JTI Govt degree college zhob

JTI Govt degree college zhob Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from JTI Govt degree college zhob, College & University, clloege, Zhob.

21/01/2026

جس معاشرے میں اپنے حقوق کے لیے جدوجھد اور پُرامن احتجاج کرنے والے معماران قوم اوراھم ستون کو اس طرح ذلیل کیا جائے وہ معاشرے عروج کے بجاۓ زوال پذیر ھوتے ھیں ۔قوم کے معماران پروفیسر قدوس کاکڑ پروفیسر ھاشم خان بابر پروفیسر نور اللہ کاکڑ کی گرفتاری کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔مذکورہ رہنماؤں اور گرینڈ الائنس کے گرفتار تمام ملازمین کو جلد از جلد رھا کیا جائے اور انکے تمام مطالبات تسلیم کئے جائیں

21/01/2026

جس معاشرے میں اپنے حقوق کے لیے جدوجھد اور پُرامن احتجاج کرنے والے معماران قوم اور معاشرے کے ستون کو اس طرح ذلیل کیاجائے وہ معاشرے عروج کے بجاۓ زوال پذیر ھوتے ھیں ۔قوم کے معماران پروفیسر قدوس کاکڑ پروفیسر ھاشم خان بابر پروفیسر نور اللہ کاکڑ کی گرفتاری کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔مذکورہ رہنماؤں اور گرینڈ الائنس کے گرفتار تمام ملازمین کو جلد از جلد رھا کیا جائے اور ان کے تمام مطالبات تسلیم کئے جائیں ۔

*       اعلامیہبلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر پروفیسر ملک عبد القدوس کاکڑ کی سربراہی میں پروفیس...
13/11/2025

* اعلامیہ
بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر پروفیسر ملک عبد القدوس کاکڑ کی سربراہی میں پروفیسرز پر مشتمل وفد نے گذشتہ دنوں گورنر بلوچستان کے بی ایس پروگرام پر جاری مراسلے کے حوالے سے گورنر بلوچستان، شیخ جعفر خان مندوخیل سے تفصیلی ملاقات کی۔
ملاقات میں بلوچستان کے کالجز میں بی ایس کی صورتحال پر گورنر صاحب کو تفصیلی بریفننگ دی گئی۔ جس میں بی ایس کا پس منظر، بی ایس کالجز کا منظر نامہ، طلبا کی مجموعی صورتحال، کالج اساتذہ کا تفصیلی جائزہ اور بی ایس سے وابستہ جملہ امور پر آگاہی دی گئی۔
ملاقات میں کالجز میں بی ایس پروگرام کی اہمیت و ضرورت ،بنا مراعات، نامساعد حالات، ناکافی سہولیات اور حکومتی عدم توجہی پر سیر حاصل گفتگو ہوئی اس سلسلے میں لازمی تجاویز و سفارشات بھی پیش کی گئیں۔
اس موقع پر گورنر بلوچستان کے مراسلے میں یونیورسٹی کے معاشی بحران، خیبر پختون خواہ کے کالجز میں بی ایس کی بندش اور بلوچستان کے کالجز میں بی ایس کے معیار پر اختیار کئے گئے موقف کی اصل صورتحال گورنر صاحب کے سامنے رکھی گئی اور انہیں بتایا کہ پاکستان ایجوکیشن پالیسی 2009 اور تعلیمی پالیسی ڈرافٹ وژن 2025 کے تحت بی ایس کرانا کالجز کا مینڈیٹ ہے اور ایم فل/ و پی ایچ ڈی و ریسرچ کرانا یونیورسٹیز کے دائرہ اختیار میں ہے۔ گورنر صاحب کو بلوچستان کے غریب طلبا و طالبات کو ان کے دہلیز پر معیاری اعلی تعلیم کے حوالے سے کالجز و کالج اساتذہ کے خدمات سے آگاہ کیا گیا۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ یونیورسٹیز کی طرح کالجز بھی میرے ادارے ہیں، کالج اساتذہ کی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے تعیناتی ان کی قابلیت و اہلیت کا ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اعلی تعلیم کے شعبے میں کالجز و کالجز اساتذہ کے خدمات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔
ملاقات میں کالجز و کالج اساتذہ کے مسائل و ایشوز ، کالجز میں سہولیات کی عدم موجودگی، کالج اساتذہ کے لئے ایم فل پی ایچ ڈی سکالرز شپس و دیگر اہم معاملات بھی زیر غور آئے جس پر گورنر بلوچستان نے عملی اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات میں طے پایا کہ بی پی ایل اے کالجز و کالجز اساتذہ کے ضروری و حل طلب ایشوز و مسائل کے حل کے لئے گورنر بلوچستان کو ایک مراسلہ لکھے گا جس پر گورنر بلوچستان اعلی سطحی اجلاس منعقد کرکے ان ایشوز و مسائل کے حل پر غور کرینگے اور فیصلے کئے جائیں گے۔
ملاقات میں گورنر بلوچستان نے واضح کیا کہ ان کے مراسلے کا مقصد کالجز میں بی ایس کی بندش نہیں بلکہ کالجز میں عدم سہولیات و بی ایس کے حوالے سے ضروری اقدامات اٹھانے کی طرف توجہ مرکوز کرنا تھا۔ انہوں نے کہا ان کے مراسلے کا مقصد بلوچستان کے غریب طلبا و طالبات پر اعلی تعلیم کے دروازے بند کرنا نہیں بلکہ ان کے لئے معیاری اعلی تعلیم کے دروازے کھولنا تھا۔انہوں نے یقین دلایا کہ اس سلسلے میں کالجز و کالجز اساتذہ کی بھرپور اعانت کی جائے گی اور ان کے ایشوز و مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔
اس موقع پر صدر بی پی ایل اے نے گورنر بلوچستان کے تعاون اور ستائش پر شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ اگر حکومت کالج اساتذہ کے مسائل کے حل اور ضروری لوازمات کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات اٹھائے، تو کالج اساتذہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف بی ایس پروگرام کو مزید کامیابی و کامرانی کے ساتھ چلائیں گے بلکہ دوسرے صوبوں کے لیے ایک مثالی تعلیمی ماڈل بنائیں گے۔
بی پی ایل اے میڈیا سیل

محترم اجمل صاحب کے حقوق طلباء جرگہ میں درد بھرے الفاظ  😭محترم اجمل صاحب نے حقوقِ طلباء جرگہ میں نہایت درد اور سچائی سے ی...
08/11/2025

محترم اجمل صاحب کے حقوق طلباء
جرگہ میں درد بھرے الفاظ 😭

محترم اجمل صاحب نے حقوقِ طلباء جرگہ میں نہایت درد اور سچائی سے یہ مؤقف پیش کیا کہ بی آر سی کالج اور ژوب ڈگری کالج کے درمیان جو واضح عدم توازن ہے، وہ طلباء کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ:

’’حیرت کی بات ہے کہ فنڈز کی تقسیم میں بی آر سی کالج کو وہ سہولتیں اور بجٹ دیا جاتا ہے جن کا عشرِ عشیر بھی ژوب ڈگری کالج کو نہیں ملتا، حالانکہ بی آر سی کالج کی کل تعداد، ڈگری کالج کی فرسٹ ایئر کلاس سے بھی کم ہے۔ یہ عدم مساوات طلباء کے دلوں پر گہرا زخم چھوڑتی ہے۔‘‘

مزید انہوں نے اپنی قوم کے احساسات کو یوں بیان کیا:

’’موږ د ژړا لپاره پیدا شوي یو، او تر قیامته به ژاړو‘‘
(ہم گویا رونے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، اور شاید قیامت تک روتے ہی رہیں گے۔)

محترم اجمل صاحب نے اپنے خطاب میں اس اہم مسئلے کی طرف بھی توجہ دلائی کہ ژوب ڈگری کالج میں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ:

’’جس ادارے میں بنیادی مضامین کے اساتذہ تک میسر نہ ہوں، وہاں طلباء کی تعلیمی ضروریات کیسے پوری ہوں گی؟ ایک طرف فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کا مسئلہ ہے، اور دوسری طرف تدریسی عملہ نہ ہونے کے باعث طلباء کا مستقبل تاریکی میں دھکیلا جا رہا ہے۔‘‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ:

’’اگر حکومت واقعی تعلیم کی بہتری چاہتی ہے تو ژوب ڈگری کالج میں فوری طور پر اساتذہ کی کمی پوری کی جائے، تاکہ یہاں کے طلباء بھی وہی سہولیات حاصل کر سکیں جو دیگر اداروں کو میسر ہیں۔‘‘

03/11/2025

ژوب
آج گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج ژوب میں B's کے طلباء اور سیاسی تنظیموں کا مشترکہ پریس کانفرنس
1۔بی ایس پروگرام کی بقا اور اہمیت-
2۔بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے مسائل-
3۔مستقبل کے اقدامات اور پُرامن لائحہ عمل-
آؤ — تعلیم کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرو!
"بی ایس پروگرام — ہمارا حق، ہمارا مستقبل"
طلبہ اتحاد برائے تحفظِ بی ایس پروگرام بلوچستان-

ژوب آج ڈگری کالج ژوب میں بی ایس کے تمام ڈیپارٹمنٹس کے طلباء اور سیاسی تنظیموں کا مشترکہ اہم اجلاس گورنر بلوچستان کے اُس ...
01/11/2025

ژوب
آج ڈگری کالج ژوب میں بی ایس کے تمام ڈیپارٹمنٹس کے طلباء اور سیاسی تنظیموں کا مشترکہ اہم اجلاس گورنر بلوچستان کے اُس نوٹیفکیشن پر تفصیلی مشاورت ہوئی جس میں ڈگری کالجز میں بی ایس پروگرام کو ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔

اجلاس میں تمام ساتھیوں کے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ ہؤا ہے کہ 3 تاریخ بروزِ سموار 11:00 بجے ڈگری کالج ژوب میں بی ایس کے تمام طلباء اور سیاسی تنظیمیں اس تعلیم دشمن فیصلے کے خلاف مشترکہ پریس کانفرنس کرینگے۔
بی ایس پروگرام کے خاتمے کی کسی بھی کوشش کو طلباء دشمن سازش سمجھا جائے گا!
طلباء خاموش نہیں بیٹھیں گے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے!
اگر تعلیم کے دروازے بند کرنے کی کوشش کی گئی تو طلباء سڑکوں پر ہوگی

 اور  پاکستان کے غریب ترین صوبہ بلوچستان کے امیر ترین  گورنر صاحب فرماتے ہیں کہ کالجز بی-ایس(BS) نہ کروائیں کیونکہ وہ فی...
01/11/2025


اور




پاکستان کے غریب ترین صوبہ بلوچستان کے امیر ترین گورنر صاحب فرماتے ہیں کہ کالجز بی-ایس(BS) نہ کروائیں کیونکہ وہ فیس کم وصول کرتے ہیں۔
اور اس لیے بھی کیونکہ ان کی تفریحی یونیورسٹیوں میں اب پڑھنے والے طلباء نہیں آ رہے۔

مطلب صاحب بہادر فرماتے ہیں کہ یونیورسٹیاں کمانے کا ذریعہ ہیں، پڑھنے لکھنے والے غریب طلباء بھاڑ میں جائیں۔
یاد رہے یہ فرق کوئی معمولی نہیں۔
یونیورسٹی کا صرف ایڈمیشن 30,000 سے زیادہ کا ہوتا ہے جبکہ کالج کے 8 سمسٹر کی فیس بشمول ایڈمیشن 30,000 سے کچھ کم ہی ہوتی ہے۔
یونیورسٹی سے ایک عام سی گریجوئیشن بھی اس وقت طالب علم کو (400٫000) چار لاکھ تک پڑتی ہے، جبکہ ایک کالج کا طالب علم اس سے کہیں اچھا پڑھ کر تیس ہزار میں اپنی چار سال کی ڈگری لے لیتا ہے۔
پچھلے 2 سالوں میں جب سے کالجز نے گریجویٹس پیدا کرنے شروع کیے ہیں، زیادہ تر مقابلہ جاتی پوسٹوں پر یہی ہونہار طلبہ نظر آتے ہیں۔ جبکہ یونیورسٹیاں بے حال و پریشان۔
اور کیسے نہ ہوں، نہ کوئی سمت نہ کوئی طریقہ؟ بس ایف سی چیک پوسٹوں کی طرح ان کے کیمپس اور مستونگی کیک کی دکانوں کی طرح ان کے بے ہنگم ڈپارٹمنٹس۔
ایک طرف BUITEMS, جسے سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ وہ پڑھانا کیا چاہتی ہے، education, اور psychology سے لیکر انگریزی اور international relations تک کوئی موقع نہ جائے کمانے کا،
اور دوسری طرف بلوچستان یونیورسٹی جو ہڑتالوں کے لیے موزوں اور سیر سپاٹے کے لیے مختص۔
کوئی ان کی ریسرچ ایکٹیویٹی، کوئی معاشرتی ترقی میں کردار پر بات کرے گا؟
کوئی پوچھے گا کہ آپ نے ٹھیکہ اٹھایا ہے تعلیم کو برباد کرنے کا۔ یا مہنگی تعلیم کو بیچنے کا، جس کی راہ میں کالجز آپ کو دیوار نظر آتے ہیں۔

میرا دعویٰ ہے کہ پچھلے سال کے فارغ التحصیل یونیورسٹی اور کالج گریجویٹس کا اپنے اپنے سبجیکٹس میں مقابلہ کروا دیا جائے۔ اگر آدھے سے زیادہ یونیورسٹی گریجویٹس اپنے سبجیکٹ کی بنیادی تعریف اور سکوپ بھی بتا پائے تو کہنا۔ چلیں ہیں معیار پہ بات کرنے😏

گورنر صاحب اپنی آنکھیں کھولیں۔ لینڈ کروزر کے آس پاس بھی ایک عوام ہے اور اسی عوام کے لیے کالجز ہیں۔

Address

Clloege
Zhob
ZHOB

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JTI Govt degree college zhob posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share