Knowledge

Knowledge The main aim of creating this page to spread awareness ,learning,education,scholarship,schooling and experience of fact or situation in every field of life.

یہ ہیں وہ اعصابی شاخیں جو آپ کی ریڑھ کی ہڈی (Spinal Cord) سے نکلتی ہیں! ہمارے جسم میں کل 31 جوڑے ریڑھ کی ہڈی کے اعصاب (S...
28/04/2025

یہ ہیں وہ اعصابی شاخیں جو آپ کی ریڑھ کی ہڈی (Spinal Cord) سے نکلتی ہیں! ہمارے جسم میں کل 31 جوڑے ریڑھ کی ہڈی کے اعصاب (Spinal Nerves) ہوتے ہیں:

1. 8 سروائیکل (Cervical) اعصاب — گردن کے علاقے سے نکلتے ہیں۔

2. 12 تھوراسک (Thoracic) اعصاب — سینے کے علاقے سے نکلتے ہیں۔

3. 5 لمبر (Lumbar) اعصاب — کمر کے نچلے حصے سے نکلتے ہیں۔

4. 5 سیکرل (Sacral) اعصاب — کولہوں کے علاقے سے نکلتے ہیں۔

5. 1 کاکجیئل (Coccygeal) عصب — ریڑھ کی ہڈی کے بالکل آخر میں ہوتا ہے۔

یہ اعصاب ہمارے جسم میں حرکت (Motor signals)، احساس (Sensory signals)، اور خودکار افعال (Autonomic functions) جیسے سانس لینے (Breathing) اور ہاضمہ (Digestion) کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ واقعی، انسانی جسم قدرت اور ارتقاء (Evolution) کا ایک حیران کن شاہکار ہے!

ذہانت کا راز کھل گیا! کیا آپ کے جینز آپ کی زندگی کو لمبا اور بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ذہ...
06/10/2024

ذہانت کا راز کھل گیا! کیا آپ کے جینز آپ کی زندگی کو لمبا اور بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ذہانت صرف اچھے نمبر لانے یا مشکل مسائل حل کرنے سے کہیں زیادہ اہم ہو سکتی ہے؟ حالیہ تحقیق نے ایک ایسی حیران کن دریافت کی ہے جو ہمارے دماغ اور جسمانی صحت کے بارے میں ہماری سمجھ کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔ سائنسدانوں نے 1000 سے زیادہ ایسے جینز کا پتہ لگایا ہے جو نہ صرف ذہانت بلکہ دماغی اور نفسیاتی بیماریوں کے ساتھ بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ یہ جینز نہ صرف آپ کی ذہنی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں بلکہ آپ کی مجموعی صحت اور عمر کے لئے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں!

ذہانت اور طویل عمر: ایک دلچسپ تعلق
اس مطالعے میں 2 لاکھ 70 ہزار افراد کا تجزیہ کیا گیا تاکہ یہ جانا جا سکے کہ کون سے جینز ذہانت سے منسلک ہیں۔ نتائج حیران کن تھے! سائنسدانوں نے پایا کہ وہ افراد جو زیادہ ذہانت کے حامل ہیں، ان میں طویل عمر پانے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہانت کے جینز آپ کے جسم کو بیماریوں اور صحت کے مسائل سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ گویا ذہانت نہ صرف دماغی کارکردگی میں اضافہ کرتی ہے بلکہ طویل اور صحت مند زندگی گزارنے میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔

ذہانت اور دماغی صحت کا گہرا رشتہ
اور یہیں پر بات ختم نہیں ہوتی! سائنسدانوں نے مزید انکشاف کیا کہ ذہانت کے جینز ان افراد میں الزائمر، اٹینشن ڈیفیسٹ ہائپرایکٹیویٹی ڈس آرڈر (ADHD)، اور شیزوفرینیا جیسی سنگین دماغی بیماریوں کا خطرہ بہت کم کر دیتے ہیں۔ یہ بات حیران کن ہے کہ ذہین افراد ان بیماریوں سے زیادہ محفوظ ہوتے ہیں، یعنی ذہانت کی وجہ سے دماغی صحت بھی مضبوط ہوتی ہے۔

لیکن اس تحقیق نے ایک اور دلچسپ پہلو بھی سامنے لایا: ذہانت کے جینز کا تعلق آٹزم جیسے نفسیاتی مسائل سے بھی ہو سکتا ہے۔ ان جینز کی وجہ سے آٹزم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور مزید تحقیق کا متقاضی ہے۔

ذہانت اور صحت: ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے
یہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ذہانت اور صحت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ وہ جینز جو ذہانت سے منسلک ہیں، وہ جسم کے دیگر اہم افعال پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کچھ جینز جسم کی مجموعی صحت اور ذہنی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ ذہانت اور جسمانی صحت کا ایک دوسرے سے گہرا ربط ہے۔

لیکن یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ذہانت صرف جینز کی مرہون منت نہیں ہوتی! آپ کے اردگرد کا ماحول، آپ کی غذاء، اور آپ کا طرز زندگی بھی ذہانت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ بچے جو متوازن غذا کھاتے ہیں، آلودگی سے پاک ماحول میں پروان چڑھتے ہیں، اور انہیں علمی اور ذہنی نشونما کے لیے سازگار ماحول ملتا ہے، وہ ذہنی آزمائشوں میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔

نئی تحقیق کے دروازے کھلے!
ان نتائج نے سائنسدانوں کے لیے تحقیق کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم ان جینز کی مدد سے ایسے علاج یا تعلیمی پروگرامز تیار کر سکتے ہیں جو ان بچوں کی مدد کریں جو سیکھنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کہ آنے والے وقت میں ہم دماغ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے طریقے دریافت کر لیں، اور بچوں کے لیے ایسے تعلیمی اقدامات متعارف کروائے جائیں جو ذہنی صلاحیتوں کو بڑھا سکیں۔

یہ تحقیق اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ ذہانت کا راز صرف دماغ میں سگنل کی تیز رفتاری میں چھپا ہو سکتا ہے۔ یعنی ایک ذہین دماغ وہ ہو سکتا ہے جو مختلف حصوں کے درمیان سگنل بہت مؤثر طریقے سے منتقل کر سکے۔

حیران کن امکانات
ان نتائج کی روشنی میں، ہم یہ توقع کر سکتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں سائنسدان ذہانت کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم ان جینز کے ذریعے ایسی نئی ٹیکنالوجیز اور علاج متعارف کروائیں جو بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنائیں اور انہیں سیکھنے میں مدد دیں۔ ذہانت صرف ذہنی آزمائشوں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ یہ ہماری مجموعی صحت اور زندگی کے معیار کو بھی متاثر کرے گی۔

ترجمہ و تلخیص: حمزہ زاہد۔
ماخذ: ہاشم الغیلی، فیس بک پیج.

مقالہ: https://rb.gy/j1cdob
مزید پڑھیں: https://rb.gy/at8gza

نوٹ: اس طرح کی مزید معلوماتی پوسٹس کیلئے مجھے فالو کریں۔ براہِ مہربانی اگر اس پوسٹ کو کاپی پیسٹ کریں تو اصل لکھاری کا نام ساتھ ضرور لکھیں۔

گزشتہ کچھ دنوں سے خبر زیر گردش ہے کہ پاکستان کے شہر صادق آباد میں نو ماہ کی بچی کے پیٹ سے بچہ نکلا ہے۔ اس کنڈیشن کو ہم ف...
05/09/2023

گزشتہ کچھ دنوں سے خبر زیر گردش ہے کہ پاکستان کے شہر صادق آباد میں نو ماہ کی بچی کے پیٹ سے بچہ نکلا ہے۔

اس کنڈیشن کو ہم فیٹس ان فیٹو کہتے ہیں۔

جس میں جڑواں بچے حمل کے ابتدائی دونوں میں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو پاتے اور ایک بچہ دوسرے کے اندر ہی رہ جاتا ہے اور ننھا سا جڑواں بچہ ایک پیراسائٹ کی طرح دوسرے بچے میں نمو پاتا ہے۔

اب اس کیس میں اس بچی کا جڑواں بھائی رسولی کی شکل میں اس کے پیٹ میں مرا ہوا ملا ہے اور یہ مظہر اکثر دیکھنے کو مل جاتا ہے۔

اور پاکستان میں یہ کیس پہلی بار نہیں ملا ہے اس سے پہلے بھی کہی جگہوں میں یہ رپورٹ ہو چکا ہے۔

یاد رہے یہ رسولی نما بچہ لڑکوں کے پیٹ سے بھی نکل سکتا ہے۔

شاید ہی آپ میں سے کچھ لوگ جانتے ہوں کہ ڈاکٹر سلام نے ستمبر 1961 میں سپارکو کی بنیاد رکھی۔ اور صرف نو مہینوں میں 7 جون 19...
26/08/2023

شاید ہی آپ میں سے کچھ لوگ جانتے ہوں کہ

ڈاکٹر سلام نے ستمبر 1961 میں سپارکو کی بنیاد رکھی۔ اور صرف نو مہینوں میں 7 جون 1962 کو Rehbar-1 لانچ کیا گیا۔

رہبر پاکستان کے اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے ذریعے بالائی فضا میں چھوڑے جانے والے راکٹوں کا ایک سلسلہ تھا۔ جس میں Rehbar-I پہلا راکٹ تھا جسے سپارکو نے 7 جون 1962 کو لانچ کیا تھا۔ Rehbar-I دو مرحلوں والا ٹھوس ایندھن والاساونڈنگ راکٹ تھا۔ ساونڈنگ راکٹ آواز کی رفتار سے چلنے والے راکٹ کو کہا جاتا ہے۔

پاکستان کی طرف سے 1962 سے 1972 کے درمیان تقریباً 200 بار مختلف راکٹ ماڈل لانچ کیے گئے۔ ان میں سے 24 پروازیں رہبر سیریز کی تھیں۔ رہبر سیریز کی پروازوں میں کم از کم تین اور ممکنہ طور پر چار مختلف راکٹ استعمال کیے گئے۔ استعمال کیے گئے راکٹ سینٹور،جوڈی ڈارٹ،نائیکی، کیجون، اور ایک رپورٹ کے مطابق نائکی اپاچی تھے۔ پاکستان کے زیر استعمال دیگر راکٹ ڈریگن، پیٹرل، اور اسکوا تھے۔ رہبر ساؤنڈنگ راکٹ اب سپارکو کی خدمات میں نہیں ہیں۔

یہ ایک ایسا انوکھا کارنامہ تھا جس نے ناسا کے ماہرین کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ پاکستان تمام ترقی پذیر ممالک (بشمول برازیل، چین اور بھارت) میں پہلا ملک تھا جو سپیس تک پہنچا۔

لیکن افسوس پھر ہم نے سائنس پر انتہا پسندی اور ٹیلنٹ پر تعصب کا انتخاب کرنے کا فیصلہ کیا اور قوم آج بھارت کے چاند کی تسخیر کو حسرت بھری نظر سے دیکھ رہی ہے۔

مزید جاننے کے لئے Muhammad Tanveer Majid کو فالو کریں۔

----------------  ذہانت (1) -----------------ذہین مشینوں آج کی گرما گرم خبر ہیں۔ ہم ایسی چیز کو کیسے کنٹرول کریں گے جس ...
27/07/2023

---------------- ذہانت (1) -----------------

ذہین مشینوں آج کی گرما گرم خبر ہیں۔ ہم ایسی چیز کو کیسے کنٹرول کریں گے جس کو ہم سمجھتے نہیں؟ کیا ان کی صلاحیت اپنے بنانے والوں سے بڑھ جائے گی؟ سپر ذہین مشینیں ہم پر قابض ہو جائیں گی؟ کیا یہ ہم سے مقابلہ آرائی تو نہیں کر لیں گی؟ کیا یہ باشعور ہو جائیں گی؟
یہ اچھے دلچسپ سوال ہیں اور ان پر بنی فلموں اور کتابوں کی کمی نہیں جن میں ذہین مشینیں انسان سے کنٹرول لے لیتی ہیں۔ اگر آپ ایسے موضوعات سے دلچسپی رکھتے ہیں تو بہت معذرت کہ یہ سیریز آپ کے لئے نہیں۔
مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی بہت ترقی کر رہی ہے اور امید ہے کہ اسی طرح کرتی رہے گی لیکن ان کی “ذہانت” بہت تنگ پیرائے میں ہے۔ مصنوعی ذہانت کا “انقلاب” کمپیوٹنگ کی شماریات کا ہے۔ جی، مجھے معلوم ہے کہ ایسا کہنا اس موضوع کو زیادہ پرکشش نہیں رہنے دیتا (اگر آپ شماریات کے دیوانے نہیں) لیکن یہ اس کی درست وضاحت ہے۔
مصنوعی ذہانت کے باشعور ہو کر انسانوں سے مسابقت کی فکر کرنا فی الحال ایسا ہے جیسے اس بات کی فکر کی جائے کہ مریخ پر آبادی زیادہ تو نہیں ہو گئی؟ یعنی ہو سکتا ہے کہ مستقبل بعید میں کبھی یہ فکر کرنا بنتا ہو لیکن آج ہم اس کے قریب قریب بھی نہیں۔
اور ایسا کرنا مصنوعی ذہانت کے بارے میں فوری کے مسائل سے توجہ ہٹا دیتا ہے۔ اور یہ مسائل بڑے ہیں اور اہم ہیں کیونکہ ہم اپنے فیصلے مشینوں کے سپرد کر رہے ہیں۔ حکومت کے فیصلے، مرض کی تشخیص، سوشل میڈیا کی اخلاقیات کو طے کرنے سے لے کر ہم موڑ پر اہم فیصلے الگورتھم کے سپرد ہو رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے بارے میں مثبت اور پرامید ہونے کی کئی اچھی وجوہات ہیں۔ الگورتھم خود میں اچھے یا برے نہیں۔ بات ان کے استعمال کی ہے۔ جی پی ایس کی ایجاد نیوکلئیر ہتھیاروں کو لانچ کرنے کے لئے کی گئی تھی اور آج ٹیکسی یا پیزا منگوانے کے کام آتا ہے۔ پھولوں کے خوبصورت ہار سے بھی کسی کا گلا گھونٹا جا سکتا ہے۔ الگورتھم بھی انسان اور مشین کا تعلق ہے۔ اس کے مفید یا مضر ہونے کا تعلق اس کو بنانے اور استعمال کرنے والوں پر ہے۔
اس لئے مصنوعی ذہانت کا موضوع انسانی ذہانت سے الگ نہیں۔ ہم کون ہیں، کہاں جا رہے ہیں، ہمارے لئے کیا اہم ہے، اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم کیا کرنا چاہتے ہیں۔ الگورتھم ہماری صلاحیت کو دوچند کرتے ہیں۔ ہماری غلطیوں کو ٹھیک کرتے ہیں۔ ہمارے مسائل حل کرتے ہیں اور راستے میں ہمارے لئے نئے مسائل کھڑے کر سکتے ہیں۔
کیا یہ معاشرے کے لئے مفید ہیں؟ کیا ہمیں اپنی رائے کے مقابلے میں ان کو فوقیت دینی چاہیے؟ کب اور کس چیز کا کنٹرول مشین کے حوالے کر دینا محفوظ ہے اور کب نہیں؟ کب ہمیں تشکیک کی ٹوپی پہن کر ان کی تفتیش کرنی چاہیے؟
کیا معاشرے کے لئے اچھا ہے اور کیا ضرر رساں؟ ہم کس قسم کی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں؟
بلاشبہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ہماری دنیا کو بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن اس کے استعمال سے متعلق فیصلے ہم نے لینے ہیں۔
کیونکہ مستقبل بس آ نہیں جاتا۔ ہم اسے تخلیق کرتے ہیں۔
(جاری ہے)

��یہ سیریز اس کتاب سے ہے۔
Hello World: Hannah Fry

🌟آٸیوڈین ہمارے لیے کیوں ضروری ہے🌟 #پشکش  سائنسی معلومات😎 آٸیوڈین ایک ایسا منرل ہے جس کی ہمارے جسم کو بہت معمولی مقدار می...
13/06/2023

🌟آٸیوڈین ہمارے لیے کیوں ضروری ہے🌟
#پشکش سائنسی معلومات😎
آٸیوڈین ایک ایسا منرل ہے جس کی ہمارے جسم کو بہت معمولی مقدار میں ضرورت ہوتی ہے۔ایک بالغ شخص کو روزانہ 150 ماٸیکروگرام(150mcg) آٸیوڈین کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ انتہاٸ کم مقدار ہے جو سوٸ کی نوک کے برابر ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے جسم کو آٸیوڈین کی کیوں ضرورت ہوتی ہے؟دراصل ہمارے گلے کے سامنے ایک تتلی نما شکل کا گلینڈ پایا جاتا ہے جس کا نام تھاٸ راٸیڈ گلینڈ ہے(شکل میں دیکھا جاسکتا ہے)۔یہ گلینڈ تھاٸ راٸیڈ ہارمونز(خاص قسم کے کیمکلز) بناتا ہے اور ان ہارمونز کی تیاری کے لیے آٸیوڈین بہت ضروری ہے۔آٸیوڈین کی کمی سے تھاٸ راٸیڈ ہارمونز کم مقدار میں بنتے ہیں۔

تھاٸ راٸیڈ گلینڈ ان ہارمونز کو براہ راست خون میں خارج کرتا ہے تاکہ وہ اپنا مخصوص کام سرانجام دے سکیں۔یہ ہارمونز ہمارے دماغی صلاحیت کو بہتر بناتے ہیں،ہمارے میٹابوبولزم یعنی ہم جو خوراک کھاتے ہیں ہمارا جسم اسکو استعمال کر کے کیسے انرجی یا تواناٸ حاصل کرتا ہے اس تمام پراسس کو بہتر بناتے ہیں۔اس کے علاوہ دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے اور مسلز کو سکڑنے وغیرہ میں مدد دیتے ہیں۔

جسم میں آٸیوڈین کم ہوجانے کی سب سے عام علامت یہ ہوتی ہے کہ ہمارا گلہ سوجھ جاتا ہے۔کیونکہ جسم کو اتنا آٸیوڈین مل نہیں ہورہا ہوتا تو زیادہ ہارمونز بنانے کے چکر میں تھاٸ راٸیڈ گلینڈ ساٸز میں بڑا ہوجاتا ہے۔اس بیماری کو گلہڑ کہتے ہیں(شکل میں دیکھا جاسکتا ہے)۔اگر گلہڑ کے مریض کو مناسب مقدار میں آٸیوڈین دی جاۓ تو اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ گلے یعنی تھاٸ راٸیڈ گلینڈ کی ہر سوجن یا پھیلاٶ کا علاج آٸیوڈین کی کمی سے نہیں ہوتا ہے،کچھ دوسری وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔آٸیوڈین کی کمی کے علاوہ غذا میں Goitrogens کی موجودگی اور بعض دواٶں کے سبب بھی گلہ سوجھ جاتا ہے۔

آٸیوڈین کی کمی سے

👈جسمانی وزن میں اضافہ ہوجاتا ہے
👈ہر وقت تھکاوٹ رہتی ہے
👈جسم میں کمزوی آجاتی ہے
👈بال اور جلد خشک ہوجاتے ہیں

آٸیوڈین کی کمی زیادہ تر تر پہاڑی علاقوں میں دیکھی گٸ ہے یعنی پہاڑی مقامات پر رہنے والے افراد آٸیوڈین کی کمی کا زیادہ شکار ہوتے ہں۔یاد رہے کہ ہمارا جسم خود آٸیوڈین نہیں بنا سکتا بلکہ اسکو خوراک اور سپلیمنٹس سے لینا پڑتا ہے۔کچھ غذاٸیں ایسی ہیں جن میں یہ کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔

👈ایک بڑے ساٸز کے انڈے میں اتنا آٸیوڈین ہوتا ہے کہ آپ کی آٸیوڈین کی روزانہ کی ضرورت کا 16 فیصد پورا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے

👈آٸیوڈاٸیڈز نمک ایسا نمک ہوتا ہے جس میں آٸیوڈین ملایا جاتا ہے۔لہذا بہتر ہے کہ کھانے میں عام نمک کی بجاۓ آٸیوڈاٸیذڈ نمک(Iodized Salt) کا استعمال کیا جاۓ۔

👈دودھ اور اس سے بنی مصنوعات میں بھی آٸیوڈین پایا ہے۔اب دودھ میں کتنا آٸیوڈین موجود ہوگا یہ اس پر منحصر ہے کہ چوپاۓ(گاۓ،بھیس،بکری) کے گھاس میں آٸیوڈین کتنا شامل ہے۔

👈چونکہ آٸیوڈین سمندر میں کافی مقدار میں پایا جاتا ہے لہذا سمندری مچھلی اور دوسری سمندری جانور اور پودوں میں آٸیوڈین کی کافی مقدار پاٸ جاتی ہے۔

👈بیف جگر بھی آٸیوڈین حاصل کرنے کا اچھا ذریعہ ہے۔

دوسروں کے مقابلے میں حاملہ عورتوں اور دودھ پلانے والی عورتوں کو زیادہ آٸیوڈین کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسی عورتوں میں آٸیوڈین کی کمی کی وجہ سے بچوں کی صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔اس سے بچوں کی ذہنی و جسمانی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ترقی پذیر ممالک میں آٸیوڈین کی کمی زیادہ پاٸ جاتی ہے۔دیکھا گیا ہے کہ بچوں میں ذہنی معذوری کی سب سے بڑی وجہ آٸیوڈین کی کمی ہے۔۔اسکے علاوہ ایسے بچوں کی جسمانی و جنسی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔بعض اوقات کو عورتوں میں آٸیوڈین کی شدید کمی سے سرے سے حمل ہی نہیں ہوتا اور اگر بھی جاۓ تو بچے کی صحت بہت متاثر ہوتی ہے۔

References

https://www.hsph.harvard.edu/nutritionsource/iodine/

https://www.betterhealth.vic.gov.au/health/healthyliving/iodine

https://www.thyroid.org/iodine-deficiency/

بشکریہ ڈاکٹر عابد معز

تحریر:

---------------𝐃𝐫𝐲 𝐛𝐢𝐭𝐞𝐬 𝐨𝐟 𝐒𝐧𝐚𝐤𝐞𝐬 -------------------------------------------سانپوں کا خشک کاٹنا ----------------اسلام ...
12/06/2023

---------------𝐃𝐫𝐲 𝐛𝐢𝐭𝐞𝐬 𝐨𝐟 𝐒𝐧𝐚𝐤𝐞𝐬 -------------

------------------------------سانپوں کا خشک کاٹنا ----------------
اسلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
اکثر گروپ میں یہ سوال کیا جاتا ہے کہ سانپوں کا خشک کاٹنا سے کیا مراد ہے ؟
تو اس کا مطلب یہ ھیکہ سانپ جب کسی کو کاٹے اور کاٹنے دوران وہ شکار کے جسم میں زہر نہ ڈالے ۔۔ بغیر زہر کے کاٹنے یا جب کاٹے تو صرف اور صرف دانتوں سے زخم لگائے اور زہر جسم میں داخل نہ کرے تو اس کو خشک کاٹنا یا ڈرائی بائٹ (Dry Bite) کہا جاتا ہے ۔۔۔۔
یہ واقعات عموماً آپ کو ملتے رہتے ہیں سانپ کاٹ لیتا ہے تو اسکو ہسپتال لے کر جائیں جب مریض کے ٹیسٹ کیئے جاتے ہیں تو اس میں کوئی زہر کے اثرات نہیں ملتے تو ڈاکٹر اس وقت کہتے ہیں کہ یہ ڈرائی بائٹ تھا سانپ نے کاٹا ہے مگر زہر نہیں استعمال کیا ۔۔۔۔۔
اب یہاں ایک نیا سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ سانپ نے کاٹا ہے تو زہر کیوں نہیں لگایا پھر ؟
اس کی بہت سی وجوہات ہیں جس وجہ سے سانپ زہر کا استعمال نہیں کرتا کچھ وجوہات آپ کو بتا دیتا ہوں یہاں ۔۔۔

1✓ ڈرانے کے لئے کاٹنا ۔۔۔۔۔
2✓ وینم گلینڈز میں زہر کا موجود نہ ہونا ۔۔۔
3✓ وینم گلینڈیز سے فینگز کے درمیان انفیکشن کا ہونا ۔۔۔
4✓ وینم گلینڈز میں انفیکشن ہونا ۔۔۔
5✓ فینگز میں سے زہر کو باہر نکلنے کا راستہ نہ ملنا ۔۔۔

وغیرہ وغیرہ
چونکہ جو غیر زہریلے سانپ ہوتے ہیں ان میں زہر نہیں ہوتا تو انکے تمام بائٹ ڈرائی ہوتے ہیں ۔۔۔
جو چیز یہاں پر غور کرنے والی ہے وہ زہریلے سانپوں کے بائٹس پر زیادہ منحصر ہے ۔۔۔۔
ڈرائی بائٹ یعنی خشک کاٹنے کا کسی کو علم نہیں ہوتا کہ سانپ نے کاٹا ہے تو یہ بغیر زہر کے ہوگا یا زہر سمیت ۔۔۔آپکو اسکی احتیاطی تدابیر پوری طرح سے کریں گے جس طرح سے زہریلے بائٹ پر کرنی ہیں آپ اس میں ایک پرسنٹ کا بھی رسک یا چانس نہیں لے سکتے یہ آپ کا یا میرا کسی کا کام نہیں ہے کہ ہم اس بات کا اندازہ لگائیں کہ سانپ نے خشک کاٹا یا زہر کے ساتھ کاٹا یہ کام لیبارٹریز کا ہے آپ کو کاٹے جانے پر فوراً ہسپتال کی طرف رخ کرنا ہو گا ۔۔۔۔ اب جو زہریلے سانپ ہیں ان میں ہر نسل کے ڈرائی بائٹ کی الگ پرسنٹ ایج ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہے

✓•رسلز وائپر ________________ 04%
✓•کامن کریٹ __________25 سے 30%
✓•کوبرا سانپ________________ 30%
✓•ساء سکیلڈ وائپر _______5سے 10%

یہ جو ریشیو لکھی گئی ہے یہ WHO ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پوری دنیا سے ان سانپوں کی ڈرائی بائٹ ریشیو نکال کر دی اس میں وقت کے ساتھ ساتھ چینجز بھی آتی ہیں

ڈرائی بائٹس میں ہوتا یہ کہ اگر آپ کو کوئی زہریلا سانپ ڈرائی بائٹ کرتا ہے تو آپ کہ کاٹے کی جگہ پر اس کے دانتوں کے نشان ہو سکتے ہیں اور ساتھ میں اس جگہ سوجن ہوتی ہے وہ جگہ سرخ ہو جاتی ہے وغیرہ وغیرہ مگر ڈرائی بائٹ سے آپکی جان نہیں جاتی مگر آپ نے ہسپتال ہر صورت جانا ہے سانپ کے کاٹنے پر چاہے اس نے بائٹ جیسی بھی کی ہو ۔۔۔۔۔
یہ تھا ایک ڈرائی بائٹ پر مختصر سا اسکا تعارف امید ہے آپ کو سمجھ میں آ گئی ہو گی
از شعیب سلیم
ایڈمن ریپٹائلز آف وائلڈ
Shouaib Saleem

سستے اور غیر معیاری سَن گلاسز کا استعمال خطرناک اور تباہ کُن ثابت ہو سکتا ہے 🚫جیسا کہ ہم جانتے ہیں موسمِ گرما میں دھوپ ک...
08/06/2023

سستے اور غیر معیاری سَن گلاسز کا استعمال خطرناک اور تباہ کُن ثابت ہو سکتا ہے 🚫
جیسا کہ ہم جانتے ہیں موسمِ گرما میں دھوپ کی تمازت اور دورانیہ دونوں ہی زیادہ ہوتے ہیں ۔۔ اور سورج کی ضرر رساں الٹرا وائلٹ شعاعیں براہِ راست پڑنے پر آنکھوں اور بینائی کے لیے مضر ثابت ہو سکتی ہیں ۔۔۔ اس کے تدارک کے لیے دھوپ کے چشموں یعنی سن گلاسز 🕶️ کا استعمال مفید ہے تاہم آجکل مارکیٹ میں سستے اور غیر معیاری سن گلاسز کی بھرمار ہے جو 150 روپیہ سے لے کر 1 ہزار روپیہ تک میں دستیاب لیکن ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ یاد رکھیں کہ یہ سن گلاسز سوائے شفاف پلاسٹک کے ایک رنگین ٹکڑے کے سوا اور کچھ نہیں !!
اب زرا غور کیجئیے ۔۔۔۔ جب روشنی براہ راست ہماری آنکھوں پہ پڑتی ہے تو ہماری آنکھوں کی پُتلیاں خودبخود سکڑ جاتی ہیں تاکہ سورج کی ضرر رساں شعاعوں سے آنکھوں کی حتی الامکان حفاظت ممکن ہو سکے ۔۔۔ لیکن۔۔۔ سن گلاسز پہننے پر ہماری آنکھوں کی پتلیاں نارمل رہتی ہیں چنانچہ ہم تیز دھوپ میں بھی نارمل انداز میں دیکھ پاتے ہیں ۔۔۔۔ تاہم ۔۔۔۔ اگر ہم نے جعلی سن گلاسز پہن رکھے ہیں جن کے سیاہ رنگ کی وجہ سے ہماری آنکھوں کی پتلیاں تو سکڑنے سے بچ جائیں گی تاہم وہ پلاسٹک کے رنگین ٹکڑے سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کو روکنے میں قطعاً غیر موثر ہیں ۔۔۔ اب ۔۔۔ ہماری آنکھیں مکمل کھلی ہیں اور الٹرا وائلٹ شعاعیں بھی بدستور ان سے ٹکرا رہی ہیں ۔۔۔ جو کہ آنکھوں کی تکلیف ، سرخی ، ڈیمج اور بینائی کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے ۔
۔۔۔۔
اصل سن گلاسز کی پہچان ۔۔۔
✓ حقیقی سن گلاسز میں " UV Standards 400" شیشہ نصب ہوتا کے جو کہ سورج کی ضرر رساں شعاعوں کو بلاک کرنے کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے چنانچہ ان گلاسز خریدتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ یو-وی سٹینڈرڈ 400 پر پورا اترتی ہیں ۔۔۔ ایسے سن گلاسز کی قیمت 5000 سے شروع ہوکر 50,000 تک ہوتی ہے ۔۔۔ اور وہ عام ریڑھیوں ، سٹالز کے بجائے اچھی دکانوں پر میسر ہوتی ہیں ۔
✓ ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ ان سن گلاسز کا شیشہ Polarized ہو ۔۔۔ پولیرائزڈ کی پہچان ایسے ہوگی کہ مذکورہ دکان پر ایک یا چند تصاویر نصب ہوں گی جنہیں " پولرائزڈ ٹیسٹ " کہا جاتا ہے ۔۔۔ ان تصاویر میں چھپے ہندسوں یا حروف کو صرف پولرائزڈ شیشے پر مبنی عینک سے ہی دیکھا جا سکتا ہے ۔ عام آنکھ یا عام عینک سے نہیں ۔

آنکھوں اور بینائی سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔۔۔ اس معاملے میں کنجوسی نہیں کرنی چاہیے !!
( ستونت کور )

#ستی

08/06/2023

چھوٹےبچوں میں نارمل پاخانہ کیسے ہوتا ہے ؟؟ کس طرح کے پاخانے میں ڈاکٹر کو چیک کروانا ضروری ہوتا ہے!!!
تمام والدیں کو آگاھ کریں!!!جزاك الله
ڈاکٹر ارشد محمود(MBBS,FCPS)

07/06/2023

انسانی دماغ میں سپیشل نیورونز (اعصابی خلیے) وقت کا حساب رکھتے ہیں

ترجمہ و تلخیص: قدیر قریشی
جون 06، 2023

سائنس دان یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ انسانی دماغ وقت کا حساب کیسے رکھتا ہے اور واقعات کی ترتیب (یعنی کون سا واقعہ کس واقعے سے پہلے یا بعد میں ہوا) کیسے یاد رکھتا ہے-دماغ کے ایک حصے ہیپوکیمپس میں کچھ مخصوص خلیے پائے جاتے ہیں جو وقت کا حساب رکتے ہیں- ہیپوکیمپس دماغ کا وہ حصہ ہے جو مستقل یادیں سٹور کرنے میں معاون ہوتا ہے- یہ خلیے واقعات کی یادوں پر ٹائم سٹیمپ لگاتے ہیں یعنی یہ اینکوڈ کرتے ہیں کہ کون سا واقعہ کس واقعے کے بعد ہوا- چنانچہ جب ہم پرانی یادوں کو دہراتے ہیں ان خلیوں کی مدد سے واقعات کی ترتیب کو بھی یاد رکھتے ہیں

جب ہم کسی واقعے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو اس دوارن ہیبوکیمپس کے یہ خلیے وقفے وقفے سے فائر کرتے ہیں اور یوں واقعات کے ٹائمنگ کی انفارمیشن بھی واقعات کی یادوں کے ساتھ ساتھ سٹور ہو رہی ہوتی ہے- اسی طرح ہیپوکیمپس میں کچھ خلیے مقامات کی انفارمیشن کو یعنی سپس سے متعلق انفارمیشن کو سٹور کرتے ہیں- اس طرح واقعات کے مقامات یعنی سپیس اور وقت یعنی ٹائم کی انفارمیشن بیک وقت سٹور ہو رہی ہوتی ہے

اس سے پہلے وقت اور سپیس کو الگ الگ سٹور کرنے والے خلیے چوہوں کے دماغ میں دریافت کیے گئے تھے- لیکن ابھی تک ماہرین کو یہ علم نہیں تھا کہ ایسے خلیے انسانوں کے دماغ میں بھی پائے جاتے ہیں یا نہیں- یہ جاننے کے لیے نیوروسرجنز نے مرگی یعنی epilepsy کے مریضوں کے دماغ میں ہیپوکیمپس کے علاقے میں الیکٹروڈ نصب کیے اور وہاں پر موجود کئی خلیوں کی فائرنگ کے پیٹرنز ریکارڈ کیے-

مرگی کے کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں جن پر دواؤں کا اثر نہیں ہوتا اور ان پر مرگی کے اس قدر شدید دورے پڑتے ہیں کہ وہ نارمل زندگی گذارنے کے قابل نہیں رہتے- ایسے مریضوں میں نیوروسرجن دماغ کی سرجری کر کے دماغ کے ٹشو کا وہ حصہ نکال دیتے ہیں جہاں سے مرگی کے دوروں کا آغاز ہوتا ہے- ایسا کرنے کے لیے ایسے مریضوں کی کھوپڑی چاک کر کے دماغ میں الیکٹروڈ نصب کیے جاتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مرگی کے دوروں کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے- اس بیمار ٹشو کی نشاندہی کے بعد اس ٹشو کو سرجری کر کے نکال دیا جاتا ہے جس سے مرگی کے دوروں کی شدت اور فریکونسی میں کمی آ جاتی ہے

ایسے مریضوں سے اجازت لی جاتی ہے کہ سرجری کے دوران ان کے دماغ کے سگنلز کو سائنسی تحقیق کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا- ایسے ہی کچھ مریضوں کے دماغ میں وہ سگنل ریکارڈ کیے گئے جن سے سپیس اور ٹائم کو الگ الگ سٹور کرنے والے خلیوں کی موجودگی کا علم ہوا- جب ان مریضوں کے نیورونز کی فائرنگ کے پیٹرنز مانیٹر کیے جا رہے تھے اس وقت ان مریضوں کو کچھ تصاویر دکھائی گئیں اور انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ تصاویر کی ترتیب کو یاد رکھیں- بعد میں مریضوں سے ان تصاویر کی ترتیب کے بارے میں پوچھا گیا-

ماہرین نے دیکھا کہ ٹائم کو اینکوڈ کرنے والے خلیے وقفے وقفے سے مسلسل فائر کر رہے تھے اور فائرنگ کے یہ پیٹرنز تصاویر کے مندرجات سے متاثر نہیں ہو رہے تھے- یہ خلیے اس وقت بھی فائر کر رہے تھے جب مریضوں کو کوئی تصویریں نہیں دکھائی جا رہی تھیں- ان نیورونز کی فائرنگ کے پیٹرنز کی ریکارڈنگ سے ماہرین واقعات کی ترتیب کی انفارمیشن ڈی کوڈ کرنے میں بھی کامیاب ہو چکے ہیں-

اس تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسانی دماغ اور چوہوں کے دماغ میں واقعات کی ترتیب ریکارڈ کرنے کا نظام بالکل ایک سا ہے- چوہوں کے دماغ کی طرح انسانی دماغ میں بھی ایسے مخصوص خلیے ہوتے ہیں جن کا کام وقفے وقفے سے فائر کرنا ہوتا ہے تاکہ یادوں کو سٹور کرتے ہوئے واقعات کی ترتیب کی اینکوڈنگ بھی ہو سکے

اوریجنل ویڈیو کا لنک:
https://www.facebook.com/reel/750333696824621

*about cultures and civilizations*
05/06/2023

*about cultures and civilizations*

Address

Zhob

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Knowledge posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share