01/10/2026
تربت/کوئٹہ (Balochistan دَروَر) ڈگری کالج تُربَت کے پروفیسر شعیب شاداب کی شاندار تحقیقی کتاب کو پہلا علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا
گورنمنٹ عطاشاد ڈگری کالج تُربَت کے اردو کے پروفیسر، محقق، ادیب اور شاعر شعیب شاداب کی گراں قدر تحقیقی کاوش کو محکمہ ثقافت، سیاحت و آثار قدیمہ حکومت بلوچستان کی جانب سے صوبے کا پہلا اور انتہائی معتبر علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈ 2026 عطا کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی علمی صلاحیتوں کا اعتراف ہے بلکہ پورے مکران اور بلوچستان کے ادبی حلقوں کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
پروفیسر شعیب شاداب نے کئی سال کی انتھک محنت، گہری تحقیق اور لگن کے بعد معروف بلوچ ادیب و شاعر عطا شاد کے منتشر اور گمشدہ بلوچی ڈراموں کو مختلف قدیم رسائل، تالیف شدہ کتب اور ریڈیو پاکستان کوئٹہ، خضدار اور تربت کے ریکارڈ شدہ آرکائیز سے کافی محنت اور لگن سے جمع کر کے ایک مکمل کتابی شکل میں کلاسیکی اور مستند تحقیقی طریقۂ کار کے تحت تدوین کی ہے۔ اس کتاب کے ذریعے پہلی بار عطا شاد کو نہ صرف شاعر بلکہ ایک باکمال بلوچی ڈرامہ نگار کے طور پر سامنے لایا گیا۔ اس سے قبل عطا شاد کو بنیادی طور پر بلوچی اور اردو شاعری کا عظیم ستون سمجھا جاتا تھا، مگر پروفیسر شعیب شاداب کی اس علمی کاوش نے ان کی ادبی شخصیت کے ایک نئے، تابناک اور تقریباً گمشدہ پہلو کو زندہ کر دیا اور عطاشاد کی کتابوں میں اہم اضافہ کر دیا۔
یہ کتاب فروری 2022 میں گورنمنٹ عطاشاد ڈگری کالج تُربَت کی لٹریری سوسائٹی نے شائع کی تھی۔ کالج لٹریری سوسائٹی کے سربراہ اور ممبران نے پروفیسر شعیب شاداب کی اس غیر معمولی علمی و ادبی خدمت کو بے حد سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے کالج اور علاقے کے لیے ایک بڑا اعزاز اور فخر ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ پروفیسر شعیب شاداب مستقبل میں بھی اسی جوش و جذبے سے اعلیٰ ترین علمی اور ادبی خدمات سرانجام دیتے رہیں گے اور بلوچی ادب کو نئی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔
اس سے قبل بھی حکومت بلوچستان نے پروفیسر شعیب شاداب کی ادبی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں مست توکلی ایکسلنس ایوارڈ 2021 سے نوازا تھا۔ یہ ایوارڈ 23 مارچ 2023 کو کوئٹہ میں گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ نے خود پیش کیا تھا۔ یوں پروفیسر شعیب شاداب کو صوبائی سطح پر دو اہم ادبی اعزازات حاصل ہو چکے ہیں، جو ان کی مسلسل محنت اور ادبی بصیرت کی واضح دلیل ہیں۔
پروفیسر شعیب شاداب کی یہ کاوشیں نہ صرف عطا شاد کی یاد کو تازہ رکھنے کا ذریعہ بنیں بلکہ نوجوان نسل کو تحقیق اور ادبی خدمات کی طرف مائل کرنے کا ایک روشن مثال بھی قائم کر گئیں۔ ان کا یہ کارنامہ گورنمنٹ عطاشاد ڈگری کالج تُربَت کے لیے ہمیشہ باعثِ فخر رہے گا اور بلوچی ادب کی تاریخ میں ایک سنہری باب کے طور پر درج ہو گا۔