20/10/2025
زندگی میں مستقل سکون پانے اور اخروی کامیابی کے لیے یہ بہت ضروری ہے
آئیے ہر عمر کے افراد کے لیے بہترین موقع
صــــــــوت القـــــرآن
20/10/2025
زندگی میں مستقل سکون پانے اور اخروی کامیابی کے لیے یہ بہت ضروری ہے
آئیے ہر عمر کے افراد کے لیے بہترین موقع
14/10/2025
09/10/2025
`آئیے قرآن کلاس میں شامل ہو کر اپنی دنیا کو بہترین بنائیں اور
ان شاءاللہ کامیاب آخرت پائیں`
دعوت دیں ،لوگوں کو قرآن کی طرف بلانے والے بن جائیں۔ دین کو پھیلانے میں کردار ادا کریں
ربنا اننا سمعنا مناديا ينادی
`آگے شیئر کریں اگر کوئی ایک بھی آپکی وجہ سے قرآن کلاس سے جڑ گیا تو نہ ختم ہونے والا نیکیوں کا سلسلہ شروع ہو گا۔`
آئیے رب والے بن جائیں ،رب کی طرف بلانے والے بن جائیں
موضوع: ایمان باللہ – ایک جامع عقیدہ اور اس کی چار بنیادیں۔(شیخ صالح عثیمین کے درس سے اقتباس)
یہ گفتگو ایمان باللہ (اللہ پر ایمان) کے چوتھے رکن "اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات پر ایمان" کے تفصیلی بیان پر مشتمل ہے۔
1. اللہ کے اسماء و صفات پر ایمان کی بنیاد:
اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ:
اللہ کے تمام وہ اسماء (نام) اور صفات جو قرآن و سنت سے ثابت ہیں، ہم ان پر بغیر تحریف (بدلاؤ)، تعطیل (انکار)، تکییف (کیفیت بیان کرنا)، یا تمثیل (مثال دینا) کے ایمان رکھتے ہیں۔
ان صفات کا مطلب وہی لیں گے جو ظاہر ہے، مگر ان کی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
ہم نہ انہیں مخلوق کے مشابہ سمجھیں گے، نہ ہی ان کی کیفیت بیان کریں گے۔
2. دو چیزوں سے اجتناب ضروری ہے:
❌ 1. تمثیل (تشبیہ):
یعنی یہ کہنا کہ اللہ کی صفات ہماری صفات جیسی ہیں۔
مثلاً: اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی طرح ہے (یہ عقیدہ باطل ہے)۔
❌ 2. تکییف (کیفیت بیان کرنا):
یعنی صفاتِ الٰہی کی کوئی مخصوص شکل یا ہیئت بیان کرنا، جیسے کہنا: "اللہ کا استواء ایسے ہے جیسے… – یہ ناجائز ہے۔
📌 حل:
ہم کہتے ہیں: "اللہ کی جو صفت قرآن و حدیث سے ثابت ہے، ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں، جیسی وہ ہے، بغیر تمثیل و تکییف کے۔
3. اس عقیدے کی عملی مثال:
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا:
> "اے ابن آدم! میں بیمار ہوا، تُو نے میری عیادت نہ کی… میں نے تجھ سے کھانے اور پانی کا سوال کیا، تُو نے مجھے نہ دیا..."
(صحیح مسلم)
ظاہری طور پر یہ صفات اللہ کے لائق نہیں لگتیں – کہ اللہ "بیمار" ہو یا "کھانے کا طلبگار" ہو، کیونکہ وہ تو سب کو عطا فرمانے والا ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے خود اس حدیث کا مطلب واضح فرما دیا:
"میرا فلاں بندہ بیمار تھا، تُو اگر اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔"
"اگر تُو نے اسے کھانا کھلایا ہوتا، تو گویا مجھے کھلایا۔"
📌 نتیجہ:
جو صفات بظاہر مخلوق جیسی لگتی ہیں، اگر ان کا مطلب مراد نہ ہو تو اللہ یا رسول خود وضاحت فرما دیتے ہیں۔ باقی جو صفات بیان کی گئی ہیں، ان پر ایمان لانا لازم ہے۔
4. لوگوں کے عقائد میں اختلاف:
اہلِ ملت (امت) میں اس معاملے میں مختلف گروہ پیدا ہو گئے:
1. اہلِ سنت والجماعت (حق پر):
اللہ کے تمام اسماء و صفات پر ایمان رکھتے ہیں، بغیر تکییف، تمثیل یا تاویل کے۔
2. بعض نے صرف ناموں پر ایمان رکھا، صفات کا انکار کیا۔
3. کچھ نے بعض صفات مانی، باقی کا انکار کر دیا۔
4. کچھ نے نہ اللہ کی صفات مانی، نہ ان کا انکار کیا۔
✅ نتیجہ اور خلاصہ:
اللہ پر ایمان چار امور پر مشتمل ہے:
1. وجودِ الٰہی پر ایمان
دلائل: فطرت، عقل، حس، وحی۔
شرعی دلائل: اللہ کی کتابوں اور پیغمبروں کا بھیجنا۔
حسی دلائل: اللہ کی عبادت اور دعا کے جواب میں انسان کا تجربہ۔
عقلی دلائل: ہر مخلوق کا ایک خالق ہونا، جیسے اللہ نے قرآن میں فرمایا: "کیا وہ بغیر کسی خالق کے پیدا ہوئے ہیں۔؟
فطری دلائل: انسان فطری طور پر اللہ کو پہچانتا ہے اور اس کا وجود مانتا ہے
2. ربوبیتِ الٰہی پر ایمان
اللہ ہر چیز کا خالق، مالک، مدبّر ہے۔
3. الوہیتِ الٰہی پر ایمان۔صرف اللہ عبادت کے لائق ہے، اس کے سوا سب باطل۔
4. اسماء و صفاتِ الٰہی پر ایمان۔
اللہ کی ہر وہ صفت جو کتاب و سنت سے ثابت ہو، ہم بغیر تمثیل، تکییف، تعطیل اور تاویل کے تسلیم کرتے ہیں۔
🔐 آخری پیغام:
اگر ہم اس اصول (صفات میں بلا تشبیہ و بلا تکییف ایمان) کو تھام لیں۔
تو:ہم ہر قسم کی الجھن اور بدعت سے بچ جاتے ہیں۔
کوئی ہم سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم نے ایک صفت کو مانا اور دوسری کی تاویل کیوں کی۔
ہم اللہ کی عظمت کے مطابق اس کے کلام کو سمجھنے لگتے ہیں۔
🌹الحمد للہ، یہی اہلِ سنت کا معتدل، محفوظ اور صحیح راستہ ہے۔
🎙️ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل حفظہ اللہ
لیکچر نمبر 2
🎙️ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل حفظہ اللہ
دور حاضر میں دنیاوی معاملات نے انسان کو اس قدر مصروف کر دیا ہے کہ اسے اس حقیقت کا بھی خیال نہیں رہا کہ اس کی رہنمائی اور کامیابی کے لیے دنیا کے مالک نے ایک باقاعدہ رہنما کتاب دی ہے جس میں ہر طرح کی رہنمائی موجود ہے
اس کتابِ ہدایت سے لوگوں بالخصوص نوجوان طبقہ کو جوڑنے کے لیے ایک سلسلہ شروع کیا گیا جو بفضل اللہ کامیاب رہا۔ہم اللہ کے اس فضل و مہربانی پر اسکے شکر گزار ہیں اور دعاگو ہیں کہ اس کار خیر کو قبول فرمائے اور ہمارے معاونین کو اس کا دنیاوی اور اخروی بہترین بدلہ عطا فرمائے۔
ہم صوت القرآن نام سے اس سلسلے کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں تو آئیے آپ بھی اس کار خیر کے شراکت دار بن جائیں اللہ آپ سے راضی ہو۔ آمين يارب العالمين
انسان
انسان فرشتے نہیں ہوتے ...
انسان، انسان ہوا کرتے ہیں،
ان سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، انہیں معاف کرنا سیکھیں،
گناہ ہو جانا یہ انسانی زندگی ہے
اور گناہوں کی زندگی میں ملوث رہنا شیطانی زندگی ہے،
اور گناہوں سے توبہ کر لینا یہ ایمانی زندگی ہے،
اور گناہوں کے بالکل قریب نہ جانا یہ نورانی زندگی ہے۔
☘️دعا قبول کروانے کا طریقہ
🎙️ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"اللہ سے دعاء قبول کروانے کے لیے سب سے مؤثر طریقوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی ربوبیت کا بار بار ذکر کیا جائے (یعنی بار بار "یا رب"کہا جائے)۔"☘️
[ جامع العلوم والحكم ( ١٩٧ ) ]
رات عیبوں کو ڈھانپتی ہے اور آنسوؤں کا بھرم رکھ لیتی ہے،اب یہ تو انسان پر ہے کہ وہ رات کے اُس پہر گناہ کرنے نکلتا ہے یا گناہ بخشوانے.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنه فرماتے ہیں:
یہ انسان کے گناہوں کابوجھ ہے جو اُسے رات کو اللہ کے سامنے کھڑا نہیں ہونے دیتا۔
(التہجد و قیام اللیل لابن ابی دنیا:222)