Abdul Hadee Madani

Abdul Hadee Madani

Share

عبدالہادی علیم بن عبدالخالق خلیق
سدھارتھ نگری

20/03/2026

«یہ دیہاتی لوگ ہیں، معمولی چیزوں پر راضی ہوجاتے ہیں، (ان کو اتنی قیمتی چیزیں تحفہ دینے کی کیا ضرورت تھی)» عبد اللہ بن دینار نے کہا گویا انھیں اس فراخدلی پر یک گونہ اعتراض تھا لیکن ساتھ ہی اصلحک اللہ کہہ کر دعا بھی دی۔
«اس دیہاتی کے والد میرے والد کے دوست تھے»۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حسن سلوک کا سبب بتلاتے ہوئے وضاحت فرمائی۔
پورا قصہ یوں ہے کہ مکہ جاتے ہوئے راستہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ایک دیہاتی سے ہوئی ، آپ کے ساتھ عبد اللہ بن دینار بھی تھے جو آپ کے شاگرد تھے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اس دیہاتی سے سلام کیا ،اسے اپنی سواری پر بٹھایا اور اسے اپنا عمامہ بطور تحفہ پیش کیا ، جس پر استاد وشاگرد کے درمیان مذکورہ مکالمہ ہوا۔ اس کے بعد عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث سنائی (جس کی تعمیل دراصل اس واقعہ میں کی گئی ہے) :
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: «نیکیوں میں بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔»۔
((مستفاد از حدیث صحیح مسلم ۔ 45 - كتاب البر والصلة والآداب 4 - باب فضل صلة أصدقاء الأب والأم ونحوهما ۔ حدیث: 11 - ( 2552 ) )-

20/03/2026
20/03/2026

जब जुमा के दिन ईद पड़ जाए
​अल्हम्दुलिल्लाह वस्सलातु वस्सलामु अला रसूलिल्लाह, अम्मा बाद,
​जब जुमा के दिन ईद पड़ जाए, तो ऐसी सूरत में जो लोग सलातुल ईद (ईद की नमाज़) पढ़ लें, उन्हें सलातुल जुमा (जुमा की नमाज़) पढ़ने की रुख़सत (छूट) है। चाहें तो जुमा की नमाज़ में हाज़िर होकर जुमा अदा करें और चाहें तो जुमा में हाज़िर न हों, बल्कि इसके बदले सलातुज़ ज़ुहर (ज़ुहर की नमाज़) अदा करें।
​इस सिलसिले में ज़ैद बिन अरक़म रज़ियल्लाहु अन्हु की हदीस है कि नबी करीम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने ईद की नमाज़ पढ़ाई, फिर आपने जुमा की नमाज़ की रुख़सत अता फ़रमाई और कहा:
​"من شاء أن يصلى فليصل"
((जो शख़्स जुमा की नमाज़ पढ़ना चाहे, वह जुमा पढ़ सकता है))।

​यह हदीस सहीह सुनन इब्न माजा में 1082 नंबर पर, सुनन इब्न माजा में 1310 नंबर पर और सुनन अबी दाऊद में 1057 नंबर पर मौजूद है।
​तो इस हदीस से मालूम होता है कि जो शख़्स जुमा पढ़ना चाहे, वह पढ़ सकता है, और जो न पढ़ना चाहे तो उसे इसकी इजाज़त (छूट) है। अलबत्ता जो इमाम हो, उसे जुमा पढ़ाना चाहिए ताकि जो लोग जुमा में हाज़िर होकर जुमा पढ़ना चाहें, उनके पास इसका मौक़ा हो। और ऐसे ही वो लोग जिनकी ईद की नमाज़ छूट गई है, वे लोग जुमा में हाज़िर हों।
​अबू हुरैरा रज़ियल्लाहु अन्हु बयान करते हैं कि नबी करीम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने ईद के दिन फ़रमाया:
​"قد اجتمع في يومكم هذا عيدان، فمن شاء أجزأه من ‌الجمعة وإنا مُجَمِّعون"
((आज के दिन तुम्हारी दो ईदें इकट्ठा हो गई हैं, इसलिए ईद जुमा की नमाज़ की तरफ़ से काफ़ी है, जो चाहे कि जुमा के बदले सिर्फ़ ईद पर इक्तिफ़ा (संतोष) करे, तो वह ऐसा कर सकता है))।

​आप ﷺ ने मज़ीद फ़रमाया: ((लेकिन हम जुमा पढ़ाएंगे))।
​लिहाज़ा इमाम का यह तरीक़ा होना चाहिए कि वह जुमा पढ़ाए, ताकि जो जुमा पढ़ना चाहते हैं उनके लिए मौक़ा मयस्सर रहे। यह हदीस सहीह सुनन इब्न माजा में 1083 नंबर पर मौजूद है और सुनन अबी दाऊद में 1060 नंबर पर और सुनन इब्न माजा में 1311 नंबर पर मौजूद है।
​वल्लाहु आलम व सल्लल्लाहु अला नबिय्यिना व सल्लम वल्हम्दुलिल्लाहि रब्बिल आलमीन।
​(तैयारकर्ता: अब्दुल हादी अब्दुल ख़ालिक़ मदनी)

20/03/2026

*جب جمعہ کے دن عید پڑجائے *
الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ،
أما بعد ،
جب جمعہ کے دن عید پڑ جائے تو ایسی صورت میں جو لوگ صلاۃ عید پڑھ لیں انہیں صلاۃ جمعہ پڑھنے کی رخصت ہے، چاہیں تو صلاۃ جمعہ میں حاضر ہو کر کے صلاۃ جمعہ ادا کریں اور چاہیں تو صلاۃ جمعہ میں نہ حاضر ہوں بلکہ اس کے بدلے صلاۃ ظہر ادا کریں۔
اس سلسلے میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ عید پڑھی پھر آپ نے صلاۃ جمعہ کی رخصت عطا فرمائی اور کہا :
"من شاء أن يصلى فليصل"
((جو شخص صلاۃ جمعہ پڑھنا چاہے وہ صلاۃ جمعہ پڑھ سکتا ہے ))۔
یہ حدیث صحیح سنن ابن ماجہ میں 1082 نمبر پر ہے اور سنن ابن ماجہ میں 1310 نمبر پر اور سنن ابی داؤد میں 1057 نمبر پر موجود ہے۔
تو اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص جمعہ پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے اور جو نہ پڑھنا چاہے تو اسے اس کی اجازت ہے، البتہ جو امام ہو اسے جمعہ پڑھانا چاہیے تاکہ جو لوگ جمعہ میں حاضر ہو کے جمعہ پڑھنا چاہیں ان کے پاس اس کا موقع ہو۔ اور ایسے ہی وہ لوگ جن کی صلاۃ عید چھوٹ گئی ہے وہ لوگ جمعہ میں حاضر ہوں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن فرمایا :
"قد اجتمع في يومكم هذا عيدان، فمن شاء أجزأه من ‌الجمعة وإنا مُجَمِّعون"
((آج کے دن تمہاری دو عیدیں اکٹھا ہو گئی ہیں، اس لیے عید صلاۃ جمعہ کی طرف سے کافی ہے، جو چاہے کہ جمعہ کے بدلے صرف عید پر اکتفا کرے تو وہ ایسا کر سکتا ہے))۔ آپ ﷺ نے مزید فرمایا : ((لیکن ہم جمعہ پڑھائیں گے))۔
لہٰذا امام کا یہ طریقہ ہونا چاہیے کہ وہ جمعہ پڑھائے، تاکہ جو جمعہ پڑھنا چاہتے ہیں ان کے لیے موقع میسر رہے۔ یہ حدیث صحیح سنن ابن ماجہ میں1083 نمبر پر موجود ہے اور سنن ابی داؤد میں 1060نمبر پر اور سنن ابن ماجہ میں 1311 نمبر پر موجود ہے۔
واللہ اعلم و صلی اللہ علی نبینا وسلم والحمدللہ رب العالمین۔
( اعداد : عبدالہادی عبد الخالق مدنی )۔

02/01/2025

اللہ کی جنت کے تمام دروازے رمضان شروع ہوتے ہی پوری طرح کھول دیئے جاتے ہیں ، اہل ایمان ان میں داخل ہونے کے اسباب اپناتے ہوئے وہ اعمال انجام دیتے ہیں جن سے جنت میں داخلہ نصیب ہوتا ہے۔ اللہ اپنے فضل وکرم سے ہمیں اس کی توفیق عنایت فرمائے ۔
کچھ اہل بدعت کی خودساختہ جنت کا دروازہ رجب کا چاند نظر آنے پہ کھلتا ہے ۔ اللہ سبحانہ ہر قسم کے شرک و بدعت سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین
( کتبہ : عبد الہادی عبد الخالق مدنی )

Want your school to be the top-listed School/college in Hofuf?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Al-ahsa Islamic Center Hofuf
Hofuf