یہ ہے قیامت کی ٹیکنالوجی !!
سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے
کیا ہم غلط عضو (Organ) سے سوچ رہے ہیں؟
بات صرف دماغ (Brain) تک محدود نہیں ہے، کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
جدید سائنس نے ابھی حال ہی میں نیورو
کارڈیالوجی دریافت کی ہے۔
ڈاکٹرز حیران ہیں کہ انسانی دل میں بھی 40,000 سے زائد نیورونز (Neurons) ہیں
یعنی دماغ کے سیلز
سائنسدان اب کہہ رہے ہیں کہ دل صرف خون پمپ کرنے والی موٹر نہیں، بلکہ یہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے اور فیصلے لیتا ہے۔
اب ذرا 1400 سال پیچھے مڑ کر دیکھو
قرآن نے دماغ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بار بار "دل" کو سمجھنے کا مرکز کہا
"لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"
(ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔)
(القرآن، الاعراف: 179)
ہمارے لبرل دوست مذاق اڑاتے تھے کہ دل تو صرف پمپ ہے، سوچتا تو دماغ ہے
آج وہی گورے سائنسدان بتا رہے ہیں کہ دل کی "الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ" دماغ کے مقابلے میں 5000 گنا زیادہ طاقتور ہے
جب آپ کا دل ذکر کرتا ہے یا کسی کے لیے نفرت پالتا ہے، تو یہ ایک ایسی مقناطیسی لہر (Magnetic Wave) چھوڑتا ہے جو کئی فٹ دور کھڑے انسان کو بھی متاثر کرتی ہے۔
یہی وہ روحانی وائی فائی ہے جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی سوچ صرف ہوا میں غائب ہو جاتی ہے، تو جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق پڑھ لیں
اس نے ثابت کیا کہ پانی کی یادداشت ہوتی ہے۔
اگر پانی پر اچھی بات (Good Intentions) بولی جائے، تو مائیکروسکوپ کے نیچے اس کے کرسٹلز ہیرے جیسے خوبصورت بن جاتے ہیں۔
اور اگر پانی کو گالیاں دی جائیں یا بری نیت سے دیکھا جائے، تو اس کی شکل بگڑ کر بدصورت ہو جاتی ہے۔
اب سمجھ آیا کہ ہم بیمار پر پانی دم کیوں کرتے ہیں؟
یا زمزم میں شفاء کیوں ہے؟
انسانی جسم 70 فیصد پانی ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے جسم کے پانی کا مالیکیولر سٹرکچر تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔
حسد اور کینہ صرف گناہ نہیں، یہ سیلف ڈسٹرکشن کا بٹن ہے جو آپ خود دباتے ہیں۔
اب میں آپ کے سامنے وہ حقیقت رکھنے جا رہا ہوں جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ ہماری ذاتی ملکیت ہے اور ہمارے دماغ کے اندر محفوظ ہے۔
نا جی
غلط! سراسر غلط!
میرے فیورٹ سائنٹسٹ نکولا ٹیسلا نے 1933ء میں کہا تھا کہ انسان کے خیالات دراصل انرجی ہیں اور انہیں تصویر میں بدلا جا سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ دماغ کے الیکٹریکل سگنلز کو ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ہم ابھی تک اسکولوں میں نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھ رہی ہیں، جبکہ مغرب ایسی مشین بنا رہا ہے جو آپ کے دماغ کو اسکینکر کے آپ کے خیالات کو اسکرین پر دکھا دے گا
آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث نے 1400 سال پہلے استھوٹ ٹیکنالوجیکے بارے میں کیا کہا تھا
رسول اللہ ﷺ کی مشہور ترین حدیث ہے
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"
(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔)
(صحیح بخاری: 1)
ہم نے اسے صرف ایک اخلاقی جملہ سمجھا
لیکن ٹیسلا کی تھیوری کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوانٹم فزکس ہے۔
عمل مادی دنیا (Physical World) ہے۔
نیت (Intention/Thought) یہ فریکوئنسی (Frequency/Energy) ہے۔
ٹیسلا کہتا ہے کہ خیال ایک انرجی ہے۔
جب آپ کوئی نیت کرتے ہیں، تو آپ کے دماغ سے ایک خاص ویو لینتھ (Wavelength) نکلتی ہے۔
اگر آپ کا عمل بہت بڑا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت کمزور یا گندی ہو، تو کائنات میں اس کا وزن نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں (خیالات کے مرکز) کو دیکھتا ہے۔ ہماری سوچیں خلا میں ضائع نہیں ہو رہیں، وہ ایک الیکٹریکل دستخط چھوڑ رہی ہیں۔
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) ہمارے کندھوں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پاس کوئی رجسٹر اور پینسل ہے۔
خدا کے لیے! فرشتوں کی ٹیکنالوجی کو ہماری پرانی عقل سے مت تولیں
قرآن کہتا ہے:
"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"
(وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔)
(القرآن، ق: 50:18)
اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:
"هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"
(یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے (Dataبیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔)
(القرآن، الجاثیہ: 45:29)
یہ نَستنسِخ کا لفظ بہت اہم ہے۔
اگر انسان (ٹیسلا اور آج کی AI) ایسی مشین بنا سکتا ہے جو دماغ کی لہروں کو تصویر میں بدل دے، تو کیا اللہ کا نظام آپ کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ نہیں کر رہا؟ قیامت کے دن جب اعمال نامہ پیش ہوگا، تو وہ 4K Video کی طرح آپ کے سامنے چلے گا
"فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ"
(پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔)
(القرآن، الزلزال)
یہاں پڑھنے کا نہیں، دیکھنے (Visualizing) کا ذکر ہے۔ ٹیسلا کی تھوٹ فوٹوگرافی دراصل قیامت کے دن کی ٹیکنالوجی کا ایک ادنیٰ سا ٹریلر ہے۔
کیوں سسٹم چاہتا ہے کہ یہ طاقت صرف ان کے پاس ہو۔
آج ایلون مسک کا Neuralink کیا کر رہا ہے؟
وہ آپ کے دماغ میں چپ لگا کر آپ کی سوچ کو پڑھنا چاہتا ہے۔
یہ دجال کا سب سے بڑا ہتھیار ہوگا
اگر وہ آپ کی سوچ پڑھ سکتے ہیں، تو وہ آپ کی سوچ بدل بھی سکتے ہیں
وہ آپ کو مجرم قرار دے دیں گے اس سے پہلے کہ آپ کوئی جرم کریں جیسا کہ مغرب کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔
یہ ہے وہ فتنہ جس کے لیے ہمیں تیار ہونا تھا۔ لیکن ہمارا نوجوان کیا کر رہا ہے؟
وہ ٹک ٹاک پر ناچ رہا ہے
یہاں میں پھر اپنے گلے سڑے تعلیمی نظام پر لعنت بھیجتا ہوں
ہمیں اسکولوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؟
رٹہ سسٹم
ڈارون کا بندر
انگریز کی تاریخ
ہمیں یہ کیوں نہیں پڑھایا جاتا کہ انسان ایک ٹرانسمیٹر ہے؟
ہمیں تزکیہ نفس کی سائنس کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟
کیونکہ اگر مسلمان کو پتہ چل گیا کہ اس کی پاکیزہ سوچ لیزر بیم کی طرح طاقتور ہے، تو وہ ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہو جائے گا
صحابہ کرامؓ کی سوچ میں اتنی طاقت تھی کہ حضرت عمرؓ مدینہ میں ممبر پر کھڑے ہو کر میلوں دور ساریہؓ کو فرماتے ہیں
"یا ساریہ الجبل"
(اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہو جاؤ!)
اور ان کی آواز وہاں سنی جاتی ہے۔
یہ ٹیلی پیتھی یا تھوٹ ٹرانسفر تھا جو ایمان کی طاقت سے پیدا ہوتا تھا۔ ہم نے وہ سائنس کھو دی اور آج ہم سمارٹ فون کے غلام بن گئے
میرے مسلمان ساتھیو
آپ کا دماغ کوڑے دان نہیں ہے۔ اس میں جو خیال آتا ہے، وہ ریکارڈ ہو رہا ہے اور اس کا اثر کائنات پر پڑ رہا ہے۔
ٹیسلا کی تھیوری ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ غیب کی دنیا حق ہے۔
اپنی سوچوں کی حفاظت کرو۔
اپنے خیالات کو دجالی میڈیا کے حوالے مت کرو۔
قرآن کو سائنس کی کتاب سمجھ کر پڑھو، تاکہ تم اس آنے والے ذہنی غلامی کے دور میں آزاد رہ سکو۔
اُٹھو! اور اپنی روحانی فریکوئنسی کو اتنا مضبوط کرو کہ کوئی دجالی مشین اسے ہیک نہ کر سکے
Learn Quran with Tajweed
You can learn Quran with Tajweed in easy way...
22/01/2026
ایمن نصیر دختر نصیر حسین، اس کی عمر 15 سال ہے۔ 21جنوری 2026 سے لاپتہ ہے۔نیو نقشبندکالونی ،ملتان کی رہائشی ہے۔اگر کسی کو اس کے بارے میں علم ہو تو 15 یا واٹس ایپ نمبر 03090000015 پر رابطہ کریں۔
Case ID: 246486116
Help to reunite with her family
قسط دس: قرآن کے ساتھ میرا سفر
نور، حرف اور حیرت
مقیتہ وسیم
میں نے قرآن کو کبھی صرف ایک کتاب نہیں سمجھا۔
یہ میرے لیے ایک حیرت کدہ ہے
ایسا مقام جہاں ہر قدم پر سوال جنم لیتا ہے
اور ہر سوال کے اندر ایک نیا نور سانس لینے لگتا ہے۔
غارِ حرا کا واقعہ میں نے بارہا سنا تھا۔
فرشتہ آیا، کہا: اقرأ
اور رسولِ خدا ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا:
“میں پڑھنا نہیں جانتا”۔
پہلے یہ محض ایک واقعہ تھا،
پھر ایک دن یہ میرے اندر سوال بن کر جاگ اٹھا۔
اگر وہاں صرف آواز ہوتی تو جو پڑھ نہیں سکتا
وہ بھی دہرا لیتا ہے
جیسے بچہ سنا ہوا لفظ دہرا دیتا ہے۔
پھر یہ “میں پڑھنا نہیں جانتا”
کس چیز کا انکار تھا؟
تب دل پر ایک پردہ سا ہٹا۔
وہاں کچھ لکھا ہوا دکھایا گیا تھا۔
اور جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو
وہ تحریر نہیں پڑھ سکتا
چاہے اس کی سماعت کتنی ہی قوی کیوں نہ ہو۔
پھر فرشتے نے آپ ﷺ کو تھاما، دبایا
اور نور قلب میں اتر گیا۔
فرشتہ نوری،
کلام نوری،
اور جس دل میں اترا
وہ دل بھی روشن ہو گیا۔
اسی لیے جہاں وحی اتری وہ جبلِ نور ہے اور جہاں تجلی پڑی وہ جبلِ طور۔
ایک جل گیا،
ایک روشن ہو گیا۔
قرآن جلانے نہیں آیا
روشن کرنے آیا ہے۔
یہیں سے میں حروفِ مقطعات پر ٹھہر جاتی ہوں۔ ہم کب تک
الف، لام، میم
کو ایک دکھ میں سمیٹ کر
“الم” پڑھتے رہیں گے؟
کٹے ہوئے حروف کو جوڑ دینا
یہ بھی ایک ظلم ہے۔
الف الگ ہے،
لام الگ ہے،
میم الگ ہے۔
یہ تین نہیں، نو ہیں۔
کیونکہ قرآن تحریر نہیں، تقریر ہے۔
اور جب ہم بولتے ہیں تو یوں بولتے ہیں:
الف (ا، ل، ف)
لام (ل، ا، م)
میم (م، ی، م)
یہ نو آوازیں ہیں،
اور آواز نشانی ہوتی ہے۔
آیت، نشانی کو کہتے ہیں۔
نو، نشانیوں کا عدد۔
میں نے اپنی زندگی میں
عدد نو کو بار بار اپنے گرد بکھرا پایا:
رمضان، نواں مہینہ
موسیٰؑ، نو نشانیاں
اماں عائشہ، نو سال کی عمر میں رخصتی،
نو سال ہی رفاقت
ماں کے پیٹ میں، نو ماہ
حج، نویں تاریخ، یومِ عرفہ
سورۂ توبہ، نویں سورت
رحمان و رحیم کے بغیر
خوف اور اختیار کا اعلان
رسولِ اکرم ﷺ، ربیع الاول کے نویں مہینے میں ولادت
اصحابِ کہف، عجبا کے ساتھ نو کا ظہور
سورۂ نمل، نویں آیت
“اے موسیٰ! میں ہی اللہ ہوں”
سورۂ یٰسین، نویں آیت کی تلاوت کے ساتھ ہجرت
طواف اور سعی، دائرہ اور لکیر، عدد نو کی صورت
یونسؑ کی دعا، نو کلمات
نظامِ شمسی، نو سیارے
عشر، فصل کے دس حصے، ایک اللہ کے لیے، نو گھر کے لیے
نور اللہ کی مرضی ہے
عرفہ، دو سال کے گناہوں کی معافی
ابراہیمؑ، ننانوے برس
عیسیٰؑ، نو دن بعد نام
آیۃ الکبریٰ، نو حروف
“ہم نے ہی ذکر اتارا”، نویں آیت
راز افشاں ہونے کا اعلان، نویں آیات
نو تکبیریں، نو رکعت وتر،
نو سال بعد حج،
نو کا اضافہ، تین سو سال والوں کی بیداری…سورۃ کہف میں.
یہ سب محض اتفاق نہیں لگتا۔
تب مجھے یوں محسوس ہوا:
الف، لام، میم ،دکھ نہیں، دروازہ ہے.
ایک ایسا دروازہ جو ابھی بند ہے مگر جس کے کھلنے کی اجازت
آہستہ آہستہ دی جا رہی ہے۔
اور جب کوئی چیز کھلتی ہے تو صرف پھیلتی نہیں راز بھی کھلتے ہیں۔
جیسے مور جب اپنی دم کھولتا ہے تو پہچانا نہیں جاتا۔
الف، لام، میم بھی مور کی مانند ہیں۔
جب یہ کھلیں گے تو صورت بدل جائے گی۔
اور تب ہم سمجھیں گے:
یہ کتاب دکھ کی نہیں، نور کی کتاب ہے۔
یہ حیرت کدہ ہے،
یہ شفا ہے،
یہ ہر آن پڑھی جانے والی کتاب ہے۔
میں اس سفر میں اب بھی سیکھ رہی ہوں کہ قرآن صرف پڑھا نہیں جاتا اتر جاتا ہے، دل میں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: فاتحہ کی سات آیات اور بقرہ کی آخری دو آیات نور ہیں۔
نو
جو دائرہ مکمل کرتا ہے۔
میں نے قرآن کو اسی طرح پڑھنا شروع کیا ہے: کھول کر، سن کر، حیرت میں۔
یہ کتاب کسی ایک معنی میں بند نہیں۔ یہ ہر قاری کو اس کی وسعت کے مطابق خود کو عطا کرتی ہے۔
یہی ہے
قرآن کے ساتھ میرا سفر جہاں حرف بھی نور ہے،
خاموشی بھی پیغام اور ہر آیت…
ایک نیا دروازہ۔
جاری ہے…
#مقیتہ وسیم
سائنسں دانوں کہنا ھے کہ لوہا
اس زمین اور نظام شمسی کا حصہ نہیں ھے۔
کیونکہ لوھے کے پیدا ہونے کے لئے ایک خاص درجہ حرارت کی ضرورت ھوتی ھے جو ہمارے نظام شمسی کے اندر بھی موجود نہیں۔ لوہا صرف سوپر نووا supernova کی صورت میں ھی بن سکتا ھے۔ یعنی جب کوئی سورج سے کئی گنا بڑا ستارہ پھٹ جائے اور اس کے اندر سے پھیلنے والا مادہ جب شہاب ثاقب meteorite کی شکل اختیار کرکے کسی سیارے پر گر جائے جیسا کے ھماری زمین کے ساتھ ھوا۔
سائنسدان کہتے ہیں کہ ھماری زمین پر بھی لوھا اسی طرح آیا۔ اربوں سالوں پہلے اسی طرح شہاب ثاقب meteorites اس دھرتی پر گرے تھے جن کے اندر لوھا موجود تھا۔
اللہ سبحان وتعالی نے یہی بات قرآن میں بیان فرمائی ہے، 1400 سال پہلے اس بات کا وجود تک بھی نہیں تھا کہ لوھا کیسے اور کہاں سے آیا؟
قرآن کی 57 ویں سورة کا نام الحدید ھے جس کا مطلب لوھا ھے۔ لوھے کے نام پر پوری صورت موجود ھے اور اسی سورة کی آیت میں اللہ فرماتا ھے کہ:
"اور ہم نے لوھے کو اتارا، اس میں سخت قوت اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں۔”
(سورة الحدید، آیت نمبر 25)
قرآن میں موجود یہ سائنسی حقائق اس بات کی دلیل ھے کہ یہ رب کا سچا کلام ھے۔ جو اس آخری پیغمبر حضور ﷺ پر نازل ھوا جو اُمی کہلاتے ہیں ۔
سورہ حدید آیت 4
﴿۴﴾ وھی ھے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ جو چیز زمین میں داخل ھوتی اور جو اس سے نکلتی ھے اور جو آسمان سے اُترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ھے سب اس کو معلوم ھے۔ اور تم جہاں کہیں ھو وہ تمہارے ساتھ ھے۔ اور جو کچھ تم کرتے ھو خدا اس کو دیکھ رھا ھے۔
اس سے بھی زیادہ حیران کر دینے والی بات یہ ھے کہ لوہا زمین کے بالکل درمیان میں ھے۔ اور لوھے کی بدولت مقناطیسی لہریں زمین کے گرد پیدا ہوتی ہیں جس سے زمین پر سورج کی الٹرا ریز اثر انداز نہیں ہو سکتی اور یہ وائرلیس کمیونیکیشن میں بھی مدد فراہم کرتی ھے۔
اب حیران کرنے والی بات یہ ھے کہ قرآن میں 114 سورتیں ہیں اور سورہ الحدید کا نمبر 57 ھے یعنی سورت حدید عین قرآن کے بیچ میں ھے۔ اور لوہا اسی طرح زمین کے درمیان ھے۔ یعنی اللہ نے اس سورہ کی ترتیب بھی اسی حساب سے رکھی جو کہ ایک معجزے سے کم نہیں۔
یہ بات حقیقت ھے کہ لوھے کہ بنا زمین پر زندگی تقریبا نا ممکن تھی۔ لوھا ہیموگلبن کی صورت میں ھمارے خون میں موجود ھے۔ جو کہ خون میں آکسیجن کو پورے جسم پہنچانے کام کرتا ھے۔
عربی زبان کے ٢٨ حروف ہیں اور ھر حرف سے کوئی عدد منسوب ھے.حروف کو مختلف ترتیب سے لکھا جاتا ھے.
سب سے زیادہ عام طریقہ درج ذیل ھے۔
ا ب ج د ہ و ز ح ط
1 2 3 4 5 6 7 8 9
ی ک ل م ن س ع ف ص
10 20 30 40 50 60 70 80 90
ق ر ش ت ث خ ذ ض ظ
100 200 300 400 500 600 700 800 900
غ
1000
ا کے لئے 1 ب کے لئے 2 کا عدد ھے ج کے لئے 3 اور د کے لئے 4
اسی طرح الحدید میں ا ل ح د ی د الفاظ ہیں۔
اسکے ابجد الفاظ درج زیل ہیں۔
1 + 30 + 8 + 4 + 10 + 4 = 57
الحدید سورت کا نمبر بھی 57 ھے۔
اب آتے ہیں لفظ حدید کی طرف۔ حرف حدید میں چار الفاظ ہیں ح د ی د۔ اسکا ابجد نمبر ھے۔
8+ 4 + 10 + 4 = 26
اب آپ سوچیں گے کہ اب 26 کیا چیز ھے؟؟؟
جی جناب یہ لوھے کا ایٹومک نمبر ھے۔
Atomic number of iron is 26
سورہ حدید میں رکوع کی تعداد 4 ھے جبکہ آئرن کے آئسوٹوپس کی تعداد بھی 4 ھے۔
ھماری زمین میں سب سے زیادہ لوھا زمین کی سب سے اندرونی تہہ (inner core) میں پایا جاتا ہے. Inner core 80% لوہے اور 20% نکِل پر مشتمل ھے. زمین کی اس تہہ یعنی inner core کی پیمائش(موٹائی) 2475 کلومیٹر ھے۔ جبکہ سورہ حدید میں حروف کی تعداد بھی 2475 بنتی ھے.
سورہ حدید قران مجید کی 57 ویں سورت ھے جبکہ سائنسدانوں کے مطابق inner core کا درجہ حرارت بھی 5700 کیلون یعنی5427 ڈگری سنٹی گریڈ ھے. جبکہ آئرن کے ایک آئسوٹوپ کا ماس نمبر بھی 57 ھے.
ایک ستارا کا ایندھن ہائیڈروجن گیس ہوتی ھے اور گریوٹی کی وجہ سے ستارا کے رکز میں فیوزن ری ایکشن شروع ھوتا ھے اور ہائیڈروجن ایٹم دوسرے ایٹم سے ملکر ہیلیئم بناتی ھے جب کسی ستارا کہ تمام ہائیڈروجن ختم ھو جاتی ھے تو اس کا ایندھن ہیلیئم ھوتا ھے اور ہیلیئم کے آئیٹم فیوزن ری ایکشن سے نائیٹروجن اور پھر آکسیجن بناتے پھر اور آخر میں لوھا بنتا ھے جب کسی ستارا میں لوھا پیدا ھونا شروع ھو جائے تو وہ ستارا مر جاتا ھے اور بلاسٹ کر کے لوھا کائنات میں چھوڑ دیتا ھے۔
زمین پر موجود لوھا کس مرے ہوئے ستارے سے آیا۔ جس کو قرآن نے 1400 سال سے بھی پہلے بیان کر دیا۔
اسلام اور قرآن کی حقانیت جدید سائنس دن بدن عیاں کر رھی ھے مگر پھر بھی ھم اللہ کو راضی کرنے کے بجائے دنیا کے پیچھے پڑے ہیں۔
بیشک قرآن حکیم ایک زندہ و جاوید معجزہ ھے۔
16/09/2022
https://pk.oriflame.com/products/digital-catalogue-current?store=iqramunir5
Link pr click kren or apna order khud place kren. Get your favorite product with 10 percent discount and free delivery at your home.
Oriflame Catalogue Are you passionate about beauty and want to make money by selling high quality products to friends and family? With Oriflame, you can do exactly that.
"مولوی"
جب سے جمعہ کا خطبہ سن کر آیا ہوں۔ دل کبھی اپنے مولویوں کی سادگی پر ہنسنے کو کر رہا اور کبھی ان کی کم عقلی پر ماتم کرنے کو۔۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور یہ ابھی۔۔۔۔
اپنے دوست جو عمر میں مجھ سے بڑے ہیں جس کو پیار سے بابا کہتا ہوں بات کی۔۔
بات سنو آج کچھ پریشان ہوں بات سمجھ نہیں آ رہی۔۔
یار بابا۔۔دیکھو نا ۔۔یہ مولوی کیسی باتیں کرتے ہیں۔۔ پھر آپ لوگ کہتے ہوکہ ان کا مذاق نہ اڑائیں تو اور کیا کریں۔۔
بابے۔۔ او بابے۔۔ یار آج مولوی کہہ رہا تھا کہ قیامت کے دن ہر انسان کے اعمال کی تختیاں اس کی گردن میں ڈالی ہوئی ہوں گی۔۔
تو!!! بابے نے حیرانگی سے مجھے دیکھا ۔۔
یار بابے۔۔ بتاو نا یہ کیا بات ہوئی۔۔ اگر ایک آدمی کے 70 سال عمر ہوئی تو کتنی بڑی اور لمبی تختی اس کے گلے میں ہو گی۔۔
سوچو نا۔۔میری ہنسی نکل گئی۔۔اور اگر کسی کی عمر سو دوسو سال ہوئی تو اس کی تختیاں تو ۔۔۔ ہاہاہا۔۔ یار حد ہے۔
بابے کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔
بولا تم مولوی پر ہنس رہے ہو یا اس تختی کی بات پر۔۔ ؟
جہاں تک تختی کی بات ہے تو یہ قرآن کی آیت ہے۔۔ تم ایت پر ہنس رہے ہو؟؟؟
مین گھبرا گیا اور جلدی سے کانوں کو ہاتھ لگائے کہ مجھے پتہ نہی تھا ۔۔ لیکن بابے یہ کوئی rational تو۔۔۔
بابے نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روک دیا اور بولا سو فیصد Rational بھی ہے اور logical بھی۔۔ سنو۔۔
یہ آیت قران مجید کی سورہ اسراء کی 13 آیت ہے۔۔ کچھ یوں ارشاد ہے۔۔
وَ کُلَّ اِنۡسَانٍ اَلۡزَمۡنٰہُ طٰٓئِرَہٗ فِیۡ عُنُقِہٖ ؕ وَ نُخۡرِجُ لَہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلۡقٰىہُ مَنۡشُوۡرًا۔۔۔
ترجمہ: اور ہم نے ہر آدمی کے نامۂ اعمال ( یعنی : اس کے انجام کی بھلائی یا برائی ) کو اس کی گردن میں لٹکا رکھا ہے ، اور ہم اس لکھی ہوئی چیز کو اس کے لیے قیامت کے دن نکال لیں گے ، جسے وہ کھلی ہوئی ( کتاب کی طرح ) پائے گا ۔
سنو بچہ جی۔۔ تم یہ سمجھ رہے ہو کہ لمبی سی تختی گلے میں ڈالی ہو گی۔۔
کیونکہ تم اللہ کی ٹیکنالوجی کو اپنی ٹیکنالوجی سے کمزور سمجھتے ہو۔۔ واقعی اس میں قصور ہمارے دینی طبقہ کا ہے کہ اس نے وقت کے لحاظ سے تراجم نہیں کئے۔۔
اور مدرسہ ابھی تک صدیوں پرانا علم ہی گھوٹ گھوٹ کر پلا رہا ہے۔۔ تم جانتے ہو تختی کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں۔۔
میں نے حیرانگی میں انکار کیا کہ نہیں بابے نہیں جانتا!!!
تختی کو انگریزی میں
" ٹیبلٹ"
کہتے ہیں۔۔
کبھی گوگل کر لیا کرو۔۔
موسی علیہ السلام کو جو سلیٹ یا تختیاں دی گئی تھیں انھیں بھی ٹیبلٹ کہا جاتا ہے۔
سب سے قدیم جو تختیاں یا مٹی کی سلیٹ ملی ہیں وہ داستان گلگامیش کی ہیں جس پر میخوں کی طرح خطوط ہیں جسے میخی رسم الخط کہتے ہیں۔۔
یہ آج سے کوئی ساڑھے چار ہزار سال قدیم ہیں ۔۔
تو اگر گلے میں لٹکتی تختی کو I pad یا Samsung tab کہیں تو پھر تو جگہ بن جائے گی نا گلے میں۔۔؟
اور اگر اس کے GB s کو بڑھا دیا جائے تو پورے ملک کا ڈیٹا آپ کی گردن میں لٹکایا جا سکتا ہے۔۔
لیکن یہ بات بھی اب پرانی ہو گئی ہے۔۔
اس ایت کا دوسرا حصہ اگر تم غور سے پڑھو تو اللہ کریم فرما رہے ہیں کہ
" ہم قیامت کے روز اس کیلئے ایک رجسٹر نکالیں گے ، جس کو وہ بالکل کھلا ہوا پائے گا"
سے مراد یہ ہے کہ جو تختی اس کے گلے میں ہو گی وہ Tab سے بھی چھوٹی ہو گی
اور اس سے اللہ کریم پرنٹ نکال کر ہارڈ کاپی سامنے رکھ دیں گے۔۔
اس کا مطلب ہوا کہ جیسے آج کل وہ ٹیڑھے میڑھے کالے کوڈ کے نشان جسے تم لوگ QR کوڈ کہتے ہوں
تم سب کے آفیشل ID cards میں ہوتا ہے،
جسے تم لوگ دفتر یا کسی وزٹ پر جاتے ہوئے گلے میں پہنے رکھتے ہو ۔ اسے اسکین کر کے تمام ڈیٹا لیا جاسکتا ہے۔۔ اور آج کل تو پاکستانیوں کو ملک سے باہر جانے کے لئے چپ والا شناختی کارڈ چاہئے ہوتا ہے۔۔ جس کے ایک جانب QR کوڈ ہوتا ہے۔۔
آپ کا شناختی کارڈ اسکین ہو تو آپ کا تمام بنک اکاونٹس،تعلیم،خاندان،میڈیکل ہسٹری، اور نجانے کیا کیا نکل کر سامنے آجاتا ہے۔
میرا منہ کھلا رہ گیا ۔۔ اس نے میری تھوڑی کو اوپر کی جانب زور دیتے ہوئے منہ بند کرایا
اور اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے بولا۔۔
چلو تھوڑی دیر کو ہم ٹیبلٹ کو اصل تختی سمجھ لیں تو تمہارا 200 GB کا موبائل فون جس میں تمہاری ساری دونمبریاں، فراڈ، بنک اکاؤنٹ، رپورٹس، ایمیلز۔ فیملی ڈیٹیلز۔ تصاویر بلکہ نجانے کیسی کیسی تصاویر۔۔ ہوتی ہیں ۔۔
چلو کچھ دیر کو تم خود کو خدا کے سامنے سوچو۔۔ اور اپنا موبائل نکال کر خود اس کا محاسبہ کرو ۔۔ تم جنتی ہو گے یا جہنمی؟؟
میرے منہ سے آہستہ سے نکلا " جہنمی" ۔۔۔اور انکھیں نیچے خود بخود ہو گئیں۔۔
بابا آج rock کر رہا تھا۔۔ بولا۔
آج کل تمام کرائم سین میں سب سے پہلے جیو فنسنگ کی جاتی ہے۔ اور موبائل ڈیٹا لیا جاتا ہے۔۔ چاہے عورت ہو یا مرد۔۔
اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکو۔۔ صرف یہ موبائل ہی قبر میں فرشتوں نے کھول لیا جس میں زیادہ سے زیادہ گزشتہ 5 سالہ ڈیٹا ہو گا تو ۔۔۔
اسی لئے تو سورہ اسراء کی 13 آیت سے اگلی آیت میں اللہ کریم نے ارشاد فرمایا۔
اِقۡرَاۡ کِتٰبَکَ ؕ کَفٰی بِنَفۡسِکَ الۡیَوۡمَ عَلَیۡکَ حَسِیۡبًا
ترجمہ: پڑھ اپنا نامہ اعمال ، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے ۔
سن بچہ!!! جہاں تمام دنیا کا علم ختم ہو گا اور تمام دنیا کی آسائشیں ختم ہوں گی تمام دنیا کی عقل مکمل ہو گی روز جزا اس ے کہیں زیادہ ایڈوانس ہو گا۔۔
اس نے تو جو انسان کا مینول گائید بک انسان میں روز ازل سے لگا دی تھی۔۔ انسان اسے ابھی تک مکمل نہیں پڑھ سکا۔۔
بابے وہ کون سی گائیڈ بک ہے انسان کی۔۔؟؟
ارے بچہ۔۔تمہارا DNA اور کیا؟ ۔۔
مین چونک پڑا واقعی۔۔ یہ تو بابے نے سچ کہا۔۔
بابا بولا۔۔
یار تم لوگ بھی عجیب پریشان اور متذبذب نسل ہو۔۔
ایک پچھلی صدی کے اندھے لولے لنگڑے گونگے سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کو انکھوں سے الفاظ بنانے والی مشین ایجاد کر کے دے سکتے ہو۔۔
جس میں وہ اپنی پلکیں اور انکھوں کی پتلیاں ھلائے تو جملے بنیں۔۔
فیس بک تمہاری آنکھوں کی حرکت پر تمہارے صفحہ کی ایکٹیوٹی اور اشتہار امریکہ میں بیٹھے بیٹھے نوٹ کر لے
اور دوبارہ جب تم فیس بک کھولو تو وہ تمہارے من پسند پیجز اور ایڈورٹائزمنٹ کی طرف تمہیں راغب کرے۔
لیکن جب بات خدا کی آئے تو
لوح بھی بڑی سا بلیک بورڈ دکھے اور قلم سیاہی میں ڈبو ڈبو کر لکھنے والے۔۔
جس طرح تم اور میں جاندار ہیں اسی طرح لوح اور قلم بھی خدا کی مخلوق ہے اور رب اپنی قدرت سے انہیں فرمان جاری کرتا ہے۔۔
تمہاری تو آرٹیفشل انتیلجنس ہے جس سے تمہارے سائنسدان ڈر گئے ہیں کہ کہیں مستقبل میں یہ مصنوعی ذہانت خود سر نہ ہو جائے۔۔
جبکہ وہاں الہامی کام ہو رہا ہے۔ اور کوئی اس کے حکم کی رو گردانی نہیں کرتا۔۔
0101001 جانتے ہو نا کیا ہے؟
جی۔۔ یہ کمپیوٹر کی زبان ہے جس سے پروگرامنگ ہوتی ہے۔۔ شائد اسے بائنری کوڈ کہتے ہیں ۔۔
میں بولا
بابا بولا۔۔
تم خوش ہو کہ binary code ایک ایسا کوڈ بنا لیا ہے جس سے کمپیوٹر بن گئے اور انقلاب آگیا۔۔
لیکن خدا کے بارے میں تم سمجھتے ہو کہ وہ مولوی کی طرح بے بس ہو گیا ہے۔۔
اگر تم لوگ مانو یا سمجھو تو رب نے 14 سو سال پہلے اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پاک سے اس کائنات کا بائنری کوڈ دے دیا ۔۔ مگر تم کسی چیز کو کھلے دماغ سے پرکھتے ہی نہیں ہو۔۔
ککک۔۔کیا کوڈ ہے کائنات کا؟؟ میں ھکلایا۔۔۔
بابے نہیں قہقہہ مارا۔۔۔
اور بولا
ل ا ال ہ ال ا ال ل ہ۔۔۔
یہ کیا ہوا بابے؟؟
میں نہ سمجھتے ہوئے بولا۔۔
بچہ یہ
"لا الہ الااللہ" ہے ۔۔
اور اس کا مختصر کوڈ ال ل ہ ہے
یعنی "اللہ"
اور
اس کوڈ کو unlock کرنے کی چابی " م" ہے۔
اسی لئے کلمہ میں اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ساتھ لکھے گئے ہیں۔
یہ جو سارے بزرگ کلمہ کا ورد کراتے ہیں تو آپ کو اس ردھم میں شامل کرتے ہیں نا جس کا فیبرکس کلمہ نے بنا یا ہے۔
یہ "ل" قلم میں بھی ہے، لوح میں بھی، سدرہ المنتہی میں بھی۔۔
جبریل، میکائیل،اسرافیل اعزرائیل حتکہ ابلیس میں بھی ہے۔۔ اور "م" کی کیا بات ہے۔
عرش پر محمود، آسمان میں احمد،کائنات میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔
اسی لئے تو قیامت کے دن جب شفاعت" م" فرمائیں گے تو اللہ ارشاد فرمائیں گے جائیں اب جہنم سے اسے بھی نکال لائیں جس نے ایک مرتبہ بھی لا الہ الا اللہ کہا ہے۔۔
اسی لئے تو علامہ چیخ اٹھا۔۔۔
کی محمداﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ بابے نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تو دور عشاء کی آذان گونجی۔۔
بابے نے میری پیٹھ پر تھپکی دیتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔
کاکا اللہ کے بندوں کو اب نالیوں اور کثرت دانوں اور ٹوٹی پھوٹی جھونپڑیوں میں ڈھونڈنا چھوڑ دو۔۔اب وہاں یا مجزوب ہوتے ہیں یا ڈرامے باز۔۔
اب بابے کسی کمپنی کے CEOs, کسی فیکٹری کے مالک،کسی بڑی ورکشاپ کے چیف مکینک ہوتے ہیں۔۔
میں نے چونک کر اسے دیکھا۔۔
وہ مسکرایا۔۔
اور بولا
تم نے 1997 میں انے والی ایک فلم The devil 's advocate دیکھی ہے؟؟
میں نے نفی میں سر ہلایا۔۔
بابا بولا ضرور دیکھنا۔۔
اگر ابلیس کو گورا آج کے دور کا ایک بڑا کامیاب بزنس مین دکھا سکتا ہے
جس کا کاروبار دنیا میں پھیلا ہوا ہے اور اب وہ سوٹ بوٹ پہن کر لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا رہا ہے۔۔
تو اللہ کے بندے تو ہمیشہ ابلیس کی چال سے کئی میل آگے چل رہے ہوتے ہیں۔۔
تم جنہیں مولویوں ، میلے کچیلے کپڑوں میں تلاش کر رہے ہو وہ آج کل ٹوکسیڈو میں پھر رہے ہیں۔۔
یہ کہ کر بابے نے ایک قہقہ لگاتا اور اپنے جوگنگ ٹریک پر دوڑ پڑا۔۔
مجھ میں بینچ سے اٹھنے کی سکت بھی نہیں تھی۔۔copied
17/11/2021
30/03/2021
______آبی چکر: (water cycle)______
(قران آبی چکر کے بارے میں کیا کہتا ہے)
"سورج کی روشنی ہماری زمین پر موجود پانی کو گرم کرتی ہے اور پانی بخارات(water vapour) میں بدل جاتا ہے ,گرم ہونے کی وجہ سے بخارات اوپر اٹھنے لگتی ہے جو اونچائی پر جانے کے بعد ٹھنڈی ہو کر چھوٹی چھوٹی بوندوں میں بدل جاتی ہے ,پھر یہ بوندیںں ملکر ایک بادل بناتی ہیں اسے condesation کہتے ہیں,بوندے بھاری ہوکر زمین پر بارش کی فارم میں برس جاتی ہیں,جسے precipitation کہتے ہیں-
چشموں،ندی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے یہی پانی دوبارہ سمندر میں چلا جاتا ہے۔کچھ پانی زمین کی تہہ میں جذب ہوجاتا ہے۔اسی طرح کرۂ ارض پر پانی کی مقدار یکساں رہتی ہے۔یہ عمل مسلسل اسی طرح ہو رہا ہے جسی "آبی چکر" کہتے ہیں!(تصویر"01)
اسکی مکمل تفسیل 'ناسا" کی ویب سائٹ پر پڑھ سکتے ہیں-👇👇
https://gpm.nasa.gov/education/water-cycle
اب زرا قران کی ان آیات پر نظر ڈالیں:
1-)سورہ الروم:24
آسمان سے پانی برساتا ہے، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے یقیناً اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں
اس ایت کو پڑھنے کے بعد پہلا سوال ذہن میں ائگا کہ سائنس میں اسمان نام کی تو کوئی شی نہیں پھر یہ ایت کس طرح صحیح ہے ؟؟؟
اسکے لئے میری یہ 👇👇,تحریر دیکھیں "ْآسمان اور سائنس قران کی روشنی میں "
https://www.facebook.com/100053463647835/posts/243992787392841/?app=fbl
2-)سورۃ المؤمنون:18
اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھیرا دیا ہم اُسے جس طرح چاہیں غائب کر سکتے ہیں,
3-)سورۃ الحجر:22
بار آور ہواؤں کو ہم ہی بھیجتے ہیں، پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں، اور اُس پانی سے تمہیں سیراب کرتے ہیں-
بار آور سے مراد یہ ہے کہ ہوا، بادلوں کو ایک دوسرے کے قریب دھکیلتی ہے جس کی وجہ سے ان پر تکثیف (Condensation) کا عمل بڑھتا ہے جس کا نتیجہ بجلی چمکنے اور بارش ہونے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ کچھ اسی طرح کی تو ضیحات، قرآن پاک کی دیگر آیات مبارک میں بھی موجود ہیں:
4-))سورۃ النور:44
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خ*ل میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں اور وہ آسمان سے، اُن پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں، اولے برساتا ہے، پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچا لیتا ہے اُس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے
اس مکمل تفسیل کو دیکھ کر کوئی با آسانی سمجھ سکتا یے کہ قرآن کی آیات میں بہت واضح طور پر "آبی چکر "(Water Cycle) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے-جو 1440 سال پہلے ایک عام انسان کے لئے جان لینا نا ممکن ہے-
ایک علم والا انسان جب اس طرح کائنات اور قران کی آیات میں غورو فکر کرتا ہے تو سائنس اور قرآن کے بیچ ایک ایسا پل بن جاتا ہے جس سے ہوتا ہوا ایک لا مذہب,با مذہب بن سکتا ہے-
❤(محمد,24:47)
بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں
❤(سورۃ الجاثية,45:05)
نیز رات اور دن کے ادل بدل کر آنے میں ، اور جو اللہ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا۔ پھر اس زمین کو مرنے کے بعد زندہ کردیا، اور ہواؤں کی گردش میں ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں
The Water Cycle | Precipitation Education Home page for the Water Cycle topic.This website, presented by NASA’s Global Precipitation Measurement (GPM) mission, provides students and educators with resources to learn about Earth’s water cycle, weather and climate, and the technology and societal applications of studying them.
صاد ۔۔۔ زا ۔۔۔ سین ۔۔۔ کا ہے
زبان کا سرا ثنایا سفلی ( نیچے والے دو دانت ) کا کنارہ مع کچھ اتصال ثنایا علیا ( اوپر والے دو دانت ) کے ہے
ان کو حروف " صفیر " کہتے ہیں
یاد رکھو یہاں اتصال سےمراد ثنایا علیا کا زبان کے سرے سے تعلق و اتصال مراد نہیں ہے ۔ بلکہ ثنایا علیا کا ثنایا سفلی سے قُرب و اتصال مراد ہے ۔
پس ان حروف کو ادا کرتے وقت زبان کی نوک کو صرف نیچے کے اگلے دو دانتوں کے کنارے سے لگانا چاہئیے اس طرح کہ اوپر کے دو دانتوں سے جدا رہے ۔ کیونکہ اگر زبان کی نوک اوپر کے دو دانتوں سے لگ جائے گی تو حروف اپنی اصلی صفت کے ساتھ ادا نہ ہو سکیں گے ۔
صفیرمرغ یعنی چڑیا کی آواز کو کہتے ہیں ۔ چونکہ ان حروف کی آواز مشابہ اس آواز کے ہوتی ہے ۔ اس لئے ان کو حروف صفیر " کہتے ہیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Wah
Opening Hours
| Monday | 16:00 - 22:00 |
| Tuesday | 16:00 - 22:00 |
| Wednesday | 16:00 - 22:00 |
| Thursday | 16:00 - 22:00 |
| Friday | 16:00 - 22:00 |
| Sunday | 09:00 - 22:00 |