29/05/2026
Summer Camp notification.
National Association of Private Schools (Wazirabad)
29/05/2026
Summer Camp notification.
12/05/2026
"*جنگ کہیں اور، نقصان ہمارے بچوں کا کیوں؟*"
*جنگ ہو یا بحران — تعلیم کا چراغ بجھنا نہیں چاہیے*
جنگی حالات کی سنگینی اپنی جگہ مسلم ہے، مگر ہمیں یہ حقیقت بھی سمجھنی ہوگی کہ اس وقت جنگ براہِ راست پاکستان کی سرزمین پر نہیں ہو رہی، بلکہ کشیدگی Israel، United States اور Iran کے درمیان ہے۔ اس عالمی تناؤ کے اثرات یقیناً ہم تک پہنچ رہے ہیں، خاص طور پر پٹرول اور توانائی کے بحران کی صورت میں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ان بالواسطہ اثرات کی قیمت ہماری تعلیم کو چکانی چاہیے؟ کیا ایندھن کی کمی کے باعث تعلیمی ادارے بند کر دینا ایک مناسب حل ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کا سلسلہ روک دینا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ ایک نئے بحران کو جنم دینا ہے۔ ہمیں حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا، نہ کہ تعلیمی نظام کو معطل کرنا چاہیے۔ کیونکہ جو قومیں مشکل وقت میں بھی اپنے بچوں کو تعلیم سے جوڑے رکھتی ہیں، وہی مستقبل میں مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہیں۔
جنگی حالات میں تعلیمی اداروں کو درپیش مشکلات ایک تلخ حقیقت ہیں—خوف، بے یقینی، وسائل کی کمی، اور ہر لمحہ بدلتی صورتحال۔ مگر تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اندھیروں میں بھی علم کا چراغ جلائے رکھنے والی قومیں ہی روشنی تک پہنچتی ہیں۔ جب گولیوں کی آوازیں گونج رہی ہوں اور فضا خوفزدہ ہو، تب کتاب کھولنا صرف تعلیم نہیں بلکہ امید کا اعلان ہوتا ہے۔
ذرا Germany کو دیکھیے۔ دوسری جنگِ عظیم میں شہر کھنڈر بن گئے، مگر تعلیم کا سلسلہ نہ رکا۔ کہیں عارضی کمروں میں، کہیں کمیونٹی مراکز میں، اور کہیں گھروں میں بیٹھ کر بچوں کو پڑھایا جاتا رہا۔ یہ صرف تعلیم نہیں تھی، بلکہ ایک تباہ حال قوم کی تعمیر کا آغاز تھا۔
اسی طرح United Kingdom میں “Blitz” کے دوران شدید بمباری کے باوجود بچوں کے بستے بند نہ ہوئے۔ انہیں محفوظ علاقوں میں منتقل کیا گیا، زیر زمین پناہ گاہوں میں کلاسز لگیں، اور اساتذہ نے ہر حال میں یہ پیغام دیا کہ تعلیم جاری رہے گی۔
آج کی زندہ مثال Ukraine ہے، جہاں جنگ کے باوجود آن لائن کلاسز، عارضی تعلیمی مراکز اور جدید ذرائع کے ذریعے تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر عزم ہو تو حالات تعلیم کا راستہ نہیں روک سکتے۔
یہ مثالیں ہمیں جھنجھوڑتی ہیں۔ اگر وہ قومیں جنگ کے شعلوں میں بھی اپنے بچوں کے ہاتھوں میں کتاب دے سکتی ہیں، تو ہم کیوں نہیں؟
*عملی تجویز: محدود وسائل میں تعلیمی تسلسل*
موجودہ پٹرول بحران کے پیش نظر ہمیں تعلیمی نظام میں لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مکمل بندش کے بجائے درج ذیل اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں:
ہفتے میں 6 دن کے بجائے 4 یا 3 دن اسکول کھولے جائیں
طلبہ کو دو گروپس میں تقسیم کیا جائے:
گروپ A: پیر تا بدھ
گروپ B: جمعرات تا ہفتہ
اس طرح ایک وقت میں طلبہ کی تعداد کم ہوگی، ایندھن کی بچت ہوگی، اور تعلیمی ماحول بھی بہتر رہے گا
باقی دنوں میں آن لائن یا ہوم بیسڈ اسائنمنٹس دیے جائیں
اساتذہ کے لیے ہائبرڈ ماڈل اپنایا جائے تاکہ غیر ضروری آمدورفت کم ہو
یہ طریقہ نہ صرف وقتی بحران کا حل فراہم کرے گا بلکہ تعلیمی سلسلے کو بھی جاری رکھے گا۔
تعلیم صرف کتابوں کا نام نہیں، یہ شعور، برداشت اور ترقی کی بنیاد ہے۔ اگر ہم نے مشکل وقت میں بھی اسے جاری رکھا، تو یہی نسل کل ہمیں بحرانوں سے نکالے گی۔
آخر میں یہی کہنا کافی ہے کہ جنگیں وقتی ہوتی ہیں، مگر تعلیم کا اثر دائمی۔ لہٰذا ہمیں ہر حال میں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہمارے تعلیمی چراغ کبھی بجھنے نہ پائیں۔
نعیم خاور
ماہر تعلیم و چیئرمین نیپس وزیرآباد