔

28/04/2026

موجودہ دور تاریخ کے نازک ترین موڑ سے گزر رہا ہے ایسے میں پاکستان کے کچھ فتویٰ باز علماء کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ فتویٰ نہ صرف وقت کی نزاکت کے خلاف ہے بلکہ ریاستِ پاکستان کے طے کردہ نیشنل ایکشن پلان کی روح سے بھی متصادم نظر آتی ہے۔
​جب اسرائیل اور اس کے اتحادی ایران میں موجود سکول کے بچوں پر میزائل برسا رہا ہے۔اس وقت مسلمانوں کو ہم اور وہ کی تفریق میں بانٹنا کس کے مفاد میں ہے؟
جب میدانِ جنگ میں دشمن کی گولی مسلک دیکھ کر نہیں آتی یہ عمل نادانستہ طور پر دشمن کو فائدہ پہنچاتا ہے جو وہ اربوں ڈالر خرچ کر کے بھی حاصل نہیں کر پاتا۔
​پاکستان نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جس نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق کیا تھا، اس کا ایک بنیادی نکتہ نفرت انگیز مواد کا خاتمہ ہے۔
​اس اعلامیے میں مخصوص مکاتبِ فکر کے خلاف اشتعال انگیز زبان کا استعمال اور ان کے ساتھ سماجی مقاطعہ کی ترغیب دینا براہِ راست اس ریاستی پالیسی کی نفی ہے۔
​کسی گروہ کے جنازوں اور دکھ سکھ میں شرکت کو جرم بنانا معاشرے میں اس عدم برداشت کو جنم دیتا ہے جس کے خلاف ہماری افواج اور عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔
​پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے جس کی اپنی خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی ترجیحات ہیں۔ جب ریاست تمام اسلامی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات اور اتحادِ امت کی بات کر رہی ہو، تو چند افراد کا اپنی علمی کونسل کے پلیٹ فارم سے کسی دوسرے ملک یا مسلک کے خلاف اعلان جنگ کرنا ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کے مترادف ہے۔ کیا یہ علماء ریاست کی رٹ کو چیلنج نہیں کر رہے؟
​یہ اعلامیہ نوجوانوں کو اعتدال پسندی کے بجائے مسلکی تنگ نظری کی طرف دھکیلتا ہے۔ فرقہ واریت سے بیزاری کو فیشن قرار دے کر مذمت کرنا دراصل اس خواب کو چکنا چور کرنا ہے جو علامہ اقبال اور قائد اعظم نے ایک متحد مسلم قوم کے لیے دیکھا تھا۔ اگر ہم نے اسلام کی آفاقی تعبیر کو مسلکی خانوں میں قید کر دیا، تو ہم عالمی سطح پر ایک کمزور اور بکھری ہوئی قوم بن کر رہ جائیں گے۔
​وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مذہبی غیرت کو سیاسی بصیرت کے ساتھ جوڑیں۔ دشمن ہماری دہلیز پر دستک دے رہا ہے اور ہم اب بھی صدیوں پرانے مناظروں میں الجھے ہوئے ہیں۔ اب وقت فتویٰ سازی کا نہیں بلکہ زخموں پر مرہم سازی کا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جو ہاتھ دشمن کے خلاف اٹھے ہوئے ہیں، انہیں کمزور کرنا براہِ راست دشمن کی خدمت ہے۔
​ریاستِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایسے تمام مواد کا نوٹس لے جو فرقہ وارانہ نفرت پھیلا کر ملکی سلامتی اور بین المسالک ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔

24/04/2026

آج کل حافظ شریف صاحب فیصل آبادی کے حوالے سے مختلف آراء اور گفتگو سامنے آ رہی ہے۔
اس تناظر میں چند نکات اور سوالات زیر غور آتے ہیں,,
یہ سوال اہم ہے کہ حافظ شریف صاحب کی حقیقی علمی خدمات کیا ہیں؟
انہوں نے کن علمی میدانوں میں کام کیا ہے؟
ان کی کون سی تصانیف یا تحقیقی کام موجود ہیں؟
انہوں نے کن طلبہ کی علمی و تدریسی تربیت کی ہے؟
کسی بھی دینی شخصیت کی علمی حیثیت کا اصل معیار ان کی مستند علمی خدمات اور تصنیفی کام ہوتا ہے۔
ان کے زیر انتظام فیصل آباد میں جو تخصص کا ادارہ چل رہا ہے۔
اس ادارے کا انتظامی و مالی نظام کیا ہے؟
اس کے اخراجات اور آمدن کے ذرائع کیا ہیں؟
ادارے کو مالی معاونت کہاں سے حاصل ہوتی ہے؟
کیا یہ معاونت عوامی عطیات، ذاتی سرمایہ یا کسی اور ذریعہ سے ہے؟
کیا اس ادارے کا کبھی باقاعدہ مالی آڈٹ ہوا ہے؟
کیا اس کی کوئی شفاف مالی رپورٹ عوامی یا متعلقہ حلقوں کے سامنے پیش کی گئی ہے؟

Want your school to be the top-listed School/college in Lith?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Lith