03/09/2024
الحافظ آن لائن قرآن اکیڈمی
معلمہ مہوش بنت ذوالفقار علی
١/قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: *(مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ الله وَمَنْ عَصَانِيْ فَقَدْ عَصَى الله)*
جس نے ميري فرماں برداري كي اسنے الله تعالى كي فرماں برداري كي اور جس نے ميري نہ فرماني كي اسنے الله تعالى كي نہ فرماني كي.
یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور اتباع کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق، جو شخص رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری کرتا ہے، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کر رہا ہے، اور جو آپ ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر رہا ہے۔
# # # حدیث کی تشریح:
1. **رسول اللہ ﷺ کی اطاعت، اللہ کی اطاعت ہے**:
- اس حدیث کا پہلا حصہ یہ بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے، اور ان کی اتباع دراصل اللہ کی مرضی کے مطابق چلنا ہے۔ قرآن مجید میں بھی متعدد مقامات پر اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ (مثال: سورۃ النساء: 80)
2. **رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی، اللہ کی نافرمانی ہے**:
- اس حدیث کا دوسرا حصہ یہ واضح کرتا ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر رہا ہے۔ چونکہ نبی ﷺ اللہ کے احکامات کو لوگوں تک پہنچانے والے ہیں، لہذا ان کی نافرمانی کا مطلب ہے کہ انسان اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
# # # عملی پہلو:
- اس حدیث کی روشنی میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور سنتوں پر عمل پیرا ہوں، کیونکہ آپ ﷺ کی اطاعت ہی اللہ کی رضا اور خوشنودی کا ذریعہ ہے۔ اس سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ایمان کا ایک لازمی جزو ہے۔
# # # نتیجہ:
یہ حدیث ایک اہم پیغام ہے جو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی فضیلت کو بیان کرتی ہے اور مسلمانوں کو یہ باور کراتی ہے کہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی اتباع ضروری ہے