Saima Riffah

Saima Riffah

Share

Quran For all, In Every Hand in Every heart

18/06/2026

اللہ تعالیٰ
نے سورۂ مریم میں کئی انبیائے کرام کا ذکر فرمایا ہے اور اپنے رسول ﷺ کو ان کا تذکرہ کرنے کا حکم دیا، کیونکہ ان کے ذکر میں ان پر ایمان لانے اور ان کی پیروی کرنے کی ترغیب ہے۔ چنانچہ فرمایا:
﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا﴾
"اور کتاب میں ابراہیم کا ذکر کیجیے، بے شک وہ بڑے سچے نبی تھے۔"
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے صدیقیت اور نبوت دونوں عظیم مرتبے جمع فرما دیے۔
صدیق وہ ہوتا ہے جو بہت زیادہ سچا ہو، اپنے اقوال، افعال اور حالات میں سچائی اختیار کرے، اور ہر اس چیز کی تصدیق کرے جس پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہو۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو دعوت دینے میں بھرپور کوشش کی۔ آپ نے فرمایا:
﴿يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا﴾
"ابا جان! آپ ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کے کسی کام آ سکتی ہیں؟"
لیکن ان کے والد نے دعوت قبول نہ کی اور کہا:
﴿أَرَاغِبٌ أَنْتَ عَنْ آلِهَتِي﴾
"کیا تم میرے معبودوں سے منہ موڑتے ہو؟"
پھر انہیں دھمکی دیتے ہوئے کہا:
﴿لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا﴾
"اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا، اور تم مدت تک مجھ سے دور رہو۔"
اس پر خلیل اللہ علیہ السلام نے نہایت حسنِ اخلاق سے جواب دیا، جیسا کہ اللہ کے نیک بندے جواب دیتے ہیں:
﴿سَلَامٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا﴾
"آپ پر سلام ہو، میں اپنے رب سے آپ کے لیے مغفرت کی دعا کروں گا، بے شک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔"
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے والد کے ساتھ حسنِ سلوک اور نیکی کے آثار ان کے اندازِ گفتگو میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کا خطاب سخت یا درشت نہ تھا بلکہ انتہائی ادب، شفقت اور نرمی پر مبنی تھا۔
انہوں نے ہر بات کی ابتدا "يَا أَبَتِ" (ابا جان) سے کی، جو ان کی محبت، خیر خواہی اور والد کو عذاب سے بچانے کی شدید خواہش کا ثبوت ہے۔ پھر آخر میں فرمایا: "إني أخاف" (مجھے خوف ہے)، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا دل اپنے والد کی بھلائی اور نجات کے لیے کس قدر فکر مند تھا۔
اور جب انہوں نے اپنے رب کے حضور والد کے لیے دعا اور استغفار کیا تو یہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور نیکی کی کامل ترین مثال بن گئی۔
پھر وقت گزرا اور اب حضرت ابراہیم علیہ السلام خود ایک باپ بن گئے۔ انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا:
﴿يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَى﴾
"میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب تم بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟"
یہ اس نیکی کا بدلہ تھا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کے ساتھ کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا فرماں بردار بیٹا عطا فرمایا جس نے اللہ کی اطاعت اور اپنے والد کی رضا کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کا عزم کر لیا۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے نہایت ادب سے جواب دیا:
﴿يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ﴾
"ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کیجیے۔"
یعنی: اللہ تعالیٰ کا جو بھی حکم آپ کو ملا ہے، اسے انجام دیجیے، کیونکہ مجھے آپ کی شفقت اور خیر خواہی پر پورا بھروسا ہے۔
پھر انہوں نے صبر اور اطاعت کا وعدہ کرتے ہوئے کہا:
﴿سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ﴾
"ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔"
اس جواب میں اپنے والد کے غم کو کم کرنے اور ان کے دل کو تسلی دینے کا پہلو بھی موجود تھا۔ یوں حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد کے ساتھ حسنِ سلوک اور ادب کی ایک بے مثال مثال قائم کی۔
حقیقت یہ ہے کہ والدین کے ساتھ نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں کبھی ضائع نہیں ہوتی، اور اس کی عظیم ترین برکتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو ایسی اولاد عطا فرماتا ہے جو اس کے ساتھ ویسا ہی حسنِ سلوک کرے جیسا اس نے اپنے والدین کے ساتھ کیا تھا۔
اللهم ارزقنا برَّ آبائنا وأمهاتنا، وارزقنا ذريةً صالحةً بارةً بنا.
اے اللہ! ہمیں اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی خدمت کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں نیک، صالح اور فرمانبردار اولاد عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔ 🌷

18/06/2026
17/06/2026

محرم الحرام🌱
ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے اور یہ ان چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خاص فضیلت عطا فرمائی ہے۔
یہ پورے اسلامی کیلنڈر کا واحد مہینہ ہے جسے نبی کریم ﷺ نے:
"اللہ کا مہینہ"
فرمایا۔
کیوں؟
رمضان کو "اللہ کا مہینہ" کیوں نہیں کہا گیا؟
محرم ہی کیوں؟
حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔" (صحیح مسلم: 1982)
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے تو اس کا مقصد اس کی عظمت، شرف اور خصوصی مقام کو نمایاں کرنا ہوتا ہے۔
غور کیجیے:
• بیت اللہ (اللہ کا گھر)
• رسول اللہ (اللہ کے رسول)
• عبد اللہ (اللہ کا بندہ)
یہ نسبت اس چیز کی عظمت اور قدر و منزلت کو ظاہر کرتی ہے۔
اسی طرح نبی ﷺ نے محرم کو:
"شہرُ الله" (اللہ کا مہینہ)
فرمایا۔
یہ بات ہمیں رک کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، اللہ کی کتاب میں، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، پس ان مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔" (سورۃ التوبہ: 36)
ذرا الفاظ پر غور کریں:
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:
"ان میں گناہ نہ کرو۔"
بلکہ فرمایا:
"اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔"
کیونکہ ہر گناہ کا نقصان آخرکار انسان خود ہی اٹھاتا ہے، اور ہر نیکی کا فائدہ بھی بالآخر اسی کو پہنچتا ہے۔
امام ابن کثیرؒ نے حضرت قتادہؒ کا قول نقل کیا ہے:
اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بعض چیزوں کو خاص فضیلت بخشی۔
لوگوں میں سے رسولوں کو منتخب فرمایا۔
مقامات میں سے مساجد کو چنا۔
راتوں میں سے لیلۃ القدر کو فضیلت دی۔
اور مہینوں میں سے رمضان اور حرمت والے مہینوں کو منتخب فرمایا۔
اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
اللہ کے نزدیک تمام چیزیں یکساں نہیں ہوتیں۔
عقلمند وہ ہے جو ان چیزوں کی عظمت کو پہچانے جنہیں اللہ نے عظمت عطا فرمائی ہے۔
محرم صرف ایک نئے ہجری سال کا آغاز نہیں۔
یہ ایک یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ ابھی بھی ہمیں مہلت دے رہا ہے۔
توبہ کی مہلت۔
واپسی کی مہلت۔
اپنے آپ کو بہتر بنانے کی مہلت۔
اس سے پہلے کہ زندگی کا سالنامہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان چیزوں کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے جنہیں اس نے معزز بنایا ہے، ہمیں ہر قسم کے ظلم اور گناہ سے محفوظ رکھے، اور اس محرم کو ہماری زندگی میں سچی اور دائمی تبدیلی کا آغاز بنا دے۔
آمین یا رب العالمین۔

15/06/2026

| نیا ہجری سال 1448ھ دروازے پر ہے |
اس سال اپنا شعار یہ بنائیں:
"اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل (آخرت) کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔"
اس نئے سال کے ہر دن میں آخرت کی جنت کے لیے کوئی نہ کوئی نیک عمل ضرور بوئیے۔ اپنے رب کے لیے اخلاص اختیار کیجیے، نیک اعمال کا ایسا معمول بنائیے جس میں کبھی کوتاہی نہ ہو۔ اپنے ایمان کو مضبوط کیجیے، اپنی نیت کی تجدید کیجیے، اللہ تعالیٰ کو اپنے اندر خیر ہی خیر دکھائیے، اور نیکیوں میں سبقت لے جانے کا پختہ ارادہ کیجیے۔
اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کیجیے اور عزم و ہمت کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ چلیے۔ 🌿✨

14/06/2026

سورہ الشوریٰ. آیت 28

14/06/2026

♦️بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ رزق کی کنجی صرف ایک اچھی تنخواہ والی ملازمت ہے، اور صحت کی کنجی صرف مؤثر دوائیں ہیں، حالانکہ وہ اس حقیقت سے غافل ہوتے ہیں کہ رزق اور صحت کبھی ایک قبول شدہ دعا، ایک بلند کی گئی نیکی، یا ایک پوشیدہ صدقے کے ذریعے بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔
لہٰذا اللہ سے مانگو، نیک اعمال کرو، اور صدقہ کرنے میں اپنے ہاتھ کھلے رکھو، پھر تم اپنے رب کے فضل و کرم سے کبھی محروم نہیں رہو گے۔ 🌷

🌸‏يتوهم ناسٌ أنَّ مفتاح الرِّزق: وظيفةٌ دارَّةٌ، وأنَّ مفتاح الصِّحة: أدويةٌ سارَّةٌ، ويغفلون عن كونهما قد يحصلان بدعوةٍ مسموعةٍ، أو حسنةٍ مرفوعةٍ، أو صدقةٍ مدفوعةٍ، فاسألوا الله، وافعلوا الخير، وابسطوا أيديكم بالصَّدقة، ولن تعدموا فضل ربِّكم.

14/06/2026

♦️کشادگی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ثُمَّ يَأْتِي مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ عَامٌ فِيهِ يُغَاثُ النَّاسُ﴾ "پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا جس میں لوگوں پر خوب بارش ہوگی اور ان کی فریاد رسی کی جائے گی۔" (سورۃ یوسف: 49)
| نیا ہجری سال 1448ھ دروازے پر ہے |
شاید ہمارا یہ نیا سال بھی ہمارے لیے راحت، مدد اور کشادگی کا سال ہو، لہٰذا خیر کی امید رکھیں۔
ایک رخصت ہوتے سال اور ایک نئے سال کے درمیان اللہ تعالیٰ حالات کو بدل دیتا ہے، اور انہیں ایک حال سے بہترین حال کی طرف منتقل فرما دیتا ہے۔
ان شاءاللہ ان شاءاللہ 💐

Want your school to be the top-listed School/college in Wah?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Wah

Category

Telephone

Address


B-5 , Street 1 , Officers Colony, The Mall, Wah Cantt
Wah
47040