Hamara Wazirabad

Hamara Wazirabad

Share

Hamara Wazirabad

11/05/2025

تم نے کہاں غلطی کی؟
ایک کھلا خط: نریندر مودی اور امیت شاہ کے نام
اقبال لطیف
© اقبال لطیف، 2025 – جملہ حقوق محفوظ ہیں

محترم وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ،
میں یہ خط کیوں لکھ رہا ہوں؟

میں یہ خط کسی حریف یا مخالف قوم پرست کی حیثیت سے نہیں لکھ رہا۔
میں ایک تاریخ کے مشاہد کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں — ایک ایسا مشاہد جو سمجھتا ہے کہ جب داؤ پر ایٹمی سلامتی ہو اور خطہ آتش فشاں ہو، تو سچائی کو غرور سے بلند بولنا چاہیے۔

یہ خط انتقام کے لیے نہیں لکھا گیا۔
یہ جوابدہی کے لیے لکھا گیا ہے۔
یہ اسٹریٹجک عاجزی کی ضرورت کے لیے لکھا گیا ہے — کیونکہ جب وہ غلطیاں کرتے ہیں جو افواج کے کمانڈر ہیں، تو خاموشی کوئی خوبی نہیں رہتی۔

بھارت نے صرف ایک کارروائی نہیں کی—بلکہ پورے خطے کا توازن بدل دیا۔
اور اس عمل میں، اس نے ایک ایسی برابری کو جنم دیا جس کا برسوں سے انکار کیا جاتا رہا تھا۔

یہ خط غصے میں نہیں لکھا گیا۔
یہ اس سنجیدہ شعور کے ساتھ لکھا گیا ہے جو کسی اسٹریٹجک سانحے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔

آپ نے صرف فوجی لحاظ سے غلطی نہیں کی۔
آپ نے نظریہ غلط سمجھا، حریفوں کا غلط اندازہ لگایا، جغرافیائی سیاست کو نظر انداز کیا، اور اس بنیادی توازن کو توڑ دیا جو اب تک اس خطے کو تباہی سے بچائے ہوئے تھا۔

سنسرشپ اور اسٹریٹجک خودفریبی

سالوں تک آپ کے حلقہ اثر نے ان تمام آوازوں کو دبایا جو عاجزی کا درس دیتی تھیں۔
ہر اس تجزیہ کار کو جو رافیل طیاروں کی حد سے زیادہ تشہیر پر سوال اٹھاتا، ملک دشمن کہا گیا۔
ہر اس سفارتکار کو جو مذاکرات کا مشورہ دیتا، کمزور قرار دیا گیا۔

آپ نے اپنے ارد گرد مشیروں کی بجائے آئینے کھڑے کر لیے۔
چنانچہ آپ نے یہ گمان کر لیا کہ چار کھرب ڈالر کی معیشت برتری خرید سکتی ہے۔
کہ وقار کا مطلب خوف ہے۔
کہ کوئی آپ کو چیلنج نہیں کرے گا۔

لیکن آپ کو ان میزائلوں نے جواب دیا جنہیں آپ ناکارہ کہتے تھے۔
ان فضائی پلیٹ فارمز نے جواب دیا جنہیں آپ فرسودہ کہتے تھے۔
اور ایک ایسے نظریے نے جو آپ کی نظروں سے اوجھل رہا۔

تنسیخ، اشتعال انگیزی — اور کوئی تحقیقات نہیں

آپ نے کارگل کے بعد سب سے بڑی علاقائی کشیدگی کو بھڑکایا بغیر کسی فرانزک تحقیق، بغیر کسی سیٹلائٹ امیجری، اور بغیر کسی بین الاقوامی تفتیش کے—صرف قوم پرستی کے مظاہروں کی بنیاد پر۔

آپ نے آبی معاہدوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا، ان میں سے ایک انڈس واٹرز ٹریٹی بھی تھی—جو ماضی کی جنگوں میں بھی قائم رہی تھی۔

آپ نے کہا:

> "پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملے گا۔"

یہ محض بیانیہ نہیں تھا—بلکہ آبی جنگ کا اعلان تھا، جو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی جرم ہے۔

پھر آپ نے پیشگی فضائی حملے کا حکم دیا، یہ سوچ کر کہ خوف کے ذریعے پاکستان کو جھکایا جا سکتا ہے۔

لیکن اس کے جواب میں، پاکستان نے چند گھنٹوں میں ہی آپ کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔

آپ کہاں غلط ہو گئے؟

آپ نے افسانے پر بھروسا کیا، حقیقت پر نہیں۔

آپ نے میڈیا کی پیش گوئیوں پر اعتبار کیا، نہ کہ سٹیلائٹ ڈیٹا پر۔

آپ نے PR ایونٹس کو حکمت عملی سمجھ لیا۔

آپ نے اختلاف کی آوازوں کو دبا کر خود کو طاقتور سمجھ لیا۔

آپ نے پاکستان کے تحمل کو کمزوری سمجھ لیا۔

اور جب حقیقت سامنے آئی — پاکستان کے ریڈار اور میزائل نظام کے ذریعے — تب آپ کو معلوم ہوا کہ اصل مقابلہ نعرے بازی سے نہیں، نظریے سے تھا۔

ایک نظریہ جسے آپ نے کبھی سمجھا ہی نہیں

جب آپ کے ستر طیارے اڑے، تو وہ ایک ڈیجیٹل کل ویب کے شکار بنے۔

آپ کے 290 ملین ڈالر والے رافیل طیارے—جن کی قیمت پاکستان کے پورے بیڑے سے تین گنا تھی—شکار بنے، جام کیے گئے، اور واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے۔
کچھ لوٹ ہی نہ سکے۔

آپ کے ڈرون، جن سے آپ نے غزہ جیسی دہشت پھیلانے کی امید کی تھی، خود نشانے بن گئے۔

آپ کا S-400 دفاعی نظام، جسے علاقائی برتری کا ضامن کہا گیا تھا، ناکام ہو گیا۔
پاکستان کے نو میں سے دس میزائل گجرات، راجستھان، اور سنٹرل کمانڈ کے فضائی اڈوں پر نشانے پر لگے۔

جبکہ آپ اب بھی دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسلام آباد گر چکا ہے۔

اسٹریٹجک اثرات

بھارت کا کواڈ میں چین کے خلاف توازن کا کردار ختم ہو گیا۔

مغربی اتحادی اب دیکھ رہے ہیں کہ چین سے مربوط پلیٹ فارمز ان کے اپنے ہتھیاروں سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔

خلیجی ریاستیں اب پاکستان اور چین کے اتحاد کو ایک سنجیدہ دفاعی محور کے طور پر دیکھتی ہیں۔

آپ سبق سکھانے نہیں گئے تھے—بلکہ سبق سیکھنے گئے تھے۔
وہ بھی پوری دنیا کے وار کالجوں کے لیے ایک "مطالعہ کیس" بن کر۔

کراچی نہیں گرا—دہلی کا نظریہ گر گیا

آئیے حقیقت تسلیم کریں:

کراچی آج بھی قائم ہے۔

عاصم منیر مکمل کنٹرول میں ہیں۔

پاکستان کا سیاسی ڈھانچہ برقرار ہے۔

لیکن بھارت کا "فوری اور فیصلہ کن جوابی کارروائی" کا نظریہ ٹوٹ چکا ہے۔

اور یہ صرف علامتی شکست نہیں—عملی شکست ہے۔

برتری سے تنہائی تک

بھارت کی معاشی طاقت ایک اسٹریٹجک جمود میں بدل گئی۔

مودی کا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا "ماسٹر اسٹریٹجسٹ" کا امیج ختم ہو گیا۔

اب صرف ایک تلخ حقیقت باقی ہے:

> میزائل پرواہ نہیں کرتے کہ پریس ریلیز کس نے لکھی ہے۔
نظریہ تکبر کو نگل جاتا ہے۔

یہ آپ کی اسٹریٹجک غلطی تھی

آپ نے پاکستان کو توڑنے کی کوشش میں،
اپنے ہی نقائص کو نمایاں کر دیا:

معاشی حد سے زیادہ خود اعتمادی

نظریاتی کمزوری

جنگی اصولوں کی بے توقیری

اور میں پوچھتا ہوں — آپ کہاں غلط ہو گئے؟

جب آپ نے طاقت کو ناقابل تسخیر ہونے کا مترادف سمجھا۔

جب آپ نے جنگ کو بغیر انجام سوچے چھیڑا۔

جب آپ نے پانی، جنگ اور خاموشی کو قابو پانے کے آلے سمجھے۔

یہ دیود اور جالوت کی جنگ نہ تھی—
یہ تو وہ جالوت تھا جو حد سے زیادہ شور کر رہا تھا،
اور دیود خاموشی سے سنتا رہا—اور صحیح موقع پر وار کیا۔

آپ نے صرف زمین نہیں کھوئی۔ آپ نے حکمت عملی کا بیانیہ کھو دیا۔

آپ نے سوچا کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے۔
آپ نے بندرگاہ بند کرنے کے خواب دیکھے۔
آپ نے INS Vikrant کو تھیٹر میں تعینات کیا گویا فتح یقینی ہو۔

لیکن حقیقت یہ ہے:

جس کراچی کو آپ مٹانا چاہتے تھے—اسی کراچی نے دکھا دیا کہ ممبئی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

آپ کی مشرقی بندرگاہیں — وشاکھاپٹنم، چنئی، پردیپ — بھی کمزور ہیں۔

یہ بڑھاوا نہیں۔ یہ برابری ہے۔

اسٹریٹجک برابری

آپ نے اپنی غلط حکمت عملی سے پاکستان کو اسٹریٹجک مساوات عطا کر دی ہے۔

جسے آپ "خستہ حال ریاست" کہتے تھے—
آج وہ آپ کی کھربوں ڈالر کی معیشت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

یہ صرف ہتھیاروں کی بات نہیں تھی—
یہ عزم اور استقامت کی جنگ تھی۔

اور سب سے بڑی ستم ظریفی؟

آپ نے پاکستان کی روایتی مزاحمتی صلاحیت کو جائز حیثیت دے دی ہے۔

دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پاکستان ایئر فورس نے پرسکون اور منظم انداز میں بریفنگز دیں، اور کیسے ایک ذمہ دار جوہری طاقت کا تاثر پیش کیا۔

نتیجہ

آپ سبق سکھانے نہیں گئے تھے—بلکہ اپنی حکمت عملی کا ڈھانچہ کھو آئے۔
آپ جنگ میں گئے—اور بغیر کسی فائدے کے واپس آئے۔

اور اس عمل میں،
آپ نے پورے جنوبی ایشیا کا توازن بدل دیا۔

---

PS: میں نے یہ خط کیوں لکھا؟

یہ خط دشمنی یا نفرت سے نہیں لکھا گیا—بلکہ حقیقت کی زمین پر کھڑے ہو کر ایک خطرناک افسانوی بیانیے کی اصلاح کی کوشش ہے۔

جب اربوں جانوں کا سوال ہو، تو ہمیں شور و غوغا کو حکمت عملی سے الگ کرنا ہوگا۔

اقبال لطیف

07/01/2025

*ہم ساری زندگی یہی سوچتے رہ جاتے ہیں کہ صرف میرے کرنے سے کیا ہوگا؟!*

آپ کا راستے سے اک پتھر اٹھانا
کسی کو بڑے حادثے سے بچا سکتا ہے
آپ کا کسی سے ہنس کر بات کرنا
کسی کا دن بنا سکتا ہے

آپ کا روزانہ کم از کم دس بیس روپے
الگ سے جمع کرنا
اور کسی ضرورت مند کو دینا
اس کی زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے✨

اس جیسے
اور بہت سے چھوٹے چھوٹے کام
لوگوں کی زندگیاں
آسان بنا سکتے ہیں
بس
ہمیں اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے

*ناجانے اللہ آپ کے حصے میں کتنی بڑی خوشی ڈال دے اور بگڑے کام سنور جائیں*

09/07/2024

***** ہمارے خادم *****
اس ملک میں 7 چیزیں عوام کے لیے مہنگی ہیں
(1) بجلی
(2) گیس
(3) گاڑی
(4) پیٹرول
(5)گھر
(6)علاج
(7)سفر
اور یہ 7 چیزیں ہمارے سیاستدان بیوروکریٹس عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے بلکل فری ہیں .
پھر وہ ہمارے خادم کیسے ہوٸے

29/08/2023

ایشیا کپ 2023 کے میچز کا شیڈول جاری کر دیا گیا
ٹورنامنٹ کا آغاز 30 اگست کو ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان بمقابلہ نیپال کے میچ سے ہوگا

Asia Cup 2023 in 🇵🇰 , 🇱🇰
Matches Schedule Opening Match will be played at Multan
Pakistan vs Nepal

30 August - 17 September


29/08/2023

چھوٹے
ہمیشہ
اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں
عبادتیں بھی،
محبتیں بھی،
نفرتیں بھی❤️










24/08/2023

مخلوط تعلیم سے بے حیائی، بےپردگی،فحاشی و عریانی عام ہوگئی ہے۔اسی وجہ سے آئے روز تعلیمی اداروں میں شرمناک واقعات ہورہے ہیں جس سے ہمارا معاشرتی ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ اس مسئلے کا حل بہت ضروری ہے۔
* ہم سب پاکستانی مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک میں اسلامی نظام تعلیم کے لئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں.
* پرائمری سے یونیورسٹی تک خواتین کی تعلیم علیحدہ کی جائے اور ان تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ کرام مع خواتین سٹاف تعینات کیا جائے۔













23/08/2023

بٹگرام میں چئر لفٹ میں پھنسے افراد کا بچاؤ
الخدمت فاؤنڈیشن بنی نوع انسان کی خدمت میں پیش پیش ہے ۔ آج بھی بٹگرام کے علاقے میں چئیر لفٹ میں پھنسے ہوئے بچوں کو نکالنے کے لیے جب پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز کو دشواری پیش آئی تو الخدمت کے رضا کاروں کو طلب کیا گیا اور الخدمت کے رضا کار چارپائی کی ڈولی بناکر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اسی رسی کے ذریعے کیبل کار سے معصوم بچوں کو نکالنے کے لیے پہنچ گئے ہیں ۔
الخدمت کے یہ رضاکار شمالی علاقوں میں سیلاب متاثرہ افراد کو اسی طرح سے دریا کی موجوں سے بچا کر لائے تھے ۔
یقیناً یہ رضاکار اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے یہ سب کچھ کررہے ہیں
آج تمام میڈیا الخدمت فاؤنڈیشن کا نام لینے سے کیوں گھبرارہا ہے ؟
وطن کے ان سپوتوں کو جو 6000 فٹ کی بلندی پر رات کے اندھیرے میں جنگل اور سنگلاخ پہاڑوں ،دریا کی روانی اور آکسیجن کی کمی کے باوجود اس قومی خدمت میں مصروف ہیں انہیں سیلوٹ پیش کرنے کو جی چاہتا ہے ۔
اور زبان سے یہ بات نکلے بغیر نہیں رہتی
اے قوم اگر دے تو ساتھ ہمارا
ہم لوگ بدل سکتے ہیں حالات کا دھارا

معروف ماہر تعلیم پروفیسر (ریٹائرڈ ) حافظ ڈاکٹر محمد اقبال آئی۔ای۔آر پنجاب یونیورسٹی لاہور۔

23/08/2023

سب سے بڑی بے حیائی،
حیا کے
فلسفے کو صرف عورت تک محدود رکھنا ہے

12/08/2023

تمہارے شہر کے تاجر عجیب شاطر ہیں

کسی کو نیند بھی بیچی تو خواب مار لیا
Hamara Wazirabad

06/08/2023

پنجاب حکومت نے بلدیہ ایپ جاری کردی،
آپ گھر بیٹھے بچوں کی پیدائش کا اندراج ، فیملی ممبر کی وفات کا اندارج ، شادی یا طلاق کا اندراج کراسکتے ہیں
اور یونین کونسل کی سرٹیفائیڈ کاپی حاصل کرسکتے ہیں،
یہ پنجاب حکومت کا ایک بڑا اہم کارنامہ ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے،
یونین کونسلز کے سیکرٹریز کی بلیک میلنگ اور رشوت سے بچنے کیلئے ایپ کا استعمال کریں اور گھر بیٹھے اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔ سوشل میڈیا ذرائع
*پلے سٹور سے ایپ انسٹال کریں اور اکاؤنٹ بنا کر ایپ استعمال کریں.
#ایڈمن

06/08/2023

_*"میٹرک " کے بعد کیا کریں؟*_

_*کون کون سے شعبے اور مواقع ھیں۔*_

آج کل میٹرک کے امتحانات کے بعد بچے اور والدین مناسب رہنمائی اور علم نا ھونے کے باعث فیصلہ نہیں کر پاتے کہ وہ آگے بچوں کو کس شعبے کی تعلیم دلوائیں۔
طالب علموں کی اکثریت کیرئیر کے انتخاب میں مدد نہ ہونے کی وجہ سے پریشان نظر آتی ہے۔ طلبہ کے سامنے بہت سارے راستے ہوتے ہیں اور انہیں مناسب سمت میں رہنمائی نہیں ملتی۔
بہت سارے طالب علم ایسے ہوتے ہیں جو میٹرک کے بعد والے تمام شعبہ جات سے ہی نا واقف ہوتے ہیں۔

ذیل میں میٹرک کے بعدانٹرمیڈیٹ کی سطح کے مختلف شعبہ جات کامختصرتعارف پیش کیا جا رھا ھے، تاکہ طلبا کو اپنی مرضی کا شعبہ چننے میں آسانی ہوسکے۔
جو درج ذیل ہیں:

ایف ایس سی
ایف اے
آئی سی ایس
آئی کام/ڈی کام
اے لیول
ڈی اے ای
پیرامیڈیکل کورسز

سائنس گروپ (FSc)

ایف ایس سی میں انگریزی، اردو، اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے مضامین لازمی طورپرپڑھائے جاتے ہیں اورباقی مضامین کا مختلف گروپوں میں ہم خودسے انتخاب کرتے ہیں۔
F.Sc
میں عموماً طلبا کادوبڑے شعبوں کی طرف رجحان پایاجاتاہے اوریہ بنیادی شعبے مندرجہ ذیل ہیں۔
پری میڈیکل
پری انجینئرنگ

1۔ پری میڈیکل گروپ
جیسا کہ نام سے ظاہرہے کہ اس گروپ میں جانے والے میڈیکل یا بائیولوجی کے دیگر ذیلی شعبہ جات کی طرف جاتے ہیں۔ایف ایس سی پری میڈیکل گروپ کے لازمی مضامین مندرجہ ذیل ہیں
فزکس – کیمسٹری – بیالوجی
طلبا کو میٹرک میں ان تینوں مضامین کابنیادی تعارف کروا دیا جاتا ہے اور ایف ایس سی پری میڈیکل اچھے نمبروں سے پاس کرنے کے بعدان کے پاس ایم بی بی ایس کرنے کے مواقع ہوتے ہیں۔
ایف ایس سی پری میڈیکل کے بعد ایم بی بی ایس کے علاوہ دو اور شعبے بھی ہیں جن کو بیچلر آف ڈینٹل سرجری(BDS) اور ڈاکٹر آف ویٹرنری میڈیسن (DVM) کا نام دیاجاتا ہے۔
بی ڈی ایس کے طالب علم دانتوں کے سپیشلسٹ بنتے ہیں اورڈی وی ایم کے طالب علم جانوروں کے ڈاکٹربنتے ہیں۔ ان شعبہ جات کے علاوہ پری میڈیکل میں انٹرمیڈیٹ کے بعد چار سالہ بی ایس آنرز بھی ہوتا ہے جو بائیولوجی کے بیسیوں ذیلی شعبہ جات میں کیا جاسکتا ہے۔جن میں زوالوجی، باٹنی، بائیو ٹیکنالوجی، ڈیری فارمنگ ایڈ فشریز، الائیڈ ہیلتھ سائنسز، ایگریکلچر، اینوائرنمینٹل سائنسز وغیرہ شامل ہیں۔ ڈاکٹر آف فارمیسی اور ڈاکٹر آف فزیوتھراپی میں بیچلر کی ڈگری5سال پر مشتمل ہوتی ہے جس میں ادویات سازی اور ان کے استعمال کے متعلق پڑھایا جاتا ہے۔

2۔ پری انجینئرنگ گروپ
پری انجینئرنگ میں ایف ایس سی کرنے کے بعد طالبعلم کے پاس کیرئیر بنانے کے بے شمار مواقع دستیاب ہوتے ہیں۔
پری انجینئرنگ کے مضامین مندرجہ ذیل ہیں
فزکس – کیمسٹری – ریاضی
ایف ایس سی پری انجینئرنگ کے متعدد شعبوں کے راستے آپ پر کھل جاتے ہیں۔ ان میں سول ، مکینیکل، الیکٹریکل، میکاٹرونکس، الیکٹریکل پاور، کیمیکل سافٹ ویئر انجینئرنگ وغیرہ سر فہرست ہیں۔
انجینئرنگ کے علاوہ بھی بہت سارے مواقع موجود ہیں۔ کمپیوٹر سائنس، کمیسٹری، فزکس، میتھ میٹکس، ڈبل میتھ فزکس اور اس کے بے شمار راستے آپ کے سامنے ہوں گے۔ جبکہ آپ پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ کے بعد آرٹس کے بھی تمام مضامین میں گریجوایشن کر سکتے ہیں۔

جنرل سائنس گروپ :
ایف ایس سی پری میڈیکل اورپری انجینئرنگ کے علاوہ جنرل سائنس گروپ میں بھی طلبا کی کثیرتعداد داخلہ لیتی ہے۔ ایسے طلبا جو جنرل سائنس گروپ میں انٹرمیڈیٹ کرنے کے خواہش مند ہوں،وہ لازمی مضامین انگریزی، اردو، اسلامیات، مطالعہ پاکستان کے علاوہ مختلف اختیاری مضامین کا انتخاب کرتے ہیں،جن میں ریاضی ، شماریات، اکنامکس،جغرافیہ وغیرہ شامل ہیں۔یہ طلبا آگے چل کر مختلف ڈگری کورسزمیں داخلہ لیتے ہیں۔

آرٹس گروپ(FA):
ایف اے کے طلبا کولازمی مضامین کے علاوہ اسلامیات اختیاری،نفسیات،فزیکل ایجوکیشن، پنجابی، فارسی، عربی، اردو ادب اور سوکس وغیرہ کے مضامین میں کوئی سے تین مضامین کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ایف اے کرنے کاکوئی فائدہ نہیں، یہ بات بالکل غلط ہے۔ درحقیقت انسان جس شعبے میں محنت کرے،اس میں اپنی پہچان بناسکتا ہے۔ بڑے بڑے اہم عہدوں پرفائزایف اے، بی اے کرنے والے لوگوں نے پاکستان میں سول سروسز (CSS) اور صوبائی انتظامی شعبہ جات(PMS) کے مقابلہ جاتی امتحانات پاس کرکے یہ عہدے حاصل کیے اورحکومت میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ایف اے کرنے کے بعدبی اے میں داخلہ لینے والے طلبا صحافت ،درس وتدریس اور مختلفانتظامی شعبہ جات سے منسلک ہوتے ہیں۔

کمپیوٹر سائنس گروپ(ICS):
”گلوبل ویلیج” ہونے کے تصورمیں کمپیوٹر کی اہمیت مسلمہ ہے۔ کمپیوٹر کی تعلیم میں ابتدائی سطح پرآئی سی ایس کروایاجارہاہے جوکہ انٹرمیڈیٹ کی سطح کی تعلیم ہے۔ اس میں طلبا وطالبات لازمی مضامین کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر ، ریاضی اور فزکس یا Statistics کے مضامین کا انتخاب کرتے ہیں۔ آئی سی ایس کرنے والے طلبا اس کے بعد 3سالہ بی سی ایس (BCS)یا چار سالہ بی ایس سی ایس((BSCS، بی ایس آئی ٹی(BSIT) یا سافٹ ویئر انجینئرنگ میں داخلہ لیتے ہیں۔

کامرس گروپ(I.Com):
کامرس یابزنس آج کے دور کااہم ترین شعبہ ہے۔بزنس کے مختلف اسرار و رموز اورداؤپیچ سکھلانے کے لئے انٹرمیڈیٹ کی سطح سے ہی آئی کام کے کورس کا اہتمام کیا گیاہے۔I.Comکے طلبا مختلف مضامین میں لازمی مضامین انگریزی ، اردو، اسلامیات،مطالعہ پاکستان کے علاوہ اختیاری مضامین ریاضی،اکاؤنٹس،اکنامکس، جغرافیہ اور بینکنگ بھی شامل ہوتے ہیں۔ I.Comکے طلبا 2سالہ I.Com کے بعد BIT,BBIT,BBA, B.Com وغیرہ کے کورسزمیں داخلہ لیتے ہیں۔

ڈپلومہ گروپ (D.A.E):
میٹرک کے بعدطلبا کے لیے صحیح کورس کاانتخاب بہت بڑا مسئلہ ہے اورسمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں پڑھا جائے اورکیا پڑھا جائے۔اس مسئلہ کاشکارطلبا کے لیے جوخاص طورپر انجینئرنگ کا رجحان رکھنے والے ہیں، انجینئرنگ میںتعلیم حاصل کرنے اور آگے بڑھنے کاایک راستہ D.A.E بھی ہے۔ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ جو کہ میٹرک کے بعد(صرف سائنس سٹوڈنٹس کے لیے)3 سال پر محیط ہے اوراس کومکمل کرنے کے بعد یہ ڈپلومہ F.Sc کے برابر ہوتاہے۔
پاکستان میں ڈی۔اے ۔ای درج ذیل ٹیکنالوجیز میں کروایا جاتا ہے۔
مکینیکل انجینئرنگ
الیکٹریکل انجینئرنگ
الیکٹرونکس انجینئرنگ
سول انجینئرنگ
آٹواینڈ فارم انجینئرنگ
انفارمیشن ٹیکنالوجی
شوگرٹیکنالوجی
فوڈٹیکنالوجی
انسٹرومنٹ ٹیکنالوجی
پٹرول اینڈ ڈیزل ٹیکنالوجی
ریفریجریشن اینڈ ائیرکنڈیشنر
کیمیکل ٹیکنالوجی
علاوہ ازیں اس طرح کی بہت سی ٹیکنالوجیز میں ڈی اے ای کروایا جارہاہے۔
ڈپلومہ کرنے کاایک فائدہ یہ ہے کہ یہ ٹیکنیکل کورس ہوتا ہے اورسرکاری سیکٹر میں ڈپلومہ کرنے کے بعد 14 سکیل تک نوکری مل جاتیہے۔D.A.E کرنے کے بعداگرمزیدپڑھائی کاارادہ ہو تو آپ اپنے متعلقہ شعبہ میںبی ایس انجینئرنگ اوربی ایس ٹیکنالوجی کرسکتے ہیں۔
D.A.E
اردواورانگلش دونوں زبانوں کے علاوہ گورنمنٹ اورپرائیویٹ دونوں قسم کے اداروں میں کروایا جاتا ہے۔ لیکن گورنمنٹ کالجز سے نکلنے والے ڈپلومہ ہولڈرز پرائیویٹ کی نسبت زیادہ قابل ہوتے ہیں اور ان کی قدربھی انڈسٹری میں زیادہ ہوتی ہے۔
کروانے والے چندبڑے اورمعیاری ادارے درج ذیل ہیں۔ D.A.E
گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ،ساہیوال
گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ،لاہورریلوے روڈ
گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ،لاہوررائے ونڈ روڈ
گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ،بہاولپور
گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ،ملتان
گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ،فیصل آباد
ٹیچر ٹریننگ کالج، فیصل آباد
گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی رسول پور،ڈیرہ غازیخان
گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ،بوریوالہ
گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی، کمالیہ
مکینکل اینڈالیکٹریکل کالج ،راولپنڈی
G.C.Tرسول کالج ،منڈی بہاؤالدین
گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ ،سرگودھا
سویڈش پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ،گجرات
گورنمنٹ کالج آف ٹےکنالوجی ،سیالکوٹ
خیبر پختونخواہ کے ڈی اے ای کروانے والے اہم ادارہ جات
AIMCSپشاور
ASAایبٹ آباد سکول آف آرٹ
احمد زئی پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ ،بنوں
الفلاح انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کوہاٹ
ان کے علاوہ درجنوں ادارے خیبرپختونخواہ اور سندھ میں بھی ڈی اے ای کی تعلیم کے لیے موجود ہیں۔
بلوچستان کے ڈی اے ای کروانے والے اہم ادارہ جات۔
پولی ٹیکنیک کالج کوئٹہ
بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی

داخلہ کی شرائط
ڈی اے ای کے لیے سائنس کا طالب علم ہونا لازمی ہے اور تمام سرکاری کالجوں میں میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیاجاتاہے ۔
ڈپلومہ بہت سے پرائیویٹ اداروں میں بھی کروائے جاتے ہیں لیکن ان میں سرکاری اداروں کی نسبت مشینری اور پریکٹیکل کے آلات بہت کم ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سرکاری کالجوں کے طلبا کوفیلڈ میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
سرکاری کالجوں کی سالانہ فیسیں بھی کم ہوتی ہیں جبکہ ان کی نسبت پرائیویٹ اداروں کی فیسیں زیادہ ہوتی ہیں۔
ڈپلومہ کروانے والاایک بورڈ ہرصوبے میں موجود ہے۔ جیسے پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن ،خیبر پختونخوا بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن ،بلوچستان بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن وغیرہ۔اسی طرح تمام صوبوں میں بورڈزیہ کام سرانجام دے رہے ہیں اورتمام پرائیویٹ اداروں کاان سے الحاق ہونا ضروری ہے۔

پیرامیڈیکل کورسز:
پیرامیڈیکل کورسزسے مراد وہ کورسز ہیں جو ڈاکٹرز کے ساتھ بطورِمعاون کام کرنے والے اور ہسپتال کوچلانے والے افراد تیار کرنے کے لیے کروائے جاتے ہیں۔ ان میں دو طرح کے کورسز ہوتے ہیں۔ ایک تواسسٹنٹ اور دوسرے ٹیکنیشنزہوتے ہیں۔

اسسٹنٹ جیساکہ ڈسپنسرز، آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجی، لیبارٹری اسسٹنٹ وغیرہ ،ان کا سکیل 6 ہوتاہے۔ صوبہ سندھ میں اسسٹنٹ کوسکیل 9اور ٹیکنیشنز کو سکیل 11 دیا جاتاہے۔
یہ کورسز عموماً میٹرک کے بعد جبکہ کچھ ایف ایس سی کے بعدہوتے ہیں۔ پیرامیڈیکل کورسزمیں اہلیت کے لیے میٹرک سائنس (بیالوجی) ہوناضروری ہے اور سائنس مضامین میں سے 50% نمبرز ہوناضروری ہیں۔
ان کورسزکے لیے بہت سے سرکاری ادارے اور ہسپتال موجودہیں۔جبکہ بہت سے پرائیویٹ ادارے بھی رجسٹرڈ ہیں۔ سرکاری اداروں میں داخلہ فیس تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اورٹریننگ بھی اچھی دی جاتی ہے جبکہ پرائیویٹ اداروں میں طلبا کوبھاری فیسیں ادا کرنا پڑتی ہیں جوکہ 30ہزار سے 60ہزار تک ہوتی ہیں۔

ویسے توبہت سے سرکاری ادارے اورہسپتال ہیں جن میں یہ کورسزکروائے جاتے ہیں لیکن پانچ ٹیکنیکل ادارے بالخصوص انہی کورسزکے لیے بنائے گئے ہیں۔ جوکہ مندرجہ ذیل ہیں۔
پیرامیڈیکل سکول آف فیصل آباد
پیرامیڈیکل سکول آف ساہیوال
پیرامیڈیکل سکول آف بہاولپور
پیرامیڈیکل سکول آف سیالکوٹ
پیرامیڈیکل سکول آف سرگودھا

ان کے علاوہ مختلف سرکاری ہسپتالوں میں بھی یہ کورسز کروائے جاتے ہیں۔جن میں لاہورمیوہسپتال، گنگا رام ہسپتال، سروسز ہسپتال، جنرل ہسپتال،سوشل سکیورٹی ہسپتال، شیخ زید ہسپتال، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اور پمز ہسپتال اسلام آباد وغیرہ شامل ہیں۔جوکورسز پیرامیڈیکس کے تحت کروائے جاتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

ڈسپنسر
آپریشن تھیٹرٹیکنالوجی
لیب ٹیکنیشن
ریڈیوگرافر
ڈینٹل ٹیکنیشن
انستھیزیاٹیکنیشن
ڈائیلیسز ٹیکنیشن
انجیوگرافک ٹیکنیشن
میڈٹیکنیشن
اسسٹنٹ فارمسٹ

ان کورسزمیں سے چندایک کوچھوڑکر باقی سب کورسز شیخ زیدہسپتال (لاہور) میں کروائے جاتے ہیں جبکہ باقی ہسپتالوں میں ان میں سے کچھ کورسزکروائے جاتے ہیں۔ ڈسپنسر کورس ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لاہورمیں بھی کروایا جاتا ہے۔
جبکہ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں بی ایس سی لیبارٹری اور میو ہسپتال میں ڈینٹل ٹیکنالوجسٹ جوبی ایس سی کے برابر ہوتاہے ،بھی کروایا جاتاہے۔ ان اداروں میں سے جو مجموعی طور پر سب سے اچھی کارکردگی دکھارہے ہیں،وہ پیرامیڈیکل سکول ساہیوال اوردوسرا شیخ زید ہسپتال لاہور ھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: اس تحریر کی تیاری میں tribe Republic ویب سائیٹ پر موجود مواد کی مدد لی گئی ھے۔

مذکورہ انفارمیشن۔۔۔ مفاد عامہ کی خاطر شئیر کی گئی ھے

i.com

Want your school to be the top-listed School/college in Wazirabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Wazirabad