Class 8, English, Lesson Name: Sultan Ahmad Mosque, Question Answers
1. Why Sultan Ahmad Mosque is also known aa blue mosque?
A. "Because of the blue tiles that embellish its interior."
2. Who was appointed as the architect of the mosque?
A. "Sedefhar Mehmat Aga was appointed by the Sultan as in charge if the project."
3. Why was a heavy iron chain hung at the entrance of the court?
A. "So that the Sultan had to lower his head every time he entered the court. It was the symbolic gesture to ensure the humility of the ruler in the face of the Divine."
4. How does the interior of the mosque look?
A. "More than 20 thousand hand made ceramic tiles in more than 50 different tulip designs representing flowers, fruit and cypresses. More than 200 stained glass windows and the chandeliers. Decorations include verses from the Holy Quran, floors covered with carpets, mehrab made of carved marbles, richly decorated pulpit.
5. Why do you think madrassah and hospice was part of the mosque?
A. "Custom of the time"
6. Who constructed mosque Sophia?
A. Hagia Sophia
PIS Buraydah
Community school aims at imparting quality education to the future generation of expatriates in KSA.
اردو، ہشتم، سبق لہو اور قالین، سوال جواب
س ۱۔ تجمل نے اختر کے بارے میں کس قسم کے خیالات کا اظہار کیا؟
ج: "اس قسم کے لوگوں کی یہی عادت ہوتی ہے ہر وقت کسی نہ کسی سوچ میں ڈوبے رہتے ہیں۔ الگ تھلگ رہنا چاہتے ہیں"
س ۲۔ اختر کا حلیہ بیان کیجئے؟
ج: "ادھیڑ عمر کا شخص، سر کے بال بکھرے ہوئے، آنکھیں شب بیداری کی وجہ سے سرخ، لباس، پاجامہ اور قمیض، آستینیں چڑھی ہوئیں، آنکھوں کے گرد حلقے زیادہ نمایاں۔"
س ۳۔ اختر کو کون تصویریں بنا کر دیتا تھا؟
ج: "ہم پیشہ دوست نیازی جو غربت کی چکی میں پس رہا تھا"
س ۴۔ نیازی نے اپنی تصویریں اختر کے حوالے کیوں کیں ؟
ج:"تم مجھے اتنے ہیسے دے دیا کرو کہ میں اور میرا خاندان عزت و آبرو کے ساتھ زندہ رہ سکے"
س ۵۔ تصویریں اختر کی نہیں ہیں۔ اس انکشاف ہر تجمل کا ردعمل کیا تھا؟
ج:"تجمل اس انداز سے اختر کو دیکھتا ہے جیسے ان الفاظ اے اسے دھچکا سا لگا ہو۔ تم مجھے دھوکہ سیتے رہے اب تک۔ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ تم اتنی پست سطح پر اتر چکے ہو۔ "
س ۶۔ سردار تجمل حسئن کی کوٹھی کا نام کیا تھا؟
ج: "النشاط"
سوال ۷۔ تجمل کی عمر کتنی تھی؟
ج: " ۴۰ اور ۴۵ کے درمیان تھی۔
س ۸۔ تجمل نے اختر کو کون ای خوزخبری سنائی؟
ج: "ججوں نے تمھاری تصویر کو اول انعام کا مستحق قرار دیا ہے"
س ۹۔ اختر دو سال قبل کہاں رہتا تھا؟
ج: "جھونپڑی میں "
س ۱۰۔ اختر کے نزدیک نیازی کا قاتل کون تھا؟
ج: "تجمل"
کلاس ہشتم، مضمون اردو، سبق آرام و سکون، سوال و جواب
س ۱۔ روزانہ آرام و سکون نہ کیا جائے تو اس کا کیا نتجہ نکلتا ہے؟
ج: "صرف تکان کی وجہ سے حرارت ہو گئی ہے"
س ۲۔ بیماری کے باوجود میاں دفتر جانے کے لئے کیوں تیار ہو جاتا ہے
ج: "میری ٹوپی اور شیروانی دینا۔ ٹوپی اور شیروانی؟ ہاں میں دفتر جا رہا ہوں۔ وہ کیوں؟ آرام و سکون کے لئے"
س ۳۔ اس ڈرامے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
ج: گھر بنیادی طور پر آرام و سکون کے لئے ہے اور دفتر کام کے لئے۔ مگر بعض پھوہڑ بیویاں اسے الٹ کر دیتی ہیں۔
س ۴۔ بہت زیادہ شوروغل بھی ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتا ہے۔ شور کی آلودگی سے صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟
ج: انسان چڑچڑا اور حساس ہو جاتا ہے۔ بات بے بات غصہ آتا ہے، کام یا الآرام یکسوئی اے نہیں کر سکتا۔ مزاج اور طبیعت پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اور انسان بیمار بھی پڑ سکتا ہے۔
س ۵۔ صحت مند رہنے کے لئے کیا کیا باتیں ضروری ہیں ؟
ج:
س ۶۔ ہمسائے کی کون سی حرکت سے میاں کے آرام میں خلل پڑ رہا تھا؟
ج: "تم خدا کے لئے ان ہمسائے کے صاحبزارے کا ہارمونیم اور گانا بند کراو میرا سر پھٹا جا رہا ہے"
اردو۔ کلاس ہشتم
سبق ۶۔ پنچائت سوال و جواب
س ۱۔ جمن شیخ اور الگو چوہدری میں دوستی کا آغاز کب ہوا؟
ج: "اس دوستی کا آغاز اسی زمانے میں ہوا جب دونوں لڑکے جمن کے پدر بزرگوار شیخ جمعراتی کے روبرو زانوئے ادب تہ کرتے تھے"
س ۲: شیخ جمن کی بیوی کا خالہ کی ملکیت کے ہبہ نامے کی رجسٹری کے بعد خالہ سے کیسا سلوک تھا؟
ج: " جب تک ہبہ نامہ پر رجسٹری نہ ہوئی تھی خالہ جان کی خوب خاطر داریاں ہوتی تھیں۔ چٹ پٹے سالن کھلائے جاتے تھے۔ مگر پگڑی کی مہر ہوتے ہی اس کی خاطر داریوں پر بھی مہر ہو گئی۔ جمن کی اہلیہ بی فہمین نے رفتہ رفتہ سالن کی مقدار روٹیوں سے کم کر دی"
س ۳۔ الگو چوہدری کے پنچ مقرر ہونے پر جمن کیوں خوش تھا؟
ج: " بوڑھی ماں تم تو جانتی ہو کہ میری اور جمن کی گاڑھی دوستی ہے"
س۴: الگو چوہدری نے کیا فیصلہ سنایا؟
ج:"شیخ جمن! پنچوں نے اس معاملہ پر اچھی طرح غور کیا ہے۔ زیادتی سراسر تمھاری ہے۔ کھیتوں سے معقول نفع ہوتا ہے۔ تمھیں چاہئے کہ خالہ جان کے ماہوار گزارے کا بندوبست کردو اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں اگر تمھیں یہ منظور نہیں تو ہبہ نامہ منسوخ ہو جائیگا"
س۵: الگو چوہدری کا فیصلہ سن کر شیخ جمن کا ردعمل کیا تھا؟
ج: "جمن نے فیصلہ سنا اور سناٹے میں آگیا۔ اور احباب سے کہنے لگا بھئی اس زمانے میں یہی دوستی ہے کہ جو آپ کے اوپر بھروسہ کرے اسی کی گردن پر چھری پھیری جائے"
س ۶: الگو چوہدری نے سمجھو سیٹھ کو بیل کیوں فروخت کیا؟
ج: "اس بیل پر ان کی (سمجھو سیٹھ) طبیعت لہرائی سوچا اسے لے لوں چوہدری بھی غرض مند تھے اسی لئے گھاٹے کی کوئی پرواہ نہ کی"
س ۷: سمجھو سیٹھ نے الگو چوہدری سے خریدے ہوئے بیل کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟
ج: "سمجھو نے نیا بیل ہایا تھا تو پیر پھلا لئے دن میں تیں تیں چار چار کھیوے کرتے۔ نہ چارے کی فکر تھی نہ پانی کی۔ بس کھیووں سے کام تھا منڈی لے گئے وہاں کچھ سوکھا بھس ڈال دیا۔ اور غریب جانور ابھی دم نہ لینے پاتا تھا کہ پھر جوت دیا"
س ۸۔ الگو چوہدری اور سمجھو سیٹھ نے کون سا تنازعہ پنچائت کے سامنے پیش کیا؟
ج:الگو نے سیٹھ کو بیل بیچا جو کچھ عرصے کے بعد مر گیا اور سیٹھ نے اس کے ہیسے دینے سے انکار کر دیا۔
س ۹: شیخ جمن نے فیصلہ سناتے ہوئے انصاف کے اصولوں کو کہاں تک ہورا کیا؟
ج: "شیخ جمن کوبھی اہنی عظیم الشان ذمہ داری کا احساس ہوا۔ اس نے سوچا کہ میں اس وقت انصاف کی اونچی مسند پر بیٹھا ہوں۔ میری آواز اس وقت حکم خدا ہے اور خدا کے حکم میں میری نیت کو مطلق دخل نہ ہونا چاہئے حق اور راستی سے جو بھر ٹلنا بھی مجھے دنیا اور دین میں سیاہ بنا دے گا"
اردو کلاس ہشتم۔ سوال وجواب
سبق نمبر ۵۔ نصوح اور سلیم کی گفتگو
سوال ۱: بیدارا نے سلیم کو جگا کر کیا پیغام دیا؟
جواب۔ "صاحبزادے اٹھئیے بالاخانے پر میاں بلاتے ہیں"
س۲: سلیم کی ماں نے سلیم کے ساتھ نصوح کے ہاس جانے سے کیوں انکار کیا؟
ج: "میری گود میں لڑکی سوتی ہے"
س۳: سلیم اپنے بھائی کے ساتھ مدرسے کیوں نہیں جاتا تھا؟
ج: "اگلے مہینے امتحان ہونے والا ہے۔ چھوٹے بھائی جان اس کے واسطے تیاری کر رہے ہیں۔ صبح سویرے اٹھ کر کسی ہم جماعت کے ہاں چلے جاتے ہیں۔ وہاں ان کو دیر ہو جاتی ہے تو پھر گھر نہیں آتے۔ میں جاتا ہوں تو ان کو مدرسے میں پاتا ہوں۔ "
س ۴: سلیم نے چار لڑکوں کی کیا خوبیاں بیان کیں ؟
ج: "راہ چلتے ہیں تو گردن نیچی کئے ہوئے۔ بڑا ہو یا چھوٹا ہر کسی کو سلام کرتے ہیں کسی سے کچھ واسطہ نہیں رکھتے نہ کبھی لڑتے ہیں نہ جھگڑتے، نہ گالی بکتے ہیں نہ قسم کھاتے ہیں۔ نہ جھوٹ بولتے ہیں نہ کسی کو چھیڑتے ، نہ کسی پر آوازہ کستے، چھٹی ہوتے ہی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں " ۔
س ۵: حضرت بی کون تھیں اور انہوں نےسلیم کو کیا نصیحت کی؟
ج: "ایک بوڑھی عورت تخت ہر جائے نماز بچھائے قبلہ رو بیٹھی ہوئی کچھ پڑھ رہی ہیں وہ ان لڑکوں کی نانی ہیں لوگ ان کو حضرت بی کہتے ہیں"
"بیٹا برا مت ماننا کہ یہ بھلے مانسوں کا دستور ہےکہ اپنے سے جو بڑا ہوا کرتا ہے اس کو سلام کرتے ہیں۔ میں تم کو نہ ٹوکتی مگر چونکہ تم میرے بچوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہو اس سبب سے مجھ کو جتا دینا ضرور تھا"
Why Is Reading Important?
From time to time people have wondered why reading is important. There seems so many other things to do with one's time. Reading is important for a variety of reasons. We will look at some of those fundamental reasons below, but it is important to realize that struggling with vital reading skills in not a sign of a low intelligence. For example, John Corcoran, who wrote The Teacher Who Couldn't Read, is a very intelligent man. He graduated from High School and College, became a popular High School teacher and later a successful business man all without being able to read. Many highly intelligent people have struggled with reading although, when properly taught, most people can learn to read easily and quickly.
Now, if a man like John Corcoran can succeed without reading, why is reading important? A person should really read Mr. Corcoran's story to get the feeling of shame, loneliness and fear that he experienced before he learned to read. He was able to succeed in spite of this major handicap because he was a man of intelligence, ability and determination. But, make no mistake, it was a handicap that made life harder and less enjoyable.
Why Is Reading Important?
1. Reading is fundamental to function in today's society. There are many adults who cannot read well enough to understand the instructions on a medicine bottle. That is a scary thought - especially for their children. Filling out applications becomes impossible without help. Reading road or warning signs is difficult. Even following a map becomes a chore. Day-to-day activities that many people take for granted become a source of frustration, anger and fear.
2. Reading is a vital skill in finding a good job. Many well-paying jobs require reading as a part of job performance. There are reports and memos which must be read and responded to. Poor reading skills increases the amount of time it takes to absorb and react in the workplace. A person is limited in what they can accomplish without good reading and comprehension skills.
3. Reading is important because it develops the mind. The mind is a muscle. It needs exercise. Understanding the written word is one way the mind grows in its ability. Teaching young children to read helps them develop their language skills. It also helps them learn to listen. Everybody wants to talk, but few can really listen. Lack of listening skills can result in major misunderstandings which can lead to job loss, marriage breakup, and other disasters - small and great. Reading helps children [and adults] focus on what someone else is communicating.
4. Why is reading important? It is how we discover new things. Books, magazines and even the Internet are great learning tools which require the ability to read and understand what is read. A person who knows how to read can educate themselves in any area of life they are interested in. We live in an age where we overflow with information, but reading is the main way to take advantage of it.
5. Reading develops the imagination. TV and computer games have their place, but they are more like amusement. Amusement comes from two words "a" [non] and "muse" [think]. Amusement is non-thinking activities. With reading, a person can go anywhere in the world...or even out of it! They can be a king, or an adventurer, or a princess, or... The possibilities are endless. Non-readers never experience these joys to the same extent.
6. In line with the above, reading develops the creative side of people. When reading to children, stop every once in awhile and ask them what they think is going to happen next. Get them thinking about the story. When it is finished, ask if they could think of a better ending or anything that would have improved it. If they really liked the story, encourage them to illustrate it with their own drawings or to make up a different story with the same characters. Get the creative juices flowing!
7. Reading is fundamental in developing a good self image. Nonreaders or poor readers often have low opinions of themselves and their abilities. Many times they feel as if the world is against them. They feel isolated [everybody else can read - which isn't true] and behavior problems can surface. They can perform poorly in other subjects because they cannot read and understand the material and so tend to "give up."
8. Why is reading important? Let's keep going... Good reading skills, especially in a phonics reading program, improve spelling. As students learn to sound out letters and words, spelling comes easier. Also, reading helps to expand the vocabulary. Reading new words puts them in their mind for later use. Seeing how words are used in different contexts can give a better understanding of the word usage and definitions than the cold facts of a dictionary.
9. There is an old saying, "The pen is mightier than the sword." Ideas written down have changed the destiny of men and nations for better or worse. The flow of ideas cannot be stopped. We need to read and research to build on the good ideas and expose the bad ideas before they bring destruction. Only by reading can we be armed in this never-ending, life-and-death struggle.
10. The fact of the power of written ideas communicated through reading is a foundational reason why some governments oppose free and honest communication. Illiterate people are easier to control and manipulate. They cannot do their own research and thinking. They must rely on what they are told and how their emotions are swayed. There is a good possibility that this is one of the main reasons phonics was removed from the schools about 100 years ago.
11. Finally, why is reading important? Reading is important because words - spoken and written - are the building blocks of life. You are, right now, the result of words that you have heard or read AND believed about yourself. What you become in the future will depend on the words you believe about yourself now. People, families, relationships, and even nations are built from words. Think about it.
According to Jonathan Kozol in "Illiterate America," quoted in "The Teacher Who Couldn't Read,'" the three main reasons people give for wanting to read are:
1. To read the Bible,
2. To read books and newspapers, and
3. To help their children.
I think everyone can conclude that reading is a vital skill! Reading Strategies are also a part of learning to read.
صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 70
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (دین میں) آسانی کرو اور سختی نہ کرو، لوگوں کو خوشخبری سناؤ اور (زیادہ تر ڈرا کر يا اختلاف ميں آكر مشرك، كافر اور بدعتي و فاسق كے القابات اور فتوے لگا كرانہیں) متنفر نہ کرو۔
حضور پاک ﷺ نے اللہ سے تین دعائیں فرمائیں۔ یااللہ میری امت قحط سے ہلاک نہ ہو، اس پر کوئی ایسا دشمن مسلط نہ ہو جو انہیں بالکل ختم کردے اور ان میں آپس میں اختلاف نہ ہو۔ پہلی دو قبول ہو گئیں مگر تیسری قبول نہیں ہوئی۔
اختلاف ایک فطری اور قدرتی چیز ہے جسے کبھی بھی کسی حالت میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اختلاف صحابہ اکرام میں بھی ہوئے اور آئمہ اکرام میں بھی۔ لیکن یہ سب اجتہادی تھے نہ کہ اقتدار کی لالچ میں، یا مادی یا نفسانی اور ذاتی۔ اور یہ سب حدود کے اندر تھے۔
بقول ایک عالم کے اگر آپ چاہتے ہیں کہ دنیا سے اختلاف ختم ہو جائے تو اسکا واحد طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے سے اختلاف رکھنے والے سارے لوگوں کو قتل کر دیں اور ایسا ہو نہیں سکتا یعنی آپ دنیا سے اختلاف ختم نیہں کر سکتے۔ اختلاف سے انسان بہت کچھ سیکھتا بھی ہے اور نہ ہی اسکا اظہار کسی طرح سے قابل مذمت ہے
اصل میں آپس کا اختلاف اللہ پاک کی طرف سے ایک امتحان ہے کہ اس اختلاف میں اعتدال اور حق کی راہ پر کون رہتا ہے اور کون ان حدود سے نکل جاتا ہے۔ اختلاف میں علمی حد تک رہنا۔ اسکو ذاتی نہ بنانا، طیش میں نہ آنا، اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ کا استعمال نہ کرنا، دوران بحث اور بعد از بحث دل میں بغض نہ رکھنا۔ جگہ جگہ دوسرے کی غٰبت کرتے نہ پھرنا۔ یہ انسان کا امتحان ہے۔ اور ان باتوں سے بچنا ہی اختلاف کی حدود ہیں جو ان حدود پر قائم رہا وہ اس امتحان میں کامیاب ہو گیا جو ان حدود سے باہر نکل گیا وہ ناکام ہو گیا ۔ کسی غیر نبی پر وحی نہیں آتی کہ وہ اپنے حق پر ہونے کا سو فیصد دعوی کر سکے۔ حق نا حق کا فیصلہ اللہ ہی فرمائیں گے۔ ہمارا امتحان ہمارا رویہ ہے۔
دور جدید کی زندگی کی بنیاد خواہشات کے پورا کرنے پر ہے۔ ایک طرف بہت بڑی انسانوں کی اکثریت کو بنیادی ضروریات زندگی حآصل نہیں اور دوسری طرف خواہشات پوری کی جا رہی ہیں۔ پہلے وقتوں کے لوگ سادہ، صاف دل اور اخلاص والے تھے۔ تھے۔ اجتماعی زندگی اور ضرورت کی سطح کو دیکھ کر چیزیں بناتے اور استعمال کرتے۔ اس زمانہ کے بے وقوف ذاتی نفع اور خواہش کو سامنے رکھ کر چیزیں بناتے ہیں۔ جہاز سو فیصد لوگوں کو میسر نہیں آ سکتا۔ لیکن بنایا جاتا ہے کہ اسے دیکھ کر ہر ایک کے دل اس میں سواری کا شوق پیدا ہو۔ اور وہ اسکو حاصل کرنے کے لئے مال جمع کرے ملکوں کی سطح پر اقتصادیات کو خراب کر کے ان چیزوں کو بنایا جاتا ہے پہلے زمانے کی زندہ سواریوں سے جہاں ہر ایک کو انکا نفع ملتا تھا وہاں انکی نسل بھی بڑھتی رہتی تھی۔ جس سے انکا بلا اخراجات کثیرہ حصول بھی ممکن تھا جانوروں کو کھلانا بھی سہل تھا۔ اور انکو کسی کو ہدیہ کر دینا بھی آسان تھا۔ لیکن اس زمانے میں کسی کو کار دینا ادکے خرچ کو بڑھا دینا ہے ٰآج کی چیزوں کی فراوانی آدمی کے مال کو کھینچتی چلی جا رہی ہے اور اس مال کے حصول کے لئے ہر ایک بے چین ہے۔ اور جن کے پاس یہ نہیں ہے وہ احساس محرومی اور کمتری کا شکار ہیں۔
25/04/2015
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Buraydah
POBOX27112