*کیا آپ اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں؟*
*تو ان کو یہ سب سکھائیں۔*
1۔ جوان بیٹوں کو جم کا راستہ دکھائیے۔
2۔ جوان بیٹوں کو تیرنا سکھائیے۔
3۔ جوان بیٹوں کو ہتھیار چلانا اور شکار کرنا سکھائیے۔
4۔ جوان بیٹوں کو گاڑی چلانا اور اس کا ٹائر خود بدلنا سکھائیے۔
5۔ جوان بیٹوں کو مرغی اور جانور ذبح کرنے ، اس کی کھال اتارنے اور گوشت صاف کر کے بار بی کیو بنانے کا طریقہ سکھائیے۔
6۔ جوان بیٹے کو دکان سے سودا سلف لانے کی ذمہ داری دیجیے اور بل سمیت ریزگاری واپس کرنے کی تربیت دیں۔
7۔ جوان بیٹوں کے دوستوں سے ضرور ملیں۔ ان کو جانچیں پرکھیں، ان کے مشاغل و مقاصد کے بارے میں معلومات رکھیں۔ ان کے نمبر اور رہائش کے بارے میں آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔ اس کی ضرورت کسی بھی وقت پیش آ سکتی ہے۔
8۔ جوان بیٹوں کو ماہانہ جیب خرچ بغیر مانگے دیا کریں۔
9۔ جوان بیٹوں کو ساتھ لے کر سبزی منڈی جایا کریں۔ ان کو خرید و فروخت میں شامل کریں۔ ان سے مشورہ کریں۔
10۔ جوان بیٹوں کے ساتھ کبھی تنہائی میں ان موضوعات پر گفتگو کریں جس پر وہ آپ کے بجائے اپنے دوستوں سے اکثر بات کرتے ہیں۔۔۔ (جسمانی تبدلیاں، تعلقات کے حدود و قیود ، شادی وغیرہ) اور ان کی کمی کوتاہی محسوس کرنے پر سیخ پا ہونے کے بجائے مشورہ دیا کریں۔ ان کے سامنے یہ مان جانے میں کوئی خرابی نہیں کہ آپ بھی نوجوانی میں انجانے میں کچھ غلطیاں کر چکے ہیں اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
11۔ اپنے بیٹوں کو اپنے دوستوں سے ملوائیں۔ ان کی خوبیاں ان کو بتائیں تاکہ وہ جان جائیں کہ وہ آپ کے دوست کیوں ہیں؟
12۔ بچوں کو صدقہ دلوانے میں مدد دیں۔
13۔ بچے کو زندگی میں کم از کم اپنے نام کا ایک پھلدار یا سایہ دار درخت لگوائیں۔ زیادہ ہوں تو کیا خوش بختی ہے۔
14۔ اگر حالات اور ماحول سازگار ہو تو جوان بیٹوں کو مرغیاں، بکریاں یا دودھ دینے والے جانور رکھنے اور ان کی نگہداشت کرنے پر لگائیں۔
15۔ ان سے مہینے میں ایک یا دو بار ان کا اپنا کمرہ اور متعلقہ واش روم صاف کروائیں۔
سب سے اہم بات !
ان کو سنیں، ان کی رائے میں وزن ہو تو اپنی رائے اور فیصلہ بدلنا سیکھیں۔۔۔
ان کو بولنے کا موقع دیں تو وقت کے ساتھ بولنا سیکھ جائیں گے۔ دلیل کی قدر جانیں گے اور اونچی آواز سے اجتناب کریں گے۔
*صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے تحریر اپنے پیاروں تک پہنچاٸیں ہو سکتا ہے آپ کی تھوڑی سی محنت اور کوشش سے کسی کی مشکل حل ہو جاۓ*
Rah - e - Hidayat Online Qur'an Academy
Online Academy is the leading online islamic academy for those who want to learn islam and Quran.
”جو گناہ کو ترک کرنے میں سچا ہو، اللہ اس کے دل سے گناہ کی خواہش ختم کر دیتا ہے۔
اللہ کے شایانِ شان نہیں کہ
وہ کسی دل کو اس شہوت کے ذریعے آزمائش میں ڈالے جو اس کی خاطر ترک کر دی گئی ہو۔“
(الإمام الزاهد ابو سليمان الدّارانِي رحمه الله)
*آواز مبارکہ رسول اللہ ﷺ* (1)
تمام انبیائے کرام خوبرو اور خوش آواز تھے مگر آنحضرت ﷺ ان سب سے زیادہ خوبرو اور خوش آواز ہیں۔ آپ ﷺ کی مبارک آواز میں زرا گرانی (اپنایت کے ساتھ بھاری پن) پائی جاتی ہے جو اوصاف حمیدہ (پسندیدہ اوصاف) میں شمار ہوتی ہے۔ خوش آواز ہونے کے علاوہ آپ ﷺ بلند آواز اتنے کہ جہاں تک آپ ﷺ کی آواز شریف پہنچتی کسی کی آواز نہ پہنچتی بلخصوص خطبوں میں آپ ﷺ کی آواز شریف گھروں میں پردہ نشین عورتوں تک پہنچ جاتی۔
(سیرتِ رسول عربی ﷺ صفحہ نمبر 199)
آواز مبارکہ رسول اللہ ﷺ (2)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ۔۔
"ایک دن رسول اللہ ﷺ منبر پر رونق افروز ہوئے۔ آپ ﷺ نے حاضرین سے فرمایا کہ۔۔ "خطبہ سننے کے لیے بیٹھ جاؤ " اس آواز کو حضرت عبداللہ بن رواحہ نے جو شہر مدینہ میں قبیلہ بنی غنم میں تھے سن لیا اور ارشادِ نبوی ﷺ کی تعمیل میں وہیں اپنے مکان میں دو زانو ہو بیٹھے".
(سیرتِ رسول عربی ﷺ صفحہ نمبر 199)
آواز مبارکہ رسول اللہ ﷺ (3)
حضرت عبدالرحمن بن معاز فرماتے ہیں کہ۔۔
"حضور ﷺ نے منیٰ میں خطبہ پڑھا جس سے ہمارے کان کھل گئے یہاں تک کہ ہم اپنی اپنی جگہ پر آپ ﷺ کا کلام مبارک سنتے تھے"
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ۔۔
"ہم آدھی رات کے وقت حضور ﷺ کی قرآت سنا کرتے تھے حالانکہ میں مکان کے اندر چارپائی پر ہوا کرتی تھی۔
آواز مبارک اتنی اونچی ہونے کے باوجود سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کو گراں یا اونچی اور دور بیٹھے ہوئے لوگوں کو آہستہ نہ لگتی بلکہ ایک جیسی ہوا کرتی یہ بھی رسول اللہ ﷺ کا معجزہ ہے۔
(سیرتِ رسول عربی ﷺ صفحہ نمبر 199)
بدبخت ہے وہ شخص
جس نے” تعمیرِ ذات“ اور ”کامیاب زندگی“ پر درجنوں کتابیں پڑھیں
جبکہ اس کے پاس پڑا مصحفِ قرآنی گرد آلود ہوتا رہا۔
(شیخ حامد کمال الدین حفظه الله)
مکہّ میں ابوسفیان بہت بے چین تھا ،
" آج کچھ ھونے والا ھے " ( وہ بڑبڑایا ) اسکی نظر آسمان کی طرف باربار اٹھ رھی تھی ۔
اسکی بیوی " ھند " جس نے حضرت امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا اسکی پریشانی دیکھ کر اسکے پاس آگئ تھی
" کیا بات ھے ؟ کیوں پریشان ھو ؟ "
" ھُوں ؟ " ابوُ سُفیان چونکا ۔ کُچھ نہیں ۔۔ " طبیعت گھبرا رھی ھے میں ذرا گھوُم کر آتا ھوُں " وہ یہ کہہ کر گھر کے بیرونی دروازے سے باھر نکل گیا
مکہّ کی گلیوں میں سے گھومتے گھومتے وہ اسکی حد تک پہنچ گیا تھا
اچانک اسکی نظر شہر سے باھر ایک وسیع میدان پر پڑی ،
ھزاروں مشعلیں روشن تھیں ، لوگوں کی چہل پہل انکی روشنی میں نظر آرھی تھی
اور بھنبھناھٹ کی آواز تھی جیسے سینکڑوں لوگ دھیمی آواز میں کچھ پڑھ رھے ھوں
اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔۔۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ قریب جاکر دیکھے گا کہ یہ کون لوگ ھیں
اتنا تو وہ سمجھ ھی چکا تھا کہ مکہّ کے لوگ تو غافلوں کی نیند سو رھے ھیں اور یہ لشکر یقیناً مکہّ پر چڑھائ کیلیئے ھی آیا ھے
وہ جاننا چاھتا تھا کہ یہ کون ھیں ؟
وہ آھستہ آھستہ اوٹ لیتا اس لشکر کے کافی قریب پہنچ چکا تھا
کچھ لوگوں کو اس نے پہچان لیا تھا
یہ اسکے اپنے ھی لوگ تھے جو مسلمان ھوچکے تھے اور مدینہ ھجرت کرچکے تھے
اس کا دل ڈوب رھا تھا ، وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ لشکر مسلمانوں کا ھے
اور یقیناً " مُحمّد ﷺ اپنے جانثاروں کیساتھ مکہّ آپہنچے تھے "
وہ چھپ کر حالات کا جائزہ لے ھی رھا تھا کہ عقب سے کسی نے اسکی گردن پر تلوار رکھ دی
اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا
لشکر کے پہرے داروں نے اسے پکڑ لیا تھا
اور اب اسے " بارگاہ محمّد ﷺ میں لیجا رھے تھے "
اسکا ایک ایک قدم کئ کئ من کا ھوچکا تھا
ھر قدم پر اسے اپنے کرتوت یاد آرھے تھے
جنگ بدّر ، احد ، خندق ، خیبر سب اسکی آنکھوں کے سامنے ناچ رھی تھیں
اسے یاد آرھا تھا کہ اس نے کیسے سرداران مکہّ کو اکٹھا کیا تھا " محمّد کو قتل کرنے کیلیئے "
کیسے نجاشی کے دربار میں جاکر تقریر کی تھی کہ ۔۔۔۔
" یہ مسلمان ھمارے غلام اور باغی ھیں انکو ھمیں واپس دو "
کیسے اسکی بیوی ھندہ نے امیر حمزہ کو اپنے غلام حبشی کے ذریعے شہید کروا کر انکا سینہؑ چاک کرکے انکا کلیجہ نکال کر چبایا اور ناک اور کان کاٹ کر گلے میں ھار بنا کر ڈالے تھے
اور اب اسے اسی محمّد ﷺ کے سامنے پیش کیا جارھا تھا
اسے یقین تھا کہ ۔۔۔
اسکی روایات کے مطابق اُس جیسے " دھشت گرد " کو فوراً تہہ تیغ کردیا جاۓ گا ۔
اُدھر ۔۔۔۔
" بارگاہ رحمت للعالمین ﷺ میں اصحاب رض جمع تھے اور صبح کے اقدامات کے بارے میں مشاورت چل رھی تھی کہ کسی نے آکر ابوسفیان کی گرفتاری کی خبر دے دی
" اللہ اکبر " خیمہؑ میں نعرہ تکبیر بلند ھوا
ابوسفیان کی گرفتاری ایک بہت بڑی خبر اور کامیابی تھی
خیمہؑ میں موجود عمر ابن الخطاب اٹھ کر کھڑے ھوۓ اور تلوار کو میان سے نکال کر انتہائ جوش کے عالم میں بولے ۔۔
" اس بدبخت کو قتل کردینا چاھیئے شروع سے سارے فساد کی جڑ یہی رھا ھے "
چہرہ مبارک رحمت للعالمین ﷺ پر تبسّم نمودار ھوا
اور انکی دلوں میں اترتی ھوئ آواز گونجی
" بیٹھ جاؤ عمر ۔۔ اسے آنے دو "
عمر ابن خطاب آنکھوں میں غیض لیئے حکم رسول ﷺ کی اطاعت میں بیٹھ تو گۓ لیکن ان کے چہرے کی سرخی بتا رھی تھی کہ انکا بس چلتا تو ابوسفیان کے ٹکڑے کرڈالتے
اتنے میں پہرے داروں نے بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ھونے کی اجازت چاھی
اجازت ملنے پر ابوسفیان کو رحمت للعالمین کے سامنے اس حال میں پیش کیا گیا کہ اسکے ھاتھ اسی کے عمامے سے اسکی پشت پر بندھے ھوۓ تھے
چہرے کی رنگت پیلی پڑ چکی تھی
اور اسکی آنکھوں میں موت کے ساۓ لہرا رھے تھے
لب ھاۓ رسالت مآب ﷺ وا ھوۓ ۔۔۔
اور اصحاب رض نے ایک عجیب جملہؑ سنا
" اسکے ھاتھ کھول دو اور اسکو پانی پلاؤ ، بیٹھ جاؤ ابوسفیان ۔۔ !! "
ابوسفیان ھارے ھوۓ جواری کی طرح گرنے کے انداز میں خیمہؑ کے فرش پر بچھے قالین پر بیٹھ گیا ۔
پانی پی کر اسکو کچھ حوصلہ ھوا تو نظر اٹھا کر خیمہؑ میں موجود لوگوں کی طرف دیکھا
عمر ابن خطاب کی آنکھیں غصّہ سے سرخ تھیں
ابوبکر ابن قحافہ کی آنکھوں میں اسکے لیئے افسوس کا تاثر تھا
عثمان بن عفان کے چہرے پر عزیزداری کی ھمدردی اور افسوس کا ملا جلا تاثر تھا
علیؑ ابن ابوطالبؑ کا چہرہ سپاٹ تھا
اسی طرح باقی تما اصحاب کے چہروں کو دیکھتا دیکھتا آخر اسکی نظر محمّد ﷺ کے چہرہ مبارک پر آکر ٹھر گئ
جہاں جلالت و رحمت کے خوبصورت امتزاج کیساتھ کائنات کی خوبصورت ترین مسکراھٹ تھی
" کہو ابوسفیان ؟ کیسے آنا ھوا ؟؟ "
ابوسفیان کے گلے میں جیسے آواز ھی نہیں رھی تھی
بہت ھمّت کرکے بولا ۔۔ " مم ۔۔ میں اسلام قبول کرنا چاھتا ھوں ؟؟ "
عمر ابن خطاب ایک بار پھر اٹھ کھڑے ھوۓ
" یارسول اللہ ﷺ یہ شخص مکّاری کررھا ھے ، جان بچانے کیلیئے اسلام قبول کرنا چاھتا ھے ، مجھے اجازت دیجیئے ، میں آج اس دشمن ازلی کا خاتمہؑ کر ھی دوں ۔۔۔
" بیٹھ جاؤ عمر ۔۔۔ " رسالت مآب ﷺ نے نرمی سے پھر فرمایا
" بولو ابوسفیان ۔۔ کیا تم واقعی اسلام قبول کرنا چاھتے ھو ؟ "
" جج ۔۔ جی یا رسول اللہ ﷺ ۔۔ میں اسلام قبول کرنا چاھتا ھوں میں سمجھ گیا ھوں کہ آپؐ اور آپکا دین بھی سچّا ھے اور آپ کا خدا بھی سچّا ھے ، اسکا وعدہ پورا ھوا ۔ میں جان گیا ھوں کہ صبح مکہّ کو فتح ھونے سے کوئ نہیں بچا سکے گا "
چہرہؑ رسالت مآب ﷺ پر مسکراھٹ پھیلی ۔۔
" ٹھیک ھے ابوسفیان ۔۔
تو میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ھوں اور تمہاری درخواست قبول کرتا ھوں جاؤ تم آزاد ھو ، صبح ھم مکہّ میں داخل ھونگے انشاء اللہ
میں تمہارے گھر کو جہاں آج تک اسلام اور ھمارے خلاف سازشیں ھوتی رھیں ، جاۓ امن قرار دیتا ھوں ، جو تمہارے گھر میں پناہ لےلے گا وہ محفوظ ھے ، "
۔
ابوسفیان کی آنکھیں حیرت سے پھٹتی جا رھی تھیں
۔
" اور مکہّ والوں سے کہنا ۔۔ جو بیت اللہ میں داخل ھوگیا اسکو امان ھے ، جو اپنی کسی عبادت گاہ میں چلا گیا ، اسکو امان ھے ، یہاں تک کہ جو اپنے گھروں میں بیٹھ رھا اسکو امان ھے ،
جاؤ ابوسفیان ۔۔۔ جاؤ اور جاکر صبح ھماری آمد کا انتظار کرو
اور کہنا مکہّ والوں سے کہ ھماری کوئ تلوار میان سے باھر نہیں ھوگی ، ھمارا کوئ تیر ترکش سے باھر نہیں ھوگا
ھمارا کوئ نیزہ کسی کی طرف سیدھا نہیں ھوگا جب تک کہ کوئ ھمارے ساتھ لڑنا نہ چاھے "
۔
ابوسفیان نے حیرت سے محمّد ﷺ کی طرف دیکھا اور کانپتے ھوۓ ھونٹوں سے بولنا شروع کیا ۔۔
" اشھد ان لاالہٰ الا اللہ و اشھد ان محمّد عبدہُ و رسولہُ "
۔
سب سے پہلے عمر ابن خطاب آگے بڑھے ۔۔ اور ابوسفیان کو گلے سے لگایا
" مرحبا اے ابوسفیان ، اب سے تم ھمارے دینی بھائ ھوگۓ ، تمہاری جان ، مال ھمارے اوپر ویسے ھی حرام ھوگیا جیسا کہ ھر مسلمان کا دوسرے پر حرام ھے ، تم کو مبارک ھو کہ تمہاری پچھلی ساری خطائیں معاف کردی گئیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے پچھلے گناہ معاف فرماۓ "
ابوسفیان حیرت سے خطاب کے بیٹے کو دیکھ رھا تھا
یہ وھی تھا کہ چند لمحے پہلے جسکی آنکھوں میں اس کیلیئے شدید نفرت اور غصّہ تھا اور جو اسکی جان لینا چاھتا تھا
اب وھی اسکو گلے سے لگا کر بھائ بول رھا تھا ؟
یہ کیسا دین ھے ؟
یہ کیسے لوگ ھیں ؟
سب سے گلے مل کر اور رسول اللہ ﷺ کے ھاتھوں پر بوسہ دے کر ابوسفیان خیمہؑ سے باھر نکل گیا
" وہ دھشت گرد ابوسفیان کہ جس کے شر سے مسلمان آج تک تنگ تھے انہی کے درمیان سے سلامتی سے گزرتا ھوا جارھا تھا ، جہاں سے گزرتا ، اس اسلامی لشکر کا ھر فرد ، ھر جنگجو ، ھر سپاھی جو تھوڑی دیر پہلے اسکی جان کے دشمن تھے اب آگے بڑھ بڑھ کر اس سے مصافحہ کررھے تھے ، اسے مبارکباد دے رھے تھے ، خوش آمدید کہہ رھے تھے ۔۔ "
اگلے دن ۔۔۔
مکہّ شہر کی حد پر جو لوگ کھڑے تھے ان میں سب سے نمایاں ابوسفیان تھا
مسلمانوں کا لشکر مکہّ میں داخل ھوچکا تھا
کسی ایک تلوار ، کسی ایک نیزے کی انی ، کسی ایک تیر کی نوک پر خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا
لشکر اسلام کو ھدایات مل چکی تھیں
کسی کے گھر میں داخل مت ھونا
کسی کی عبادت گاہ کو نقصان مت پہنچانا
کسی کا پیچھا مت کرنا
عورتوں اور بچوں پر ھاتھ نہ اٹھانا
کسی کا مال نہ لوٹنا
بلال حبشئ آگے آگے اعلان کرتا جارھا تھا
" مکہّ والو ۔۔۔ رسول خدا ﷺ کی طرف سے ۔۔۔
آج تم سب کیلیئے عام معافی کا اعلان ھے ۔۔
کسی سے اسکے سابقہ اعمال کی بازپرس نہیں کی جاۓ گی ،
جو اسلام قبول کرنا چاھے وہ کرسکتا ھے
جو نہ کرنا چاھے وہ اپنے سابقہ دین پر رہ سکتا ھے
سب کو انکے مذھب کے مطابق عبادت کی کھلی اجازت ھوگی
صرف مسجد الحرام اور اسکی حدود کے اندر بت پرستی کی اجازت نہیں ھوگی
کسی کا ذریعہ معاش چھینا نہیں جاۓ گا
کسی کو اسکی ارضی و جائیداد سے محروم نہیں کیا جاۓ گا
غیر مسلموں کے جان و مال کی حفاظت مسلمان کریں گے
اے مکہّ کے لوگو ۔۔۔۔ !! "
۔
ھندہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی لشکر اسلام کو گزرتے دیکھ رھی تھی
اسکا دل گواھی نہیں دے رھا تھا کہ " حضرت حمزہ " کا قتل اسکو معاف کردیا جاۓ گا
لیکن ابوسفیان نے تو رات یہی کہا تھا کہ ۔۔۔
" اسلام قبول کرلو ۔۔ سب غلطیاں معاف ھوجائیں گی "
مکہّ فتح ھوچکا تھا
بنا ظلم و تشدد ، بنا خون بہاۓ ، بنا تیر و تلوار چلاۓ ،
لو گ جوق در جوق اس آفاقی مذھب کو اختیار کرنے اور اللہ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرنے مسجد حرام کے صحن میں جمع ھورھے تھے
اور تبھی مکہّ والوں نے دیکھا ۔۔۔
" اس ھجوم میں ھندہ بھی شامل تھی "
۔
یہ ھوا کرتا تھا اسلام ۔۔ یہ تھی اسکی تعلیمات ۔۔ یہ سکھایا تھا رحمت للعالمین ﷺ نے..
*بچوں میں اچھی عادتیں کیسے پیدا کریں؟*
قاسم علی شاہ کہتے ہیں کہ عادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ بندہ کیا ہے، کون ہے، کیسا ہے۔ *اب سوال یہ ہے کہ عادت دی کیسے جائے؟*
آپ جب بچوں کی تربیت کر رہے ہوتے ہیں تو اصل میں آپ اسکو عادتیں دے رہے ہوتے ہیں۔جتنی اچھی عادتیں آپ نے بچوں کو دی ہیں ، اتنا بچہ دنیا میں کامیاب ہو گا۔ *عادتوں پہ کام ہو جائے تو مستقبل ٹھیک ہو جائے گا* ۔
عادتیں اچھی نہیں ہیں جتنے مرضی اچھے وسائل مل جائیں بچہ کامیاب نہیں ہو گا۔
اچھی عادت develope کرنے کا سب سے آسان طریقہ ہے کہ جس بھی چیز پہ شاباش دی جائے جس بھی کام کو اچھے الفاظ میں سراہا جائے وہ آہستہ آہستہ عادت بن جاتی ہے ۔
آج سے ایک لسٹ بنائیں کہ آپ بچوں کو کن چیزوں پہ appreciate کرتے ہیں اور کن چیزوں پہ تنقید کرتے ہیں آپکی حوصلہ افزائی اور تنقید دراصل وہ tools ہیں جن کے ذریعے عادت بنتی ہے۔
عام طور پہ یہ دیکھا گیا ہے کہ جب والدین کو بچوں کی غلطی کا بتایا جائے تو وہ مانتے نہیں ہیں کہ ہمارا بچہ تو ایسے کر ہی نہیں سکتا یعنی غلطی پہ پردہ ڈالتے ہیں۰ *جب بھی آپ بچے کی غلطی کو cover کریں گے وہ سائز میں بڑی ہو جائے* *گی ۰جب تک والدین غلطی کو غلطی نہیں سمجھیں گے* *بچہ کبھی بھی درست سمت کی جانب نہیں بڑھ سکے گا* *اور “criminal acts” کو اپنائے گا۔*
“ *ناگواری* ”
کا اظہار کرنا سیکھیں۰ ناگواری نہ ناراضگی ہوتی ہے، نہ مار ،نہ ڈانٹ بلکہ یہ ایک احساس کا نام ہے اپنے بچوں میں بری عادت یا غلطی دیکھیں تو اُنکو ناگواری سے محسوس کروائیں کہ یہ مناسب نہیں ہے ۰
*اور خوشگواری بھی* *محسوس کروائیں جب بھی اُن میں اچھی چیزیں* *دیکھیں* ۔
*آپ بچے سے جو بھی کام کروا کہ اُسکو encourage کرتے ہیں وہ عادتیں بن* *جاتی ہیں چاہے وہ کام اچھے ہوں یا بُرے ۔*
چھوٹی برائی کی حوصلہ افزائی بڑی برائی کی وجہ بن جاتی ہے اِسی طرح چھوٹی اچھائی کی حوصلہ افزائی بڑی اچھائی کو پیدا کر دیتی ہے۔
آپ بچوں میں جو عادتیں دیکھنا چاہتے ہیں انکی روز مرہ کی بنیاد پہ حوصلہ افزائی کریں۰ *عادتیں بھی وراثت کی طرح ہوتی ہیں جس طرح وراثت یا جائداد اولاد میں منتقل ہوتی ہے* *بالکل اِسی طرح عادتیں بھی منتقل ہوتی ہیں۔*
💠 *بچوں کو روز مرہ کی عادتیں سیکھائیں،*
💠 *وقت پہ کام کرنے کی عادت*
💠 *چیزیں سمیٹنے کی عادت*
💠 *سو کے اٹھنے کے بعد اپنے بستر ٹھیک کرنے کی عادت*
💠 *اپنی الماری ،سٹڈی ٹیبل ٹھیک کرنے کی عادت،*
*💠کھانا کھانے کے بعد دسترخوان یا ڈائنگ ٹیبل سمیٹنے کی عادت*
*ان کےعلاوہ مدد کرنے کی عادت ضرور develop* *کروائیں* ۔
عادتیں nature بن جاتی ہیں “ *اچھے بچے” بنانے کے لئے ضرورت ہے کہ “اچھے والدین “بنیں* ۰۰۰۰ریسرچ یہ بتاتی ہے کہ *والدین کی عادتیں %65 چُپ کر کے بچوں میں چلی جاتی ہیں* خواہ وہ اچھی ہوں یا بُری ۰ آپ کے طور طریقے ، انداز ، ملنے جلنے کے اطوار، بات چیت کا انداز جو بڑوں میں ہے وہ بچوں میں چلا جاتا ہے focus کریں کہ اللّٰہ کیا کہہ رہا ہے یہ نہیں کہ دنیا کیا کہہ رہی ہے آپکا برتن خالی ہے تو بچے کا بھی رہے گا اسلئے *ضروری ہےکہ بچوں کے رول ماڈلز بنیں۔*
بچوں کے لئے مثال بن جائیں جو بچوں میں عادتیں دیکھنا چاہتے ہیں وہ کر کے دیکھائیں وہ خوبیاں اپنے اندر پہلے پیدا کریں جو آپ بچوں میں دیکھنا چاہتے ہیں مثلاً آپ بچے میں سخاوت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو پہلے خود سخی بنیں تا کہ بچہ یہ کہہ سکے کہ اُس کے والدین کتنے سخی ہیں۔
*ہماری والد ین کے طور پہ ذمہ داری یہ ہے کہ بچوں* *کی عاقبت خراب نہ ہو قرآن میں ہے “ اپنی اولاد اور اپنی* *بیویوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ”اس کی علاوہ ہماری ذمہ داری ہے کی ہمارا بچہ معاشرے کے* *لئے خراب نہ ہو اس کے علاوہ یہ کہ ہمارا بچہ خود دار ہو،خود انحصار ہو کسی کا محتاج نہ ہو اُس میں* *اچھے اِخلاق ہوں اور ہمارا بچہ اس قابل ہو کہ وہ زندگی کے مسؔلوں اور* *چیلنچز کو خود حل کر سکے وہ رشتوں کو نبھا سکے۔*
*سب سے اہم ذمہ داری یہ کہ ایسے morals پیدا کر دیں کہ بچوں میں خوفِ خُداہو اللّٰہ کی ناراضگی کا خوف ہو* *کہ تنہائی میں بھی غلط کام نہ کرے پختہ ایمان ہو درست عقیدہ ہو* *اور اللّٰہ پہ یقین ہو ۔*
یہ وہ چند basic goals ہیں جن پہ عمل کر کے ہم بچوں میں اچھی عادتیں پیدا کر سکتے ہیں ۔
تحریر،، نِدا نَاصِر
ایک کامیاب انسان کی 15 صفات
اگر آپ کامیابی کے زینے چڑھ کا کامیاب انسان بننا چاہتے ہیں تو یہ 15 صفات اپنی ذات میں شامل کر لیں.
یہ صفات انزائم ہیں اور ریٹ آف ری ایکشن یعنی کامیابی کا ریٹ بڑھا دیتی ہیں.
1)کامیان انسان ہمیشہ محنتی ہوتا ہے مگر ضرورت پڑنے پر Smart work کرنا بھی جانتا ہے یعنی situation کا ادراک رکھتا ہے۔
2)ایک کامیاب انسان ہمیشہ strong believe رکھتا ہے۔اپنی محنت پر اور اپنے رب کے فضل پر۔۔۔وہ مایوسی سے کوسوں دور ہوتا ہے۔
3)ایک کامیاب انسان ہمیشہ پوزیٹیو سوچتا ہے اور ناکامی کا Analysis کر کے کامیابی کی راہ نکالتا ہے۔
4)ایک کامیاب انسان پچھتاوے سے دور رہتا ہے۔اس کی زندگی میں پچھتاوے کی بجاۓ شکر ہوتا ہے۔وہ پچھتانے کی بجاۓ self improvents پر کام کرتا ہے۔
5)کامیاب انسان زندگی میں شکوؤں کو جگہ نہیں دیتا ۔وہ کسی بھی حالت میں شکوہ نہیں کرتا بلکہ کوشش کرتا ہے وہ اپنی غلطی اور ناکامی کا ذمہ دار حالات یا لوگوں کو ٹھہرا کر یا رب سے تقدیر کا شکوہ نہیں کرتا
6)کامیاب شخص خود مشکل میں ہونے کے باوجود دوسرے کی مدد کر کے تسکین پاتا ہے۔وہ اس بات کو سمجھتا ہے کہ آسانی بانٹنے سے ہی آسانی ملتی ہے لہذا وہ خود مشکل یا تنگی میں ہونے کے باوجود آسانی بانٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا
8)ایک کامیاب شخص ہمیشہ عزت دیتا ہے اور جھکنا پسند کرتا ہے عاجزی اس کا شیوہ بن جاتی ہے
9)ایک کامیاب شخص حوصلہ بنتا ہےسہارا بنتا ہے اور امید بانٹتا ہے وہ مایوسی سے کوسوں دور امید کا محور بن کر امید کا چاند بن کر دنیا کو سہارا دیتا کے امید کی روشنیاں بانٹتا ہے۔
بقول
لوگ پوچھتے ہیں مجھ سے مشغلہ میرا
روشنیاں بانٹتا ہوں جگنو پالتا ہوں
10)ایک کامیاب شخص appreciate کرنا جانتا ہے اور ٹیم work پر یقین رکھتا ہے وہ ایک بہترین لیڈر ہوتا ہے
11)ایک کامیاب شخص کوشش جاری رکھتا ہے۔وہ منزل سے زیادہ راستوں پر چلنا پسند کرتا ہے وہ مسلسل محو سفر رہتا ہے اس کی تڑپ اسے کوشش پر اکسا کر ستاروں پر کمند ڈالنے کی ترغیب دیتی ہے
12)ایک کامیاب شخص self analysis کر کے اپنی شخصیت کا ادارک کر لیتا ہے اور اپنے آپ کو پہچان کر اپنی قابلیت بناتا ہے
13)ایک کامیاب شخص اپنا vision کلیئر رکھتا ہے اسے اپنے مقاصد اور goals کا پتہ ہوتا ہے۔اپنی strengths کو بخوبی جانتا ہے۔
14)ایک کامیاب شخص اچھی عادات کا مالک ہوتا ہے۔اس کا کردار بے داغ ہوتا ہے۔یاد رکھیے گادنیا کے کامیاب ترین لوگ باکردار ہوتے ہیں
15)ایک کامیاب شخص ہمیشہ creative ہوتا ہے وہ بہترین تخلیق کار ہوتا ہے۔وہ imagination سے ہی سیکھتا ہے اور پھر اپنا illusion عملی کوشش کرکے Reality بنا دیتا ہے.
مایوسی ہم تک کئی راستوں سے آتی ہے۔
حالات ہمیں مایوس کر دیتے ہیں، کبھی کوئی زبان سے کہہ دیتا ہے کہ چھوڑو کیا امید لگا کر بیٹھے ہو کچھ بدلنے والا نہیں ہے، ورنہ ہماری کوششوں کا نتیجہ ہمیں بتاتا ہے کہ سب بے کار گیا۔ ورنہ دل میں وسوسے آتے ہیں کہ یہ کام نہیں بنے گا, کوشش چھوڑ دو۔ ہمارا حساب کتاب کرنے والا دماغ اعلان کرنے لگتا ہے کہ تم تو ناکام ہو گئے بھئی! پیچھے ہی رہ گئے، کیا پایا، اب تک خالی ہاتھ ہی ہو آگے بھی ایسے ہی رہو گے۔
جب انسان کسی مشکل دور سے گزرتا ہے تو ہر چیز کبھی مایوسی کی طرف کھینچتی ہے تو کبھی امید دیتی ہے، ہمارا جھکاؤ جس طرف زیادہ ہوتا ہے وہ چیز بڑھ جاتی ہے، اگر مایوس ہونے لگیں تو سارے اشارے مایوسی کے ملنے لگتے ہیں کیونکہ انسان کی سوچ کی لہروں میں زبردست قوت ہوتی ہے، وہ جو سوچتا ہے، آس پاس کے ماحول میں ان چیزوں کو قوت سے کھینچ لیتا ہے۔اسی لیے کہا گیا ہے کہ اچھا گمان رکھو۔
لیکن یہ وسوسے، یہ اندازے، یہ نتیجے ……یہ سب کتنے ہی اسٹرونگ ہوں، آپ کو زبردست قوت والے رب کی اس بات کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے جو قرآن میں کہی گئی ہے کہ میری رحمت سے مایوس نہیں ہونا۔لیونکہ یہی بات ”پتھر پر لکیر ہے“ ۔ ایک اسی ذات کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ اپنا وعدہ دے سکے ، کیونکہ وعدے پر عمل کی زبردست قوت صرف اسی کے پاس ہے۔
کہ
”اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔“
پھر کہا:
اے نبی! کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے اوپر زیادتی کی ہے، وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں،
اس تحریر میں میرا پیغام صرف اتنا ہے کہ بیرونی حالات آپ کو کوئی بھی تصویر دکھائیں، آپ کے دوست عزیز کچھ بھی کہیں، آپ کی کوششوں کا کتنا ہی مایوس کن نتیجہ نکلے، آپ نے صرف اللہ کی بات یاد رکھنی ہے کہ کبھی مایوس نہیں ہونا۔ مایوسی سے کوشش نہیں چھوڑنی، دل چھوٹا نہیں کرنا، دعا ترک نہیں کرنی، خدمت کرنی نہیں چھوڑنی کہ صلہ تو ملتا نہیں، اچھائی نہیں چھوڑنی کہ جواب میں برائی ملتی ہے، نیکی کرنا نہیں چھوڑنا کہ اجر تو ملتا نہیں، صبر سے مایوس نہیں ہونا کہ اجر کب ملے گا، شکر سے منہ نہیں موڑنا،کہ اب تک کیا ملا اتنا شاکر ہو کر۔ کسی بھی حالت، کسی بھی طرح کے ماحول میں آپ نے مایوس نہیں ہونا۔ آپ کا دل مایوسی کے لیے نہیں اللہ پر یقین کے لیے بنا ہے، یہ دل مایوسی سے وحشت زدہ ہوتے ہیں، لیکن یقین سے ٹھہر جاتے ہیں، تسلی پاتے ہیں۔
اپنے دل کو تسلی کی طرف مائل کریں۔
☰
ایکسپریس اردو
بچپن میں طے کردہ رشتے تعلقات میں بگاڑ کا سبب
نسرین اخترمنگل 18 مئ 2021
اس قدیم روایت کو مشروط رکھ کر بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
شادی تو ایک مذہبی وسماجی فریضہ ہے، لیکن نسل در نسل چلنے والی کچھ روایات ایسی ہیں جنھیں آج بھی اچھا سمجھا جاتا ہے اور والدین ان روایات کے منفی اثرات سے آنکھیں بند کیے عمل پیرا ہیں۔
جیسے بچپن میں شادی یا منگنی کر دینا ایسے فیصلے ماضی کی طرح آج بھی بعض اوقات بچوں کی زندگی کو بہت زیادہ مشکلات کا شکار کر دیتے ہیں اور بڑوں کو شاید اس کا احساس تک نہیں ہوتا ہے کہ جلد بازی میں اٹھایا جانے والا قدم بچوں کی زندگی تباہ کرنے کا باعث بن گیا ہے۔ آخر بچپن میں رشتہ طے کرنے کا مقصد کیا ہے؟
عموماً گاؤں دیہات اور بعض شہروں میں بھی کچھ برادریاں اور خاندان اپنی پرانی ریت رسموں کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ ان کے ہاں بچپن میں طے کی جانے والی شادیاں بہت عام ہیں، جو اکثر بے جوڑ شادیاں ثابت ہوتی ہیں۔ اکثر یوں ہوتا ہے کہ نوزائیدہ بچی کا رشتہ پندرہ یا اس سے بھی زیادہ عمر کے لڑکے سے کر دیا جاتا ہے یا بڑی عمر کی لڑکیوں کا نکاح نو عمر لڑکوں سے کر دیا جاتا ہے۔ یا کبھی تو پیدائش سے قبل ہی خاندان کے بزرگ اعلان کردیتے ہیں کہ اگر لڑکی ہوئی تو یہ فلاں کی منگ ہوگی اسے گاؤں دیہات میں ’ٹھیکرے کی مانگ‘ کہا جاتا ہے۔
بعض خاندانوں میں سالوں سے جاری دشمنی ختم کرنے کے لیے بھی اس طرح کی شادیاں طے کرا دیتے ہیں تو کہیں ادلے بدلے کی کر دی جاتی ہے جسے اصطلاحاً ’’وٹہ سٹہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس رسم کی وجہ سے اکثر لڑکیوں کو اپنے بھائی یا باپ کی دوسری شادی کے لیے خود کو قربان کرنا پڑتا ہے تو بعض اوقات ایک گھر خراب ہونے سے دوسرا گھر بھی خراب ہوجاتا ہے۔ برسوں سے جاری اس رسم کے ذریعے لڑکیاں اپنی مرضی کے بغیر رشتے کے بدلے رشتہ کے بندھن میں باندھی جا رہی ہیں۔ روایتی گھرانے اس طریقۂ کار کو کام یاب شادی کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں شہروں کی نسبت ایسی شادیوں کا رواج عام ہے۔
بچپن میں طے کیے گیے رشتے میں رضا مندی کا تو سوال ہی نہیں ہے۔ بچپن میں تو اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا، مگر جیسے جیسے بچے شعور کی منزلیں طے کرتے جاتے ہیں ویسے ویسے انہیں اس باہمی رشتے کی سمجھ آتی جاتی ہے اور ساتھ ہی ان کے خیالات میں بھی تبدیلی آجاتی ہے، اگر جوانی میں کسی ایک کا خیال تبدیل ہو جائے، تو دوسرے کی زندگی پر اس کے خاصے مہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں، بالخصوص لڑکیوں کو بہت زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بچپن میں طے کی گئی نسبت کے باعث بچوں کا بچپن بہت جلد ختم ہو جاتا ہے۔
خاندان کے لوگ بچوں کو ایک دوسرے کی نسبت سے پکارتے ہیں اور مذاق کرتے ہیں، یوں ان کی معصومیت گویا چھن جاتی ہے۔ بچے کھیل ہی کھیل میں بھی اس نسبت کو ظاہر کرتے ہیں اور لڑائی کی صورت میں اس نسبت سے انکاری بھی ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات بالخصوص لڑکے اپنی منگیتر پر رعب بھی جمانے لگتے ہیں اور انھیں اپنی ملکیت سمجھتے ہوئے کسی کزن وغیرہ سے ملنے یا بات کرنے پر بھی اعتراض کرتے ہیں اور بعض اوقات تو لڑکے شک و شبہے کا شکار ہو جاتے ہیں ان وجوہات کی بنا پر نہ صرف لڑکی کی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ دو خاندانوں کے درمیان تلخیاں جنم لینے لگتی ہیں۔ بعض گھرانوں میں یہ صورت حال خاصی اذیت ناک ثابت ہوتی ہے۔
بچپن کی نسبت اگر ختم ہوجائے تو دو گھرانوں میں رنجش پیدا ہو جاتی ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اتنی بڑھ جاتی ہے کہ کئی رشتے چھوٹ جاتے ہیں جو کہ ذہنی اذیت کا باعث بھی ہے اور قطع رحمی بھی۔ بعض اوقات لڑکا یا لڑکی میں سے کوئی زیادہ تعلیم حاصل کرلے تو ان کے خیالات میں فرق آنے لگتا ہے ایک فریق دوسرے کو اپنے معیار کا نہیں سمجھتا جس کا نتیجہ اکثر یہ نکلتا ہے کہ پہلے سے طے شدہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے یا اگر لڑکی زیادہ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہو ڈاکٹر، وکیل، لیکچرار یا کسی دوسرے شعبے میں اپنی صلاحیتیں آزمانا چاہتی ہو تو لڑکے گھر والے لڑکی اعلیٰ تعلیم کی مخالفت کرتے ہوئے پابندی لگا دیتے ہیں کہ ہمیں اعلیٰ تعلیم یافتہ بہو نہیں چاہیے یا ہمارا بیٹا کم پڑھا لکھا ہے تو بیوی زیادہ پڑھی لکھی نہ ہو۔ بعض اوقات دونوں فریقین کا معیار تو ایک جیسا ہی ہوتا ہے، مگر ان میں ذہنی ہم آہنگی نہیں ہوتی یا کوئی ایک فریق کسی اور کو پسند کرنے لگے تو بھی بچپن کی نسبت ختم ہونے کی وجہ بن جاتی ہے۔ بعض اوقات لڑکا لڑکی خود بھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی بچپن کے طے شدہ رشتے کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں، کیوں کہ ان کو لگتا ہے کہ ہمارے معیار الگ ہیں یا ذہنی ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ جس کی وجہ سے ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تو زندگی کیسے گزرے گی۔
یہ درست ہے کہ والدین اپنی طرف سے تو اولاد کا بھلا ہی چاہتے ہیں۔ وہ خلوص نیت سے ہی بچوں کے رشتے طے کرتے ہیں، مگر عام طور پر ایسا کرنا بچوں کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوتا ہے، عموماً بچپن میں طے کیے گیے رشتے بچوں کے جوان ہونے پر ایک مشکل صورت حال پیدا کر دیتے ہیں، وہ دُہری مشکل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ رشتہ پسند نہ آنے کی صورت میں انکار کرتے ہیں تو دو گھرانوں میں کشیدگی ہو جاتی ہے۔ ماں باپ بھی ناراض ہوجاتے ہیں نیز زبردستی شادی کرنے کی صورت میں لڑکا لڑکی کی زندگی ناخوش گوار گزرتی ہے۔
ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ بچپن میں طے کیے گیے رشتے جوان ہونے پر ہر لحاظ سے کام یاب ثابت ہوں۔ ناسمجھ بچوں کا رشتہ طے کرتے ہوئے والدین کو کئی بار سوچنا چاہیے۔ ایسا نہیں کہ ایسے رشتے ہمیشہ ناکام ثابت ہوئے ہیں، مگر زیادہ تر بچپن کے طے کردہ رشتے تلخ تجربات کے بعد ختم ہو جاتے ہیں یا شادی کے بعد پیچیدہ حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ کبھی اولاد بغاوت کرتی ہے، تو کبھی والدین زور زبردستی کر کے شادی تو کرا دیتے ہیں، مگر ان کو نبھانا مشکل ہو جاتا ہے۔
اگر غیر جانب داری سے دیکھا جائے، تو بچپن میں طے کی گئی شادی معاشرتی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ شادی کے معاملے میں بہرحال لڑکا اور لڑکی کی مرضی ضروری ہے، نبھانا تو انھی دونوں کو ہوتا ہے بڑے ہونے پر ہی دونوں کی عادات و اطوار کا پتا چلتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے رشتے کرتے وقت ان کی پسند و ناپسند اور معیار کا خیال رکھیں، کیوں کہ یہ سارے خوشی کے سودے ہیں۔
ان میں زور زبردستی کا کیا کام، بچوں کی شادی کے لیے ان کے مناسب عمر تک رشتے کا انتظار کریں۔ ان کی مرضی ہے تو بات کو بڑھائیں ورنہ نہیں۔ جب زندگی ان دو فریقوں نے گزارنی ہے، تو پھر ان کی مرضی کا خیال نہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ اگر بچپن میں رشتہ طے کرنا ضروری ہے، تو زبانی بات چیت تک رہے تو اچھا ہے اس کو باقاعدہ منگنی یا نکاح کرنا مناسب نہیں، صرف بڑوں کے درمیان رشتے کی بات رکھیں اور بچوں کے سمجھ دار ہونے پر ان کی رائے اور پسند معلوم کرلیں، اگر بچے اس رشتے سے خوش ہیں تو پھر رشتہ باقاعدہ طے کرلیں اس سے پہلے کہ بچے بغاوت کریں آپ ایسا موقع ہی نہ آنے دیں کیوں کہ زندگی تو بچوں نے ہی گزارنی ہے۔
اکثر گھرانوں میں یہ صورت حال بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ اگر لڑکی یا لڑکا زیادہ پڑھ لکھ گئے ہیں، تو ماں باپ کو اتنے ہی معیار کا پڑھا لکھا لڑکا یا لڑکی چاہیے۔ لڑکا یا لڑکی ڈاکٹر بن جائے تو بہو اور داماد بھی ڈاکٹر ہی چاہیے، ورنہ ماں باپ خود ہی بہانہ بنا کر رشتہ ختم کر دیتے ہیں۔
ایسی ناخوش گوار صورت حال سے بچنے کا بہترین حل یہی ہے کہ بچپن میں رشتے طے نہ کیے جائیں۔ یہ معصوم بچوں کے ساتھ بھی سراسر ظلم و ناانصافی ہے۔ زندگی کے سفر میں ایک ہم سفر کی تلاش تو سب کو ہوتی ہے اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ شادی کے معاملے میں اسے مکمل آزادی ہو، تاکہ فیصلہ کرنے میں اسے آسانی ہو۔ ایسے میں زندگی کے اہم فیصلے والدین اپنی مرضی سے زبردستی بچوں پر مسلط کر دیں تو تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ بچپن میں تو بچوں کو اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے لیکن جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے ہیں یہ بات ان کے کانوں میں پڑتی رہتی ہے کہ فلاں کی شادی فلاں سے طے ہو چکی ہے۔ بعض اوقات گھر اور خاندان کے افراد ان کو ایک دوسرے کی حوالے سے چھیڑتے رہتے ہیں، یوں بچوں میں کم عمری میں ہی بڑا پن آجاتا ہے۔
ماں باپ نے تو بچپن میں رشتہ طے کر دیا، لیکن ذرا سی ناخوش گوار بات ہوئی تو رشتہ ختم بھی ہو جاتا ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی کے اہم فیصلے صرف اپنی خوشی یا انا کی تسکین کے لیے عجلت میں نہ کریں۔ اگرچہ بچپن میں طے کیے گیے بعض رشتے کام یاب بھی ہو جاتے ہیں، لیکن ایسا کم ہوتا ہے۔ زیادہ تر ایسے خاندان جو کئی نسلوں سے خاندان میں شادی کرتے چلے آرہے ہوں اور ان کے بچے ایک محدود دائرے میں رہنے کی عادی ہوں، لیکن جب بچے پڑھ لکھ جاتے ہیں، باہر کی دنیا سے واقف ہوجاتے ہیں تو ان کے خیالات بدل جاتے ہیں۔
وہ شادی کے معاملات میں اپنی مرضی کو اولیت دیتے ہیں۔ بچپن کے طے کردہ رشتے میں دونوں فریق پڑھ لکھ جائیں، تو بہتر ہوتا ہے تاکہ زندگی کے سفر میں دونوں قدم ملا کر چلیں۔ آئندہ نسل کی بہترین تربیت ہو سکے۔ لہٰذا بچپن میں رشتہ طے نہ کریں تو بہتر ہے، بچوں کے بڑے ہونے کے بعد ان کی مرضی اور پسند جاننے کے بعد رشتہ طے کریں اور اس فریضے کو خوشی کے ساتھ سرانجام دیں۔
پل صراط پر سے جب گزر ہوگا اس وقت صرف تین جگہیں ہوں گی
جہنم
جنت
پل صراط
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
سب سے پہلے میں اور میرے امتی پل صراط کو طے کریں گے.
پل صراط کی تفصیل
قیامت میں جب موجودہ آسمان اور زمین بدل دئے جائیں گے اور پل صراط پر سے گزرنا ہوگا وہاں صرف دو مقامات ہوں گے
جنت اور جہنم۔
جنت تک پہنچنے کے لئے لازما جہنم کے اوپر سے گزرنا ہوگا۔
جہنم کے اوپر ایک پل نصب کیا جائے گا، اسی کا نام الصراط ہے،
اس سے گزر کر جب اس کے پار پہنچیں گے وہاں جنت کا دروازہ ہوگا، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم موجود ہوں گے اور اہل جنت کا استقبال کریں گے۔
یہ پل صراط درج ذیل صفات کا حامل ہو گا:
👈 1- بال سے زیادہ باریک ہوگا۔
👈 2- تلوار سے زیادہ تیز ہوگا۔
👈 3- سخت اندھیرے میں ہوگا، اس کے نیچے گہرائیوں میں جہنم بھی نہایت تاریکی میں ہوگی، سخت بپھری ہوئی اور غضب ناک ہوگی۔
👈 4- گناہ گار کے گناہ اس پر سے گزرتے وقت مجسم اس کی پیٹھ پر ہوں گے، اگر اس کے گناہ زیادہ ہوں گے تو اس کے بوجھ سے اس کی رفتار ہلکی ہو گی، اللہ تعالیٰ ہمیں اس صورت سے اپنی پناہ میں رکھے اور جو شخص گناہوں سے ہلکا ہوگا تو اس کی رفتار پل صراط پر تیز ہوگی۔
👈 5- اس پل کے اوپر آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے اور نیچے کانٹے لگے ہوں گے جو قدموں کو زخمی کر کے اسے متاثر کریں گے۔ لوگ اپنی بد اعمالیوں کے لحاظ سے اس سے متاثر ہوں گے۔
👈 6- جن لوگوں کی بے ایمانی اور بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کے پیر پھسل کر جہنم کے گڑهے میں گر رہے ہوں گے ان کی بلند چیخ و پکار سے پل صراط پر دہشت طاری ہو گی۔
🔆رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پل صراط کی دوسری جانب جنت کے دروازے پر کھڑے ہوں گے،
جب تم پل صراط پر پہلا قدم رکھ رہے ہوگے
آپ صلی اللہ علیہ و سلم تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے کہیں گے" یا رب سلم، یا رب سلم"
آپ بھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے درود پڑهئے:
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْہ وَآلہ وَسَـــــلَّـمْ
لوگ اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے بہت سوں کو پل صراط سے گرتا ہوا دیکھیں گے اور بہت سوں کو دیکھیں گے کہ وہ اس سے نجات پا گئے ہیں۔ بندہ اپنے والدین کو پل صراط پر دیکھے گا لیکن ان کی کوئی فکر نہیں کرے گا، وہاں تو بس ایک ہی فکر ہو گی کہ کسی طرح خود پار ہو جائے۔
🔆 روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قیامت کو یاد کر کے رونے لگیں،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا:
عائشہ کیا بات ہے؟
حضرت عائشہ نے فرمایا:
مجهے قیامت یاد آگئی،
یا رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْہ وَآلہ وَسَـــــلَّـمْ
کیا ہم وہاں اپنے والدین کو یاد رکھیں گے؟
کیا وہاں ہم اپنے محبوب لوگوں کو یاد رکھیں گے؟
آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
ہاں یاد رکھیں گے، لیکن وہاں تین مقامات ایسے ہوں گے جہاں کوئی یاد نہیں رہے گا۔
🔖 (1) جب کسی کے اعمال تولے جائیں گے۔
🔖 (2) جب نامہ اعمال دیئے جائیں گے۔
🔖 (3) جب پل صراط پر ہوں گے۔
🍁 دنیاوی فتنوں کے مقابلے میں حق پر جمے رہو۔ دنیاوی فتنے تو سراب ہیں. ان کے مقابلہ میں ہمیں مجاہدہ کرنا چاہیے، اور ہر ایک کو دوسرے کی جنت حاصل کرنے پر مدد کرنا چاہئے جس کی وسعت آسمانوں اور زمین سے بھی بڑی ہوئی ہے۔
یا اللہ ہمیں ان خوش نصیبوں میں کر دیجئے جو پل صراط کو آسانی سے پار کر لیں گے۔
آمین ثمہ آمین یا رب العالمین
*بی ایس سی کا وہ سٹوڈنٹ باشرع نوجوان مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔*
ہمیشہ سب سے آگے والی لائن میں بیٹھتا تھا۔ کلاس کی لڑکیوں سے خود سے بات نہیں کرتا تھا۔
*کبھی کوئی لڑکی اسے مخاطب کرتی تھی تو اس کی طرف دیکھنے کی بجائے، نظریں نیچی کر کے جواب دیتا تھا۔*
کلاس کے لڑکے اس بات پر اسکا مذاق اڑاتے تھے۔ اور کچھ لڑکیوں کو اس پر جز بز ہوتے دیکھا تھا کہ وہ ان کی طرف دیکھتا کیوں نہیں۔
وہ میرےآفس میں بیٹھا تھا۔ وہ تھوڑی دیر خاموش بیٹھا رہا۔ شاید سوچ رہا تھا کہ بات کہاں سے شروع کرے۔
کہنے لگا
سر میں نے کسی عالم سے سنا کسی حدیث شریف کا مفہوم سنا تھا کہ
*ایک وقت آئے گا اسلام اجنبی بن جائے گا اور اسلام پر عمل کرنا اتنا مشکل ہو جائے گا جیسے کانٹوں پر چلنا۔*
سر حقیقت یہ ہے کہ میں اسی صورت حال سے دوچار ہوں۔
*سر میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیتے ہوئے اپنا ایک سال ضائع کیا ہے صرف اس لیے کہ میں چاہتا تھا کہ میں وہاں داخلہ نہ لوں جہاں میرے ساتھ نامحرم لڑکیاں ہوں۔*
اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے اس ملک میں صرف اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں کسی حد تک ایسا ممکن ہے۔وہاں میرا پسندیدہ ڈگری پروگرام بھی نہیں ہے اور جو ملتا جلتا ہے وہاں میرا داخلہ نہیں ہو سکا۔
اس کے علاوہ ہر ایک یونیورسٹی میں کو ایجو کیشن ہے۔ لڑکیوں کے لیے الگ سے یونیورسٹیاں ہیں لیکن لڑکوں کے لیے کوئی ایسی یونیورسٹی نہیں ہے جہاں وہ الگ سے تعلیم حاصل کر سکیں۔
یعنی
*یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ کو ایجوکیشن سے کچھ لڑکیوں کو تو مسئلہ ہو سکتا ہے اس لیے ان کی الگ یونیوسٹیاں بنائی گئی ہیں لیکن لڑکوں کو کو ایجوکیشن سے کوئی مسئلہ ہو یہ سوچنا بھی محال ہے اس اسلامی ملک میں۔*
میرا تعلق زیادہ مذہبی گھرانے سے نہیں ہے۔
*سارے خاندان میں میں اکیلا ہی اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرر ہا ہوں۔*
سر میرا صوم وصلوٰۃ کا پابند ہونا اور اس عمرمیں داڑھی رکھنا ہی کسی سے برداشت نہیں ہوتا۔
*میں کسی کو کچھ نہیں کہتا لیکن پھر بھی مجھے ہر طرف سے طعنے سننے کو ملتے ہیں۔*
کوئی ملا کہہ کر حقارت سے بلاتا ہے تو کوئی دہشت گرد کہتا ہے۔
*سر آپ جانتے ہی ہیں کہ میرے ہم عمروں میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کے کسی نہ کسی لڑکی سے ناجائز تعلقات نہ ہوں ۔*
*میں اپنے والدین سے جائز نکاح کی بات کرتا ہوں تو مذاق اڑایا جاتا ہے کہ ابھی عمر ہی کیا ہے تمہاری۔*
سر مجھے بالغ ہوئے دس سال ہونے والے ہیں، یہ دس سال میں نے کیسے ناجائز کاموں سے بچتے ہوئے گزارے ہیں یہ میں جانتا ہوں یا میرا اللہ۔
سر ہاسٹل میں لڑکے اکٹھے بیٹھ کر گندی فلمیں دیکھتے ہیں، اور ایسے دوسروں کو ساتھ بیٹھنے کی دعوت دیتے ہیں جیسے یہ گناہ عظیم نہ ہو۔
جو نہ دیکھے اسے کھسرا کہہ کر اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ کلاس کی لڑکیوں کی طرف بغیر دیکھے بات کرتا ہوں تو یہی لقب ادھر سے بھی دہرایا جاتا ہے۔
کلاس میں میں سب سے آگے والی لائن میں اس لیے بیٹھتا ہوں کہ کلاس کی بے پردہ لڑکیوں کو دیکھ کر گناہ گار نہ ہوں مگر یہ کہا جاتا کہ میں لڑکیوں کو کم تر سمجھتا ہوں اس لیے انھیں آگے نہیں بیٹھنے دیتا ہوں۔
اپنی خواتین اساتذہ کے سوالوں کے جوابات ان کی طرف دیکھے بغیر دوں تو ڈانٹ سننے کو ملتی ہے۔
*میں اپنے والدین سے جائز نکاح کی بات کرتا ہوں تو کہا جاتا ہے کہ پہلے پڑھائی مکمل کر کے کمانے والے ہو جاؤ لیکن یہ بھی کر لوں تب بھی نہیں کریں گے۔*
مجھ سے بڑا بھائی چار سال سے اچھا کما رہا ہے، شادی کی بات کرے تو کہا جاتا ہے کہ پہلے بہنوں کی ہوگی پھر تمہاری۔
جہاں بہنوں کی ہونی ہے وہاں ان کے والدین بھی اسی انتظار میں ہیں کہ پہلے بہنوں کی ہو تو پھر اپنے بیٹوں کی کریں۔
میرے والدین کہتے ہیں کہ خود کمانے والے ہو تب شادی کریں گے,
*سر میرے کلاس فیلوز نے گرل فرینڈز رکھی ہوئی ہیں، وہ بھی تو خود کمانے والے نہیں ہیں۔ انکا خرچہ کیا ان کے والدین نہیں دے رہے؟.؟.؟*
*کیا نکاح کو ہم سادہ نہیں کر سکتے؟*
*حسب استطاعت حق مہر، دو گواہ اور ولی کی اجازت۔ ولیمہ کی استطاعت ہو تو کر دیں۔*
اس پر خرچ ہی کتنا ہے کہ ہم نے اتنا مشکل بنا لیا ہے؟
*کوئی بھی لڑکا لڑکی پڑھ رہے ہوں تو ان کا خرچ والدین ہی دے رہے ہوتے ہیں، ایسا کیا ہو جاتا کہ نکاح ہونے کے بعد بھی تعلیم کا خرچ دونوں طرف کے والدین کرتے رہیں؟.؟*
لڑکی کے والدین لاکھوں روپے کا جہیز دینے کو تیار ہو جاتے ہیں لیکن دو تین سال تک چند ہزار ماہانہ اپنی بیٹی کو دیتے کیوں موت پڑ جاتی ہے؟
حالانکہ نکاح نہ ہوا ہو تو وہی پیسے ہر مہینے بخوشی دیتے رہتے ہیں۔
*سر معاشرے میں یہی مشہور کہ ہراسمینٹ کا سامنا صرف لڑکیوں کو کرنا پڑتا ہے۔*
*سر یہ میرا موبائل لیں اور خود دیکھ لیں کہ رشتہ دار اور کلاس فیلو لڑکیوں کی طرف سے کیسے کیسے میسیجز آئے ہوئے ہیں۔*
میں کسی کا جواب نہیں دیتا پھر بھی آتے رہتے ہیں۔
سر میں کیا کروں؟
*جائز طریقہ معاشرے نے میرے واسطے چھوڑا کوئی نہیں۔*
ہر طرف سے گناہ کی دعوت عام ہے۔
*ایسے میں ایک بیس بائیس سالہ نوجوان کب تک خود پر قابو پا کر گناہ کی دلدل میں دھنسنے سے بچ سکتا ہے؟*
*سر یہ معاشرہ اور خاص طور پر ہمارے والدین کیا ہمیں پاکیزہ زندگی گزارنے کے لیے کوئی راستہ مہیا نہیں کر سکتے ہیں؟*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عدنان نیازی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Wah
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 22:00 |
| Tuesday | 09:00 - 22:00 |
| Wednesday | 09:00 - 22:00 |
| Thursday | 09:00 - 22:00 |
| Friday | 09:00 - 22:00 |
| Saturday | 09:00 - 22:00 |