حلقہ اربابِ ذوق

حلقہ اربابِ ذوق

Share

حلقہ اربابِ ذوق ادبی پیج ہے جس کا مقصد اہل ذوق احباب کی ادبی تحریروں تک رسائی کو آسان بنانا ہے

24/11/2022

فقیہ شہر کے بارے میری رائے تھی,,,
گناہ گار ہے پتھر نہیں اٹھائے گا...

اسی طرح در و دیوار تنگ ہوتے رہے,,,
تو کوئی اپنے لیے گھر نہیں بنائے گا...
انجم خیالی..

05/12/2020

شور ہے ہر طرف سحاب سحاب
ساقیا! ساقیا! شراب! شراب
آبِ حیواں کو مَے سے کیا نسبت!
پانی پانی ہے اور شراب شراب!
رند بخشے گئے قیامت میں
شیخ کہتا رہا حساب حساب
اک وہی مستِ با خبر نکلا
جس کو کہتے تھے سب خراب خراب
مجھ سے وجہِ گناہ جب پوچھی
سر جھکا کے کہا شباب شباب
جام گرنے لگا، تو بہکا شیخ
تھامنا ! تھامنا! کتاب! کتاب!
کب وہ آتا ہے سامنے کشفی
جس کی ہر اک ادا حجاب حجاب

کشفی ملتانی

02/12/2020

ہم اشک غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہے,,
مژہ پہ آن کے ٹک جم رہے رہے نہ رہے..

رہیں وہ شخص جو بزم جہاں کی رونق ہیں,,
ہماری کیا ہے اگر ہم رہے رہے نہ رہے..

مجھے ہے نزع وہ آتا ہے دیکھنے اب آہ,,
کہ اس کے آنے تلک دم رہے رہے نہ رہے..

بقا ہماری جو پوچھو تو جوں چراغ مزار,,
ہوا کے بیچ کوئی دم رہے رہے نہ رہے..

ملو جو ہم سے تو مل لو کہ ہم بہ نوک گیاہ,,
مثال قطرۂ شبنم رہے رہے نہ رہے..

یہی ہے عزم کہ دل بھر کے آج رو لیجے,,
کہ کل یہ دیدۂ پر نم رہے رہے نہ رہے..

تمہارے غم میں غرض ہم تو دے چکے ہیں جی,,
بلا سے تم کو بھی اب غم رہے رہے نہ رہے..

یہی سمجھ لو ہمیں تم کہ اک مسافر ہیں,,
جو چلتے چلتے کہیں تھم رہے رہے نہ رہے..

نظیرؔ آج ہی چل کر بتوں سے مل لیجے,,
پھر اشتیاق کا عالم رہے رہے نہ رہے..

نظیر اکبر آبادی

24/11/2020

ہم تازہ گھٹن چھوڑ کے چھت پر نہیں جاتے
ماحول مناسب ہو تو اوپر نہیں جاتے

دیکھو مجھے اب میری جگہ سے نہ ہلانا
پھر تم مجھے ترتیب سے رکھ کر نہیں جاتے

بدنام ہیں صدیوں سے ہی کانٹوں کی وجہ سے
عادت سے مگر آج بھی کیکر نہیں جاتے

جس دن سے شکاری نے ادا کی کوئی منت
دربار پہ اس دن سے کبوتر نہیں جاتے

سو تم مجھے حیرت زدہ آنکھوں سے نہ دیکھو
کچھ لوگ سنبھل جاتے ہیں سب مر نہیں جاتے

دانش نقوی

19/11/2020

جاہ کی خواہشِ بے فیض پر مرنے والے
کسی انسان کی عزت نہیں کرنے والے

وہی اب شہر کی نظروں میں شناور ٹھہرے
لبِ دریا جو کھڑے تھے کئی ڈرنے والے

کس قدر خواب میں ابھی شعر بنانے ہیں ہمیں
کتنے خاکوں میں ابھی رنگ ہیں بھرنے والے

وقت پر زور نہیں عمر چلی جاتی ہے
سینکڑوں کام پڑے ہیں ابھی کرنے والے

بھول ہوگی تو اُسے دل سے کریں گے تسلیم
ہم نہیں دوش کسی اور پر دھرنے والے

دیکھ لے آنکھ اٹھا کرہمیں اے سیلِ ہوس
نہیں اس شہر کے سب لوگ بکھرنے والے

پیار بٹنے سے کبھی ختم نہیں ہوگا امجد
دل کے دریا تو نہیں ہوتے کبھی اترنے والے

امجد اسلام مجد

16/11/2020

شیون میں شب کے ٹوٹی زنجیر میرؔ صاحب
اب کیا مرے جنوں کی تدبیر میرؔ صاحب

ہم سر بکھیرتے تو وہ تیغ کھنچ نہ سکتی
اپنا گناہ اپنی تقصیر میرؔ صاحب

کھنچتی نہیں کماں اب ہم سے ہواے گل کی
بادسحر لگے ہے جوں تیر میرؔ صاحب

کب ہیں جوانی کے سے اشعار شورآور
شاید کہ کچھ ہوئے ہیں اب پیر میرؔ صاحب

تم کس خیال میں ہو تصویر سے جو چپ ہو
کرتے ہیں لوگ کیا کیا تقریر میرؔ صاحب

میر تقی میرؔ

15/11/2020

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا

مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ
کہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا

یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میں
کوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا

اذیت مصیبت ملامت بلائیں
ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا

کیا مج کو داغوں نے سرو چراغاں
کبھو تو نے آ کر تماشا نہ دیکھا

تغافل نے تیرے یہ کچھ دن دکھائے
ادھر تو نے لیکن نہ دیکھا نہ دیکھا

حجاب رخ یار تھے آپ ہی ہم
کھلی آنکھ جب کوئی پردا نہ دیکھا

شب و روز اے دردؔ در پے ہوں اس کے
کسو نے جسے یاں نہ سمجھا نہ دیکھا

خواجہ میر درد..

13/11/2020

میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوں,,
تخت کے بعد ترے پاؤں میں دیکھا گیا ہوں..

لمحہ بھر کو مرے سر پر کوئی بادل آیا,,
کہنے والوں نے کہا چھاؤں میں دیکھا گیا ہوں..

پھر مجھے خود بھی خبر ہو نہ سکی میں ہوں کہاں,,
آخری بار ترے گاؤں میں دیکھا گیا ہوں..

ندیم بھابھہ..

06/11/2020

دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیں,,
یہ جو آنسو ہیں، کہیں اُس کی نشانی تو نہیں..

دِکھ رہی ہے جو مُجھے صاف تیری آنکھوں میں,,
تُو نے یہ بات کہیں مُجھ سے چُھپانی تو نہیں ؟

جانتا ہوں کہ سرابوں میں گِھرا ہوں یارو,,
دوڑ پڑتا ہوں مگر پِھر بھی کہ پانی تو نہیں..

جس طرح شہر سے نکلا ہوں میں بیمار ترا,,
یہ اُجڑنا ہے، کوئی نقل مکانی تو نہیں..

یہ جو ہر موڑ پہ آ ملتی ہے مُجھ سے فرحتؔ,,
بدنصیبی بھی کہیں میری دیوانی تو نہیں..

فرحتؔ عباس شاہ

05/11/2020

خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی,,
نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی..

شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباس برہنگی,,
نہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی..

چلی سمت غیب سیں کیا ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا,,
مگر ایک شاخ نہال غم جسے دل کہو سو ہری رہی..

نظر تغافل یار کا گلہ کس زباں سیں بیاں کروں,,
کہ شراب صد قدح آرزو خم دل میں تھی سو بھری رہی..

وہ عجب گھڑی تھی میں جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا,,
کہ کتاب عقل کی طاق پر جوں دھری تھی تیوں ہی دھری رہی..

ترے جوش حیرت حسن کا اثر اس قدر سیں یہاں ہوا,,
کہ نہ آئینے میں رہی جلا نہ پری کوں جلوہ گری رہی..

کیا خاک آتش عشق نے دل بے نوائے سراجؔ کوں,,
نہ خطر رہا نہ حذر رہا مگر ایک بے خطری رہی..

سراج اورنگ آبادی..

04/11/2020

دل نے وفا کے نام پر کار وفا نہیں کیا
خود کو ہلاک کر لیا خود کو فدا نہیں کیا

خیرہ سران شوق کا کوئی نہیں ہے جنبہ دار
شہر میں اس گروہ نے کس کو خفا نہیں کیا

جو بھی ہو تم پہ معترض اس کو یہی جواب دو
آپ بہت شریف ہیں آپ نے کیا نہیں کیا

نسبت علم ہے بہت حاکم وقت کو عزیز
اس نے تو کار جہل بھی بے علما نہیں کیا

جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکم خدا دیا قرار
ہم نے نہیں کیا وہ کام ہاں بہ خدا نہیں کیا

03/11/2020

مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے
شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو
ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید
اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو

میں نے مانا کہ وہ بیگانۂ پیمان وفا
کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں
شاید اب لوٹ کے آئے نہ تری محفل میں
اور کوئی دکھ نہ رلائے تجھے تنہائی میں

میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میں
وقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ
چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغ
مستقل بعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ

پھر بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے
مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں
زخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتا ہے
دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں

یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کر
تیرے پاس آئے زمانے سے کنارا کر لے
تو کہ معصوم بھی ہے زود فراموش بھی ہے
اس کی پیماں شکنی کو بھی گوارا کر لے

اور میں جس نے تجھے اپنا مسیحا سمجھا
ایک زخم اور بھی پہلے کی طرح سہ جاؤں
جس پہ پہلے بھی کئی عہد وفا ٹوٹے ہیں
اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں

احمد فراز

Want your school to be the top-listed School/college in Vehari?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Vehari
P/OTHINGICOLONYDISTERICVEHARI