Saima Riffah

Saima Riffah Quran For all, In Every Hand in Every heart

ہم میں سے ہر شخص دوسرے کے لیے ایک آزمائش ہےآپ اپنے اردگرد لوگوں کے حالات دیکھ کر کبھی حیران ہوتے ہیں:یہ شخص مال دار ہے ا...
24/09/2026

ہم میں سے ہر شخص دوسرے کے لیے ایک آزمائش ہے

آپ اپنے اردگرد لوگوں کے حالات دیکھ کر کبھی حیران ہوتے ہیں:

یہ شخص مال دار ہے اور میں غریب ہوں،
یہ صحت مند ہے اور میں بیمار ہوں،
اسے عزت ملی ہے اور مجھے نہیں،
اسے وہ چیز عطا ہوئی ہے جس سے میں محروم ہوں۔

لیکن قرآن ہمیں صرف حالات کے اس ظاہری فرق سے آگے ایک گہری حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے:

> ﴿وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًا﴾
"اور ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنایا ہے، کیا تم صبر کرتے ہو؟ اور تمہارا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے۔"
(الفرقان: 20)

یعنی اس دنیا میں بعض لوگ بعض کے لیے آزمائش بن سکتے ہیں۔

امام طبریؒ اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو بعض کے ذریعے آزمایا؛ کسی کو نبی بنایا، کسی کو بادشاہ، کسی کو مال دار اور کسی کو فقیر، تاکہ ہر شخص کو اس چیز کے ذریعے آزمایا جائے جو اسے دی گئی اور جس سے اسے محروم رکھا گیا۔

ابن کثیرؒ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمایا، تاکہ ظاہر ہو جائے کہ کون اطاعت کرتا ہے اور کون نافرمانی۔

ہر نعمت بھی ایک امتحان ہے

مال دار صرف نعمت میں نہیں، آزمائش میں بھی ہے:

کیا وہ شکر کرتا ہے یا تکبر؟

کیا وہ اپنے مال میں غریب کا حق پہچانتا ہے؟

فقیر صرف مصیبت میں نہیں، آزمائش میں بھی ہے:

کیا وہ صبر کرتا ہے؟

کیا وہ دوسروں سے حسد نہیں کرتا؟

صحت مند اپنی صحت کے ذریعے آزمایا جاتا ہے،
مریض اپنے صبر کے ذریعے،
طاقت ور اپنی طاقت کے ذریعے،
اور کمزور اپنے صبر کے ذریعے۔

اسی لیے امام قرطبیؒ نے نہایت بلیغ انداز میں فرمایا:

> "ہر شخص اپنے ساتھی کے ذریعے آزمایا جاتا ہے۔"

آپ خود بھی کسی دوسرے کے لیے آزمائش ہو سکتے ہیں

بات صرف یہ نہیں کہ آپ اپنے اردگرد کے لوگوں کے ذریعے آزمائے جا رہے ہیں؛ آپ خود بھی کسی دوسرے کے لیے آزمائش بن سکتے ہیں۔

آپ کی صحت کسی بیمار شخص کے لیے آزمائش ہو سکتی ہے۔

آپ کی کامیابی اس شخص کے لیے آزمائش ہو سکتی ہے جس کی کامیابی ابھی مؤخر ہے۔

آپ کی دولت اس شخص کے لیے آزمائش ہو سکتی ہے جس پر دنیا تنگ ہے۔

آپ کا علم اس شخص کے لیے آزمائش ہو سکتا ہے جو علم سے محروم ہے۔

آپ کا مقام و مرتبہ اس شخص کے لیے آزمائش ہو سکتا ہے جو آپ سے کم حیثیت رکھتا ہے۔

پھر قرآن ایک ایسا سوال کرتا ہے جسے دل سے گزر کر خاموشی سے نہیں گزر جانا چاہیے:

> ﴿أَتَصْبِرُونَ﴾
"کیا تم صبر کرتے ہو؟"

صبر کا اصل مطلب

یہاں صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان درد محسوس کرنا چھوڑ دے، یا اپنے اندر کے غم، حسد یا گھٹن کا انکار کرے۔

بلکہ صبر یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس بات سے روک لے کہ آزمائش اسے ایسے عمل کی طرف لے جائے جو اللہ کو پسند نہیں۔

دوسروں کے پاس نعمت دیکھو تو حسد نہ کرو۔

اپنے پاس نعمت دیکھو تو اتراؤ نہیں بلکہ شکر کرو۔

جو تمہیں تکلیف دے، اس کے مقابلے میں ظلم نہ کرو۔

اور جب تم خود نعمت والے ہو تو اللہ سے ڈرتے ہوئے اس شخص پر برتری نہ جتاؤ جو اس نعمت سے محروم ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> ﴿وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًا﴾
"اور تمہارا رب خوب دیکھنے والا ہے۔"

وہ جانتا ہے کہ کس نے صبر کیا اور کس نے بے صبری کی،
کس نے شکر کیا اور کس نے ناشکری و سرکشی کی،
کس نے اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کیے اور کس نے انہیں ضائع کیا۔

آپ ہمیشہ یہ انتخاب نہیں کر سکتے کہ کون آپ کے لیے آزمائش بنے گا۔

اور آپ یہ بھی ہمیشہ نہیں روک سکتے کہ آپ خود کسی دوسرے کے لیے آزمائش بن جائیں۔

لیکن ایک اختیار آپ کے پاس ضرور ہے:

آپ اس آزمائش میں کامیاب ہونے کا طریقہ منتخب کر سکتے ہیں۔

لہٰذا جب لوگوں کے حالات آپ کو پریشان کریں، یا دنیا میں لوگوں کے درمیان تفاوت آپ کے دل کو دکھائے، تو اللہ کا یہ سوال یاد رکھیں:

> ﴿أَتَصْبِرُونَ﴾؟
"کیا تم صبر کرتے ہو؟"

اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ وَاسِعُ الْفَضْلِ وَالرَّحْمَةِ، عَظِيمُ الْجُودِ وَالْاِحْسَانِ، عَظِيمُ الْمَغْفِرَةِ وَالْحِلْمِ ...
22/09/2026

اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ وَاسِعُ الْفَضْلِ وَالرَّحْمَةِ، عَظِيمُ الْجُودِ وَالْاِحْسَانِ، عَظِيمُ الْمَغْفِرَةِ وَالْحِلْمِ اِلٰهِی اَنْتَ الْكَرِيمُ الَّذِي فَتَحْتَ لِعِبَادِكَ اَبْوَابَ التَّوْبَةِ وَاَبْوَابَ الرَّحَمَةِ وَاَبْوَابَ الْعَفْوِ، وَاَبْوَابَ الْخَیْرِ وَاَبْوَابَ الرِّزقِ وَاَبْوَابَ الدُّعَاءِ وَاَبْوَابَ الْعَمَلِ الصَّالِحِ اَللّٰهُمَّ اَدْخِلْنَا اَبْوَابَ الْخَیْرِ كُلِّهَا وَمَنَعْنَا مِنْ اَبْوَابِ الشَّرِّ كُلِّهَا يَا رَءُوْفُ يَا رَحِيْمُ

اے اللہ!بے شک تووسیع فضل و رحمت والا ہے تو اپنی سخاوت اور احسان کے لحاظ سے بڑی عظمت والا ہے، بخشش اور بردباری کےلحاظ سے بڑی عظمت والاہے۔ اے میرے معبود! تو ہی وہ صاحب کرم ہے جس نے اپنے بندوں کے لیے توبہ ،رحمت ، عفو ودرگزر، خیر ، رزق ، دعاؤں اور نیک عمل کے دروازے کھول رکھے ہیں۔اے اللہ!ہمیں خیر کے تمام دروازوں میں داخل فرما اور ہمیں شر کے تمام دروازوں سے روک لے۔ اے مہربان! اے رحم فرمانے والے۔

20/09/2026
19/09/2026
18/09/2026
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ، وَبِتَوْفِيْقِهِ تَتَحَقَّقُ الْمَقَاصِدُ وَالْغَايَاتُ، ...
18/09/2026

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ، وَبِتَوْفِيْقِهِ تَتَحَقَّقُ الْمَقَاصِدُ وَالْغَايَاتُ، اَحْمَدُهُ سُبْحَانَهُ فِي الْاُوْلٰى وَالْآخِرَةِ، فَلَهُ الْحَمْدُ الْمَوْفُوْرُ، وَاِلَيْهِ الْمَرْجِعُ وَالنُّشُوْرُ

سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس کی نعمت سے نیکیاں مکمل ہوتی ہیں اور جس کی توفیق سے تمام اغراض و مقاصد حاصل ہوتے ہیں۔ میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حمد دنیا وآخرت میں بیان کرتا ہوں، اُسی کے لیے کامل حمد ہے، اسی کی طرف لوٹنا اور دوبارہ جی اٹھنا ہے۔

عطا جو مال سے بڑھ کر ہےقرآنِ کریم میں عطا اور مدد کا تصور صرف مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہر اس نعمت...
18/09/2026

عطا جو مال سے بڑھ کر ہے

قرآنِ کریم میں عطا اور مدد کا تصور صرف مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہر اس نعمت کو شامل ہے جس سے کوئی دوسرا انسان فائدہ اٹھا سکتا ہو۔

کسی شخص کو شاید کسی ایسے انسان کی ضرورت ہو جو اس کی بات سن لے، اسے مشورہ دے، اس کے لیے کچھ لکھ دے، اس کا بوجھ اٹھا لے، اسے راستہ بتا دے، یا اس کی کمزوری اور پریشانی کے وقت اس کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔

عطا صرف مال کا نام نہیں

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَن يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللَّهُ﴾

"اور کوئی لکھنے والا اس بات سے انکار نہ کرے کہ وہ لکھ دے، جیسے اللہ نے اسے لکھنا سکھایا ہے۔"

اس آیت میں انسان کو اس نعمت کی یاد دلائی گئی ہے جو اللہ نے اسے عطا کی، اور ساتھ ہی اسے ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اس نعمت کے ذریعے دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔

جو شخص لکھنے کا ہنر جانتا ہے، وہ یہ صلاحیت خود سے نہیں لایا؛ یہ اللہ کی عطا ہے۔ لہٰذا اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ اسے لوگوں کی ضرورت پوری کرنے میں استعمال کیا جائے۔

اگرچہ یہ آیت قرض کے معاملے کو تحریر میں لانے کے سیاق میں آئی ہے، لیکن اس کا مفہوم ہماری پوری زندگی کے لیے وسیع ہے:

جسے اللہ نے علم دیا، کسی کو کوئی مہارت عطا کی، یا کوئی ایسا تجربہ دیا جس کی لوگوں کو ضرورت ہے، تو اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ وہ اسے اپنے تک محدود نہ رکھے بلکہ دوسروں کے لیے فائدہ مند بنائے۔

ہمت جو سوال سے پہلے پہنچ جائے

اس مفہوم کی ایک خوبصورت قرآنی مثال موسیٰ علیہ السلام کا مدین کے کنویں پر واقعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ امْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ ۝ فَسَقَىٰ لَهُمَا﴾

"اور جب موسیٰ مدین کے پانی پر پہنچے تو وہاں لوگوں کی ایک جماعت کو پانی پلاتے ہوئے پایا، اور ان سے الگ دو عورتوں کو دیکھا جو اپنے جانوروں کو روکے ہوئے تھیں۔ موسیٰ نے پوچھا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتیں جب تک چرواہے واپس نہ چلے جائیں، اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں۔ تو موسیٰ نے ان دونوں کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔"

موسیٰ علیہ السلام نے انہیں مال، کھانا یا لباس نہیں دیا۔ انہوں نے صرف ایک ضرورت دیکھی اور چونکہ وہ اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے تھے، اس لیے بغیر اس انتظار کے کہ وہ مدد مانگیں، خود آگے بڑھے۔

یہ ہماری روزمرہ زندگی کے لیے بہت اہم سبق ہے۔

کسی کو بھاری چیز اٹھاتے دیکھیں تو اس کی مدد کر دیں۔

کسی بزرگ کو کوئی سرکاری یا دفتری کام کروانے میں دشواری ہو تو اس کا کام کر دیں۔

کسی کو راستہ معلوم نہ ہو تو اسے راستہ بتا دیں۔

عطا کی بہت سی صورتیں ہیں

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ﴾

"اور احسان کرو، جیسے اللہ نے تم پر احسان کیا ہے۔"

احسان اور مدد صرف ایک ہی شکل میں نہیں ہوتی۔ انسان اللہ کی طرف سے ملنے والی نعمتوں میں سے کچھ دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔

مدد کی صورتیں بہت سی ہیں:

مال کے ذریعے

اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے

علم کے ذریعے

تجربے اور مہارت کے ذریعے

وقت دے کر

محنت اور جسمانی کوشش سے

رہنمائی اور مشورے کے ذریعے

قرآن میں عطا کی ایک مؤثر تصویر

قرآن انسان کے دل کو اس وقت متوجہ کرتا ہے جب کسی دوسرے کی ضرورت انتہائی شدید ہو:

﴿فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ۝ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ ۝ فَكُّ رَقَبَةٍ ۝ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ ۝ يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ ۝ أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ﴾

"پس وہ دشوار گھاٹی میں داخل نہ ہوا۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ دشوار گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کو غلامی سے آزاد کرنا، یا بھوک کے دن کھانا کھلانا، کسی قرابت والے یتیم کو، یا ایسے مسکین کو جو خاک نشین ہو چکا ہو۔"

آیات میں دوسروں کی تکلیف دور کرنے کی بڑی عظیم صورتیں بیان ہوئی ہیں:

کسی انسان کو آزادی دلانا، قحط اور بھوک کے زمانے میں کھانا کھلانا، یتیم کی کفالت کرنا، اور ایسے مسکین کی مدد کرنا جو انتہائی درجے کی محتاجی تک پہنچ چکا ہو۔

یہاں قرآن ہمیں ایسے انسان کی طرف متوجہ کرتا ہے جو اپنی کمزوری اور ضرورت کی انتہائی حالت میں ہے۔

اسی لیے مدد کی قدر اور اجر اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب سامنے والا اس کا سب سے زیادہ محتاج ہو۔

سب سے بہترین عطاؤں میں سے ایک

صحیح بخاری میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے بہترین اعمال کے بارے میں پوچھا تو حدیث میں آتا ہے:

"تُعِينُ ضَائِعًا، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ"

یعنی: "کسی بھٹکے ہوئے شخص کی مدد کرو، یا کسی ایسے شخص کے لیے کام کر دو جو خود اچھی طرح کام نہ کر سکتا ہو۔"

یہ مدد ہماری روزمرہ زندگی میں بہت عام شکلیں اختیار کر سکتی ہے:

کوئی شخص اپنا کاروبار شروع کرنے کا طریقہ نہیں جانتا، آپ اسے رہنمائی دے دیں۔

کوئی کسی اہم فیصلے کے بارے میں مشورہ چاہتا ہے، آپ اس کے ساتھ سوچ لیں۔

کوئی شخص کسی دفتری کام کو انجام نہیں دے پا رہا، آپ اس کی مدد کر دیں۔

کوئی مشکل میں ہے، آپ اپنے علم اور تجربے سے اس کا مسئلہ حل کرنے میں مدد کریں۔

کوئی مشکل وقت سے گزر رہا ہے، آپ اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔

اختتامیہ

دوسروں کی مدد کے لیے صرف مال کو ذریعہ نہ سمجھیں۔

آپ کے پاس جو کچھ ہے، اسی میں سے کچھ کسی دوسرے کے لیے فائدہ مند بن سکتا ہے:

آپ کا علم، آپ کا وقت، آپ کی محنت، آپ کا تجربہ، آپ کی مہارت، حتیٰ کہ آپ کا ایک اچھا جملہ بھی۔

آپ کے پاس موجود ہر نعمت کسی دوسرے انسان کے لیے نفع کا دروازہ بن سکتی ہے۔

ہم میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے ایک آزمائش ہےآپ اپنے اردگرد لوگوں کے حالات دیکھ کر کبھی حیران ہوتے ہیں: یہ شخص مالدار ہے ا...
16/09/2026

ہم میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے ایک آزمائش ہے

آپ اپنے اردگرد لوگوں کے حالات دیکھ کر کبھی حیران ہوتے ہیں: یہ شخص مالدار ہے اور میں غریب ہوں، یہ صحت مند ہے اور میں بیمار ہوں، اسے عزت و مقام حاصل ہے اور مجھے نہیں، اسے وہ چیزیں مل گئی ہیں جن سے میں محروم ہوں… لیکن قرآن ہمیں محض حالات کے اس ظاہری فرق سے کہیں گہری حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًا﴾ [الفرقان: 20]

’’اور ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنایا ہے، کیا تم صبر کرتے ہو؟ اور تمہارا رب خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘

پس اس دنیا میں انسان بعض اوقات دوسرے انسان کے لیے ایک آزمائش بن جاتا ہے۔

امام طبری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو بعض کے ذریعے آزمایا؛ کسی کو نبی بنایا، کسی کو بادشاہ، کسی کو مالدار اور کسی کو فقیر، تاکہ ہر شخص کو اس چیز کے ذریعے آزمایا جائے جو اسے دی گئی اور جس سے اسے محروم رکھا گیا۔

ابن کثیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمایا، تاکہ ظاہر ہو جائے کہ کون اطاعت کرتا ہے اور کون نافرمانی۔

چنانچہ مالدار صرف نعمت میں نہیں ہوتا بلکہ وہ آزمائش میں بھی ہوتا ہے: کیا وہ شکر ادا کرتا ہے اور تکبر نہیں کرتا؟ کیا وہ اپنے مال میں فقیر کا حق پہچانتا ہے؟ اور فقیر صرف مصیبت میں مبتلا نہیں ہوتا بلکہ وہ بھی آزمائش میں ہوتا ہے: کیا وہ صبر کرتا ہے اور حسد نہیں کرتا؟ صحت مند اپنی صحت کے ذریعے آزمایا جاتا ہے، بیمار اپنے صبر کے ذریعے، طاقتور اپنی طاقت کے ذریعے اور کمزور اسے دیے گئے صبر کے ذریعے۔

اسی لیے امام قرطبی رحمہ اللہ نے اس مفہوم کو نہایت بلیغ الفاظ میں بیان کیا: ’’ہر شخص اپنے ساتھی کے ذریعے آزمایا جاتا ہے۔‘‘

اور معاملہ صرف اتنا نہیں کہ آپ اپنے اردگرد کے لوگوں کے ذریعے آزمائے جاتے ہیں؛ بلکہ آپ خود بھی کسی دوسرے کے لیے آزمائش بن سکتے ہیں۔

آپ کی صحت اس شخص کے لیے آزمائش بن سکتی ہے جو بیماری میں مبتلا ہے۔ آپ کی کامیابی اس شخص کے لیے آزمائش ہو سکتی ہے جس کی کامیابی میں دیر ہو رہی ہے۔ آپ کی خوش حالی اس شخص کے لیے آزمائش بن سکتی ہے جس پر دنیا تنگ ہو گئی ہے۔ آپ کا علم اس شخص کے لیے آزمائش ہو سکتا ہے جو علم سے محروم ہے، اور آپ کا مقام و مرتبہ اس شخص کے لیے آزمائش ہو سکتا ہے جو آپ سے کم حیثیت رکھتا ہے۔

پھر ایک ایسا سوال آتا ہے جسے دل سے سرسری طور پر گزر نہیں جانا چاہیے:

﴿أَتَصْبِرُونَ﴾؟

’’کیا تم صبر کرتے ہو؟‘‘

یہاں صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان درد محسوس کرنا چھوڑ دے، یا اپنے اندر موجود غم، حسرت، حسد یا گھٹن کا انکار کر دے۔ بلکہ صبر یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو اس بات سے روک لے کہ آزمائش اسے کسی ایسے عمل کی طرف لے جائے جو اللہ کو پسند نہیں۔

جب آپ کسی دوسرے کے پاس موجود نعمت کو دیکھیں تو صبر کریں اور حسد نہ کریں۔ جب اپنی نعمتیں دیکھیں تو شکر کریں اور اترائیں نہیں۔ جب کوئی آپ کو تکلیف دے تو صبر کریں اور اس پر ظلم نہ کریں۔ اور جب آپ خود نعمت والے ہوں تو اللہ سے ڈریں اور اس شخص پر برتری نہ جتائیں جسے وہ نعمت حاصل نہیں۔

اور آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًا﴾

’’اور تمہارا رب خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘

وہ جانتا ہے کہ کس نے صبر کیا اور کس نے بے صبری کی، کس نے شکر کیا اور کس نے ناشکری و سرکشی کی، کس نے اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کیے اور کس نے انہیں ضائع کر دیا۔

ممکن ہے آپ یہ انتخاب نہ کر سکیں کہ آپ کی آزمائش کن لوگوں کے ذریعے ہوگی، اور نہ ہی آپ ہر اس صورتِ حال کو روک سکتے ہیں جس میں آپ خود کسی دوسرے کے لیے آزمائش بن جائیں۔ لیکن آپ یہ ضرور انتخاب کر سکتے ہیں کہ آپ اس آزمائش میں کامیاب کیسے ہوں گے۔

لہٰذا جب لوگوں کے حالات آپ کے لیے باعثِ تنگی بن جائیں، یا دنیا میں لوگوں کے درمیان نعمتوں کے فرق سے آپ کا دل دکھنے لگے، تو اللہ کا یہ سوال یاد رکھیے:

﴿أَتَصْبِرُونَ﴾؟

’’کیا تم صبر کرتے ہو؟‘‘

15/09/2026

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الْبَرِّ الرَّحِيْمِ، لَهُ الْحَمْدُ حَتّٰى يَرْضٰى، وَلَهُ الْحَمْدُ اِذَا رَضِيَ، وَلَهُ الْحَمْدُ بَعْدَ الرَّضَا، وَلَهُ الْحَمْدُ عَلٰى كُلِّ حَالٍ

سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو بڑا احسان کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ اسی کے لیے حمد ہے یہاں تک کہ وہ راضی ہوجائے، اور اسی کے لیے حمد ہے جب وہ راضی ہو، اور اس کی رضا حاصل ہونے کے بعد بھی اسی کے لیے تمام حمد ہےاور ہرحال میں اسی کے لیے حمد ہے۔

Address

B-5 , Street 1 , Officers Colony, The Mall, Wah Cantt
Wah
47040

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saima Riffah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category