📌 “Start Your Child’s Quran Journey Today”
> 🌙 Looking for a trusted Quran teacher for your kids at home?
📖 Join our Online Quran Academy — 1-on-1 sessions | Certified Teachers | Flexible Timings
🎧 All you need is a mobile or laptop.
🔹 Free Trial Available!
📲 Inbox us to register today 0335 3800084
📌 “Learn Quran from Home – Anytime, Anywhere”
> ✨ Want to strengthen your connection with the Quran?
Learn Tajweed, Translation & Memorization from qualified Ulama online.
💻 Classes for all ages — kids, adults & women
🎓 Male & Female Tutors Available
📅 Book your FREE trial class now!
📥 Message us for details.+923353800084
Online Learning Holy Quran
📖 𝗢𝗻𝗹𝗶𝗻𝗲 𝗟𝗲𝗮𝗿𝗻𝗶𝗻𝗴 𝗛𝗼𝗹𝘆 𝗤𝘂𝗿𝗮𝗻 🌙 | 𝗘𝗻𝗹𝗶𝗴𝗵𝘁𝗲𝗻 𝗬𝗼𝘂𝗿 𝗦𝗼𝘂𝗹 𝗪𝗶𝘁𝗵 𝗞𝗻𝗼𝘄𝗹𝗲𝗱𝗴𝗲 💫 | 𝗤𝘂𝗮𝗹𝗶𝗳𝗶𝗲𝗱 𝗔𝗹𝗶𝗺𝘀 & 𝗧𝗲𝗮𝗰𝗵𝗲𝗿𝘀 👨🏫 | 𝗝𝗼𝗶𝗻 𝗡𝗼𝘄 ➤ +𝟵𝟮𝟯𝟯𝟱𝟯𝟴𝟬𝟬𝟬𝟴𝟰 📞
𝐋𝐞𝐚𝐫𝐧 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐁𝐲 𝟏𝟎𝟎% 𝐕𝐞𝐫𝐢𝐟𝐢𝐞𝐝 𝐐𝐚𝐫𝐢
Trial Classes Available
For All Age Groups Kids & Adults
24/7 Services
𝐓𝐚𝐣𝐰𝐞𝐞𝐝 | 𝐑𝐞𝐜𝐢𝐭𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 | 𝐓𝐚𝐟𝐬𝐞𝐞𝐫 | 𝐀𝐫𝐚𝐛𝐢𝐜
English & Urdu Spoken Tutor
📞
Whats App:+923353800084
✉️: [email protected]
💫 _*سـلسـلہ اســلامی سـوال و جـواب*_ 💫
```سوال :
_قربانی سے کیا مراد ہے؟ کیا قربانی کرنا واجب ہے یا سنت؟ اور قربانی کیلئے کتنے نصاب کی شرط ہے؟ کیا یہ قربانی صرف مردوں پر ہے یا اکیلی رہنے والی عورت بھی قربانی کرے گی جو استطاعت رکھتی ہو؟؟؟_
*جــــــــواب..!!*
الحمدلله.!
*🌹 الاضحيۃ*
*ایام عید الاضحی میں اللہ تعالٰی کا تقرب حاصل کرنے کیلئے بھیمۃ الانعام میں سے کوئی جانور ذبح کرنے کو قربانی کہا جاتا ہے.*
_(بھیمۃ الانعام بھیڑ، بکری، اونٹ، گائے کو کہتے ہیں)_
*👈🌱 قربانی دین اسلام کے شعائر میں سے ایک شعار ہے اس کی مشروعیت کتاب اللہ اور سنت نبویہ ﷺ اور مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے، ذيل میں اس کی مشروعیت پر دلائل پیش کیے جاتے ہيں...*
*👈📚📗 قرآنِ مجید فرقانِ حميد سے دلائل ::-_-*
1️⃣ *اللہ سبحانہ و تعالٰی کا فرمان ہے:*
📚 فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انۡحَرۡ
*اللہ تعالٰی کیلئے ہی نماز ادا کرو اور قربانی کرو.*
_(سورۃ الکوثر، آیت نمبر-2)_
2️⃣ *دوسرے مقام پر اللہ پاک فرماتے ہیں!!!*
📚 قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ
آپ کہہ دیں: *’’بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا ﷲ کے لیے جو جہانوں کا رب ہے،*
_(سورہ الانعام، آیت نمبر-162)_
3️⃣ 📚 اور ایک تیسرے مقام پر اللہ تعالٰی نےاس طرح فرمایا:
وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَکًا لِّیَذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الۡاَنۡعَامِ ؕ فَاِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗۤ اَسۡلِمُوۡا ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُخۡبِتِیۡنَ
*اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قربانی کو مقرر کیا ہے تاکہ وہ ان مویشی چوپایوں پر اﷲ تعالٰی کا نام ذکر کریں جو اُس نے انہیں عطاء کر رکھے ہیں، سو تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو تم اسی کے فرماں بردار بنو، اور آپ عاجزی اختیار کرنے والوں کو خوشخبری دے دیں،*
_(سورہ الحج،آیت نمبر-34)_
*📚📙 سنت نبویہ سے دلائل::-_-*
1️⃣ 📚 رسول ﷲ ﷺ نے مدنی زندگی میں اس پر دوام فرمایا ہے،
*حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ ﷺ دو مینڈھوں کی قربانی فرمایا کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا ہوں۔*
_(صحیح بخاری‘ الاضاحی : 5553)_
*2️⃣ 📚 عبداللہ بن عمر رضى اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: نبی ﷺ نے مدینہ شریف میں دس برس قیام کیا اور ہر برس قربانی کیا کرتے تھے*
_(مسند احمد حدیث نمبر (4935)_
_سنن ترمذی حدیث نمبر (1507)_
*علامہ البانی رحمہ اللہ نے مشکاۃ المصابیح (1475) میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔*
*3️⃣ 📚 عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی مکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کے مابین قربانیاں تقسیم کیں تو عقبہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں جذعہ آیا تو وہ کہنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ میرے حصہ میں جذعہ آیا ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا اس کو ہی ذبح کر دو۔*
_(صحیح بخاری حدیث نمبر_5547)_
4️⃣ 📚 براء بن عازب رضي اللہ عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا:
*(جس نے بھی نماز (عید) کے بعد (قربانی کا جانور) ذبح کیا تو اس کی قربانی ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کی سنت پر عمل کر لیا،*
_(صحیح بخاری حدیث نمبر: 5545)_
ایک روایت میں ہے کہ،
*5️⃣ 📚 رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا: لوگو! بے شک ہر اہل خانہ پر ہر سال ایک قربانی کرنا مشروع ہے*
_(سنن ترمذی،حدیت نمبر-1518)_ حسن
_(ابن ماجہ‘ الاضاحی : 3125)_ حسن
اس کی سند میں ابو رملہ مجہول راوی ہے مگر شواہد کی بنا پر تقوقیت پا کر حسن ہے،
📚 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا موقف بھی یہی ہے کہ قربانی سنت اور مسلمانوں کے ہاں معروف امر ہے‘ امام بخاری نے ان کا موقف اپنی صحیح میں نقل کیا ہے ۔
_(صحیح بخاری‘ الاضاحی ۔ قبل از حدیث :5545)_ امام بخاری نے باب باندھا ہے،
کہ قربانی کرنا سنت ہے!
اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا قربانی کرنا سنت ہے اور یہ مشہور امر ہے،
📚 ایک آدمی نے ابن عمر رضی الله عنہما سے قربانی کے بارے میں پوچھا: کیا یہ واجب ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول ﷲ ﷺ نے اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے، اس آدمی نے پھر اپنا سوال دہرایا، انہوں نے کہا: سمجھتے نہیں ہو؟ رسول ﷲ ﷺ نے اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے،
امام ترمذی کہتے ہیں:-
اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے، بلکہ رسول ﷲ ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، اور اس پر عمل کرنا مستحب ہے، سفیان ثوری اور ابن مبارک کا یہی قول ہے۔
_(ترمذی‘ الاضاحی،حدیث نمبر- 1506)_
حکم الحدیث- ضعیف
(امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے مگر یہ حدیث ضعیف ہے اس میں ایک راوی حجاج بن ارطاة ضعیف اور مدلس ہے، )
📚 سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے اس خدشہ کے پیشِ نظر قربانی ترک کرنا ثابت ہے کہ کہیں لوگ اس کو واجب نہ سمجھ لیں۔
_(السّنن الکبریٰ للبیہقي : ٩/٢٦٥، وسندہ، صحیحٌ)_
📚 سیدنا ابو مسعود بدری انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
لقد ہممت أن أدع الأضحیۃ وأنی لمن ایسرکم بہا، مخافۃ أن یحسب أنہا حتمٌ واجبٌ۔
*''میں اس ڈر سے قربانی ترک کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، کہ اسے واجب نہ سمجھ لیا جائے، حالانکہ میں آپ سے زیادہ آسانی کے ساتھ قربانی کر سکتا ہوں ۔''*
_(السّنن الکبریٰ للبیہقي :9ج /ص265 وسندہ ،صحیحٌ)_
حافظ ابنِ حجر نے اس کی سند کو ''صحیح '' کہا ہے۔
📚 سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی قربانی کے واجب ہونے کے قائل نہیں تھے،
_(السّنن الکبریٰ للبیہقي : 9ج/265ص، وسندہ ،صحیحٌ)_
📚 سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی قربانی کرنا واجب نہیں سمجھتے تھے،
_(المحلّٰی لابن حزم : 7ج/ص358وسندہ،صحیحٌ )_
📚 امام ابن قدامہ نے بھی اہل علم کا یہی موقف نقل کیا ہے ۔
( المغنی_ ص260 / ج 13 )
*👈🌹🥀 البتہ قربانی کرنے کی سخت تاکید ضرور ہے*
📚رسول ﷲ ﷺ فرماتے ہیں،
مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا".
*کہ جس شخص کے پاس وسعت و طاقت ہو پھر وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔“*
_(سنن ابن ماجہ، الاضاحی: 3123)_
*تو اس طرح معلوم ہوا کہ نبی ﷺ نے خود بھی قربانی کے جانور ذبح کیے اور صحابہ کرام رضي اللہ عنہم بھی قربانی کرتے رہے، اور نبی ﷺ نے ہمیں یہ بتایا کہ قربانی کرنا مسلمانوں کی سنت یعنی ان کا طریقہ ہے*
لہذا..! مسلمانوں کا قربانی کی مشروعیت پر اجماع ہے، جیسا کہ کئی ایک اہل علم نے بھی اس اجماع کو نقل بھی کیا ہے۔
📒 جمہور علماء کرام کا مسلک یہ ہے کہ قربانی کرنا سنت موکدہ ہے، امام شافعی کا مسلک بھی یہی ہے اور امام مالک اور امام احمد سے بھی مشہور مسلک یہی ہے۔
_(دیکھیں : احکام الاضحیۃ والذکاۃ تالیف ابن عثیمین رحمہ اللہ)_
📒 شیخ محمد بن عثيمین رحمہ اللہ کا کہنا ہے:
*جو شخص قربانی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو اس کے لیے قربانی کرنا سنت مؤکدہ ہے، لہٰذا انسان اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جانب سے قربانی کرے۔*
_دیکھیں : فتاوی ابن عثیمین ( 2 / 661 )_
📒 سعودی فتاویٰ کمیٹی سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ !!
سوال: قربانی کس پر واجب ہوتی ہے؟ کیا ایسی گھریلو خاتون جس کے پاس آمدنی کا ذریعہ ہے وہ بھی قربانی کر سکتی ہے؟:
۔تو ان کا جواب تھا کہ!!
*علمائے کرام کا قربانی کے حکم میں اختلاف ہے کہ کیا یہ واجب ہے؟ اور قربانی نہ کرنے والا شخص گناہگار ہوگا۔ یا سنت مؤکدہ ہے؛ لہٰذا قربانی نہ کرنا مکروہ عمل ہے؟*
*صحیح موقف یہ ہے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے*
*قربانی کے مسنون یا واجب ہونے کیلئے شرط یہ ہے کہ: قربانی کرنے والا شخص صاحبِ حیثیت ہو، مثلاً: قربانی کی رقم ذاتی ضروریات اور ماتحت پرورش پانے والوں کی ضروریات سے فاضل ہو، چنانچہ اگر کسی مسلمان کی اتنی ماہانہ تنخواہ یا آمدن ہے جو اس کی ضروریات کیلئے کافی ہے نیز اس کے پاس قربانی کی قیمت بھی ہے، تو اس کیلئے قربانی کرنا شرعی عمل ہے۔*
صاحبِ حیثیت ہونے کی دلیل نبی ﷺ کے اس فرمان میں ہے: (جس کے پاس استطاعت بھی ہو اور پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے)
_ابن ماجہ (3123) اسے البانی سے "صحیح ابن ماجہ" میں صحیح کہا ہے۔_
*نیز قربانی کے مسئلے میں مرد یا عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، چنانچہ اگر کوئی خاتون تنہا رہتی ہے یا اس کے ساتھ اس کے بچے بھی ہیں تو ان پر بھی قربانی ضروری ہے۔*
📒چنانچہ "الموسوعة الفقهية" (5/81) میں ہے کہ:
*"قربانی کے واجب یا مسنون ہونے کیلئے مرد ہونا شرط نہیں ہے؛ لہٰذا جس طرح قربانی مردوں پر واجب ہے اسی طرح خواتین پر بھی واجب ہے؛ کیونکہ قربانی واجب یا مسنون ہونے کے تمام دلائل میں مرد و خواتین یکساں شامل ہوتے ہیں"* انتہی مختصراً
_(دیکھیں: " الموسوعة الفقهية( 5 / 79 – 81 )_
*👈☝️🌿🌱 لہٰذا ان تمام دلائل خاص کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال سے یہ بات ثابت ہوئی کہ قربانی کرنا واجب نہیں ہے، لیکن جو استطاعت رکھتا ہے اسے قربانی کرنی چاہیے سنت اور مسلمانوں کا دائمی عمل ہے...*
_(((واللہ تعالٰی اعلم باالصواب)))_
🌻 *تین سنگین گناہ*
📿 *تین سنگین گناہ:*
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’تین طرح کے لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُن سے [لُطف وکرم کی] گفتگو نہیں فرمائیں گے، اُن کو [رحمت کی نگاہ سے] نہیں دیکھیں گے، اُن کو [گناہوں سے] پاک نہیں کریں گے اور اُن کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔‘‘ تو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ لوگ تو نامراد اور خسارے والے ہیں، اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ تو حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:
1⃣ ٹخنے چھپانے والا مرد۔
2️⃣ جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال فروخت کرنے والا۔
3⃣ احسان جتلانے والا۔
☀ صحیح مسلم میں ہے:
306- عَنْ أَبِى ذَرٍّ عَنِ النَّبِىِّ ﷺ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ»، قَالَ: فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللهِ ﷺ ثَلَاثَ مِرَارٍ. قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا وَخَسِرُوا، مَنْ
هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ».
307- عَنْ أَبِى ذَرٍّ عَنِ النَّبِىِّ ﷺ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: الْمَنَّانُ الَّذِى لَا يُعْطِى شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ».
☀ سنن النسائی میں ہے:
2562- عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُم اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللهِ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : خَابُوا وَخَسِرُوا خَابُوا وَخَسِرُوا، قَالَ: «الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ، وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ».
مذکورہ حدیث میں تین گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی مختصر وضاحت درج ذیل ہے تاکہ حدیث کا مفہوم واضح ہوجائے۔
📿 *مردوں کے لیے ٹخنے چھپانے کا گناہ:*
1⃣ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ مردوں کے لیے کھڑے ہونے کی حالت میں شلوار، لنگی یا پتلون وغیرہ کے ذریعے ٹخنے چھپانا ناجائز اور بڑا گناہ ہے جس پر شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
2️⃣ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ ٹخنے چھپانے کی ممانعت صرف شلوار، لنگی اور پتلون کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ اس میں قمیص، جبہ، چادر، عمامہ اور رومال سمیت اوپر سے آنے والی ہر وہ چیز داخل ہے جو مرد نے پہن یا اوڑھ رکھی ہو کہ وہ اتنی طویل نہیں ہونی چاہیے کہ اس کی وجہ سےکھڑے ہونے کی حالت میں مرد کے ٹخنے چھپ جائیں۔ اور یہ تو ظاہر سی بات ہے کہ اس میں موزے اور جوتے داخل نہیں۔
(سنن ابی داود حدیث: 4096 مع بذل المجہود)
3⃣ جب ٹخنے چھپانا عام حالت میں سنگین گناہ ہے تو ظاہر ہے کہ نماز جیسی عظیم عبادت میں اس گناہ کے ارتکاب سے گناہ کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہےکیوں کہ عبادت کی ادائیگی میں گناہ کا ارتکاب بڑا جرم بن جاتا ہے، جیسا کہ مسجد میں گناہ کا ارتکاب گناہ کی سنگینی اور وبال میں اضافہ کردیتا ہے۔
اس کی مزید تفصیل اسی سلسلہ اصلاحِ اغلاط کے سلسلہ نمبر 184:’’نماز کی حالت میں مرد کے لیے ٹخنے چھپانے کا حکم‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں۔
📿 *جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال فروخت کرنا:*
جھوٹ بولنا تو ویسے بھی شدید گناہ ہے اور جب جھوٹی قسم کھائی جائے تو اس کی وجہ سے گناہ کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ آجکل کاروبار میں یہ افسوس ناک صورتحال بہت زیادہ عام ہوچکی ہے کہ گاہک کو مطمئن اور آمادہ کرنے کے لیے کیسے کیسے جھوٹ بولے جاتے ہیں حتی کہ اپنے مفادات اور اغراض کی خاطر جھوٹی قسمیں بھی بے باکی سے کھالی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے بسا اوقات گاہک کا نقصان بھی ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ سے جہاں جھوٹی قسم کھانے کا گناہ اور اس کی وعیدیں حصہ میں آتی ہیں وہیں تجارت اور مال سے برکت بھی اٹھ جاتی ہے، یہ کس قدر نقصان اور خسارے کی باتیں ہیں۔ اس لیے تاجر کو خصوصی طور پر سچائی اور دیانت داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کیوں کہ ایسا سچا اور امانت دار تاجر قیامت میں انبیاء کرام، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوگا۔
📿 *احسان جتلانا:*
کسی دوسرے پر احسان کرکے اس کو جتلانا، اس کو بار بار باور کرانا، اس کو طعنے دینا، احسان یاد دلا کر اس سے خدمت لینا اور لوگوں کے سامنے اس احسان کے تذکرہ سے اس کو رسوا کرنا؛ یہ ساری صورتحال احسان جتلانے کی ہے، جو کہ ناجائز اور سنگین گناہ ہے، اس کی وجہ سے اجر بھی ضائع ہوجاتا ہے اور باہمی تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی پر احسان کرکے جتلانا واضح طور پر نامناسب سی بات ہے کیوں کہ:
1⃣ جب احسان اللہ تعالیٰ کے لیے کیا ہے اور اسی سے اس کا اجر چاہیے تو اس کو جتلانے کا کیا مطلب؟؟ اس سے تو اجر ضائع ہوجاتا ہے۔
2️⃣ جب احسان کرنے کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی نے دی ہے اور اسی نے اس قابل بنایا ہے تو اس میں بندے کا کیا کمال جس کی وجہ سے احسان جتلایا جائے؟؟ اس بات پر تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے دوسرے پر احسان کرنے کے قابل بنایا۔
3⃣ جب احسان ہمدردی کی بنیاد پر کیا ہے تو یہ ہمدردی برقرار رہنی چاہیے، جس کی صورت یہی ہے کہ احسان جتلایا نہ جائے، ورنہ تو احسان جتلانے کا یہی مطلب ہوا کرتا ہے کہ مقصود ہمدردی نہ تھی۔
▪ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے تمام گناہوں سے محفوظ فرمائے اور اپنی رضا والی زندگی نصیب فرمائے۔
☀ مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:
2795- (وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ»): أَيْ أَشْخَاصٌ («لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»): أَيْ كَلَامَ لُطْفٍ وَعِنَايَةٍ («وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ»): أَيْ نَظَرَ رَحْمَةٍ وَرِعَايَةٍ («وَلَا يُزَكِّيهِمْ»): أَيْ لَا يُنَمِّي أَعْمَالَهُمْ وَلَا يُطَهِّرُهُمْ مِنَ الْخَبَائِثِ («وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ»): أَيْ مُؤْلِمٌ (قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا): أَيْ حُرِمُوا مِنَ الْخَيْرِ (وَخَسِرُوا): أَيْ أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ (مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «الْمُسْبِلُ»): أَيْ إِزَرَاهُ عَنْ كَعْبَيْهِ، وَالْمُطَوِّلُ سِرْوَالَهُ إِلَى الْأَرْضِ كِبْرًا وَاخْتِيَالًا، («وَالْمَنَّانُ»): أَيِ الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ كَمَا فِي رِوَايَةٍ، وَقِيلَ: أَيْ يَمُنُّ بِمَا يُعْطِيهِ لِغَيْرِهِ بِأَنَّهُ يَذْكُرُ وَلَوْ لِوَاحِدٍ، فَالْمُبَالَغَةُ غَيْرُ شَرْطٍ كَـ«أَعْطَيْتُ فُلَانًا كَذَا» وَفُلَانٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ الْقَوْلَ اهـ. فَهِيَ مِنَ الْمِنَّةِ الَّتِي هِيَ الِاعْتِدَادُ بِالصَّنِيعَةِ، وَهِيَ إِنْ وَقَعَتْ فِي الصَّدَقَةِ أَبْطَلَتِ الْمَثُوبَةَ، وَإِنْ وَقَعَتْ فِي الْمَعْرُوفِ كَدَّرَتِ الصَّنِيعَةَ. وَالْمُنَفِّقُ: بِالتَّشْدِيدِ فِي أُصُولِنَا، وَقَالَ الطِّيبِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بِالتَّخْفِيفِ أَيِ الْمُرَوِّجِ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ، وَفِي رِوَايَةٍ: بِالْحَلِفِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا أُعْطِيَ وَهُوَ كَاذِبٌ، وَهُوَ يَقُولُ لِلْمُشْتَرِي: اشْتَرَيْتُ هَذَا بِمِائَةِ دِينَارٍ، وَاللهِ، لِيَظُنَّ الْمُشْتَرِي أَنَّ ذَلِكَ الْمَتَاعَ يُسَاوِي مِائَةَ دِينَارٍ أَوْ أَكْثَرَ، فَيَرْغَبُ فِي شِرَائِهِ. (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) وَكَذَا أَحْمَدُ وَالْأَرْبَعَةُ.
(بَابُ الْمُسَاهَلَةِ فِي الْمُعَامَلَةِ)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Wah
Wah
47040