31/05/2026
⚠️ کیا وزن مسلسل بڑھ رہا ہے؟
کپڑے تنگ ہوتے جا رہے ہیں؟
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سانس پھول جاتی ہے؟
آئینے میں خود کو دیکھ کر پریشانی ہوتی ہے؟
بار بار ڈائٹ شروع کرتے ہیں، مگر چند دن بعد پھر وہی وزن؟
موٹاپا صرف ظاہری مسئلہ نہیں، یہ آپ کی صحت، اعتماد اور روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
🌿 ہومیوپیتھی میں ہر مریض کو الگ انداز سے دیکھا جاتا ہے۔
کیونکہ وزن بڑھنے کی وجوہات ہر فرد میں مختلف ہو سکتی ہیں، جیسے:
✔️ سست میٹابولزم
✔️ ہارمونل عدم توازن
✔️ ضرورت سے زیادہ بھوک
✔️ ذہنی دباؤ
✔️ غیر متوازن طرزِ زندگی
ہمارے کلینک میں:
✅ مکمل کیس ٹیکنگ
✅ صحت کی مجموعی کیفیت کا جائزہ
✅ انفرادی مزاج کے مطابق علاج اور رہنمائی
اگر آپ وزن کو بہتر انداز میں manage کرنا چاہتے ہیں اور صحت مند طرزِ زندگی کی طرف قدم بڑھانا چاہتے ہیں تو آج ہی رابطہ کریں۔
👨⚕️ ڈاکٹر بنارس خان اعوان
📍 واہ کینٹ
📞 0301-5533966
💬 مزید معلومات کے لیے کمنٹ میں "Info" لکھیں یا واٹس ایپ پر رابطہ کریں۔
💡
19/05/2026
محترم شاہد صاحب(حسن ابدال)کو اپنی کتاب پوٹنسی پیش کرنے ہوئے
19/05/2026
ہائے نی مائے : چند ماہ قبل سامنے بیٹھی بزرگ خاتون نے ملک فہیم کھوکھر کی منت سماجت کرکے جیل سے اپنا بیٹا رہا کروایا تھا اب یہ ماں پھر کھوکھر صاحب کے پاس یہ مطالبہ لے کر پہنچی ہے کہ اسکے بیٹے کو گرفتار کروا کے واپس جیل میں ڈالا جائے ۔۔۔ تفصیل یہ ہے کہ ان ماں جی کی بیٹا نشا کرتا اور فروخت کرتا تھا ، اسکو گرفتار ہو کر جیل گئے ایک ہفتہ گزرا تو یہ ماں وکیل صاحب کے پاس پہنچ گئی ۔ انہوں نے سمجھایا کہ ماں جی اسے ابھی جیل میں رہنے دو شاید سدھر جائے لیکن ماں کی ممتا کو قرار نہیں تھا ۔ اس نے واسطے اور قسمیں دے کر کھوکھر صاحب کو راضی کر لیا اور یوں چند ہفتے میں اسکے بیٹے کی ضمانت ہو گئی ، نشا باز بیٹا رہا ہوا تو چند دن بعد ماں سے لڑنا شروع کردیا اسے مارنا پیٹا تو اسکا معمول تھا گھر سے نکلتا اور ماں پوچھ لے تو کہتا، تو کون ہے مجھ سے پوچھنے والی ؟؟ چند روز قبل ماں کا گلا د۔بانے لگا تھا اور ایک بار دھکا دیا تو ماں دیوار پر جالگی ۔۔۔اب ماں جی واپس کھوکھر صاحب کے پاس آئی ہیں کہ اسکے بیٹے کو گرفتار کروائیں اور لمبے عرصے کے لیے جیل بھجوا دیں کیونکہ اس نے انہیں جینے کے قابل بھی نہیں چھوڑا ۔۔۔۔ وکیل صاحب نے حامی بھر لی ہے مگر یہ بھی کہا ہے کہ ماں جی نشا باز کا کوئی ماں باپ نہیں ہوتا اس نے باز نہیں آنا لیکن آپ نے چند مہینے بعد پھر میرے پاس آجانا ہے کہ میرا بیٹا چھڑوا دیں ۔۔ لیکن اب ماں بضد ہے کہ بے شک اسے سی سی ڈی کو دے دو میں چھڑانے نہیں آؤنگی ۔۔۔بس میری اس مصیبت سے جان چھوٹ جائے ۔۔۔ اب آپ ہی بتائیں کھوکھر صاحب کیا کریں ؟
16/05/2026
شہرِ اقتدار میں خلع کی شرح میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ فیملی کورٹس میں کیسز کے انبار لگ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق رواں سال اب تک 45 ہزار سے زائد خلع اور نان نفقہ کے کیسز دائر کیے جا چکے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں ہر ماہ 9 ہزار سے زائد نئے کیسز کا اندراج ہو رہا ہے، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر 300 سے زائد فیملی کیسز فائل کیے جا رہے ہیں۔
عدالتی ذرائع کے مطابق 2023 میں 85 ہزار، 2024 میں 91 ہزار جبکہ 2025 میں کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں روزانہ کی بنیاد پر 30 سے زائد کورٹ میرجز بھی ہو رہی ہیں۔ گزشتہ 4 سالوں میں 38 ایسے کیسز سامنے آئے جہاں شادی کے محض ایک سے تین ماہ بعد خلع لے لی گئی۔
ذرائع کے مطابق خلع اور نان نفقہ کے زیادہ تر کیسز پسند کی شادی کرنے والے فریقین کی جانب سے دائر کیے جا رہے ہیں۔