عربی زبان میں خلیف یا تخلف کے معنی پیچھے رہ جانے یا پیچھے رکنے کے ہیں۔ مکہ مکرمہ کی اصطلاح میں اس سے مراد نو ذوالحجہ یعنی عرفہ کا دن ہے۔
جب آٹھ ذوالحجہ اور نو ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ کے تمام مرد، نوجوان اور جوان طبقہ حاجیوں کی خدمت، امن و امان کی صورتحال سنبھالنے، یا خود حج کی ادائیگی کے لیے منیٰ اور عرفات روانہ ہو جاتے ہیں، تو مکہ مکرمہ کے گھر اور بازار مردوں سے بالکل خالی ہو جاتے ہیں۔ اس موقع پر جو خواتین، بچے اور بزرگ مکہ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، انہیں خلیف کہا جاتا ہے، اور اسی مناسبت سے اس دن کو یومِ خلیف کا نام دیا گیا ہے۔
اس دن کی سب سے خوبصورت روایت یہ ہے کہ نو ذوالحجہ کو جب مسجد الحرام یعنی حرم شریف حاجیوں سے بالکل خالی ہو جاتا ہے کیونکہ تمام حاجی میدانِ عرفات میں ہوتے ہیں، تو مکہ مکرمہ کی خواتین بچوں اور بزرگوں کے ہمراہ حرم مکی کا رخ کرتی ہیں۔ یہ خواتین اس دن کو غنیمت جانتے ہوئے، جب مطاف بالکل خالی ہوتا ہے، بڑے سکون سے طواف کرتی ہیں اور حجرِ اسود کو بوسہ دیتی ہیں۔ روایتی طور پر مکہ کی خواتین اس دن مطاف کی صفائی، خوشبو لگانے اور حرم کی دیکھ بھال میں انتظامیہ کا ہاتھ بھی بٹاتی ہیں۔
صل اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم ❤️❤️❤️
Online Quran Tutor
BINT E RAFIQUE
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم *
بسم الله الرحمن الرحيم *
( اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَؤدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ * )________________________________________
( آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ * لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ * ) ________________________________________
( تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ * الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ * الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَّا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِن تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِن فُطُورٍ * ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ * وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاء الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِير * وَلِلَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ * إِذَا أُلْقُوا فِيهَا سَمِعُوا لَهَا شَهِيقًا وَهِيَ تَفُورُ * تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِير * قَالُوا بَلَى قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ فِي ضَلالٍ كَبِيرٍ * وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ * فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ * إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ * وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ * أَلا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ * هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأَرْضَ ذَلُولا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ * ءَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ * أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ * وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ * أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلاَّ الرَّحْمَنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ * أَمَّنْ هَذَا الَّذِي هُوَ جُندٌ لَّكُمْ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ الرَّحْمَنِ إِنِ الْكَافِرُونَ إِلاَّ فِي غُرُورٍ * أَمَّنْ هَذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ بَل لَّجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ * أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَى وَجْهِهِ أَهْدَى أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ * قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَةَ قَلِيلا مَّا تَشْكُرُونَ * قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ * وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ * قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ * فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَدَّعُونَ * قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِيَ اللَّهُ وَمَن مَّعِيَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ الْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ * قُلْ هُوَ الرَّحْمَنُ ءآمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلالٍ مُّبِينٍ * قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاء مَّعِين * )________________________________________
( قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ * لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ * وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ * وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ * وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ * لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ * )________________________________________
( قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ * اللَّـهُ الصَّمَدُ * لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ * وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ * ) ثلاث مرات________________________________________
( قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ * مِن شَرِّ مَا خَلَقَ * وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ * وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ * وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ * ) ثلاث مرات________________________________________
( قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ * مَلِكِ النَّاسِ * إِلَـهِ النَّاسِ *مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ * الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ * مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ * ) ثلاث مرات________________________________________
( باسْمِكَ ربِّ وَضَعْتُ جنْبِي وبِكَ أَرفَعُهُ ، إن أمسَكْت نفْسِي فارحَمْها ، وإنْ أرسَلْتَها فاحْفَظْها بما تَحفَظُ به عبادَك الصَّالِحِينَ )________________________________________
( اللَّهمَّ إنِّي أسلَمْتُ نفسي إليك ووجَّهْتُ وجهي إليك وألجَأْتُ ظهري إليك وفوَّضْتُ أمري إليك رغبةً ورهبةً إليك لا ملجأ ولا منجا منك إلَّا إليك آمَنْتُ بكتابِك الَّذي أنزَلْتَ ونبيِّك الَّذي أرسَلْتَ )________________________________________
( اللَّهمَّ ربَّ السَّمواتِ وربَّ الأرضِ وربَّ العرشِ العظيمِ ربَّنا وربَّ كلِّ شيءٍ فالقَ الحَبِّ والنَّوى مُنزِلَ التَّوراةِ والإنجيلِ والفُرقانِ أعوذُ بك مِن شرِّ كلِّ شيءٍ أنتَ آخِذٌ بناصيتِه أنتَ الأوَّلُ فليس قبْلَك شيءٌ وأنتَ الآخِرُ فليس بعدَك شيءٌ وأنتَ الظَّاهرُ فليس فوقَك شيءٌ ، وأنت الباطن فليس دونك شيء ، اقْضِ عنَّا الدَّينَ وأغنِنا مِن الفقرِ )________________________________________
( اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء لك بنعمتك علي وأبوء لك بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت )________________________________________
( لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وحْدَهُ لا شَرِيكَ له، له المُلْكُ وله الحَمْدُ ، وهو علَى كُلِّ شيءٍ قَدِيرٌ، الحَمْدُ لِلَّهِ ، وسُبْحَانَ اللَّهِ ، ولَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ ، واللَّهُ أَكْبَرُ ، ولَا حَوْلَ ولَا قُوَّةَ إلَّا باللَّهِ )
*ناشکری نہیں، شکرگزاری سیکھیں*
آج ہم میں سے بہت سے لوگ کچن، مہنگائی، پسند کے کھانے نہ ملنے یا معمولی کمی پر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ اگر ہم اپنی زندگی کا موازنہ نبی کریم ﷺ کے گھرانے کی سادگی سے کریں تو احساس ہوگا کہ ہم کتنی بے شمار نعمتوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے عروہ بن زبیر سے کہا:
“اے میری بہن کے بیٹے! ہم دو مہینوں میں تین چاند دیکھا کرتے تھے، اور محمد ﷺ کے گھروں میں چولہا نہیں جلتا تھا۔”
(یعنی دو مہینے گزر جاتے اور تیسرے مہینے کا چاند نظر آ جاتا)
میں نے عرض کیا: “پھر آپ لوگوں کی گزر بسر کس چیز پر ہوتی تھی؟”
انہوں نے فرمایا: “دو سیاہ چیزوں پر: کھجور اور پانی۔ البتہ انصار میں سے رسول اللہ ﷺ کے کچھ پڑوسی تھے، جن کے پاس دودھ دینے والے جانور تھے۔ وہ اپنے گھروں سے رسول اللہ ﷺ کو دودھ بطور ہدیہ بھیج دیا کرتے تھے، اور ہم وہ دودھ پی لیا کرتے تھے۔”
(صحیح بخاری: 6459)
یہ روایت ہمیں صرف غربت کا منظر نہیں دکھاتی بلکہ صبر، قناعت اور شکرگزاری کا سبق دیتی ہے۔ آج ہمارے گھروں میں مختلف قسم کے کھانے، پھل، مشروبات اور سہولتیں موجود ہیں، مگر پھر بھی دل بے سکون ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نعمتوں کی کثرت سکون نہیں دیتی، بلکہ شکر سکون دیتا ہے۔
ہمیں سوچنا چاہیے: کیا کبھی ہمارے گھر مسلسل دو مہینے ایسے گزرے کہ چولہا نہ جلا ہو؟ کیا ہم صرف کھجور اور پانی پر گزارا کرنے پر مجبور ہوئے؟ اگر نہیں، تو پھر ہر حال میں “الحمدللہ” کہنا سیکھنا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ کا گھر دنیا کی سب سے افضل ہستی کا گھر تھا، مگر وہاں سادگی تھی، صبر تھا، اور اللہ پر کامل بھروسہ تھا۔ آج اگر ہمارے دسترخوان بھرے ہوئے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے، جس پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
یاد رکھیں!
شکر نعمتوں کو بڑھاتا ہے، جبکہ ناشکری دل سے سکون چھین لیتی ہے۔
اس لیے شکایتوں کے بجائے “الحمدللہ” کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
قرآن مجید کی تلاوت جب سنیں یا کریں تو یہ سوچ نہ ہو کہ کب یہ آیت یا سورت ختم ہو کب یہ جزء مکمل ہو بلکہ یہ فکر ہونی چاہیے کب یہ قرآن مجید کی تلاوت میری ہدایت کا سبب بنے گی کب میں قرآن مجید سے ایسا فائدہ اٹھاؤں گا جس سے میرے دین کا بھلا ہو گا میری آخرت اس سے سنوار جائے گی
14/05/2026
تمہارا گمان بھی وہاں تک نہیں جا سکتا جہاں سے اللہ وسیلے بنا دے گا۔ ❤️ 💯
🕋👈🏻🤲🏻
🤲🏻دعا کو مضبوطی سے تھامے
رکھو ۔گویا کہ تمھیں اسکے سوا کوئی علاج معلوم ہی نہیں
`جانتے ہو ایسا بھی ہوتا ہے`
` *تم بھول جاتے ہو♥*
> *سالوں سے مانگی ہوئی اپنی دعا!🤲🏻*
*مانگتے مانگتے تھک جاتے ہو🫀*
*یہ سوچ کر کہ قبول نہیں ہو رہی چھوڑ دو!*
`لیکن تمہارا ربّ نہیں بھولتا`🌸
*وہ سالوں بعد ہی سہی....!*
> *لیکن تمہاری دعاؤں کو قبول کر لیتا ہے کیونکہ ہمارا رب جانتا ہے ہمارے لیے کب کیا بہتر ہے *
*اَللَّهُمَّ أَنْتَ أَصْلَحْتَ الصَّالِحِينَ○*
*فَأَصْلِحْنَا حَتَّى نَكُونَ صَالِحِينَ○*
*اے اللّٰه! تُو نے ہی نیک لوگوں کی اصلاح کی۔*
*ہماری بھی اصلاح کر دے تاکہ ہم بھی نیک بن جائیں.*
*آمین یارب العالمین*✨
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Dammam