NK Academy & Foundation

NK Academy & Foundation

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from NK Academy & Foundation, Educational Research Center, Khawar Ilyas Market, Zafarwal.

07/11/2024

ہمارے معاملات ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتے مگر اطمینان رکھیں جس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں وہ بڑا رحیم اور کریم ہے۔ ❤️

31/10/2024

بے عیب تو صرف اللہ کی ذات ہے لیکن فی زمانہ انسانوں میں’’ بے عیب ‘‘شخص کو تلاش کرنا ایک مشکل امر ہے ۔ہرانسان میں کوئی نہ کوئی خامی ضرورپائی جاتی ہے ۔بحیثیت مسلمان ہمیں دوسروں کے عیبوں کی پردہ پوشی کا حکم دیا گیا ہے ۔قرآن پاک میں واضح ارشاد ہوتا ہے کہ’’اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو۔ یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی اور اللہ سے ڈرتے رہو ، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے‘‘۔(سورہ الحجرت -آیات 12)
حدیث مبارکہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،’’اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں فساد پیدا کر دو گے یا قریب قریب فساد کے حالات پیدا کر دوگے۔‘‘(ابوداؤد )
ایک اور حدیث مبارک میں ہے کہ ’’جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ہم حاصل شدہ تمام تر سہولیات کومنفی مقاصد کیلئے استعمال کرنے میں لگے ہیں ۔سوشل میڈیا پر تو ہم نے ایک وطیرہ بنالیا ہے ہم معمولی معمولی بات پر ’’وڈیوز ‘‘بناکر انہیں وائرل کر دیتے ہیں ۔اس حوالے سے ہم اخلاقی اقدار کو ہی فراموش کر دیتے ہیں ۔دوسروں کی خامیوں کی تشہیر بھی گویا ہم کارثواب سمجھ کر کر رہے ہیں ۔افسوسناک امر یہ ہے ہم دوسروں کی زندگیوں کا ’’ننگ‘‘اتارنے میں تمام حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں ۔لیکن اگر کوئی دوسرا جوابی کارروائی کرنے کی سعی کرے تو ہم اسے’ ’اخلاق اقدار کی پاسداری ‘‘کا درس دینے لگتے ہیں ۔ہماری موجودہ سوچ و فکر نے پوری دنیا میں پاکستان کی ساکھ کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے ۔ہماری اس غیر ذمہ دارانہ روش کی بدولت پاکستان کا امیج بری طرح مسخ ہورہا ہے ۔ایسا نظر آتا ہے کہ پاکستان میں ظلم و زیادتی ،اجتماعی آبروریزی اور لوٹ مار کے سوا کچھ اور مثبت کام نہیں ہوتے ۔دنیا کو ہم باور کروانا چاہتے ہیں کہ ہم انتہائی ظالم ، وحشی اور بدکار قوم ہیں ۔ہم لوگوں میں انسانیت نام کی کوئی رمق باقی نہیں رہی ۔ہماری سوچ و فکر سے مساجد، مدارس ، تعلیمی ادارے ، دفاتر ، تھانے ،کچہریاں ،ہسپتال تک محفوظ نہیں ۔ تواتر کے ساتھ ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ جہاں مقدس محرم رشتے بھی محفوظ نہیں رہے ۔جنسی بے راہروی عام ہو چکی ، گھروں سے باہر نکلنے والی ہماری بہو، بیٹیاں تک محفوظ نہیں رہیں ۔حتیٰ کہ گھروں کے اندربھی چادر اور چاردیواری کی پامالی کے واقعات زبان زد عام ہیں ۔گزشتہ دنوں تواتر کے ساتھ باریش ملا حضرات کی بیسیوں ویڈیوز وائرل کی گئی ہے کہ جنہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے
کہ ہم شائد دنیا میں صرف برائی کرنے کیلئے آئے ہیں ۔ہماری حرکات سے کوئی بچہ محفوظ نہیں ہے ۔ بچوں کودینی تعلیم دینے کی بجائے کئی معزز ان سے ’’بداخلاقی ‘‘ کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ہماری یہ روش ہمارے اخلاقی دیوالیہ پن کی بدترین مثال ہے ایک اور المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ہم بسااوقات بری تصاویر کی پوسٹ لگا کر اس پر تنقید اور لوگوں کی آراء لینے لگتے ہیں ۔اس کا مقصد بھی بظاہر ایک برائی کی نشاندہی ہے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم اپنے اس عمل سے بھی برائی کا پرچار کر رہے ہوتے ہیں ۔حضرت علی ؓکا قول ہے کہ ’’کسی کے گھر جاؤ تو اندھے بن کے رہواور باہر نکلو تو گونگے بن کر نکلو ‘‘۔اس فرمان عالی شان کا مقصد بھی ’’پردہ پوشی‘‘اور دوسروں کی عزت کی محافظت ہی ہے۔کہ انسان کسی کے ہاں مہمان بنے تو وہاں جو کچھ دیکھے اسے باہر آکر کسی دوسرے سے بیان نہ کرے ۔عظیم ہیں وہ لوگ جو اس بات کا خیال رکھتے ہیں ۔یوں بھی عیب گوئی اور عیب جوئی ایک بڑا گناہ ہے ۔اس طرح لوگوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ حضرت انسؓ حضور اکرم ؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐنے فرمایا :’’کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا ،جب تک کہ اپنے بھائی کے لئے وہی نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتا ہے۔ ‘‘اس کا مفہوم بھی یہی ہے کہ انسان ہر وہ بات جو اپنے لیے اچھی یا بُری خیال کرے وہی دوسروں کیلئے بھی ویسی ہی خیال کرے ۔ظاہر ہے کہ ہر انسان اپنے عیب دوسروں سے چھپاتا ہے اور اس بات کا متمنی رہتا ہے کہ اس کے دوست احباب اس کی خامیاں یا عیب غیروں کے آگے بیان نہ کریں ۔ایک بات طے ہے کہ انسان اگر کسی بھی بندے کے عیبوں سے آگاہی حاصل کر لے تو اس کے لیے ایک بڑا امتحان شروع ہو جاتا ہے ۔اب یہ حضرت انسان کا ظرف ہے کہ وہ کس حد تک کسی دوست کا پردہ رکھتا ہے ۔فی زمانہ پردہ رکھنا یا پردہ ڈالنا انتہائی مشکل امر بن چکا ہے ۔لوگ اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ۔بلکہ برائی کی تشہیربھی ازراہ ِمذاق کی جاتی ہے ،دوستوں کا مذاق اڑایاجاتا ہے ۔ہمارا طرز زندگی ہماری تعلیم وتربیت کا عکاس ہوتا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معاشرے میں موجود برائیوں اور لوگوں کے عیبوں کی تشہیر کی عادت ترک کردیں ۔جب ہم لوگوں کے عیبوں پر پردہ ڈالنے پر دھیان دیں گے تو یقیناً روز محشر ربّ کائنات بھی انسان کی لغرشوں اور کوتاہیوں کی پردہ پوشی کریں گے ۔حال ہی میں معروف گلوکارہ و ماڈل رابی پیرزادہ نے بھی شوبز کی دنیا کو خیرباد کہہ کر اپنی بقیہ زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گذارنے کا عزم کیا تو ہر طرف سے اس کے اس فیصلے کو سراہا گیا ۔
رابی پیرزادہ نے اسلامی خطاطی ،مصوری کے ساتھ ساتھ عبایہ و دیگر ملبوسات وغیر ہ کی فروخت کا سلسلہ چلا رکھا ہے ۔وہ اب تک 10سپاروں کی خطاطی مکمل کرنے کی سعادت حاصل کرچکی ہیں ،جو لائق تحسین بات ہے ۔زمانہ بدل رہا ہے آج کے دور میں بہت سے لوگ اپنی سابق زندگی کو ترک کرکے اپنی بقیہ زندگی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں گذارنا چاہتے ہیں ۔اور سچے دل سے توبہ کر لی ہے تو ہمیں ایسے لوگوں کی سابقہ زندگی کی سبھی خرابیاں فراموش کر دینا چاہئے ۔کیونکہ سچے دل سے توبہ کرنے والوں کو اللہ بھی معاف کر دیتا ہے ۔یاد رکھیں !ٓ ہمارے اعمال ہمیں جنت کا حقدار قرار دینے میں معاون و مددگار ہو ں ۔یہی زندگی کی حقیقت اور بعد از موت ابدی زندگی کا پیغام ہے جس پرہمیں دھیان دینا ہوگا ۔

30/10/2024

اے ایمان والو شراب اور جُوااور بُت اور پانسے گندے شیطانی اعمال ہیں تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ (المائدہ ۹۰)

05/10/2024

میرے تمام عظیم اساتذہ کرام کو میرا عاجزانہ سلام❤
آج اللہ نے جو بھی مقام دیا ہے سب ان اساتذہ کی وجہ سے ہے۔۔۔
My Father Mr. Naeem Khalid (Late) , My Mother Ms. Rukhsana Naeem, Failure , Hurdles, Difficulties and ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Qasim Ali Shah Tahir Saim Shaykh Atif Ahmed Ahmad Naveed Ul Hassan Rashid Saeed Ali Abbas Mohammad Waseem Haseeb Khan Saima Subtain Nadia Khurram Usama Akhtar Adv Rana Adeel Mumtaz Shahid Mukhtar Chishti Awais Rauf Umer Shaheen Mohsin Nawaz Hamid Saeed Mohsin Raza Arslan Calligrapher Tanseer Ahmad Ali Ahmad Awan Nafees Ahmad Mohsin Hashmi Naveed Iqbal Mohsin Khadam Asghar Zaidi Danish Niaz Malik Akhtar Akhtar Khan Akhtar Farooqi Irfan Ullah Marwat ناہید کوثر ناہید کوثر Waqar Saeed Khattak Nadeem Nazar Bashair Naeem Rizwan Akram Rahat Mustafa Mehtab Hameed Aiysha Abdul Ghani Uzair Amjad Khalid Mehmood Ahmad Khalid Mehmood Eqra Gohar EJ Hafiz Shokat Yasir Arafat Sahibzada Mian Huzaifa Ashraf-Asmi Shehzad Sulehri وسیم قریشی شفیق شفیق

10/06/2024

Stay Alert Please…

28/02/2020

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2902532416474599&id=131189550275580

ٹیچر سے ٹرینر تک
تحریر: نوید خالد
یاد رکھنا کہ ہر وہ انسان جو تمہاری زندگی میں واضح اور مثبت تبدیلی لائے،وہ تمہارا مرشد ہے۔مجھے ابھی بھی یاد ہے میری اور قاسم علی شاہ صاحب کی پہلی ملاقات بدل دو مہم کے سلسلہ میں آپ جب آئے تھے تو تب ہوئی تھی۔پہلی ملاقات میں چونکہ میں استاد محترم کے قریب نہ جا سکا۔اسی وجہ سے میرے اندر ایک انتہا کی آگ بھڑک اٹھی اور میں نے استاد محترم کو ملنے کی ٹھان لی۔میرے گھر والوں نے کہا کہ یہ کن چکروں میں پڑگئے ہو۔قریبی لوگوں نے اور رشتہ داروں نے میری مخالفت کی۔مگر میرا جنون تھا کہ جو مجھے سکون اور چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔اور پھر اس کے بعد الحمداللہ میں شاہ جی سے بہت کچھ سیکھ چکا ہوں۔مجھے شاہ جی نے راہ حق کا سپاہی بنا دیا ہے۔اور انہی کی بدولت آج لوگ مجھے جانتے ہیں۔شاہ جی کے نام کے وسیلے سے مجھے بہت ہی زیادہ عزت اور شہرت ملی۔اور الحمداللہ اب تک میں قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن سے بے شمار کورسز اور ورکشاپس بھی کر چکا ہوں۔
چونکہ آج میں حال ہی میں منعقد ہونے والی قاسم علی شاہ صاحب کی ورکشاپ "ٹیچر سے ٹرینر تک"کا تمام احوال لکھ رہا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ نئی آنے والی کتاب ٹیچر سے ٹرینر تک پر مختصر تبصرہ بھی کروں گا۔ اس لیے میں اپنے موضوع پر واپس آتا ہوں۔استاد محترم سے میرا کیا رشتہ ہے؟اس پر تفصیلی کالم لکھوں گا انشاء اللہ جلد۔۔پچھلے دنوں ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔ورکشاپ کا اہتمام قاسم علی شاہ صاحب کی زیر سرپرستی قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن میں ٹیچر سے ٹرینر تک کے نام سے کیا گیا۔میں بذات خود بہت حیران تھا کہ آخر کیسے کوئی اپنے جسم کا کوئی حصہ کسی کو دے سکتا ہے؟کیونکہ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا تھا کہ اس ورکشاپ میں شاہ جی ٹریننگ کی فیلڈ کی اندر کی تمام باتیں بتا دیں گے۔اور اپنے داتی تجربات اور غلطیاں بتائیں گے تاکہ نئے آنے والوں کی اصلاح ہو سکے۔۔ خیر میں نے سن تو لیا مگر مجھے یقین نہ آیا۔اور اس طرح مقررہ دن بروز جمعہ میں صبح صبح ظفروال سے لاہور روانہ ہوا۔مقررہ وقت پر ٹریننگ ہال میں سیشن کا آغاز ہوا۔شاہ جی اپنے روایتی انداز میں سلام لے کر کلاس روم میں داخل ہوئے۔۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ تمام کے تمام ابھرتے ہوئے نام اور تمام نئے ٹرینر کہ جن کو میں بھی فالو کر رہا تھا وہ تمام کے تمام اس کلاس روم میں میرے کلاس فیلو تھے۔مجھے صرف اس بات پر فخر تھا کہ اس ٹریننگ کی وجہ سے مجھے یہ اعزاز حاصل ہو گیا کہ میں ٹریننگ کی فیلڈ میں نئے آنے والے تمام ابھرتے ہوئے ستاروں کے درمیان ان کے کلاس فیلو کی حیثیت سے موجود تھا۔
قاسم علی شاہ صاحب نے بات شروع کی۔شاہ جی نے سب سے پہلے بتایا کہ کسی بھی فیلڈ میں صرف 0.001%لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ جن کو فالو کیا جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ جو دوسروں سے منفرد ہوتے ہیں۔ان کے علاوہ باقی تمام لوگ ایک دوسرے کو کاپی کرتے ہیں۔اس طرح بات سے بات نکلتی گئی تو بات شرافت پر آن پہنچی۔شاہ جی نے ایک واقعہ سنایا۔کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی اور کہتی ہے کہ شاہ جی میرا بیٹا بہت زیادہ شریف ہے۔۔ وجہ پوچھنے پر بتایا کہ اس کو کبھی بھی لڑکی کا خیال نہیں آیا۔۔ شاہ جی نے جواب دیا اسے شرافت نہیں کہتے بلکہ اسے تو نفسیاتی مسلہ کہتے ہیں۔استاد محترم نے بتایا کہ منفی خیالات کا آنا یا نہ اآنا شرافت کی نشانی نہیں ہے بلکہ منفی خیالات کا آنا اور ان پر قابو رکھنا شرافت ہے۔
تقلید کے بارے میں بات ہوئی تو آپ نے کہا کہ تقلید میں عظمت نہیں ہے بلکہ انوویشن میں عظمت ہے۔کچھ نیا کرنے میں عظمت ہے۔کچھ منفرد کرنے میں عظمت ہے نا کہ دوسروں کو کاپی کرنے میں۔۔ محسن نواز صاحب کا بڑا خوبصورت جملہ ہے کہ ہمیشہ اصلی بنو۔۔ کاپی جتنی مرضی اچھی ہو مگر اسے ہمیشہ تصدیق کی ضرورت پڑتی ہے۔
استاد محترم فالو کسے کیا جائے؟ جب یہ سوال ہوا تو اس پر جواب دیتے ہوئے شاہ جی نے فرمایا کہ فالو ہمیشہ اسی کو کیا جاتا ہے جس کے پاس رزلٹ ہو۔فالو ہمیشہ اس کو کریں جو معتبر ہو۔فالو اس کوکیا جاتا ہے جس کا رویہ ٹھیک ہو۔۔ اس کے بعد بولے یاد رکھنا ہمیشہ جو کام آپ نے خود نہیں کیا اس کی ٹریننگ نہ دینا۔۔
نئے آنے والے نوجوانوں کے بارے میں کچھ فیلڈز بتاتے ہوئے کیا کہ ٹائم مینیجمنٹ،رئیل مارکیٹنگ،یوٹیوبر،گول سیٹنگ اور سکول کوچ وغیرہ ابھی ہمارے ملک میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ان میں سے کسی ایک کے بھی ماہر بن جاؤ۔۔آپ اچھے ٹرینرز میں شمار ہو جاؤ گے۔۔مزید کہنے لگے کہ لوگوں کو تو ٹیبل مینجمنٹ اور لباس کا ہی نہیں پتا۔۔آپ فیلڈ وہ پکڑیں کہ جو کام آپ کو آتا ہو اور آپ دوسروں کو سکھا سکیں۔ٹریننگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اپنی صلاحیت اور سکل کو کسی میں پیدا کرنا ٹریننگ ہے۔
ہمارے ہاں جو سب سے بڑا مسلہ ہے اور سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ہے وہ یہ ہے کہ ٹریننگ سے پیسہ کیسے کمائیں۔۔اس پر کہا کہ اگر رزلٹ دینے کی قابلیت ہو اور آپ کا ایک معیار ہو تو پیسہ کمانا مشکل کام نہیں۔۔کوچنگ اور ٹریننگ میں سب سے اہم چیز عزت ہے۔ٹرینر علم نہیں دیتا بلکہ ایک اچھا ٹرینر یقین دیتا ہے۔
بات کرتے کرتے کہنے لگے کہ ہر انسان کو ایک اچھے مینٹور کی ضرورت ہوتی ہے۔۔اگر آپ کسی کو بڑا ماننے کو تیار نہیں تو آپ بڑے نہیں ہو سکتے۔۔حالات و واقعات سے بدلنے والے تعلقات سے بہتر ہے کہ آپ اکیلے رہ لیں۔شاہ جی نے ایک بہت زبردست بات کہی۔۔ کہ اپنے استاد کے علم سے زیادہ اس کے مزاج اور عادتوں کو فالو کریں۔جس بھی فیلڈ کا گرو بننا چاہتے ہو اس پر کتاب لکھ دو۔۔ اپنی فیلڈ کا سنجیدہ یوٹیوب چینل بناؤ۔۔غیر سنجیدہ قوم میں سنجیدہ کام کرنا سب سے مشکل ترین کام ہے۔۔
نپولین ہل نے ایک کتاب لکھی ""Think and Grow Rich"۔۔ کتاب لکھنے تک وہ خود امیر نہیں تھا مگر کتاب لکھتے ہی امیر ہوگیا اور اس کتاب کی وجہ سے بہت سے لوگ امیر ترین ہوئے ہیں۔۔ ادھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نپولین ہل خود تو امیر نہ تھا مگر پھر کیسے اس نے یہ کتاب لک لی؟۔بعد میں پتہ چلا کہ اس کے پاس ریسرچ بہت زیادہ تھی۔اس نے 700کامیاب ترین لوگوں کے انٹرویوز کیے اور پھر اس تمام تحقیق کو کتابی شکل دے دی جس سے لوگوں کو بہت زیادہ فائدہ ہوا۔۔
اپنی ذات میں اچھی خوبیوں کا بینک بنائیں۔اپنی زندگی میں نفاست پیدا کریں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے تنقید کرنے والے کی قدر کریں۔۔جس فیلڈ میں آپ خود ہیں،اس فیلڈ کی عزت کریں۔
دنیا کا سب سے مشکل کام آئینہ دیکھنا ہے کیونکہ یہ صورت دکھاتا ہے۔۔ یاد رکھنا جلد بازی کبھی نہ کرنا۔۔ جلد بازی ام الامراض ہے۔کرپشن کی سب سے بڑی وجہ جلد بازی ہوتی ہے۔۔ اس کی وجہ سے تعلقات تباہ ہو جاتے ہیں۔۔اور فیصلہ کرنے کی طاقت صفر ہوجاتی ہے۔۔دنیا کیلئے رول ماڈل بنیں۔۔اس کیلئے ضروری ہے کہ آپ کا سیکھنے کا عمل جاری ہو،، اور آپ نے خود کچھ کر کے دکھایا ہو۔ آخر میں اختتامی جملہ کیا کہ یاد رکھنا جس کا فائدہ نہیں کر سکتے، اس سے فائدہ نہ لو۔۔
اس ورکشاپ میں بہتکچھ نیا سیکھنے کو ملا۔۔ اور پھر جو میں سوچتا تھا سب کچھ اس کے برعکس ہوا۔۔ میں حیران تھا کہ آخر کوئی کیسے اندر کی تمام باتیں بتا سکتا ہے۔۔ مگر میرے پیارے استاد جناب قاسم علی شاہ صاحب نے سب کچھ ممکن کر دکھایا۔۔ اور ایک اچھا استاد ہونے کا حقیقی معنوں میں ثبوت پیش کیا۔۔ ٹیچر سے ٹرینر کے اس موضوع پر ایک کتاب بھی آچکی ہے۔۔ کتاب اتنی دلچسپ اور مفید ہے کہ میں نے پہلی ہی نشست میں ساٹھ صفحات پڑھ ڈالے اور وقت کا احساس ہی نہ ہوا اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی تنگی محسوس ہوئی۔۔ اس کتاب میں ٹریننگ کی دنیا کی تمام راز کی باتیں بیان کر دی ہیں اور قاسم علی شاہ صاحب نے اپنے قیمتی تجربات کی روشنی میں اس کتاب کو بڑے احسن طریقہ سے پبلش کروایا ہے۔۔ جیسا کہ کتاب کی جلد پر یہ لکھا ہے کہ پروفیشنل ترینر بننے کیلئے بنیادی لائحہ عمل پر مشتمل ایک شاہکار کتاب۔۔ اور ھقیقت میں کتاب اس لکھے گئے جملے پر پورا اترتی ہے۔۔ تمام نئے آنے والے ٹرینرز کیلئے ایک قیمتی تحفہ۔۔ اللہ کریم ہم سب کو آباد شاد رکھے۔۔ اور آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Zafarwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Khawar Ilyas Market
Zafarwal
51670