27/08/2026
علمائے کرام کے نزدیک قرآن، صحیح احادیث اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل کی روشنی میں دینی امور میں اپنی طرف سے کسی نئے طریقے یا رسم کی تخصیص کرنا "بدعت" کہلاتا ہے۔ اس موضوع پر مضبوط اور ناقابلِ تردید شرعی دلائل درج ذیل ہیں:
۱. قرآن مجید سے دلائل
دین کی مکمل کا اعلان:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا» (سورۃ المائدہ: 3)
ترجمہ: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔"
استدلال: جب دین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیاتِ مبارکہ میں مکمل ہو چکا تھا، تو اس میں کسی بھی نئے دینی تہوار یا مخصوص عبادتی شکل کے اضافے کی شرعاً گنجائش نہیں رہتی۔
رسول اللہ (ص) کی کامل اطاعت کا حکم:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا» (سورۃ الحشر: 7)
ترجمہ: "اور جو کچھ تمہیں رسول دیں اسے لے لو، اور جس سے تمہیں روک دیں اس سے رک جاؤ۔"
استدلال: نبی کریم (ص) نے امت کو دو عیدیں (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) عطافرمائیں۔ کسی تیسری عید کو دین کا حصہ بنا کر منانے کا حکم یا عمل آپ (ص) سے ثابت نہیں۔
۲. صحیح احادیثِ مبارکہ سے دلائل
دین میں نئی بات کی مردودی:
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:
«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ» (صحیح البخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718)
ترجمہ: "جس نے ہمارے اس امر (دین) میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔"
ہر بدعت گمراہی ہے:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) خطبہ میں فرماتے تھے:
«أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيْرَ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ» (صحیح مسلم: 867)
ترجمہ: "امابعد! بہترین بات اللہ کی کتاب ہے، اور بہترین طریقہ محمد (ص) کا طریقہ ہے، اور بدترین کام (دین میں) نئے پیدا کیے گئے کام ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔"
اسلامی عیدوں کی تعداد کا تعین:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم (ص) مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کے دو دن تھے جن میں وہ کھیل کود کرتے تھے۔ آپ (ص) نے فرمایا:
«إِنَّ اللهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْأَضْحَى، وَيَوْمَ الْفِطْرِ» (سنن ابی داؤد: 1134، سند صحیح)
ترجمہ: "اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں: عید الاضحیٰ اور عید الفطر۔"
۳. صحابہ کرام اور قرونِ اولیٰ کا طریقہ
خلفائے راشدین اور صحابہ کا عمل:
نبی کریم (ص) کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی اور دیگر تمام صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) جو آپ (ص) سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے تھے، انہوں نے کبھی 12 ربیع الاول کو عید یا جشن کے طور پر نہیں منایا۔
ائمہ اربعہ کا دور:
امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل (رحمہم اللہ) میں سے کسی نے بھی اس کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی ان کی کتب میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ تاریخ کے مطابق یہ طریقہ چوتھی صدی ہجری میں فاطمی حکمرانوں کے دور میں شروع ہوا۔
خلاصہ:
رسول اللہ (ص) سے حقیقی محبت کا طریقہ یہ ہے کہ آپ (ص) کی سنتوں پر عمل کیا جائے، آپ (ص) پر درود و سلام بھیجا جائے، اور ولادت کی نعمت پر شکریہ کے طور پر ہر سوموار کا روزہ رکھا جائے، جو کہ آپ (ص) کی ثابت شدہ سنت (صحیح مسلم: 1162) ہے۔
محد نعیم