Unique Educational Complex

Unique Educational Complex Unique Educational Complex is a unique project for establishing an institute which will be capable to manage F.Sc. & B.Sc. classes especially for girls.

09/02/2022
https://www.bbc.com/urdu/vert-fut-59931889.amp =16429886084075&csi=0&referrer=https%3A%2F%2Fwww.google.com&amp_tf=From%2...
24/01/2022

https://www.bbc.com/urdu/vert-fut-59931889.amp =16429886084075&csi=0&referrer=https%3A%2F%2Fwww.google.com&_tf=From%20%251%24s

یہ کائنات عدم سے وجود میں کیسے آئی یا جسے ہم عدم سمجھتے ہیں اُس سطح پر کیا کسی کا وجود تھا؟ یہ ایک پُر اسرار معمہ ہے۔ لیکن یہ اسراریت چند ماہرینِ طبیعیات کو کائنات کے و....

Result Notification
08/10/2021

Result Notification

31/08/2021

ابن انشا کی “ ایک نئی غزل “ پہلی بار شائع ہوئی (اخبار جہاں میں ) تو اس میں ایسے بھی دو اشعار تھے جو ان کے مجموعے ‘ اس بستی کے اک کوُچے میں ‘ شامل نہیں ہیں ۔ اسی طرح ایک شعر جو مجموعہ کلام میں شائع ہوا ہے وہ یہاں نہیں۔

اس غزل میں دو اضافی اشعار ہیں:

وہ نیناں بھی ، وہ جادو بھی، وہ گیسو بھی، وہ خوشبو بھی
یہ دل تو سبھی کچھ چاہتا ہے، پر دوست کا ہے فرمانا کیا؟

تُو اپنی روایت توڑ نہیں، ہم جاتے ہیں منہ موڑ نہیں
ہم بہلوں کا بہلانا کیا، ہم سمجھوں کا سمجھانا کیا؟

مجموعے کا وہ شعر جو یہاں نہیں ہے:

اُس کو بھی جلا دکھتے ہوئے من! اک شعلہ لال بھبوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا؟ یوں ماٹی میں مل جانا کیا ؟

( عابد علی بیگ )

پس تحریر : یہ بات قطعی مَن گھڑت ہے کہ اس غزل کے لکھنے کے چند روز بعد ابن انشا کا انتقال ہوگیا تھا۔ یہ غزل ان کے مجموعے " اس بستی کے اک کوچے میں ' کا حصہ ہے جو پہلی بار اگست 1976 میں شائع ہوا۔ انشا جی کی وفات جنوری 1978 میں ہوئی تھی۔

ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﻋﺮﺻﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺴﺘﯽ ﭘﺮ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩ...
02/08/2021

ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﻋﺮﺻﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺴﺘﯽ ﭘﺮ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻠﻢ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﺮﮐﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﺍﻟﮩﯿﮧ ﮐﮯ ﺭﺍﺯ ﭼﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺍﺧﻠﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﻗﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺮﺍﺋﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ۔
ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﻭﺍﺿﺢ ﮐﺮﺩﻭﮞ۔ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻨﺎﺕ ﺳﺎﺗﻮﮞ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺗﮏ ﭼﮍﮪ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮐﺎﮨﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﮨﻦ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﯽ ﺧﺒﺮﯾﮟ ﺩﻧﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯﮐﭽﮫ ﮐﺎﮨﻨﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﻣﺪ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺩﮮ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔ ( ﻣﻮﺍﮨﺐ ﻟﺪﻧﯿﮧ )
ﺑﮩﺮﺣﺎﻝ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﯿﻦ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺟﻨﺎﺕ ﮐﻮ ﺭﻭﮎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﻨﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﻮﮞ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺏ ﺁﮒ ﮐﮯ ﮔﻮﻟﮯ ﭘﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﮐﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺘﺎﺭﮦ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮔﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺁﺝ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺩﺍﻥ ﺷﮩﺎﺏ ﺛﺎﻗﺐ ﮐﮯ ﭨﻮﭨﻨﮯ ﺳﮯ ﺗﺸﺒﯿﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺟﻨﺎﺕ ﮐﻮ ﻣﺎﺭ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺳﻮﺭ ﮦ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔ ﺁﯾﺖ 3 ﺗﺎ 5
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ۔ﺟﺲ ﻧﮯ ﺳﺎﺕ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺗﻮ ﺭﺣﻤٰﻦ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻓﺮﻕ ﺩﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ۔ﺗﻮ ﻧﮕﺎﮦ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺧﻨﮧ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔ﭘﮭﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻧﮕﺎﮦ ﺍﭨﮭﺎ ﻧﻈﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﭘﻠﭧ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﮭﮑﯽ ﻣﺎﻧﺪﯼ ۔ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﮏ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻧﭽﮯ ﮐﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﭼﺮﺍﻏﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﺳﺘﮧ ﮐﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺷﯿﻄﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺎﺭ ﮐﯿﺎ۔ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﮍﮐﺘﯽ ﺁ ﮒ ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﺗﯿﺎ ﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔
۔۔۔۔۔۔۔
ﺗﻮ ﺍﺱ ﻗﺪﯾﻢ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﺑﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﯾﮧ ﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﺍﻟﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺍﺧﻠﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮈﮬﯿﻞ ﺩﮮ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﯿﮑﻮﮐﺎﺭ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺟﺎﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺮﯼ ﺣﺮﮐﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮧ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺑﺎﺣﮑﻢ ﺍﻟﮩﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺍﻣﯿﻦ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺍﺱ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﺑﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮭﯿﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻋﻠﻢ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﮐﺴﺎﻥ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻗﻮﻡ ﮐﺎ ﮐﺎﮨﻦ ﺗﮭﺎ۔ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺁﭖ ﺟﻮ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﮔﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﺅﮞ ﮔﺎ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ۔ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺑﺘﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻓﺮﺷﺘﮧ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎﮨﻦ ﻧﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺯﺍﺋﭽﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ ۔ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﮐﭽﮫ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﮔﮭﻤﺎﺋﯽ ﭘﮭﺮ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﭽﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ( ﯾﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻮﮐﻠﯿﻦ ﻧﮯ ) ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﻕ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﻤﺎﻝ ﺟﻨﻮﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﮯ۔
ﺗﻮ ﺍﺏ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﮨﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﻮ ﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﺗﻢ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﮨﻮ۔
ﺗﻮ ﺍﺳﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﺎﺯﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔

14/07/2021

آج ممتاز شاعر اور مزاح نگار ابنِ انشاء کا یومِ وفات ہے۔
11؍جنوری1978ء

نام شیر محمد اور تخلص انشا تھا۔15؍جون 1927ء کو ضلع جالندھر میں ایک کاشت کار گھرانے میں پیدا ہوئے۔1946ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا۔1947ء میں مہاجرین کے ساتھ پاکستان آگئے۔1953ء میں ایم اے(اردو) اردو کالج، کراچی سے کیا۔ابن انشا ایک بلند پایہ کالم نگار، مصنف ،مترجم، مزاح نگار اور شاعر تھے۔ ہندی ادب کا انھوں نے گہرا مطالعہ کیا تھا۔1965ء میں روزنامہ’انجام‘ میں ’’باتیں انشا جی‘‘ کے عنوان سے لکھتے رہے۔مطالعاتی مواد کے امور میں ابن انشا پاکستان میں یونیسکو کے نمائندے تھے۔سفرناموں، ترجموں اور شاعری پر مبنی تصنیفات اور تالیفات کا ایک وسیع ذخیرہ ابن انشا نے ہمارے ادب میں چھوڑا ہے۔11؍جنوری1978ء کو ابن انشالندن میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’چاند نگر‘،’اس بستی کے اک کوچے میں‘(شعری مجموعے)، ’بلو کا بستہ‘(بچوں کی نظمیں)، ’دنیا گول ہے‘، ’آوارہ گرد کی ڈائری‘، ’اردو کی آخری کتاب‘(مزاح)، ’چلتے ہو تو چین کو چلیے‘، ’ابن بطوطہ کے تعاقب میں‘(سفرنامے)، ’سحر ہونے تک‘(ترجمہ روسی ناول)، ’انشا جی کے خطوط‘، ’نگری نگری پھرا مسافر‘۔
۔۔۔۔۔۔۔
ابن انشا کی "اردو کی آخری کتاب" سے چند تحریریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا تمھارا خدا بادشاہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی ملک میں ایک تھا بادشاہ۔ بڑا دانشمند،مہربان اور انصاف پسند۔اس کے زمانے میں ملک نے بہت ترقی کی اور رعایا اس کو بہت پسند کرتی تھی۔اس بات کی شہادت نہ صرف اس زمانے کے محکمہ اطلاعات کے کتابچوں اور پریس نوٹوں سے ملتی ہے بلکہ بادشاہ کی خودنوشت سوانح عمری میں بھی ملتی ہے۔
شاہ جمجاہ کے زمانے میں ہر طرف آزادی کا دور دورہ تھا۔لوگ آزاد تھے اخبارات آزاد تھے کہ جو چاہیں کہیں اور جو چاہیں لکھیں بشرطیکہ وہ بادشاہ کی تعریف میں خلاف نہ ہو۔
اس بادشاہ کا زمانہ ترقی اور فتوحات کے لۓ مشہور تھا۔ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی نظر آتی تھی۔کہیں تل دھرنے کو جگہ باقی نہ تھی۔جو لوگ لکھ پتی تھے دیکھتے ہی دیکھتے کروڑ پتی ہو گۓ۔حسن انتظام ایسا تھا کہ امیر لوگ سونا اچھالتے اچھالتے ملک کے اس سرے سے اس سرے تک،بعض اوقات بیرون ملک بھی چلے جاتے تھے۔کسی کی مجال نہ تھی کہ پوچھے اتنا سونا کہاں سے آیا اور کہاں لے جا رہے ہو۔
روحانیت سے شغف تھا۔کئی درویش اسے ہوائی اڈے پر لینے یا چھوڑنے جاتے یا اس کی کامرانی کے لۓ چلے کاٹتے تھے۔طبیعت میں عفو اور درگذر کا مادہ ازحدا تھا۔اگر کوئی آکر شکایت کرتا کہ فلاں شخص نے میری فلاں جائداد ہتھیا لی ہے یا فلاں کارخانے پر قبضہ کر لیا ہے۔تو مجرم خواہ بادشاہ کا کتنا ہی قریبی عزیز کیوں ہو۔وہ کمال سرچشمی سے اسے معاف کر دیتے تھے۔بلکہ شکایت کرنے والے سے خفا ہوتے کہ عیب گوئی بری بات ہے۔
جب بادشاہ کا دل حکومت سے بھر گیا تو وہ اپنی چیک بکس لے کر تارک دنیا ہو گیا۔اور بہاڑوں کی طرف نکل گیا۔کچھ لوگ کہتے ہیں اب بھی زندہ ہے۔واللہ علم بلصواب۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برکات حکومت غیر انگلشیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزیزو؛بہت دن پہلے اس ملک میں انگریزوں کی حکومت ہوتی تھی۔اور درسی کتابوں میں ایک مضمون"برکات حکومت انگلشیہ" کے عنوان سے شامل رہتا تھا۔اب ہم آزاد ہیں،اس زمانے میں مصنف حکومت انگلشیہ کی تعریفیں کیا کرتے تھے۔کیونکہ اس کے سوا چارہ نہ تھا۔ہم اپنے عہد کی آزاد اور قومی حکومتوں کی تعریف کریں گے۔اس کی وجہ بھی ظاہر ہے
عزیزو: انگریزوں نے کچھ اچھے کام بھی کۓ لیکن ان کے زمانے میں خرابیاں بہت تھیں۔کوئی حکومت کے خلاف بولتا تھا یا لکھتا تھا تو اسے جیل بھیج دیتے تھے۔اب نہیں بھیجتے۔
رشوت ستانی عام تھی آج نہیں ہے۔دکاندار چیزیں مہنگی بیچتے تھے اور ملاوٹ بھی کرتے تھے۔آج کل کوئی مہنگی چیز چیزیں نہیں بیچتا اور ملاوٹ بھی نہیں کرتا۔انگریزوں کے زمانے میں امیر اور جاگیردار عیش کرتے تھے غریبوں کو کوئی نہیں پوچھتا تھا۔اب امیر لوگ عیش نہیں کرتے اور غریبوں کو ہر کوئی اتنا پوچھتا ہے کہ وہ تنگ آجاتے ہیں۔خصوصآ راۓ دہندگی بالغاں کے بعد سے۔
تعلیم اور صنعت و حرفت کو ہی لے لیجیۓ۔ربع صدی کے مختصر عرصے میں ہماری شرح خواندگی اٹھارہ فیصد ہو گئی ہے غیر ملکی حکومت کے زمانے میں ایسا ہوتا تھا؟
انگریز شروع شروع میں ہمارے دستکاروں کے انگوٹھے کاٹ دیتے تھے۔اب کارخانوں کے مالک ہمارے اپنے لوگ ہیں دستکاروں کے انگوٹھے نہیں کاٹتے ہاں کبھی کبھی پورے دست کار کو ہی کاٹ دیتے ہیں ۔
آزادی سے پہلے ہندو بنیۓ اور سرمایہ دار ہمیں لوٹا کرتے تھے۔ہماری خواہش تھی کہ یہ سلسلہ ختم ہو اور ہمیں مسلمان بنیۓ اور سیٹھ لوٹیں۔الحمدللہ کہ یہ آرزو پوری ہوئی۔جب سے حکومت ہمارے ہاتھ میں آئی ہے ہم نے ہر شعبہ میں بہت ترقی کی ہے۔درآمدبرآمد بھی بڑھ گئی ہے ۔ ہماری خاص برآمدات دو ہیں۔وفود اور زر مبادلہ۔درآمد ہم گھٹاتے جا رہے ہیں۔ایک زمانے میں تو خارجہ پالیسی تک باہر سے درآمد کرتے تھے۔اب یہاں بننے لگی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خمار گندم سے
فیض احمد فیض اور میں ۔۔۔ ۔۔۔ ابن انشا کی ایک شاہکار تحریر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیض صاحب کے متعلق کچھ لکھتے ہوئے مجھے تامل ہوتا ہے۔ دنیا حاسدانِ بد سے خالی نہیں۔ اگر کسی نے کہہ دیا کہ ہم نے تو اس شخص کو کبھی فیض صاحب کے پاس اٹھتے بیٹھتے نہیں دیکھا تو کون اس کا قلم پکڑ سکتا ہے۔ احباب پر زور اصرار نہ کرتے تو یہ بندہ بھی اپنے کوشۂ گمنامی میں مست رہتا۔ پھر بعض ایسی باتیں بھی ہیں کہ لکھتے ہوئے خیال ہوتا ہے کہ آیا یہ لکھنے کے ہیں بھی کہ نہیں۔ مثلاً یہی کہ فیض صاحب جس زمانے میں پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر تھے، کوئی اداریہ اس وقت تک پریس میں نہ دیتے تھے جب تک مجھے دکھا نہ لیتے۔ کئی بار عرض کیا کہ ماشاء اللہ آپ خود بھی اچھی انگریزی لکھ لیتے ہیں لیکن وہ نہ مانتے اور اگر میں کوئی لفظ یا فقرہ بدل دیتا تو ایسے ممنون ہوتے کہ خود مجھے شرمندگی ہونے لگتی۔ پھر فیض صاحب کے تعلق سے وہ راتیں یاد آتی ہیں جب فیض ہی نہیں، بخاری ، سالک، خلیفہ عبد الحکیم وغیرہ ہم سبھی ہم پیالہ و ہم نوالہ دوست راوی کے کنارے ٹہلتے رہتے اور ساتھ ہی ساتھ علم و ادب کی باتیں بھی ہوتی رہتیں۔یہ حضرات مختلف زاویوں سے سوال کرتے اور یہ بندہ اپنی فہم کے مطابق جواب دے کر ان کو مطمئن کر دیتا۔ اور یہ بات تو نسبتاً حال ہی کی ہے کہ ایک روز فیض صاحب نے صبح صبح مجھے آن پکڑا اور کہا: " ایک کام سے آیا ہوں۔ ایک تو یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یورپ میں آج کل آرٹ کے کیا رجحانات ہیں۔ اور آرٹ پیپر کیا چیز ہوتی ہے؟ دوسرے میں واٹر کلر اور آئل پینٹنگ کا فرق معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ ٹھمری اور دادرا کا فرق بھی چند لفظوں میں بیان کر دیں تو اچھا ہے۔" میں نے چائے پیتے پیتے سب کچھ عرض کر دیا۔ اٹھتے اٹھتے پوچھنے لگے ۔ " ایک اور سوال ہے۔ غالب کس زمانے کا شاعر تھا اور کس زبان میں لکھتا تھا؟" وہ بھی میں نے بتادیا۔ اس کے کئی ماہ بعد تک ملاقات نہ ہوئی۔ ہاں اخبار میں پڑھا کہ لاہور میں آرٹ کونسل کے ڈائریکٹر ہو گئے ہیں۔ غالباً اس نوکری کے انٹرویو میں اس قسم کے سوال پوچھے جاتے ہوں گے
اکثر لوگوں کو تعجب ہوتا ہے کہ "نقشِ فریادی" کا رنگِ کلام اور ہے اور فیض صاحب کے بعد کے مجموعوں "دستِ صبا" اور "زندان نامہ" کا اور۔ اب چونکہ اس کا پس منظر راز نہیں رہا اور بعض حلقوں میں بات پھیل گئی ہے لہٰذا اسے چھپانے کا کچھ فائدہ نہیں۔فیض صاحب جب جیل چلے گئے تو ویسے تو ان کو زیادہ تکلیف نہیں ہوئی لیکن کاغذ قلم ان کو نہیں دیتے تھے اور نہ شعر لکھنے کی اجازت تھی۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ ان کی آتش نوائی پر قدغن رہے اور لوگ انہیں بھول بھال جائیں۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں "تدبیر کند بندہ تقدیر زند خندہ" فیض صاحب جب جیل سے باہر آئے تو سالم تانگہ لے کر سیدھا میرے پاس تشریف لے آئے اور ادھر ادھر کی باتوں کے بعد کہنے لگے۔ "اور تو سب ٹھیک ہے لیکن سوچتا ہوں میرے ادبی مستقبل کا اب کیا ہوگا؟" میں نے مسکراتے ہوئے میز کی دراز میں سے کچھ مسودے نکالے اور کہا یہ میری طرف سے نذر ہیں۔ پڑھتے جاتے تھے اور حیران ہوتے جاتے تھے۔ فرمایا۔ " بالکل یہی جذبات میرے دل میں آتے تھے لیکن ان کو قلم بند نہ کر سکتا تھا۔ آپ نے اس خوب صورتی سے نالے کو پابندِ نَے کیا ہے کہ مجھے اپنا ہی کلام معلوم ہوتا ہے۔ میں نے کہا: " برادرِ عزیز! بنی آدم اعضائے یک دیگر اند۔ تم پر جیل میں جو گزرتی تھی، اسے میں یہاں بیٹھے بیٹھے محسوس کر لیتا رہا ورنہ من آنم کہ من دانم۔ بہر حال اب اس کلام کو اپنا ہی سمجھو بلکہ اس میں، میں نے تخلص بھی تمہارا ہی باندھا ہے اور ہاں نام بھی تجویز کیئے دیتا ہوں۔ آدھے کلام کو "دست صبا" کے نام ست شائع کرو اور آدھے کو " زندان نامہ" کا نام دو۔" اس پر بھی ان کو تامل رہا۔ بولے: " یہ برا سا لگتا ہے کہ ایسا کلام جس پر ایک محبِ صادق نے اپنا خونِ جگر ٹپکایا ہو اپنے نام سے منسوب کر دوں" میں نے کہا: :فیض میاں! دنیا میں چراغ سے چراغ جلتا آیا ہے، شیکسپیئر بھی تو کسی سے لکھوایا کرتا تھا۔ اس سے اس کی عظمت میں کیا فرق آیا؟" اس پر لا جواب ہو گئے اور رقت طاری ہو گئی۔
فیض صاحب کی ایک اور بات میں نے دیکھی۔ وہ بڑے ظرف کے آدمی تھے۔ ایک طرف تو انہوں نے کسی پر یہ راز افشا نہیں کیا کہ یہ مجموعے ان کا نتیجۂ فکر نہیں۔ دوسری طرف جب لینن انعام لے کر آئے تو تمغہ اور آدھے روبل میرے سامنے ڈھیر کر دیئے کہ اس کے اصل حق دار آپ ہیں۔ اس طرح کے اور بہت سے واقعات ہیں۔ بیان کرنے لگوں تو کتاب ہو جائے لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا نمود و نمائش سے اس بندے کی طبیعت سے ہمیشہ نفور رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل درد میں گھلتا رہے ، یہ کس کو گوارا ہے
ہم کو تو مگر یارو‘ یہ درد ہی پیارا ہے
امید کا ہر لمحہ اب وصل کا لمحہ ہے
جب دُور کنارا ہو ، ہر موج کنارا ہے
اس زلف نے اپنے کو کیا کیا نہیں اُلجھایا
جس زلف کو خود ہم نے سو بار سنوارا ہے
وہ رات گئی انشاؔ ، وہ بات گئی انشاؔ
اب کس لئے جیتے ہو‘ اب کس کا سہارا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کا تھا چاک مگر پہنچایا ، تا بہ گریباں انشاؔ نے
دشت میں جا اِک شہر بسایا بے سرو ساماں انشاؔ نے
قیس کی سنت نجدِ وفا میں پھر اس شخص نے زندہ کی
ہم کو بھی پہلے یقیں نہیں آیا انشاؔ نے ہاں انشاؔ نے
پھر کوئی یاد پرانی جاگی ، پھر کسی درد نے چٹکی لی
پھر ہمیں دیوانے نے بلایا چلتے ہیں یاراں انشاؔ نے
ایک سے ایک انوکھا تیکھا دُنیا میں تو غم ہزاروں تھے
کیوں تجھے تنہا جی میں بسایا اے غم جاں انشاؔ نے
دل کے سنبھلنے کی کوئی صورت لازم ہے ‘ یہاں کچھ بھی نہیں
اپنے کو جب سے یہ روگ لگایا کر لیا حیراں انشاؔ نے
اب اسے دنیا وحشی و رُسوا خوار و پریشاں کچھ بھی کہے
عشق کیا اور کر کے نبھایا عشق کے شایاں انشاؔ نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کس کے تصور میں جانے راتوں کو پریشاں ہوتا ہے
یہ حسن طلب کی بات نہیں ہوتا ہے مری جان ہوتا ہے
ہم تیری سکھائی منطق سے اپنے کو تو سمجھا لیتے ہیں
اِک خار کھٹکتا رہتا ہے سینے میں، جو پنہاں ہوتا ہے
پھر ان کی گلی میں پہنچے گا‘ پھر سہو کا سجدہ کر لے گا
اِس دل پہ بھروسہ کون کرے، ہر روز مسلماں ہوتا ہے
وہ درد کہ اس نے چھین لیا، وہ درد کہ اس کی بخشش تھا
تنہائی کی راتوں میں انشاؔ اب بھی مرا مہماں ہوتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل سی چیز کے گاہک ہونگے دو یا ایک ہزار کے بیچ
اِنشاؔ جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچ
پینا پلانا عین گناہ ہے، جی کا لگانا عین ہوس
آپ کی باتیں سب سچی ہیں لیکن بھری بہار کے بیچ
اے سخیو اے خوش نظرو یک گونہ کرم خیرات کرو
نعرہ زناں کچھ لوگ پھریں ہیں صبح سے شہر نگار کے بیچ
خار و خس و خاشاک تو جانیں، ایک تجھی کو خبر نہ ملے
اے گل خوبی ہم تو عبث بدنام ہوئے گلزار کے بیچ
منت قاصد کون اُٹھائے شکوہ درباں کون کرے
نامۂ شوق غزل کی صورت چھپنے کو دو اخبار کے بیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاں
آج یہاں کل اور نگر میں صبح کہاں اور شام کہاں
ہم سے بھی پیت کی بات کرو کچھ، ہم سے بھی لوگو پیار کرو
تم تو پشیماں ہو بھی سکو گے ہم کو یہاں پہ دوام کہاں
سانجھ سمے کچھ تارے نکلے پل بھر چمکے ڈوب گئے
انبرا انبرا ڈھونڈ رہا ہے اب انہیں ماہِ تمام کہاں
دل پہ جو بیتے سہہ لیتے ہیں اپنی زباں میں کہ لیتے ہیں
انشاؔجی ہم لوگ کہاں اور میرؔ کا رنگِ کلام کہاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم رات بہت روئے بہت آہ و فغاں کی
دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی
سر زانوں پہ رکھے کیا سوچ رہی ہو
کچھ بات سمجھتی ہو محبت زدگاں کی
تم میری طرف دیکھ کے چپ سی ہو گئیں تھیں
وہ ساعت خوش وقت نشاط گزراں کی
اِک دن یہ سمجھتے تھے کہ پایانِ تمنا
اک رات ہے مہتاب کے ایامِ جواں کی
اب اور ہی اوقات ہے اے جان تمنا
ہم نالۂ کشاں‘ بے گنہاں‘ غم زدگاں کی
اِس گھر کی کھلی چھت پہ چمکتے ہوئے تارو
کہتے ہو کبھی بات وہاں جا کے یہاں کی؟
اللہ کرے میرؔ کا جنت میں مکاں ہو
مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی
پڑھتے ہیں شب و روز اسی شخص کی غزلیں
غزلیں کہ حکایات ہیں ہم دل زدگاں کی
’’ق‘‘
انشاؔ سے ملو اس سے نہ روکیں گے؟ ولیکن
اس سے یہ ملاقات نکالی ہے کہاں کی؟
مشہور ہے ہر بزم میں اِسی شخص کا سودا
باتیں ہیں بہت شہر میں بدنام میاں کی
اے دوستو اے دوستو اے درد نصیبو!
ہم جائیں کسی سمت کسی چوک پہ ٹھہریں
کہیو نہ کوئی بات کسی سود و زیاں کی
اِنشاؔ کی غزل سن لو پہ رنجور نہ ہونا
دیوانہ ہے دیوانے نے اِک بات بیاں کی
ہوتا ہے یہی عشق میں ہنجار سبھی کا
باتیں یہی دیکھی ہیں محبت زدگاں کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ان سے اگر مل بیٹھتے ہیں‘ کیا دوش ہمارا ہوتا ہے
کچھ اپنی جسارت ہوتی ہے، کچھ اُن کا اشارا ہوتا ہے
کٹنے لگیں راتیں آنکھوں میں‘ دیکھا نہیں پلکوں پر اکثر؟
یا شامِ غریباں کا جگنو، یا صبح کا تارا ہوتا ہے
ہم دل کو لیے پر دیس پھرے، اس جنس کے گاہک نہ مل سکے
اے بنجارو ہم لوگ چلے، ہم کو تو خسارا ہوتا ہے
دفتر سے اُٹھے‘ کیفے میں گئے، کچھ شعر کہے‘ کچھ کافی پی
پوچھو جو معاش کا انشاؔ جی یوں اپنا گزارا ہوتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم گھوم چکے بستی بَن میں
اک آس کی پھانس لیے من میں
کوئی ساجن ہو، کوئی پیارا ہو
کوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہو
جب جیون رات اندھیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
جب ساون میں بادل چھائے ہوں
جب پھاگن پھول کھلائے ہوں
جب چندا رُوپ لٹاتا ہو
جب سورج دُھوپ نہاتا ہو
یا شام نے بستی گھیری ہو
اِک بار کہو تم میری ہو
ہاں دل کا دامن پھیلا ہے
کیوں گوری کا دِل میلا ہے
ہم کب تک پیت کے دھوکے میں
تم کب تک دور جھروکے میں
کب دید سے دل کو سیری ہو
اِک بار کہو تم میری ہو
کیا جھگرا سود خسارے کا
یہ کاج نہیں بنجارے کا
سب سونا رُوپا لے جائے
سب دُنیا، دُنیا لے جائے
تم ایک مجھے بہتیری ہو
اِک بار کہو تم میری ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِنشاؔ جی بہت دن بیت چکے
تم تنہا تھے، تم تنہا ہو
یہ جوگ بجوگ تو ٹھیک نہیں
یہ روگ کسی کا اچھا ہو؟
کبھی پورب میں پچھم میں
تم پُروا ہو تم پچھوا ہو؟
جو نگری نگری بھٹکائے
ایسا بھی نہ من میں کانٹا ہو
کیا اور سبھی چونچال یہاں
کیا ایک تمہی یہاں دُکھیا ہو
کیا ایک تمہی پر دُھوپ کڑی
جب سب پر سکھ کا سایا ہو
تم کس جنگل کا پھول میاں
تم کس بگیا کا پھول میاں
کیوں شہر تجا، کیوں رُسوا ہو؟
کیوں وحشی ہو، کیوں رُسوا ہو؟
ہم جب دیکھیں بہروپ نیا
ہم کیا جانیں تم کیا کیا ہو؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انشاؔء جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیامطلب، جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن کو‘ دیکھو تو سہی‘ سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے، اس جھولی کا پھیلانا کیا؟
شب بیتی‘ چاند بھی ڈوب چلا‘ زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو؟ سجنی سے کرو گے بہانا کیا؟
پھر ہجر لمبی رات میاں‘ سنجوگ کی تو یہی ایک گھڑی
جو دل میں ہے پر آنے دو‘‘ شرمانا کیا‘ گھبرانا کیا؟
اُس روز جو اُن کو دیکھا ہے‘ اب خواب کا عالم لگتا ہے
اُس روز جو ان سے بات ہوئی‘ وہ بات بھی تھی افسانہ کیا؟
اُس حسن کے سچے موتی کو، ہم دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں
جسے دیکھ سکے پر چھو نہ سکیں‘ وہ دولت کیا، وہ خزانہ کیا؟
اس کو بھی جلا دُکھتے ہوئے من! اِک شعلہ لال بھبھوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا؟ یوں ماٹی میں مل جانا کیا؟
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں، کیوں بن میں نہ جا بسرام کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس بستی کے کوچے میں، ایک اِنشاؔ نام کا دِیوانا
اِک نار پہ جان ہار گیا، مشہور ہے اس کا افسانہ
اُس نار میں ایسا رُوپ نہ تھا، جس رُوپ سے دِن کی دُھوپ دبے
اِس شہر میں کیا کیا گوری ہے، مہتاب گلنار لبے
کچھ بات تھی اس کی باتوں میں، کچھ بھید تھے اس کی چِتون میں
وہی بھید کہ جوت جگاتے ہیں، کسی چاہنے والے کے من میں
اُسے اپنا بنانے کی دُھن میں ہوا آپ سے ہی بیگانہ
اِس بستی کے کوچے میں، ایک انشاؔ نام کا دیوانا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دل کے جھروکے میں اک روپ کی رانی ہے
اس روپ کی رانی کی تصویر بنانی ہے
ہم اہلِ محبت کی وحشت کا وہ درماں ہے
ہم اہلِ محبت کو آزارِ جوانی ہے!!
یاں چاند کے داغوں کو سینے میں دباتے ہیں
دنیا کہے دیوانہ یہ دنیا دیوانی ہے
اک بات مگر ہم بھی پوچھ لیں جو اجازت!
کیوں تم نے یہ غم دے کے پردیس کی ٹھانی ہے
سکھ لے کے چلے جانا، دکھ دے کے چلے جانا
کیوں حسن کے ماتوں کی یہ ریت پرانی ہے
ہدیۂ دلِ مفلس کا ،چھ شعر غزل کے ہیں
قیمت میں تو ہلکے ہیں، انشاء کی نشانی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوگ بجوگ کی باتیں جھوٹی، سب جی کا بہلانا ہُو
پھر بھی ہم سے جاتے جاتے ایک غزل سن جانا ہُو

ساری دُنیا عقل کی بیری، کون یہاں پر سیانا ہُو
ناحق نام دھریں سب ہم کو، دیوانا، دیونا ہُو

نگری نگری لاکھوں دوارے، ہر دوارے پر لاکھ سخی
لیکن جب ہم بھول چکے ہیں دامن کا پھیلانا ہُو

ایک ہی صورت، ایک ہی چہرہ، بستی، پربت، جنگل، پینٹھ
اور کسی کے اب کیا ہوں گے، چھوڑ ہمیں بھٹکانا ہُو

ہم بھی جھوٹے، تم بھی جھوٹے، ایک اُسی کا نام
جس سے دیپک جلنا سیکھا، پروانا جل جانا ہُو

سیدھے من کو آن دبوچیں میٹھی باتیں، سُندر بول
میرؔ، نظیرؔ، کبیرؔ اور اِنشاؔ، سارا ایک گھرانا ہُو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا
ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے
ہم ہنس دیے ہم چپ رہے منظور تھا پردہ تیرا
اس شہر میں کس سے ملیں؟ ہم سے تو چھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا
کوچے کو تیرے چھوڑ کر، جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل ترے، پربت ترے، بستی تری، صحرا ترا
’’ق‘‘
ہم اور رسمِ بندگی؟ آشفتگی؟ اُفتادگی؟
احسان ہے کیا کیا ترا، اے حسنِ بے پروا ترا
وہ اشک جانے کس لیے، پلکوں پہ آ کر ٹک گئے
الطاف کی بارش تری، اِکرام کا دریا ترا
اے بے دریغ و بے اماں‘ ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟
ہم کو تری وحشت سہی، ہم کو سہی سودا ترا
ہم پر یہ سختی کی نظر؟ ہم ہیں فقیرِ رہگزر
رستہ کبھی روکا ترا؟ دامن کبھی تھاما ترا؟
ہاں تری صورت حسیں‘ لیکن تو ایسا بھی نہیں
اس شخص کے اشعار سے، شہرہ ہوا کیا کیا ترا
بیشک اسی کا دوش ہے کہتا نہیں خاموش ہے
تو آپ کر ایسی دوا بیمار ہو اچھا تیرا
بے درد سننی ہو تو چل کہتا کیا اچھی غزل
عاشق تیرا، رسوا تیرا، شاعر تیرا، انشاؔ تیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب مایا ہے
سب مایا ہے سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
اِس عشق میں ہم نے جو کھویا ہے جو پایا ہے
جو تم نے کہا ہے، فیضؔ نے جو فرمایا ہے
سب مایا ہے
ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی
یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رُسوائی
بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے
سب مایا ہے
معلوم ہمیں قیس میاں کا قصہ بھی
سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی، یہ اِنشاؔ بھی
فرہاد بھی جو اِک نہر سی کھود کے لایا ہے
سب مایا ہے
جب دیکھ لے ہر شخص یہاں ہرجائی ہے
اِس شہر سے دور ۔ ۔ ۔ اِک کٹیا ہم نے بنائی ہے
اس اس کٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے
سب مایا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
---
شامِ غم کی سحر نہیں ہوتی؟
یا ہمیں کو خبر نہیں ہوتی؟

ہم نے سب دُکھ جہاں کے دیکھے ہیں
بے کلی اس قدر نہیں ہوتی

نالہ یوں رسا نہ ہوتا
آہ یوں بے اثر نہیں ہوتی

چاند ہے، کہکشاں ہے، تارے ہیں
کوئی شے نامہ بر نہیں ہوتی

دوستو! عشق ہے خطا لیکن
کیا خطا در گزر نہیں ہوتی

بیقراری سہی نہیں جاتی
زندگی مختصر نہیں ہوتی

حسن سب کو خدا نہیں دیتا
ہر کسی کی نظر نہیں ہوتی

دل پیالہ نہیں گدائی کا
عاشقی در بہ در نہیں ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعدہ تو کیا ہے مگر ایفا نہ کریں گے
ایفا جو کریں گے کوئی اچھا نہ کریں گے
لوگوں سے چھپالیں گے جو احوال ہے جی کا
اپنے سے کسی بات میں دھوکا نہ کریں گے
اے دل ترے فرمانوں کو ٹالا ہے نہ ٹالیں
اُن کی بھی ترے سامنے پرواہ نہ کریں گے
اِس راہ کو ہم چھوڑ کے جائیں کسی جانب
آرزدہ نہ ہو ہم کبھی ایسا نہ کریں گے
لکھیں گے اُسی ٹھاٹ سے نظمیں، کبھی غزلیں
ہاں آج سے لوگوں کو دِکھایا نہ کریں گے

05/07/2021
Electric vehicles that recharge while driving. It will soon be possible on a stretch of electrified road in northern Ita...
22/06/2021

Electric vehicles that recharge while driving. It will soon be possible on a stretch of electrified road in northern Italy.

In a nutshell, Electreon is building the infrastructure by installing copper coils under the asphalt. Energy is transferred directly and wirelessly to the vehicle’s batteries while driving by means of magnetic induction. The system includes a control unit located on the side of the lane of the electrified road. A receiver is installed in the chassis of each electric vehicle that is participating in the trial.

ElectReon is working with more than ten Italian partners to carry out the test. The most important of these is Brebemi, who operate the toll road. The goal of the pilot is to see how the technology will fare on toll roads. Brebemi is footing the bill for the pilot project while ElectReon will supply the wireless electric road system. ‘Dynamic Wireless Power Transfer‘, as the technology is called, will be tested on different types of electric vehicles in both stationary and dynamic environments.

21/06/2021

,,,,,,,,,,,,,,,,,MATHS Facts and Figures,,,,,,,,,,,,,,,,,,

1) Names for 0:

ZERO is the only number which is known with so many names including nought, naught, nil, zilch and zip.

2) Amazing PIE:

PIE (The ratio of the circumference to the diameter of a circle) can’t be expressed as a fraction, making it an irrational number. It never repeats and never ends when written as a decimal.

3) What comes after a million ???

Billion, Trillion, Quadrillion, Quintillion, Sextillion, Septillion, Octillion, Nonillion, Decillion and Undecillion.

4) What lies behind GOOGLE ???

The name of the popular search engine ‘Google’ came from a misspelling of the word ‘googol’, which is a very large number (the number one followed by one hundred zeros to be exact).

5) Letter ‘A’:

From number 0 to 1000, the letter ‘A’ only appears in 1000 (One thousand) !!!

6) Dice Magic:

The opposite sides of a dice always add up to seven

Address

Unique Educational Complex
Uchhali
41150

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Unique Educational Complex posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category