Govt Atta Shad Degree College Turbat

Govt Atta Shad Degree College Turbat Official Page of Government Atta Shad Degree Turbat, Balochistan Govt Atta Shad Degree College Turbat

تربت/کوئٹہ (Balochistan دَروَر) ڈگری کالج تُربَت کے پروفیسر شعیب شاداب کی شاندار تحقیقی کتاب کو پہلا علامہ اقبال صوبائی ...
01/10/2026

تربت/کوئٹہ (Balochistan دَروَر) ڈگری کالج تُربَت کے پروفیسر شعیب شاداب کی شاندار تحقیقی کتاب کو پہلا علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا

گورنمنٹ عطاشاد ڈگری کالج تُربَت کے اردو کے پروفیسر، محقق، ادیب اور شاعر شعیب شاداب کی گراں قدر تحقیقی کاوش کو محکمہ ثقافت، سیاحت و آثار قدیمہ حکومت بلوچستان کی جانب سے صوبے کا پہلا اور انتہائی معتبر علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈ 2026 عطا کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی علمی صلاحیتوں کا اعتراف ہے بلکہ پورے مکران اور بلوچستان کے ادبی حلقوں کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

پروفیسر شعیب شاداب نے کئی سال کی انتھک محنت، گہری تحقیق اور لگن کے بعد معروف بلوچ ادیب و شاعر عطا شاد کے منتشر اور گمشدہ بلوچی ڈراموں کو مختلف قدیم رسائل، تالیف شدہ کتب اور ریڈیو پاکستان کوئٹہ، خضدار اور تربت کے ریکارڈ شدہ آرکائیز سے کافی محنت اور لگن سے جمع کر کے ایک مکمل کتابی شکل میں کلاسیکی اور مستند تحقیقی طریقۂ کار کے تحت تدوین کی ہے۔ اس کتاب کے ذریعے پہلی بار عطا شاد کو نہ صرف شاعر بلکہ ایک باکمال بلوچی ڈرامہ نگار کے طور پر سامنے لایا گیا۔ اس سے قبل عطا شاد کو بنیادی طور پر بلوچی اور اردو شاعری کا عظیم ستون سمجھا جاتا تھا، مگر پروفیسر شعیب شاداب کی اس علمی کاوش نے ان کی ادبی شخصیت کے ایک نئے، تابناک اور تقریباً گمشدہ پہلو کو زندہ کر دیا اور عطاشاد کی کتابوں میں اہم اضافہ کر دیا۔

یہ کتاب فروری 2022 میں گورنمنٹ عطاشاد ڈگری کالج تُربَت کی لٹریری سوسائٹی نے شائع کی تھی۔ کالج لٹریری سوسائٹی کے سربراہ اور ممبران نے پروفیسر شعیب شاداب کی اس غیر معمولی علمی و ادبی خدمت کو بے حد سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے کالج اور علاقے کے لیے ایک بڑا اعزاز اور فخر ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ پروفیسر شعیب شاداب مستقبل میں بھی اسی جوش و جذبے سے اعلیٰ ترین علمی اور ادبی خدمات سرانجام دیتے رہیں گے اور بلوچی ادب کو نئی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔

اس سے قبل بھی حکومت بلوچستان نے پروفیسر شعیب شاداب کی ادبی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں مست توکلی ایکسلنس ایوارڈ 2021 سے نوازا تھا۔ یہ ایوارڈ 23 مارچ 2023 کو کوئٹہ میں گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ نے خود پیش کیا تھا۔ یوں پروفیسر شعیب شاداب کو صوبائی سطح پر دو اہم ادبی اعزازات حاصل ہو چکے ہیں، جو ان کی مسلسل محنت اور ادبی بصیرت کی واضح دلیل ہیں۔

پروفیسر شعیب شاداب کی یہ کاوشیں نہ صرف عطا شاد کی یاد کو تازہ رکھنے کا ذریعہ بنیں بلکہ نوجوان نسل کو تحقیق اور ادبی خدمات کی طرف مائل کرنے کا ایک روشن مثال بھی قائم کر گئیں۔ ان کا یہ کارنامہ گورنمنٹ عطاشاد ڈگری کالج تُربَت کے لیے ہمیشہ باعثِ فخر رہے گا اور بلوچی ادب کی تاریخ میں ایک سنہری باب کے طور پر درج ہو گا۔

کالج  میں عالمی یومِ ترجمہ منایا گیاگورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کے عطا شاد ریڈنگ سرکل (ARC) کے زیرِ اہتمام کالج لائبر...
30/09/2026

کالج میں عالمی یومِ ترجمہ منایا گیا

گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کے عطا شاد ریڈنگ سرکل (ARC) کے زیرِ اہتمام کالج لائبریری میں عالمی یومِ ترجمہ کے موقع پر معروف مترجم پروفیسر فضل بلوچ کا ایک خصوصی لیکچر منعقد ہوا، جس کا موضوع ’’بلوچی زبان میں اور بلوچی زبان سے ترجمہ‘‘ تھا۔

پروفیسر فضل بلوچ نے اپنے لیکچر میں ترجمے کی تاریخ کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بائبل کے تراجم اور سینٹ جیروم سے گفتگو کا آغاز کیا اور بتایا کہ ترجمہ کس طرح بتدریج ایک باقاعدہ علمی و تحقیقی شعبے کی صورت اختیار کرتا گیا۔ انہوں نے ترجمے کے فنی طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے براہِ راست ترجمہ (Direct Translation) کی مختلف صورتوں، جن میں اقتباس/لفظ لینا (Borrowing)، لفظی تشکیل (Calque) اور لفظ بہ لفظ ترجمہ (Literal Translation) شامل ہیں، پر روشنی ڈالی۔ اسی طرح انہوں نے بالواسطہ یا غیر مستقیم ترجمہ (Oblique Translation) کے طریقوں، جن میں ترکیبی تبدیلی (Transposition) اور اسلوبی و معنوی تبدیلی (Modulation) شامل ہیں، کی بھی وضاحت کی۔

بلوچی زبان میں ترجمے کے حوالے سے پروفیسر فضل بلوچ نے بتایا کہ منظم ترجمے کی سرگرمیوں کا آغاز نوآبادیاتی دور میں ہوا۔ انہوں نے فورٹ ولیم کالج، کلکتہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 1800ء میں قائم ہونے والے اس ادارے نے انتظامی ضروریات کے تحت ہندوستانی زبانوں کے منظم مطالعے اور ترجمے کے لیے ایک باقاعدہ نمونہ پیش کیا۔ تاہم بلوچی زبان میں ترجمے کی روایت نے اپنی ایک الگ صورت اختیار کی اور انیسویں صدی میں ہونے والی مختلف کوششوں، بالخصوص بائبل کے بلوچی ترجمے کے ذریعے اسے فروغ ملا۔

انہوں نے مکتبۂ درخانی کا بھی ذکر کیا جو 1863ء میں قائم ہوا اور جس نے بلوچی زبان میں مذہبی لٹریچر کی اشاعت کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا۔

ادبی ترجمے کے حوالے سے پروفیسر فضل بلوچ نے گوس بخش صابر کی ارنسٹ ہیمنگوے کے معروف ناول ’’دی اولڈ مین اینڈ دی سی‘‘ کے بلوچی ترجمے کا ذکر کیا، جبکہ ڈاکٹر نعمت اللہ گچکی کی خدمات اور بلوچی ترجمے کے میدان میں ان کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔

تقریب کی نظامت امان یوسف نے انجام دی۔ اختتامی کلمات میں کالج کے پرنسپل پروفیسر ظہیر احمد بلوچ نے عطا شاد ریڈنگ سرکل کی اس علمی و ادبی کاوش کو سراہا اور اس طرح کی سرگرمیوں کے انعقاد کو طلبہ کے علمی و فکری ارتقا کے لیے اہم قرار دیا۔

عطا شاد ڈگری کالج کے طلبہ کا جامعہ تربت کا دورہ، کیریئر کونسلنگ اور پرسنل برانڈنگ پر خصوصی ورکشاپعطا شاد ڈگری کالج، تربت...
29/09/2026

عطا شاد ڈگری کالج کے طلبہ کا جامعہ تربت کا دورہ، کیریئر کونسلنگ اور پرسنل برانڈنگ پر خصوصی ورکشاپ

عطا شاد ڈگری کالج، تربت کے طلبہ نے آج ایک تعلیمی مطالعاتی دورے کے سلسلے میں جامعہ تربت کا دورہ کیا۔ طلبہ کے اس دورے کو مزید معلوماتی، دلچسپ اور مفید بنانے کے لیے ڈاکٹر غلام جان نے پرسنل برانڈنگ کی حکمتِ عملیوں اور ہالینڈ کوڈ تھیوری کے ذریعے کیریئر کونسلنگ کے موضوع پر ایک خصوصی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔

ورکشاپ کے دوران ڈاکٹر غلام جان نے طلبہ کو پرسنل برانڈنگ کی اہمیت سے آگاہ کیا اور وضاحت کی کہ نوجوان اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر شخصی شناخت کس طرح تشکیل دے سکتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مؤثر پرسنل ٹیگ لائن تیار کرنے، مختصر مگر جامع ایلیویٹر پچ بنانے اور اپنی مؤثر آن لائن موجودگی قائم کرنے کے طریقے بتائے، جو مستقبل میں ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع کے حصول میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

ورکشاپ کے دوسرے حصے میں ہالینڈ کوڈ تھیوری کے ذریعے کیریئر کونسلنگ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ڈاکٹر غلام جان نے طلبہ کو ان کی دلچسپیوں، شخصی خصوصیات اور ممکنہ پیشہ ورانہ سمتوں کو سمجھنے میں رہنمائی فراہم کی۔ طلبہ سے ہالینڈ کوڈ انوینٹری مکمل کروائی گئی اور انہیں ایسی سرگرمیوں اور شعبوں کی نشاندہی کرنے کی ترغیب دی گئی جو ان کی دلچسپیوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔ اس عملی سرگرمی کے ذریعے طلبہ کو اپنی شخصیت اور دلچسپیوں کو بہتر طور پر سمجھنے اور اپنے لیے موزوں کیریئر، تعلیمی شعبوں اور مستقبل میں روزگار کے ممکنہ مواقع تلاش کرنے میں مدد ملی۔

یہ نشست انتہائی باہمی اور عملی نوعیت کی حامل تھی، جس میں طلبہ نے بھرپور دلچسپی کے ساتھ مختلف سرگرمیوں اور مباحث میں حصہ لیا۔ متعدد طلبہ نے ورکشاپ کے اختتام پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سرگرمی سے انہیں اپنی دلچسپیوں اور مستقبل کے ممکنہ کیریئر کے بارے میں زیادہ وضاحت اور آگاہی حاصل ہوئی۔ ورکشاپ نے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں پر غور کرنے اور اپنی آئندہ تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں زیادہ باخبر فیصلے کرنے کا موقع فراہم کیا۔

جامعہ تربت کے وائس چانسلر نے اس اقدام کو سراہا اور طلبہ کے مطالعاتی دورے کو مزید بامقصد اور مفید بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی۔ عطا شاد ڈگری کالج کے پرنسپل نے بھی اس مفید نشست کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر غلام جان کی حوصلہ افزائی کی کہ مستقبل میں اسکول کے طلبہ کے لیے بھی اسی نوعیت کی آگاہی اور کیریئر کونسلنگ نشستوں کا انعقاد کیا جائے۔

ورکشاپ نے اس امر کو اجاگر کیا کہ تعلیمی مطالعاتی دوروں کو عملی رہنمائی کے ساتھ مربوط کرنا طلبہ کے لیے کس قدر مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ اس طرح کی سرگرمیاں طلبہ کو اپنی شخصیت اور صلاحیتوں کو سمجھنے، اپنی ذاتی شناخت اور پرسنل برانڈ کو بہتر بنانے اور اپنی آئندہ تعلیمی و پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں زیادہ باخبر اور مؤثر فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کے طلبہ کا (BUET) خضدار, تربت کیمپس کا مطالعاتی دورہتربت، 22 ستمبر 2026: گورنمنٹ عطا شاد ...
22/09/2026

گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کے طلبہ کا (BUET) خضدار, تربت کیمپس کا مطالعاتی دورہ

تربت، 22 ستمبر 2026: گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کے سائنس کے طلبہ اور فیکلٹی ممبران نے بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (BUET) خضدار کے تربت کیمپس کا مطالعاتی و تعلیمی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد طلبہ کو انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کی اعلیٰ تعلیم، جدید لیبارٹریز، تکنیکی سہولیات اور مختلف انجینئرنگ شعبوں کے بارے میں عملی آگاہی فراہم کرنا تھا۔

یونیورسٹی پہنچنے پر گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کے وفد کا بی یو ای ٹی خضدار، تربت کیمپس کی انتظامیہ اور فیکلٹی ممبران نے استقبال کیا۔ اس موقع پر طلبہ کو کیمپس کے تعلیمی پروگرامز، داخلہ پالیسی، میرٹ، مختلف انجینئرنگ ڈگری پروگرامز اور مستقبل میں پیش آنے والے تعلیمی و پیشہ ورانہ مواقع کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

دورے کے دوران طلبہ نے یونیورسٹی کی مختلف لیبارٹریز، تکنیکی شعبوں اور ورکشاپس کا مشاہدہ کیا۔ سول انجینئرنگ سے متعلق لیبارٹری میں طلبہ کو تعمیراتی مواد، کنکریٹ اور مٹی کی جانچ سمیت سروے کے آلات کے عملی استعمال سے آگاہ کیا گیا۔ اسی طرح الیکٹریکل انجینئرنگ کے شعبے میں سرکٹ ڈیزائن، پاور سسٹمز اور بنیادی آٹومیشن سے متعلق عملی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔

طلبہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمپیوٹنگ سے متعلق سہولیات بھی دیکھیں، جہاں انہیں کمپیوٹر سسٹمز، نیٹ ورک سیٹ اَپ، سافٹ ویئر ٹولز اور جدید کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔ اس موقع پر طلبہ نے یونیورسٹی کی مختلف تکنیکی سہولیات میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔

بعد ازاں ایک خصوصی سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی، جس میں طلبہ نے انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں داخلے، انٹری ٹیسٹ کی تیاری، مختلف انجینئرنگ شعبوں، تعلیمی اہلیت اور مستقبل میں پیشہ ورانہ مواقع سے متعلق سوالات کیے۔ یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران نے طلبہ کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہیں فزکس، کیمسٹری اور ریاضی کے بنیادی تصورات پر خصوصی توجہ دینے کی تلقین کی۔

فیکلٹی ممبران کے مطابق اس طرح کے مطالعاتی دورے طلبہ کو کتابی اور نظریاتی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی دنیا اور پیشہ ورانہ تعلیم کے تقاضوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یونیورسٹی کی جدید لیبارٹریز اور تکنیکی سہولیات کا مشاہدہ کرنے سے طلبہ کو انجینئرنگ کے مختلف شعبوں کے انتخاب اور مستقبل کے تعلیمی کیریئر کے حوالے سے بہتر رہنمائی حاصل ہوئی۔

گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کے طلبہ نے دورے کو انتہائی مفید اور معلوماتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی لیبارٹریز اور عملی سہولیات دیکھنے سے انہیں انجینئرنگ کی تعلیم اور اس کے مختلف شعبوں کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ طلبہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اپنی تعلیمی بنیاد کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

اس موقع پر دونوں اداروں کے فیکلٹی ممبران نے اس بات پر زور دیا کہ کیچ اور مکران ڈویژن کے تعلیمی اداروں کے درمیان ایسے تعلیمی روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ مستقبل میں طلبہ کے لیے باقاعدگی سے مطالعاتی دوروں کے علاوہ مشترکہ سائنسی نمائشوں، تکنیکی ورکشاپس اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا جائے تاکہ علاقے کے طلبہ میں تحقیق، تخلیقی صلاحیت اور سائنسی و تکنیکی رجحانات کو فروغ دیا جاسکے۔

دورے کے اختتام پر گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت اور بی یو ای ٹی خضدار، تربت کیمپس کے فیکلٹی ممبران اور طلبہ نے کالج کے پرنسپل پروفیسر ظہیر بلوچ کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جن کی ذاتی دلچسپی اور حوصلہ افزائی سے طلبہ کے لیے تعلیمی اداروں کے درمیان اس نوعیت کے مطالعاتی اور علمی روابط کو فروغ دینے کا موقع فراہم ہوا۔ آخر میں شرکاء کے درمیان اظہارِ تشکر اور یادگاری تحائف کا تبادلہ بھی کیا گیا۔

گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کے پری میڈیکل طلبہ کا مکران میڈیکل کالج کا مطالعاتی دورہتربت، 15 ستمبر 2026ء: گورنمنٹ عطا...
15/09/2026

گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کے پری میڈیکل طلبہ کا مکران میڈیکل کالج کا مطالعاتی دورہ

تربت، 15 ستمبر 2026ء: گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کے فرسٹ ایئر پری میڈیکل کے طلبہ کے لیے مکران میڈیکل کالج تربت کا ایک خصوصی مطالعاتی و تعلیمی دورہ منعقد کیا گیا، جس کا مقصد طلبہ کو طبی تعلیم کے عملی پہلوؤں، جدید تدریسی سہولیات، لیبارٹریز اور طبی ادارے کے تعلیمی ماحول سے روشناس کرانا تھا۔ اس مطالعاتی دورے کو طلبہ کی تعلیمی استعداد میں اضافے اور مستقبل میں طب کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے ان کی رہنمائی کے لیے ایک اہم سرگرمی قرار دیا گیا۔

مطالعاتی دورے کے دوران فرسٹ ایئر پری میڈیکل کے طلبہ کے ہمراہ گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کے مائیکرو بائیولوجی کے لیکچرار ریحان اسلم، بائیوکیمسٹری کے لیکچرار بائیو چاکر رحیم اور ماس کمیونیکیشن کے لیکچرار نوراحمد موجود رہے، جنہوں نے طلبہ کی رہنمائی اور پورے دورے کی نگرانی کی۔ اس موقع پر طلبہ کو مختلف تعلیمی شعبہ جات کا دورہ کرایا گیا اور انہیں طبی تعلیم کے مختلف مراحل اور عملی تدریسی نظام کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی۔

مکران میڈیکل کالج میں پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید اور ان کی ٹیم کی رہنمائی میں طلبہ نے کالج کی مختلف اہم سہولیات کا مشاہدہ کیا، جن میں لائبریری، مختلف لیبارٹریز، لیکچر ہالز اور دیگر تعلیمی و عملی شعبہ جات شامل تھے۔ طلبہ نے لیبارٹریوں میں موجود آلات اور طبی تعلیم میں استعمال ہونے والے مختلف سائنسی و طبی آلات کا مشاہدہ کیا، جس سے انہیں اپنی کلاس روم تعلیم کو عملی ماحول سے مربوط کرنے کا موقع ملا۔

اس موقع پر کالج کے لیکچر ہال میں ایک خصوصی تعاملی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں طلبہ نے طبی تعلیم، داخلے کے معیار، مختلف طبی آلات، لیبارٹری کے عملی امور اور مستقبل میں میڈیکل کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے متعلق متعدد سوالات کیے۔ متعلقہ ماہرین اور اساتذہ نے طلبہ کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہیں طبی شعبے میں تعلیم اور پیشہ ورانہ مستقبل کے حوالے سے مفید معلومات فراہم کیں۔ اس نشست سے طلبہ کو میڈیکل ایجوکیشن کے تقاضوں اور اعلیٰ تعلیم کے ممکنہ راستوں کو سمجھنے میں مدد ملی۔

مکران میڈیکل کالج کے وائس پرنسپل ڈاکٹر عادل آدم نے گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کے پری میڈیکل طلبہ کا خیرمقدم کیا اور اس امر پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں کے درمیان باہمی تعاون، علمی روابط اور اس نوعیت کی مطالعاتی سرگرمیاں طلبہ کے سیکھنے کے عمل کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کی علمی دلچسپی کو سراہتے ہوئے انہیں اپنی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے اور مستقبل کے تعلیمی و پیشہ ورانہ اہداف کے حصول کے لیے بھرپور محنت کرنے کی تلقین کی۔

دورے کے اختتام پر گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کی انتظامیہ اور دورے میں شریک اساتذہ و طلبہ کی جانب سے مکران میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر افضل خالق، وائس پرنسپل ڈاکٹر عادل آدم، پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید اور ان کی پوری ٹیم کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا۔ انہوں نے مکران میڈیکل کالج کی جانب سے طلبہ کے لیے کیے گئے انتظامات، پرتپاک استقبال، رہنمائی اور قیمتی تعلیمی و عملی تجربے کی فراہمی کو سراہا۔

گورنمنٹ عطا شاد ڈگری کالج تربت کے پرنسپل پروفیسر ظہیر احمد کی جانب سے اس مطالعاتی سرگرمی کو طلبہ کی تعلیمی و عملی تربیت کے لیے مفید قرار دیا گیا۔ اس نوعیت کے مطالعاتی دوروں سے طلبہ کو نہ صرف اپنے مضامین کے عملی پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ انہیں اعلیٰ تعلیم اور مستقبل کے پیشہ ورانہ انتخاب کے حوالے سے بھی بہتر رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ کالج انتظامیہ کے مطابق مستقبل میں بھی طلبہ کے لیے مختلف تعلیمی، سائنسی اور پیشہ ورانہ اداروں کے مطالعاتی دوروں کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ انہیں روایتی کلاس روم تعلیم کے ساتھ عملی اور مشاہداتی تجربات کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

عطا شاد ڈگری کالج تربت میں نئے طلبہ کے اعزاز میں پروقار استقبالیہ تقریبسابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی...
01/09/2026

عطا شاد ڈگری کالج تربت میں نئے طلبہ کے اعزاز میں پروقار استقبالیہ تقریب

سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت، طلبہ کو تعلیم، ثقافت اور تحقیق سے وابستہ رہنے کی تلقین

تربت، یکم ستمبر 2026: عطا شاد ڈگری کالج تربت میں نئے داخل ہونے والے طلبہ کے اعزاز میں ایک پروقار اور بامقصد استقبالیہ تقریب پروفیسر غلام رسول خالد آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، جس میں سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں کالج کے پرنسپل، اساتذہ، معزز شخصیات، سینئر طلبہ اور نئے داخل ہونے والے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔

تقریب کی نظامت سال دوئم کے طلبہ میراج نصیر اور عبدالقدوس نے کی، جبکہ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ تقریب کے مختلف حصوں میں نئے طلبہ کا خیرمقدم، تعلیمی و فکری رہنمائی، ثقافتی اظہار اور کالج کی علمی و ہم نصابی سرگرمیوں کا تعارف شامل تھا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طالب علم حیدر حمزہ نے نئے طلبہ کو خوش آمدید کہا اور کالج میں اپنے تعلیمی تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں نئے تعلیمی ماحول سے بھرپور استفادہ کرنے کی ترغیب دی۔ ریحان عزیز نے تقریب کے اختتام پر اظہارِ تشکر پیش کیا۔

تقریب کا ایک نمایاں حصہ روایتی بلوچی ثقافتی پیشکش تھی۔ عبدالوہاب اور ان کی ٹیم نے روایتی بلوچی دوچاپی پیش کرکے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ اس ثقافتی پیشکش نے تقریب کو مقامی تہذیب و ثقافت کے رنگ سے مزید خوب صورت بنا دیا۔

پرنسپل عطا شاد ڈگری کالج تربت پروفیسر ظہیر احمد نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، دیگر معزز مہمانوں، اساتذہ اور نئے طلبہ کو خوش آمدید کہا۔

انہوں نے نئے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسکول سے کالج میں داخلہ تعلیمی زندگی کے ایک نئے اور اہم مرحلے کا آغاز ہے۔ اس مرحلے میں طلبہ کو نظم و ضبط، ذمہ داری، نئے ماحول سے ہم آہنگی اور اعلیٰ سطح کی تعلیم کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔

پرنسپل نے کالج کی تعلیمی اقدار، اصول و ضوابط اور سازگار تعلیمی ماحول پر روشنی ڈالتے ہوئے طلبہ کو سال بھر جاری رہنے والی ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں اور تقریبات کے سالانہ پروگرام سے بھی آگاہ کیا۔

اس موقع پر پروفیسر ظہیر احمد نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو کالج کو درپیش بعض اہم مسائل اور ضروریات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے ادارے کے لیے ٹرانسپورٹ، پینے کے صاف پانی، کھیلوں کے لیے مناسب فنڈز اور ٹیلی کمیونیکیشن کی بہتر سہولیات کی ضرورت پر زور دیا۔

سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے خطاب کا آغاز معروف بلوچی شاعر عطا شاد کے اشعار سے کیا۔ انہوں نے عطا شاد کی ادبی شخصیت اور خدمات کا ذکر کرتے ہوئے اس تاریخی پس منظر پر بھی روشنی ڈالی جس کے تحت اس عظیم ادیب و شاعر کے نام سے کالج کو موسوم کیا گیا۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تعلیم کی بنیادی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسانی تہذیب نے زرعی انقلاب سے صنعتی انقلاب اور پھر جدید تکنیکی انقلاب تک ایک طویل سفر طے کیا ہے، اور ہر دور میں علم اور تعلیم نے انسانی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، اس لیے نوجوانوں کو اپنی تعلیم کو محض ڈگری کے حصول تک محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے شخصیت، فکر اور معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بنانا چاہیے۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی زبان، ثقافت، ادب اور روایات سے مضبوط تعلق برقرار رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے صرف کتابی علم کے مراکز نہیں بلکہ تہذیبی اور ثقافتی شعور کے فروغ کے بھی اہم مراکز ہیں۔ انہوں نے دوچاپی اور اتن جیسی روایتی ثقافتی سرگرمیوں کو تعلیمی اداروں میں مزید فروغ دینے اور انہیں مناسب پذیرائی دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مستقل مزاجی اور محنت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے معروف فلسفی اور دانشور برٹرینڈ رسل کی مثال پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ رسل نے تحریر و مطالعے کے لیے ایک منظم معمول اپنایا اور اپنی مسلسل محنت اور نظم و ضبط کے ذریعے ایک ممتاز مصنف اور دانشور کی حیثیت حاصل کی۔

انہوں نے پرنسپل کی جانب سے پیش کیے گئے کالج کے مسائل پر یقین دہانی کرائی کہ وہ ان معاملات کو متعلقہ سطح پر اٹھائیں گے اور ادارے کی ضروریات کے حل کے لیے ممکنہ تعاون کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم کا شعبہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔

ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر پروفیسر برکت اسماعیل بلوچ نے اپنے علمی خطاب میں طلبہ کی فکری اور شخصی تربیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تنقیدی سوچ، مؤثر ابلاغ، تخلیقی صلاحیت اور باہمی تعاون کو موجودہ دور کے طلبہ کے لیے بنیادی مہارتیں قرار دیا۔

انہوں نے معروف مصنف یووال نوح ہراری کی کتاب "21 Lessons for the 21st Century" کا حوالہ دیتے ہوئے طلبہ کو محدود سوچ اور ذہنی رکاوٹوں سے نکلنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنے سب سے قیمتی ذاتی وسائل، یعنی وقت، توجہ، توانائی اور جستجو کو بامقصد انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔

پروفیسر برکت اسماعیل بلوچ نے معروف ماہرِ نفسیات میہالی چکسنٹ میہالی کے تصور "Flow" کا بھی ذکر کیا اور طلبہ کو توجہ اور ارتکاز پیدا کرنے، مفید تعلیمی عادات اپنانے اور خود سیکھنے کے رجحان کو فروغ دینے کی ترغیب دی۔

تقریب کے دوران پروفیسر باقر علی شاکر نے کالج کے سالانہ علمی و ادبی جریدے "کیچ میگزین" کے حوالے سے طلبہ کو تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ ایڈیشن میں طلبہ کی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کو نمایاں کرنے کے لیے 70 فیصد طلبہ اور 30 فیصد اساتذہ کی شمولیت کا اصول اپنایا جائے گا۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، ثقافت اور دیگر علمی و سماجی موضوعات پر مستند، معیاری اور تحقیقی مضامین تحریر کرکے میگزین کے لیے ارسال کریں، تاکہ کالج کے طلبہ کی علمی و تخلیقی صلاحیتوں کو وسیع تر سطح پر اجاگر کیا جاسکے۔

تقریب میں ڈگری کالج تربت کے اساتذہ کے علاوہ، شہید ایوب بُلیدئی ڈگری کالج کے پرنسپل پروفیسر الٰہی بخش، عطا شاد ڈگری کالج کے سابق پرنسپل حاجی اکبر علی، گورنمنٹ انٹر کالج مند کے پرنسپل پروفیسر نجیب گل؛ اور اے ڈی ایم او شریف شمبے زئی سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ معزز مہمانوں نے نئے طلبہ کو کالج میں خوش آمدید کہا اور انہیں اپنی تعلیمی زندگی میں محنت، نظم و ضبط، مثبت سوچ اور تعمیری سرگرمیوں کو اپنانے کی تلقین کی۔

تقریب کے اختتام پر پرنسپل پروفیسر ظہیر احمد نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر، معزز مہمانوں، فیکلٹی ممبران اور پروگرام کے انعقاد میں کردار ادا کرنے والے سینئر طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔

تقریب مجموعی طور پر تعلیمی رہنمائی، فکری تربیت، ادارہ جاتی تعارف، ثقافتی اظہار اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کا جامع امتزاج ثابت ہوئی۔ استقبالیہ پروگرام نے نئے طلبہ کو نہ صرف عطا شاد ڈگری کالج کے تعلیمی ماحول اور اقدار سے متعارف کرایا بلکہ انہیں کالج کی علمی، ادبی، ثقافتی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے بھی حوصلہ فراہم کیا۔

نئے تعلیمی سیشن کی منصوبہ بندی اور تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے کالج اسٹاف کا اجلاسگورنمنٹ عطاشاد ڈگری...
22/08/2026

نئے تعلیمی سیشن کی منصوبہ بندی اور تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے کالج اسٹاف کا اجلاس

گورنمنٹ عطاشاد ڈگری کالج، تربت میں نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے حوالے سے ایک اہم اور خصوصی اسٹاف اجلاس 22 اگست 2026ء کو کالج کے اسٹاف روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر ظہیر احمد، پرنسپل گورنمنٹ عطاشاد ڈگری کالج، تربت نے کی۔ اجلاس میں کالج کے تدریسی و انتظامی امور سے وابستہ اساتذہ نے بھرپور شرکت کی اور نئے تعلیمی سیشن کے لیے مختلف اہم منصوبوں، سرگرمیوں اور ترجیحات پر تفصیلی غور و خوض کیا۔

اجلاس کا بنیادی مقصد نئے تعلیمی سیشن کے لیے ایک منظم، جامع اور مؤثر لائحۂ عمل مرتب کرنا اور کالج میں تعلیمی، ہم نصابی، ادبی، سائنسی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانا تھا۔ اس موقع پر اس امر پر خصوصی توجہ دی گئی کہ طلبہ کو محض نصابی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں تخلیقی، فکری، ادبی، سائنسی اور جسمانی سرگرمیوں کے لیے بھی بھرپور مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ ان کی شخصیت کی ہمہ جہت نشوونما ممکن ہو سکے۔

اجلاس کے دوران اساتذہ نے مختلف تعلیمی، ہم نصابی اور انتظامی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایک مثالی تعلیمی ادارے کے لیے مؤثر تدریس کے ساتھ ساتھ طلبہ کی عملی تربیت، تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ، علمی ذوق کی آبیاری اور مثبت سرگرمیوں میں ان کی شرکت بھی ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف سرگرمیوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی، ذمہ داریوں کی واضح تقسیم اور باہمی تعاون کے ذریعے عملی جامہ پہنانے پر زور دیا گیا۔

*اجلاس کے اہم ایجنڈا نکات*

*- نئے طلبہ کے لیے استقبالیہ اور تعارفی پروگرم

نئے داخل ہونے والے فرسٹ ایئر کے طلبہ کے لیے ویلکم پارٹی اور اورینٹیشن پروگرام کے انعقاد پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد نئے طلبہ کو کالج کے تعلیمی ماحول، قواعد و ضوابط، تدریسی نظام، مختلف شعبہ جات اور ہم نصابی سرگرمیوں سے متعارف کرانا ہے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نئے طلبہ کو کالج کے ماحول میں خوش آمدید کہتے ہوئے ان کے اندر اعتماد، وابستگی اور تعلیمی جذبہ پیدا کیا جائے۔

*- کیچ میگزین کی اشاعت

کالج کے علمی و ادبی مجلے "کیچ" کی اشاعت کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ میگزین کو طلبہ اور اساتذہ کی علمی، ادبی، تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ادارتی معیار کو بہتر بنانے، معیاری تحریروں کے انتخاب اور اشاعتی عمل کو مزید منظم بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

*- سائنس نمائش کا انعقاد

طلبہ میں سائنسی شعور، تحقیق، تخلیقی صلاحیت اور عملی تجربے کو فروغ دینے کے لیے سائنس ایگزیبیشن کے انعقاد کی تجویز پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سائنس نمائش طلبہ کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار، سائنسی منصوبوں کی تیاری اور عملی تجربات پیش کرنے کا بہترین موقع فراہم کرے گی۔ اس سرگرمی کے ذریعے طلبہ میں مشاہدہ، تجسس، تحقیق اور
مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

*- ادبی سوسائٹی کی سرگرمیاں

کالج کی ادبی سوسائٹی کو مزید فعال بنانے اور طلبہ کے اندر ادبی و تخلیقی ذوق پیدا کرنے کے لیے مختلف سرگرمیوں کے انعقاد پر بھی گفتگو ہوئی۔ مشاعرے، تقریری مقابلے، مضمون نویسی، مباحثے، ادبی نشستیں اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ ادبی سرگرمیاں طلبہ کی زبان، اظہار، مطالعے اور فکری صلاحیتوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

*- کھیلوں کی سرگرمیوں کا فروغ

طلبہ کی جسمانی صحت، نظم و ضبط، ٹیم ورک اور مثبت مسابقت کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کو مزید منظم اور فعال بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ مختلف کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد، طلبہ کی زیادہ سے زیادہ شرکت اور کالج کی سطح پر کھیلوں کے بہتر ماحول کی فراہمی کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔ اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ صحت مند جسم ہی ایک فعال اور متوازن شخصیت کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

*- حاضری سیل کا قیام

طلبہ کی باقاعدہ حاضری کو یقینی بنانے، کلاسز میں ان کی شرکت کی نگرانی اور غیر حاضری کے رجحان کو کم کرنے کے لیے Attendance Cell کے قیام کا فیصلہ بھی زیرِ غور آیا۔ اس سیل کے ذریعے طلبہ کی حاضری کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کرنے، کم حاضری والے طلبہ کی نشاندہی کرنے اور ضرورت پڑنے پر ان کے والدین/سرپرستوں سے رابطہ کرنے کے لیے مؤثر نظام وضع کرنے پر زور دیا گیا۔

*- کمیٹیوں کی تشکیل اور ذمہ داریوں کی تقسیم

مجوزہ سرگرمیوں کو بروقت، منظم اور مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنانے کے لیے اجلاس میں مختلف ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا۔ ہر کمیٹی کو اس کی متعلقہ سرگرمی کے حوالے سے واضح ذمہ داریاں تفویض کی گئیں، تاکہ تمام منصوبوں پر مرحلہ وار اور مربوط انداز میں کام کیا جا سکے۔ اس امر پر خصوصی زور دیا گیا کہ کمیٹیوں کے اراکین باہمی مشاورت اور تعاون کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں اور مقررہ مدت کے اندر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جائیں۔

*- کیچ میگزین کے ادارتی بورڈ کی ازسرِنو تشکیل

اجلاس میں کیچ میگزین کے ادارتی بورڈ کی ازسرِنو تشکیل بھی عمل میں لائی گئی۔ اشاعتی عمل کو مزید مؤثر، معیاری اور منظم بنانے کے لیے نئے اراکین کو ادارتی بورڈ میں شامل کیا گیا۔ اس حوالے سے اس امر پر زور دیا گیا کہ میگزین میں اساتذہ اور طلبہ کی معیاری علمی، تحقیقی، ادبی اور تخلیقی تحریروں کو مناسب جگہ دی جائے اور اسے کالج کی علمی و ادبی سرگرمیوں کا مؤثر ترجمان بنایا جائے۔

*- اساتذہ کی تجاویز اور باہمی مشاورت

اجلاس کے دوران اساتذہ نے مختلف ایجنڈا آئٹمز پر نہایت مفید اور قابلِ عمل تجاویز پیش کیں۔ شرکائے اجلاس نے اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں مختلف سرگرمیوں کے انعقاد، طلبہ کی زیادہ سے زیادہ شرکت اور ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے حوالے سے اپنی آرا کا اظہار کیا۔ تمام تجاویز پر باہمی مشاورت سے غور کیا گیا اور اس امر کی کوشش کی گئی کہ نئے تعلیمی سیشن کے لیے ایک ایسا عملی لائحۂ عمل تشکیل دیا جائے جو ادارے کی تعلیمی ضروریات اور طلبہ کی ہمہ جہت تربیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔

*- تعلیمی معیار اور طلبہ کی ہمہ جہت تربیت کا عزم

اجلاس کے اختتام پر اساتذہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گورنمنٹ عطاشاد ڈگری کالج، تربت میں تعلیمی معیار کو مزید بلند کرنے، تدریسی عمل کو مؤثر بنانے اور طلبہ کے لیے ایک مثبت، علمی، تخلیقی اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے اجتماعی طور پر بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ طلبہ کی کامیابی صرف امتحانی نتائج تک محدود نہیں بلکہ ان کی فکری، اخلاقی، تخلیقی، ادبی، سائنسی اور جسمانی صلاحیتوں کی نشوونما بھی تعلیمی
ادارے کی اہم ذمہ داری ہے۔

اجلاس کا اختتام اس متفقہ عزم کے ساتھ ہوا کہ تمام اساتذہ باہمی تعاون، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ وابستگی کے ساتھ نئے تعلیمی سیشن کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنائیں گے اور طلبہ کو معیاری تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور شخصیت سازی کے لیے زیادہ سے زیادہ بامعنی مواقع فراہم کریں گے۔ اس عزم کے ساتھ اجلاس اختتام پذیر ہوا کہ کالج کو ایک فعال، متحرک، معیاری اور مثالی تعلیمی ادارہ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔

Extension in Admission Date for BS Programs
17/08/2026

Extension in Admission Date for BS Programs

بی ایس پروگرام میں داخلے کی تاریخ میں توسیع
17/08/2026

بی ایس پروگرام میں داخلے کی تاریخ میں توسیع

14/08/2026

Address

College Road, Balochistan
Turbat
92600

Opening Hours

Monday 09:00 - 14:00
Tuesday 09:00 - 14:00
Wednesday 09:00 - 14:00
Thursday 09:00 - 14:00
Friday 09:00 - 12:00
Saturday 09:00 - 14:00

Telephone

+92852-412039

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Govt Atta Shad Degree College Turbat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Govt Atta Shad Degree College Turbat:

Shortcuts

Share