فقیہ شہر کے بارے میری رائے تھی,,,
گناہ گار ہے پتھر نہیں اٹھائے گا...
اسی طرح در و دیوار تنگ ہوتے رہے,,,
تو کوئی اپنے لیے گھر نہیں بنائے گا...
انجم خیالی..
حلقہ اربابِ ذوق
حلقہ اربابِ ذوق ادبی پیج ہے جس کا مقصد اہل ذوق احباب کی ادبی تحریروں تک رسائی کو آسان بنانا ہے
شور ہے ہر طرف سحاب سحاب
ساقیا! ساقیا! شراب! شراب
آبِ حیواں کو مَے سے کیا نسبت!
پانی پانی ہے اور شراب شراب!
رند بخشے گئے قیامت میں
شیخ کہتا رہا حساب حساب
اک وہی مستِ با خبر نکلا
جس کو کہتے تھے سب خراب خراب
مجھ سے وجہِ گناہ جب پوچھی
سر جھکا کے کہا شباب شباب
جام گرنے لگا، تو بہکا شیخ
تھامنا ! تھامنا! کتاب! کتاب!
کب وہ آتا ہے سامنے کشفی
جس کی ہر اک ادا حجاب حجاب
کشفی ملتانی
ہم اشک غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہے,,
مژہ پہ آن کے ٹک جم رہے رہے نہ رہے..
رہیں وہ شخص جو بزم جہاں کی رونق ہیں,,
ہماری کیا ہے اگر ہم رہے رہے نہ رہے..
مجھے ہے نزع وہ آتا ہے دیکھنے اب آہ,,
کہ اس کے آنے تلک دم رہے رہے نہ رہے..
بقا ہماری جو پوچھو تو جوں چراغ مزار,,
ہوا کے بیچ کوئی دم رہے رہے نہ رہے..
ملو جو ہم سے تو مل لو کہ ہم بہ نوک گیاہ,,
مثال قطرۂ شبنم رہے رہے نہ رہے..
یہی ہے عزم کہ دل بھر کے آج رو لیجے,,
کہ کل یہ دیدۂ پر نم رہے رہے نہ رہے..
تمہارے غم میں غرض ہم تو دے چکے ہیں جی,,
بلا سے تم کو بھی اب غم رہے رہے نہ رہے..
یہی سمجھ لو ہمیں تم کہ اک مسافر ہیں,,
جو چلتے چلتے کہیں تھم رہے رہے نہ رہے..
نظیرؔ آج ہی چل کر بتوں سے مل لیجے,,
پھر اشتیاق کا عالم رہے رہے نہ رہے..
نظیر اکبر آبادی
ہم تازہ گھٹن چھوڑ کے چھت پر نہیں جاتے
ماحول مناسب ہو تو اوپر نہیں جاتے
دیکھو مجھے اب میری جگہ سے نہ ہلانا
پھر تم مجھے ترتیب سے رکھ کر نہیں جاتے
بدنام ہیں صدیوں سے ہی کانٹوں کی وجہ سے
عادت سے مگر آج بھی کیکر نہیں جاتے
جس دن سے شکاری نے ادا کی کوئی منت
دربار پہ اس دن سے کبوتر نہیں جاتے
سو تم مجھے حیرت زدہ آنکھوں سے نہ دیکھو
کچھ لوگ سنبھل جاتے ہیں سب مر نہیں جاتے
دانش نقوی
جاہ کی خواہشِ بے فیض پر مرنے والے
کسی انسان کی عزت نہیں کرنے والے
وہی اب شہر کی نظروں میں شناور ٹھہرے
لبِ دریا جو کھڑے تھے کئی ڈرنے والے
کس قدر خواب میں ابھی شعر بنانے ہیں ہمیں
کتنے خاکوں میں ابھی رنگ ہیں بھرنے والے
وقت پر زور نہیں عمر چلی جاتی ہے
سینکڑوں کام پڑے ہیں ابھی کرنے والے
بھول ہوگی تو اُسے دل سے کریں گے تسلیم
ہم نہیں دوش کسی اور پر دھرنے والے
دیکھ لے آنکھ اٹھا کرہمیں اے سیلِ ہوس
نہیں اس شہر کے سب لوگ بکھرنے والے
پیار بٹنے سے کبھی ختم نہیں ہوگا امجد
دل کے دریا تو نہیں ہوتے کبھی اترنے والے
امجد اسلام مجد
شیون میں شب کے ٹوٹی زنجیر میرؔ صاحب
اب کیا مرے جنوں کی تدبیر میرؔ صاحب
ہم سر بکھیرتے تو وہ تیغ کھنچ نہ سکتی
اپنا گناہ اپنی تقصیر میرؔ صاحب
کھنچتی نہیں کماں اب ہم سے ہواے گل کی
بادسحر لگے ہے جوں تیر میرؔ صاحب
کب ہیں جوانی کے سے اشعار شورآور
شاید کہ کچھ ہوئے ہیں اب پیر میرؔ صاحب
تم کس خیال میں ہو تصویر سے جو چپ ہو
کرتے ہیں لوگ کیا کیا تقریر میرؔ صاحب
میر تقی میرؔ
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا
مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ
کہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا
یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میں
کوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا
اذیت مصیبت ملامت بلائیں
ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
کیا مج کو داغوں نے سرو چراغاں
کبھو تو نے آ کر تماشا نہ دیکھا
تغافل نے تیرے یہ کچھ دن دکھائے
ادھر تو نے لیکن نہ دیکھا نہ دیکھا
حجاب رخ یار تھے آپ ہی ہم
کھلی آنکھ جب کوئی پردا نہ دیکھا
شب و روز اے دردؔ در پے ہوں اس کے
کسو نے جسے یاں نہ سمجھا نہ دیکھا
خواجہ میر درد..
میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوں,,
تخت کے بعد ترے پاؤں میں دیکھا گیا ہوں..
لمحہ بھر کو مرے سر پر کوئی بادل آیا,,
کہنے والوں نے کہا چھاؤں میں دیکھا گیا ہوں..
پھر مجھے خود بھی خبر ہو نہ سکی میں ہوں کہاں,,
آخری بار ترے گاؤں میں دیکھا گیا ہوں..
ندیم بھابھہ..
06/11/2020
دیکھ لینا کہ کسی دُکھ کی کہانی تو نہیں,,
یہ جو آنسو ہیں، کہیں اُس کی نشانی تو نہیں..
دِکھ رہی ہے جو مُجھے صاف تیری آنکھوں میں,,
تُو نے یہ بات کہیں مُجھ سے چُھپانی تو نہیں ؟
جانتا ہوں کہ سرابوں میں گِھرا ہوں یارو,,
دوڑ پڑتا ہوں مگر پِھر بھی کہ پانی تو نہیں..
جس طرح شہر سے نکلا ہوں میں بیمار ترا,,
یہ اُجڑنا ہے، کوئی نقل مکانی تو نہیں..
یہ جو ہر موڑ پہ آ ملتی ہے مُجھ سے فرحتؔ,,
بدنصیبی بھی کہیں میری دیوانی تو نہیں..
فرحتؔ عباس شاہ
05/11/2020
خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی,,
نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی..
شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباس برہنگی,,
نہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی..
چلی سمت غیب سیں کیا ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا,,
مگر ایک شاخ نہال غم جسے دل کہو سو ہری رہی..
نظر تغافل یار کا گلہ کس زباں سیں بیاں کروں,,
کہ شراب صد قدح آرزو خم دل میں تھی سو بھری رہی..
وہ عجب گھڑی تھی میں جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا,,
کہ کتاب عقل کی طاق پر جوں دھری تھی تیوں ہی دھری رہی..
ترے جوش حیرت حسن کا اثر اس قدر سیں یہاں ہوا,,
کہ نہ آئینے میں رہی جلا نہ پری کوں جلوہ گری رہی..
کیا خاک آتش عشق نے دل بے نوائے سراجؔ کوں,,
نہ خطر رہا نہ حذر رہا مگر ایک بے خطری رہی..
سراج اورنگ آبادی..
04/11/2020
دل نے وفا کے نام پر کار وفا نہیں کیا
خود کو ہلاک کر لیا خود کو فدا نہیں کیا
خیرہ سران شوق کا کوئی نہیں ہے جنبہ دار
شہر میں اس گروہ نے کس کو خفا نہیں کیا
جو بھی ہو تم پہ معترض اس کو یہی جواب دو
آپ بہت شریف ہیں آپ نے کیا نہیں کیا
نسبت علم ہے بہت حاکم وقت کو عزیز
اس نے تو کار جہل بھی بے علما نہیں کیا
جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکم خدا دیا قرار
ہم نے نہیں کیا وہ کام ہاں بہ خدا نہیں کیا
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے
شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو
ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید
اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو
میں نے مانا کہ وہ بیگانۂ پیمان وفا
کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں
شاید اب لوٹ کے آئے نہ تری محفل میں
اور کوئی دکھ نہ رلائے تجھے تنہائی میں
میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میں
وقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ
چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغ
مستقل بعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ
پھر بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے
مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں
زخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتا ہے
دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں
یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کر
تیرے پاس آئے زمانے سے کنارا کر لے
تو کہ معصوم بھی ہے زود فراموش بھی ہے
اس کی پیماں شکنی کو بھی گوارا کر لے
اور میں جس نے تجھے اپنا مسیحا سمجھا
ایک زخم اور بھی پہلے کی طرح سہ جاؤں
جس پہ پہلے بھی کئی عہد وفا ٹوٹے ہیں
اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں
احمد فراز
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Vehari
P/OTHINGICOLONYDISTERICVEHARI