Islamia Standard High School
Islamia Standard High School was founded on 5th May 1995. The School was made up for Excellence in Education, Knowledge and Islamic Quotations etc.
16/06/2026
اعلانِ تعطیل: یومِ فاروقِ اعظمؓ
یکم محرم الحرام، مرادِ رسولؐ، فاتحِ بیت المقدس، خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے یومِ شہادت کی مناسبت سے
کل بروز بدھ 17 جون
کو ادارہ ھذا میں تعطیل رہے گی۔
آئیے اس دن کی مناسبت سے بارگاہِ الٰہی میں دعا کریں کہ وہ ہمیں فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ جیسی جرات، عدل اور سچائی پر قائم رہنے کی توفیق دے۔
16/06/2026
کاپی پیسٹ
💥میں نے اپنے پندرہ سالہ بیٹے کو ہوٹل میں برتن دھونے کے کام پہ لگایا تو۔۔
سب نے کہا: ڈآکٹر صاحب بہت سخت باپ ہیں۔۔۔ لیکن 😓😓
میرا نام حارث ہے, ڈاکٹر حارث۔۔
عمر بیالیس سال۔
راولپنڈی میں ایک چھوٹا سا کلینک چلاتا ہوں۔ لوگ مجھے ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں۔ بعض عزت سے، بعض عادت سے، اور بعض اس لیے کہ میرے نام کے ساتھ ڈگری لگی ہوئی ہے۔
مگر میرے ہاتھوں کی لکیروں میں صرف نسخے نہیں لکھے۔
ان میں گرم پانی کی جلن بھی ہے۔
باسی سالن کی بو بھی ہے۔
اور وہ شرمندگی بھی، جو پہلی کمائی کے ساتھ آدمی کے اندر کہیں خاموشی سے پگھلتی ہے۔
میرا ایک بیٹا ہے۔
عمر۔
پندرہ سال کا۔
دبلا پتلا، لمبا، اچھے اسکول میں پڑھنے والا۔ اپنے کمرے میں بیٹھ کر دنیا کے بڑے بڑے مسئلوں پر ویڈیوز دیکھتا ہے، مگر گھر کا پنکھا بند کرنا بھول جاتا ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے پلیٹ میں روٹی کا ٹکڑا چھوڑ دیتا ہے، جیسے روٹی بھی کوئی عام چیز ہو۔ جوتے کبھی کبھی آج بھی اس کی ماں صاف کر دیتی ہے، اور وہ شکریہ کہنے کے بجائے موبائل دیکھتے ہوئے صرف “ہاں امی” کہہ دیتا ہے۔
میری بیوی ثنا بہت خیال رکھنے والی عورت ہے۔
ماں کا دل شاید اسی مٹی سے بنا ہوتا ہے جس میں دعا زیادہ اور ڈر کم نہیں ہوتا۔ وہ عمر کو دیکھتی ہے تو اسے اب بھی وہی بچہ دکھائی دیتا ہے جو بخار میں اس کی انگلی پکڑ کر سوتا تھا۔ میں عمر کو دیکھتا ہوں تو مجھے اس کے اندر ایک ایسا لڑکا دکھائی دیتا ہے جو چند سال بعد دنیا کے سامنے اکیلا کھڑا ہو گا، اور دنیا ماں کی طرح اس کے ماتھے پر ہاتھ نہیں رکھے گی۔
گزشتہ شام میں کلینک سے واپس آیا تو ثنا کچن میں کھڑی روٹی اتار رہی تھی۔ عمر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا موبائل میں گم تھا۔ پلیٹ میں آدھی روٹی پڑی تھی، سالن کا چمچ کنارے پر سوکھ رہا تھا۔
میں نے ہاتھ دھوتے ہوئے کہا:
“ثنا، نوید کا فون آیا تھا۔ اس کے ریستوران میں گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے ایک لڑکا چاہیے۔ دن کے تین چار گھنٹے۔ برتن ترتیب دینا، میزوں سے پلیٹیں اٹھانا، کچن میں ہلکی مدد۔ میں سوچ رہا تھا عمر کو بھیج دوں۔”
ثنا کا ہاتھ رک گیا۔
توا گرم تھا، روٹی پھول رہی تھی، مگر اس کی آنکھیں میری طرف اٹھ گئیں۔
“عمر کو؟”
“ہاں، صرف چند گھنٹے۔ نوید اپنا آدمی ہے۔ دستانے ہوں گے، ایپرن ہو گا، کوئی خطرناک کام نہیں۔”
ثنا نے روٹی پلیٹ میں رکھی، آنچ دھیمی کی اور آہستہ سے بولی:
“حارث، ریستوران کا کام آسان نہیں ہوتا۔ کچن میں گرمی ہوتی ہے، بدبو ہوتی ہے، کام کا دباؤ ہوتا ہے۔ برتن دھونا بہت سخت کام ہے۔ عموماً وہی لڑکا سب سے آخر میں نکلتا ہے۔ عمر ابھی بچہ ہے۔”
میں نے عمر کی طرف دیکھا۔
وہ شاید سن رہا تھا، مگر موبائل کی اسکرین پر انگلی پھر بھی چل رہی تھی۔
ثنا کا جملہ میرے اندر اتر گیا۔
“سب سے آخر میں نکلتا ہے۔”
جیسے کسی نے پرانی الماری کھول دی ہو، جس میں برسوں سے بند کپڑوں کے ساتھ کچھ بھولی ہوئی بوئیں بھی رکھی رہ گئی ہوں۔
میں ثنا پر غصہ کر سکتا تھا، مگر غصہ آیا نہیں۔
صرف ایک عجیب سی اداسی آئی۔
ثنا کا خوف غلط نہیں تھا۔ ماں بچے کے ہاتھ دیکھتی ہے کہ کہیں کٹ نہ جائیں۔ باپ کبھی کبھی ان ہاتھوں کے اندر چھپا ہوا آدمی دیکھتا ہے کہ کہیں وہ بننے سے پہلے نرم ہی نہ رہ جائے۔
ثنا چاہتی تھی عمر کے ہاتھ محفوظ رہیں۔
میں چاہتا تھا ان ہاتھوں کو کسی دوسرے کے پسینے کی قیمت معلوم ہو۔
رات کو کھانے کے بعد عمر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ثنا برتن سمیٹنے لگی۔ میں نے دیکھا، عمر اپنی پلیٹ وہیں چھوڑ گیا تھا۔
ثنا نے بغیر کچھ کہے وہ پلیٹ اٹھائی۔
اس پلیٹ میں روٹی کا آدھا ٹکڑا پڑا تھا۔
مجھے اچانک صدر کا وہ چھوٹا سا ریستوران یاد آ گیا۔
میں شاید بارہ تیرہ سال کا تھا۔
ابو کی نوکری چھوٹ گئی تھی۔ گھر میں پیسوں کی تنگی اتنی خاموش تھی کہ امی آٹا گوندتے ہوئے بھی حساب لگاتی رہتیں۔ میں نے چھٹیوں میں کام ڈھونڈنا شروع کیا۔ پہلے محلے میں اخبار ڈالے۔ فجر سے پہلے سائیکل نکالتا۔ سردیوں میں ہاتھ جم جاتے۔ گرمیوں میں پسینہ قمیض کے اندر نمک بن جاتا۔
پھر ایک دن ایک جاننے والے نے مجھے صدر کے ایک ریستوران میں لگا دیا۔
سامنے ہال میں روشنی تھی۔
پیچھے کچن میں بھاپ تھی۔
سامنے لوگ پلیٹیں سجا کر کھاتے تھے۔
پیچھے ہم ان پلیٹوں سے بچا ہوا سالن، مچھلی کی بو، چاول کے دانے اور چکنی ہڈیاں الگ کرتے تھے۔
برتن دھونا کوئی کام نہیں تھا۔
ایک چھوٹی سی جنگ تھی۔
گرم پانی، صابن، چکنائی، شور، جلدی، ڈانٹ، اور آخر میں وہ بدبو جو کپڑوں میں نہیں، آدمی کے غرور میں بس جاتی ہے۔
ایک شام گھر آیا تو امی نے دروازے پر ہی کہا:
“حارث، پہلے نہا لو، بہت بو آ رہی ہے۔”
میں نے جھنجھلا کر کہا:
“امی، یہ کام انسانوں والا نہیں ہے۔”
ابو چارپائی پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے اخبار نیچے کیا۔ میری طرف دیکھا۔ آواز بہت دھیمی تھی۔
“کام انسانوں والا ہی ہوتا ہے بیٹا۔ بس کبھی کبھی انسان کام کے قابل نہیں رہتا۔”
میں اس وقت سمجھا نہیں۔
بارہ سال کا لڑکا نصیحت نہیں سمجھتا۔ اسے صرف اپنی تکلیف سچ لگتی ہے۔
مگر آج، اتنے برس بعد، وہ جملہ میرے اندر پھر سے زندہ ہو گیا۔
رات کو میں عمر کے کمرے کے دروازے پر گیا۔
دروازہ آدھا کھلا تھا۔ وہ بیڈ پر لیٹا موبائل دیکھ رہا تھا۔ کمرے میں ائیر فریشنر کی خوشبو تھی، میز پر کتابیں بکھری تھیں، اور ایک خالی جوس کا ڈبہ فرش پر پڑا تھا۔
میں نے کہا:
“بات کرنی ہے۔”
اس نے موبائل سائیڈ پر رکھا۔
“جی ابا۔”
میں کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
“عمر، ایک بات یاد رکھنا۔ کبھی یہ نہ سوچنا کہ تم کسی کام کے لیے بہت بڑے ہو۔ آدمی کام سے چھوٹا نہیں ہوتا، کام سے بھاگ کر چھوٹا ہو جاتا ہے۔”
وہ خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا۔
میں نے کہا:
“اگر کوئی کہے کہ تم برتن دھونے کے لیے نہیں بنے، تو اس سے پوچھنا کہ پھر برتن دھونے والے کس مٹی کے بنے ہوتے ہیں؟”
اس نے نظریں جھکا لیں۔
میں نے اس کی میز پر پڑا جوس کا خالی ڈبہ اٹھایا اور ڈسٹ بن میں ڈالتے ہوئے کہا:
“مشکل کام آدمی کو جلدی بڑا کرتا ہے۔ آسان کام صرف وقت گزارتا ہے، مشکل کام آنکھ کھولتا ہے۔ اگر تم کچن میں کھڑے ہو کر لوگوں کی چھوڑی ہوئی پلیٹیں صاف کرو گے تو شاید پہلی بار سمجھو گے کہ کھانا ضائع کرنا صرف بری عادت نہیں، کسی اور کی محنت کی بے عزتی بھی ہے۔”
عمر نے آہستہ سے کہا:
“امی کہہ رہی تھیں کام بہت سخت ہے۔”
“امی ٹھیک کہہ رہی ہیں،” میں نے فوراً کہا۔
وہ چونک کر مجھے دیکھنے لگا۔
“کام سخت ہے۔ اسی لیے ضروری ہے۔ بس اتنا خیال رہے گا کہ تم سے کوئی غیر محفوظ یا حد سے زیادہ کام نہ لیا جائے۔ تم مزدور بننے نہیں جا رہے، مزدور کی عزت سیکھنے جا رہے ہو۔”
وہ کچھ دیر خاموش رہا۔
میں نے اسے اپنے پہلے کاموں کے بارے میں بتایا۔ اخبار بانٹنے کے بارے میں۔ ریستوران کے سنک کے بارے میں۔ گرم پانی سے سکڑتی انگلیوں کے بارے میں۔ کلب کے گراؤنڈ میں نالیاں صاف کرنے کے بارے میں۔ اس ریٹائرڈ حوالدار کے بارے میں جس نے مجھے کہا تھا:
“آسان کرسی پر بیٹھنے سے پہلے مشکل زمین پر کھڑا ہونا سیکھو۔”
عمر نے پہلی بار پوری توجہ سے میری طرف دیکھا۔
شاید بچوں کو اپنے والدین کی کہانیاں تب سمجھ آتی ہیں جب وہ ان میں نصیحت کم اور پسینہ زیادہ محسوس کریں۔
میں نے آخر میں کہا:
“کل نوید انکل کے پاس چلے جانا۔ صرف تین گھنٹے۔ دستانے پہننا۔ اگر کوئی مسئلہ ہو تو فوراً مجھے فون کرنا۔ اور اگر مشکل لگے تو فوراً چھوڑنے کا فیصلہ نہ کرنا۔ پہلے سمجھنا کہ مشکل کس چیز کا نام ہے۔”
وہ دیر تک چپ رہا۔
پھر بولا:
“ٹھیک ہے ابا۔ میں کوشش کر لوں گا۔”
دروازے کے باہر ثنا کھڑی تھی۔
اس نے کچھ نہیں کہا۔
صرف اتنا کیا کہ صبح عمر کے لیے صاف قمیض استری کر کے رکھ دی۔
یہی عورت کا اختلاف ہوتا ہے۔ زبان سے “نہیں” کہتی ہے، مگر بچے کے بیگ میں احتیاط سے پانی کی بوتل رکھ دیتی ہے۔
اگلی صبح نوید کا فون آیا۔
“ڈاکٹر صاحب، آپ کا شہزادہ آ گیا ہے۔”
اس کے لہجے میں ہنسی تھی، مگر ہنسی کے نیچے شفقت بھی تھی۔
میں نے پوچھا:
“گھبرا تو نہیں رہا؟”
نوید بولا:
“گھبرا رہا ہے۔ مگر کھڑا ہے۔”
کلینک جانے سے پہلے میں ریستوران کی طرف نکل گیا۔
ریستوران کا پچھلا دروازہ کھلا تھا۔ اندر سے بھاپ نکل رہی تھی۔ کچن میں برتنوں کی کھنک، چولہے کی سانس، مصالحے کی خوشبو، پیاز کے تڑکے اور گرم پانی کی بھاپ ملی ہوئی تھی۔
میں دروازے کے پاس رک گیا۔
عمر سنک کے سامنے کھڑا تھا۔
اس کے بال ماتھے سے چپکے ہوئے تھے۔ آستینیں کہنیوں تک مڑی ہوئی تھیں۔ ہاتھوں میں پیلے دستانے تھے جو اس کے ہاتھوں سے بڑے لگ رہے تھے۔
وہ ایک پلیٹ کو بہت احتیاط سے رگڑ رہا تھا۔
جیسے پلیٹ پر سالن نہیں، کوئی سوال چپکا ہوا ہو۔
ایک ویٹر نے جلدی سے کہا:
“بھائی، پلیٹیں ختم ہو رہی ہیں، ذرا تیز ہاتھ چلاؤ۔”
عمر گھبرا گیا۔
اس نے ہاتھ تیز کیے۔ ایک پلیٹ اس کے ہاتھ سے پھسلی، سنک کے کنارے سے ٹکرائی، مگر ٹوٹی نہیں۔
وہ ایک لمحے کے لیے رک گیا۔
پھر اس نے گہری سانس لی اور دوبارہ پلیٹ دھونے لگا۔
میں باہر کھڑا رہا۔
اس نے مجھے نہیں دیکھا۔
اور شاید اچھا ہی ہوا۔
بچوں کو بعض سبق باپ کی موجودگی میں نہیں، اس کی غیر موجودگی میں سمجھ آتے ہیں۔
سامنے ہال میں لوگ آرام سے بیٹھے تھے۔
ایک بچہ فرائز پلیٹ میں چھوڑ کر موبائل پر لگ گیا۔
ایک آدمی نے آدھا کھانا چھوڑا اور ویٹر کو اشارہ کیا۔
ایک عورت نے گلاس اٹھا کر کہا:
“یہ صاف نہیں ہے۔”
اور پیچھے عمر کھڑا تھا۔
مجھے اچانک دنیا کی ترتیب بہت صاف دکھائی دینے لگی۔
کچھ لوگ گندگی کرتے ہیں۔
کچھ لوگ صاف کرتے ہیں۔
کچھ لوگ حکم دیتے ہیں۔
کچھ لوگ “جی صاحب” کہتے ہیں۔
اور جو بچہ یہ فرق ایک بار اپنی آنکھ سے دیکھ لے، شاید پھر کسی “جی صاحب” کو حقیر نہیں سمجھتا۔
دوپہر کو عمر باہر آیا۔
اس کے چہرے پر شکست نہیں تھی۔
فخر بھی نہیں تھا۔
صرف تھکن تھی۔
سچی، نمکین، خاموش تھکن۔
اس نے مجھے دیکھا تو چونک گیا۔
“آپ کب آئے؟”
میں نے کہا:
“ابھی۔”
یہ جھوٹ بہت چھوٹا تھا، مگر اس کے پیچھے ایک باپ کی پوری کمزوری چھپی ہوئی تھی۔
اس نے دستانے اتارے۔
انگلیاں سفید اور سکڑی ہوئی تھیں۔
وہ کچھ دیر اپنے ہاتھ دیکھتا رہا، پھر آہستہ سے بولا:
“اندر بہت بدبو ہے، ابا۔”
میں نے پوچھا:
“چھوڑنا ہے؟”
وہ خاموش ہو گیا۔
کچھ دیر بعد بولا:
“نہیں۔ کل آؤں گا۔ آج میں بہت سست تھا۔”
میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
میرے حلق میں ایک تقریر اٹک گئی۔
مگر میں نے کچھ نہیں کہا۔
بعض لمحوں کو الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ الفاظ انہیں چھوٹا کر دیتے ہیں۔
شام کو عمر گھر آیا تو ثنا دروازے پر ہی کھڑی تھی۔
اس نے فوراً پوچھا:
“ہاتھ دکھاؤ۔”
عمر نے ہاتھ آگے کیے۔ انگلیاں دھلی ہوئی تھیں، مگر تھکن ان پر لکھی ہوئی تھی۔
ثنا نے اس کے ہاتھ دیکھے، پھر اسے پانی دیا۔
“کھانا لگا دوں؟”
عمر نے سر ہلایا۔
کھانے کی میز پر اس دن عجیب خاموشی تھی۔ ثنا بار بار عمر کو دیکھ رہی تھی۔ میں اخبار کھول کر بیٹھا تھا، مگر پڑھ کچھ نہیں رہا تھا۔
عمر نے پلیٹ میں سالن لیا، روٹی کا چھوٹا ٹکڑا توڑا، اور بہت آہستہ آہستہ کھانے لگا۔
پہلی بار اس نے پلیٹ میں کچھ نہیں چھوڑا۔
روٹی کا آخری نوالہ بھی کھایا۔
پھر پلیٹ اٹھائی اور کچن کی طرف چل دیا۔
ثنا نے فوراً کہا:
“رہنے دو، میں رکھ دیتی ہوں۔”
عمر نے پلٹ کر ماں کو دیکھا۔
“نہیں امی۔ آج سے اپنی پلیٹ میں خود دھویا کروں گا۔”
ثنا کی آنکھوں میں کچھ چمکا۔
شاید فکر۔
شاید فخر۔
شاید دونوں۔
رات کو میں کمرے میں بیٹھا تھا۔ میز پر صبح والا چائے کا کپ پڑا تھا۔ میں جلدی میں اسے سنک تک لے جانا بھول گیا تھا۔
عمر اندر آیا۔
کپ اٹھایا۔
کچن میں لے گیا۔
دھو کر واپس میز پر رکھ دیا۔
میں اسے دیکھتا رہا۔
وہ دروازے کے پاس کھڑا ہوا اور بولا:
“ابا، گھر کے برتن روز کون دھوتا ہے؟”
میں نے کہا:
“کبھی تمہاری امی، کبھی ماسی، کبھی دادی۔”
وہ کپ کو دیکھتا رہا۔
“کل اتوار ہے۔ ناشتہ کے بعد برتن میں دھو دوں گا۔ بس آپ لوگ زیادہ گندے نہ کرنا۔”
اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور کمرے سے نکل گیا۔
میں دیر تک اس صاف کپ کو دیکھتا رہا۔
وہ کوئی بڑا منظر نہیں تھا۔
نہ کوئی انقلاب۔
نہ کوئی تقریر۔
نہ کسی فلم جیسا انجام۔
بس ایک معمولی سا کپ تھا۔
جس پر چائے کی پپڑی باقی نہیں رہی تھی۔
مگر مجھے لگا، میرے بیٹے نے آج پہلی پلیٹ نہیں دھوئی۔
اس نے اپنے اندر کا پہلا غرور دھویا تھا۔
06/06/2026
افسوسناک خبر۔
مصطفٸ خان علاقہ شیر خانے کا رہایشی جو دو دن کا دولہا تھے اج دل کا دورہ پڑ نے سے انتقال کر گئے ہیں گاؤں شیرخانے درہ تحصیل بلامبٹ دیر لوئر کا رہائشی مصطفیٰ خان جو عید سے قبل چھٹیوں پر سعودی عرب سے واپس آئے تھے۔
دو دن قبل ان کی شادی ہوئی تھی اور آج دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے
ہم ادارہ ھذا کے تمام اساتذہ اور طلبہ نوجوان مصطفی خان کی افسوسناک اور اچانک موت پر گہرے افسوس کا اظہار کرتےہیں
ان کی اچانک موت سے پورا علاقہ غم میں ڈوب گیا ہے۔
اپ تمام دوست احباب سے مصطفٸ خان کےلیے دعا مغفرت کی خصوصی درخواست ہے۔
اللہ تعالٸ کامل مغفرت اور بہترین جنت عطافرمایے۔۔امین ثمہ امین
25/05/2026
... 👇👇👇
23/05/2026
✨ اسلامیہ سٹینڈرڈ ہائی سکول ✨
#اِعلا ن برائے تعطیلاتِ عید الاضحیٰ
تمام معزز والدین اور طلبہ کو مطلع کیا جاتا ہے
کہ عید الاضحیٰ کی مناسبت سے سکول میں تعطیلات کا شیڈول درج ذیل ہوگا:
📅 تعطیلات کا آغاز: 24 مئی 2026ء
📅 تعطیلات کا اختتام: 31 مئی 2026ء
🏫 سکول دوبارہ کھلے گا: 01 جون 2026ء (پیر)
تمام طلبہ کی یکم جون کو حاضری لازمی ہے۔
پیشگی #عید مبارک! 🌙
منجانب: پرنسپل و انتظامیہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Timurgara
0945
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |
| Sunday | 09:00 - 17:00 |